’’انتہاپسند، جنونی!!!‘‘ – احسان کوہاٹی

یہ منظر ’’جنونی لوگوں‘‘ کے ایک بڑے شہرکے قریب چھوٹے سے جزیرے کا ہے۔ یہاں زرد رنگ کے پہاڑی پتھروں سے بنی چھوٹی سی کوٹھڑی نما عمارت میں مختلف عمر کے لوگ جینز شرٹ پہنے سر پر بڑے بڑے گول ہیٹ لیے اردگرد سے بے نیازہو کرہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے اوزار لیے ان پتھروں پر جھکے ہوئے ہیں۔ کوئی ان پتھروں کی پیمائش کر رہا ہے، کوئی سمندر کی نمکین ہواکی چاٹ سے بھربھرے ہوجانے والے پتھروں کو بدلنے کے لیے انہیں نکالنے کی دھن میں ہے اور کسی کو عمارت کے کمزور پڑجانے والے حصے کی مضبوطی کی فکر ہے۔ اس فکر نے انہیں موسم کی شدت،دھوپ،دھول، سمندری ہوا کی نمی، لباس پر پڑنے والے دھبوں، ناخن میں گھس جانے والی میل، ہر بات سے بے نیاز کر رکھا ہے۔ انہیں دھن ہے تو اس عمارت کو اس کی اصلی حالت میں کھڑا کرنے کی جو ہزار برس پرانے مندر کی ہے۔ شری وارون دیو مندر کو ہزار برس پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے کبھی یہاں پوجا پاٹ ہوا کرتی تھی، بڑی چہل پہل رہا کرتی تھی۔ پھر بدلتے وقت نے اس مندر سے پجاری چھین لیے۔ پوجا پاٹ کا سلسلہ رک گیا۔ گزرتا وقت اس کی ویرانی بڑھاتا چلا گیا۔ یہاں تفریح کے لیے آنے والے لوگ اس پر بس ایک اچٹتی سے نظر ڈال کرسمندر کی موجوں کی جانب متوجہ ہوجاتے۔ مندر کا کوئی والی وارث نظر نہ آیا تو اس کے ایک حصے پرکسی نے قبضہ کرکے دکان بھی کھول لی۔ پھر اس عمارت کے والی وارث بھی جاگ ہی گئے۔ وہ اس جانب متوجہ ہوئے پاکستان ہندو کونسل نے دعویٰ کیا کہ یہ عمارت ہماری عبادت گاہ تھی، ہمیں لوٹائی جائے ۔ ’’انتہا پسندوں ‘‘کے اس ملک میں کسی نے تعرض نہیں کیا۔ وہ عمارت ان لوگوں کے حوالے کر دی گئی جو اس ملک کی اقلیت ہیں پھر اس عمارت پرسے قبضہ ختم کرایا گیا۔ اس جنونی ملک کے ماہرین آثار قدیمہ آئے اور ویران عمارت کی گرتی دیواریں پھر سے مضبوط ہوتی چلی گئیں اور آج یہ مندر پھر سے پوری شان سے کھڑا سمندرکی لہروں کو حیران کیے دے رہاہے جو ریت پر اس کے بکھرنے کا انتظار کر ہی تھیں۔

اب سیلانی آپ کو ایک اور منظر دکھاتا ہے یہ بھی’’ جنونیوں ‘‘کے اسی ’’انتہا پسند‘‘ملک کا ہے۔ یہ منظر کمرہ عدالت کا ہے عدالت بھی وہ جو سپریم کورٹ ہے، اس سے بڑی عدالت اس ملک میں دوسری نہیں، عدالت میں گھمبیر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ سرد موسم ہونے کے باوجود وکیل سرکار کی پیشانی عرق آلود ہے۔ اس کی نظریں بار بار اس دروازے کی جانب اٹھ رہی ہیں جہاں سے چیف جسٹس صاحب نے آنا ہے۔ اس کے معاونین بار بار اس کی جانب جھک کر اسے کے کان میں تسلیاں دلاسے اور مشورے انڈیل رہے ہیں لیکن وکیل سرکار کے چہرے سے محسوس ہورہاہے کہ تسلیاں دلاسے کام نہیں کر رہے۔ وکیل سرکار بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے بار بار گھڑی میں وقت دیکھ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے وقت کی رفتار کم ہوگئی ہو۔ خدا خدا کرکے اعصاب شکن انتطار ختم ہوا۔ ’’انتہاپسند‘‘ملک کا چیف جسٹس عدالت میں آیا سب احتراماً کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک چیف جسٹس نشست پر بیٹھ نہیں گئے۔ عدالت کا آغاز ہوا چیف جسٹس نے’’جنونیوں‘‘ کے ملک میں اقلیت کی ایک قدیم تاریخی عبادت گاہ کی زبوں حالی پر نوٹس لے رکھا تھا۔ یہ عبادت گاہ بھی ایک ’جنونی ملک‘‘کی اقلیت ہی کی ہے۔ یہ عبادت گاہ ان کے لیے بڑی خاص اور مقدس ہے۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران حکومت کے خوب کان کھینچے اور کہا کہ تاریخ اور ثقافت پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے سیلانی کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا؟ یہ کس انتہا پسند ملک کی بات کر رہا ہے؟ یہ کس اقلیت کی عبادت گاہوں کا دکھڑا رو رہا ہے؟ تو سنیے یہ ملک کوئی اور نہیں اپنا وطن عزیز ہی ہے۔

