اقصیٰ کے آنسو - ام شافعہ

کمرہ عدالت لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ لوگوں کی سرگوشیوں کی آواز اس کشیدہ ماحول میں ایسے گونج رہی تھی جیسے بہت سی مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ بڑی سی کرسی پہ بیٹھے منحوس شکل والے جج نے 'آرڈر آرڈر' کہہ کر مجمع کو خاموش ہونے کا حکم دیا۔ سکوت طاری ہو گیا۔ کٹہرے میں ایستادہ عمارت اپنی قسمت کے فیصلے کے انتظار میں دائیں بائیں جانب بےچینی سے دیکھ رہی تھی۔

کارروائی شروع ہونے کا عندیہ دیا گیا۔ بائیں طرف والا وکیل اپنی لومڑی جیسی گول آنکھیں گھماتے جج سے مخاطب ہوا۔ اس کی آنکھوں کو دیکھ کے کسی مٹکے کا سا گمان ہوتا تھا۔ مائی لارڈ! یہ عمارت ہماری ہے۔ ہمارے پُرکھوں نے اس کو پانے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور کئی دہائیوں سے اس پہ اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے ہمارے فوجی جوان قربان ہو رہے ہیں۔ ہمیں پتھروں سے آئے روز نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کیس عدالت میں اس لیے دائر کیا گیا ہے کہ یہ دہشت گردی ختم کی جائے اور ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔

اس کے اس بیان پر عدالت میں موجود مجمع بھرپور انداز میں شور مچانے لگا، گویا وہ اس بیان کے حق میں تھے۔

"ہممم، کیا وکیل دفاع کچھ کہنا چاہیں گے؟" منحوس شکل سے آواز نکلی۔

دائیں جانب بیٹھا، کالا کوٹ پہنے منخنی سا وجود حرکت میں آیا۔ بینچ سے سہارا لیتے کھڑے ہوا اور بولا "احتجاج! ہم احتجاج کرتے ہیں۔ یہ سب سراسر جھوٹ ہے۔ یہ ہمارا پہلا قبلہ ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نا جائز قبضہ ختم کیا جائے۔ ہمارے پتھر ان کے خطرناک ہتھیاروں کے آگے کچھ بھی نہیں۔ ریفرنڈم کروایا جائے اور پھر فیصلہ سنایا جائے۔ "

وکیل کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ جج کو بھی بڑی مشکل سے سنائی دی لیکن اس نے ایسا ظاہر کیا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

"کیا آپ کے پاس گواہان ہیں؟" جج نے الٹا سوال پوچھا۔

"جج صاحب! میرے گواہان آج حاضر نہیں ہو سکے۔" نادم آواز میں وکیل دفاع نے جواب دیا۔

عرب لیگ، او آئی سی آج پھر اسے دھوکا دے گئے تھے۔ نہ ہی اسلامی سربراہان اور سپہ سالاروں میں سے کسی نے بطور گواہ پیش ہونے کی حامی بھری۔

"آپ آج تک عدالت میں کوئی گواہ پیش نہیں کر سکے۔ وکیل استغاثہ کے ساتھ ہر دفعہ کوئی نہ کوئی گواہ موجود ہوتا ہے اور اس دفعہ تو امریکہ صاحب خاص طور پر ساتھ دینے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ جبکہ آپ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ جھاڑ دیتے ہیں۔ آج ضرور فیصلہ کر دیا جائے گا۔ "

منخنی سا وکیل ہاتھ ملتا بے بسی سے کرسی پہ جا بیٹھا۔

"نہیں نہیں! کوئی مجھ سے بھی تو پوچھے میں کیا چاہتی ہوں؟" کٹہرے میں سسکیوں سے بھری غمگین آواز آئی۔

جج نے فریاد کو اَن سنا کرتے آنکھوں پہ پٹی باندھی اور فیصلہ سنانے لگا۔

"تمام گواہوں اور بیانات کی روشنی میں عدالت اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ یروشلم کی سب سے قدیم عمارت بیت المقدس پہ اسرائیلی…"

"رک جاؤ، ایسا نہیں کرو!" سسکیاں چیخوں میں بدل گئیں۔

جج نے پاس پڑی روئی کانوں میں ٹھونسی اور دوبارہ سلسلہ جوڑتے ہوئے بولا

"اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ بیت المقدس پہ اسرائیلی پرچم لہرا دیا جائے۔" فیصلہ محفوظ ہوا۔ اس نے ہتھوڑا اٹھاتے تین دفعہ میز پر مارا اور اٹھ کر چلا گیا۔ کچھا کھچ بھری عدالت میں خوشی سے شور مچ گیا۔

وکیل استغاثہ مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی طرف چلا گیا۔

جبکہ دوسرا وکیل سر جھکاتے غمزدہ انداز میں بیت المقدس کی طرف بڑھا۔ اس کے آنسو تھے کہ تھم ہی نہیں رہے تھے۔

"میرا ایک کام کر دو،" مقدس مسجد بولی "جب کبھی مکہ جاؤ تو کعبے کے خادموں سے جا کر پوچھنا کہ میرے ساتھ ایسا سوتیلوں والا سلوک کیوں؟" یہ کہتے وہ ہچکیوں سے رو پڑی۔ بےبس مسلمانوں کی جانب سے بھیجا گیا وکیل تیزی سے آگے بڑھا مگر بیت المقدس کے آنسو صاف کرنے کی ہمت نہ کر پایا۔ اس کی دیوار کے ساتھ سر ٹکایا اور خود بھی رو پڑا۔