فیصلہ - نصرت یوسف

آسمان کو چھوتے درختوں کے پتے گرد آلود تھے۔ تازگی کی ان میں رمق بھی نہ تھی۔ ایسے جیسے بستی والوں کے رجحانات افق کے بجائے زمین کی جانب مائل تھے، ایسے ہی ناریل کے ان بلند درختوں کے پتوں کا رخ تھا۔ جھکا ہوا ، جالوں سے بھرا، سیاہی زدہ۔

دسمبر کی سہ پہر تھی، سنہری دھوپ کی نرم ملائم رضائی ہر شے کو بوسہ دے رہی تھی۔ میں نے ایک گہری سانس لے کر کھڑکی سے نظر آتے اس منظر کو روح میں جذب ہوتا محسوس کیا۔ گرم چائے کے مگ کےگرد ہاتھ، بھاپ کے ساتھ اٹھنے والی سنگترے کی چھلکے کی لطیف سی مہک، آہ زندگی !تو کس قدر پر لطف ہوتی اگر کافور، کفن اور مٹی کے بجائے آب حیات ،سدا بہار جوانی اور دائمی سکون ہوتا؟

گھونٹ گھونٹ چائے حلق سے اترتی سوچوں کو مہمیز دے رہی تھی۔

درخت کی اونچائی پر ایک چیل پر پھیلا کر اطمینان سے بیٹھی لگتی تھی ۔ نہ جینے کی ہوس، نہ مرنے کا خوف، انسان کو ان دونوں احساسات کے درمیان سانسیں دی گئی ہیں۔ نہ کوئی گھٹا سکتا ہے، نہ کوئی بڑھاسکتا ہے۔ بس الفت کا محور متعین کرسکتا ہے، جس پر نور اور نار کا فیصلہ ہونا ہے۔

آخری گھونٹ کے ساتھ سایہ تبدیل ہوا، دنیا اپنے محور پر کچھ اور گھومی اور آفاقی کبریائی کی آواز گونج اٹھی "اللہ اکبر!"

ٹیگز

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.