سیلانی نے سمندر کنارے جس عمارت پر ماہرین آثار قدیمہ کو مصروف کار بتایا وہ بھی اسی ’’جنونی ملک‘‘ کی آرکیالوجسٹ ہیں اور ڈاکٹر اسماء ابراہیم کی سربراہی میں اس عمارت کو اس کی اصلیت لوٹا رہی ہیں، وہ کراچی کے قریب منوڑہ کے جزیرے کے ساحل پر واقع ہندو برادری کا شری وارن دیو مندر ہے۔ اگر چہ اس مندر کی مرمت کے لیے امداد امریکہ نے دی لیکن اقلیت کی اس عبادت گاہ پر کام ملک کی اکثریت سے تعلق رکھنے والی اسماء ابراہیم ہی کی رہنمائی میں ہوا اور یہ جو سیلانی نے کمرہ عدالت میں چیف جسٹس کی برہمی کاذکر کیا یہ بھی اسی ’’انتہا پسند مملکت‘‘ سے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثارنے پوٹھو ہار میں ہزار برس پرانے کٹاس راج مندر کے تالاب خشک ہونے پر پنجاب حکومت کو طلب کر رکھا ہے۔ سوال اٹھا رکھا ہے کہ کٹاس راج کے تالاب کیسے خشک ہوئے؟

عدالت کے سوال پرجواب دیا گیا ’’زیر زمین پانی کی سطح کم ہوئی۔‘‘

پھر سوال ہوا ’’پانی کی سطح کم ہوئی لیکن کٹاس راج کے پاس سیمنٹ فیکٹری لگانے کی اجازت کس نے دی؟‘‘

جواب میں وکیل سرکار نے بہت کچھ کہا لیکن عدالت کو مطمئن نہ کر سکے، چیف جسٹس نے سٰخت ریمارکس کے ساتھ مقدمے کی تاریخ دے کر سماعت ملتوی کر دی۔ اب حکومت کے قانونی ماہرین سرجوڑ کر بیٹھے ہیں۔

ان کٹاس راج مندروں کے بارے میں ہندوؤں کا ماننا ہے کہ جب شیو دیوتا اپنی بیوی کی موت پر رویا تو اس کے آنسوؤں سے کٹاس اور دوسرا اجمیر شریف کے قریب پوشکراپر دو تالاب بن گئے۔ کٹاس کا تالاب خشک ہونے کو ہے جس سے دنیا بھر کی ہندو ؤں میں پائی جانے والی بےچینی پر چیف جسٹس نے حکومت کے کان کھینچ ڈالے۔

اب سیلانی آپ کوپچیس برس پیچھے 1992ء میں لیے چلتا ہے۔ منظر کچھ یوں ہے کہ ہزاروں افراد ہے ہے کار کے نعرے لگاتے، ترشول لہراتے ایک بڑی سی عمارت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ لوگ خاصے مشتعل لگتے ہیں، ان میں ننگ دھڑنگ سادھو بھی ہیں، پجاری بھی اورترشول، چھرے اٹھائے دانت کچکچاتے نوجوان بھی ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ بڑھے چلے جارہے تھے۔ اس مشتعل ہجوم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ قانون نے آنکھیں موند لی تھیں، حکومت نے بھی منہ پھیر لیا اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ میں سب سے بڑی اقلیت کی عبادت گاہ کو ڈھا دیا گیا بابری مسجد گرادی گئی۔ گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد کی مالا جپنے والوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، احتجاج کرنے والوں پر پل پڑے تقریباً دو ہزار مسلمان ہندو بلوائیوں کے حملے میں کاٹ ڈالے گئے۔ معاملہ عدالت میں پہنچا اور پچیس برسوں سے عدالت ہی میں ہے، سیکولر بھارت کی انصاف پسند عدالت پچیس برسوں میں مسجد کی ملکیت کا فیصلہ نہیں کرسکی کہ یہ جگہ کس کی ہے؟

سیلانی کو آج بھی پچیس برس پرانی چھ دسمبر کی وہ سرد اُداس اور سوگوار شام یاد ہے جب افغانستان کے صوبے پکتیا میں بابری مسجد کی شہادت کی خبر نے لہو کھولا اور آنکھوں میں نمی تیرا دی تھی۔ سیلانی آج بھی اس بےبسی کے لمحات کی قید سے نہیں نکل سکا۔ اس کی یاداشت میں آج بھی دوستوں کہ وہ دبی دبی سسکیاں محفوظ ہیں۔ اس المناک سانحے کی اطلاع پرکئی دوست گھٹنوں میں سر دے کر روپڑے تھے۔ چھ دسمبر کواس سانحے کو پورے پچیس برس ہوچکے ہیں۔ بھارت میں بسنے والے ’’اہنسا کے پجاری‘‘ آج اس سانحے کی سلور جوبلی منا رہے ہیں، ان کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے اور گردنیں اکڑی ہوئی ہیں اور بھارت کی سب سے بڑی اقلیت سرجھکائے ہوئے سراسیمہ خوفزدہ ہے۔

ایک ہی خطے میں ان دو بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کے باوجود پاکستان ’’انتہاپسند‘‘ اور بھارت امن پسند سیکولر ہے۔ دنیا کو پاکستان ہی خطرناک جنونی ملک دکھتا ہے، پاکستان ہی پر انگلیاں اٹھائی اور لب ہلائے جاتے ہیں امریکی میگزین نیوز ویک کے سرورق پر ختم نبوت کے معاملے پر احتجاج میں شریک جذباتی نوجوانوں کی تصاویر لگا کر کہتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے خطرناک لوگ ہیں!

نیوز ویک کے ایڈیٹر کو ان خطرناک لوگوں کے ہاتھوں منوڑہ میں دوبارہ سے آباد ہونے والے مندر کی تصویر بھی لگانی چاہیے تھی، کٹاس مندر کے معاملے پرسپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت کو بھی رپورٹ کرنا چاہیے تھا لیکن نہیں یہ رپورٹ نہیں ہوگا کہ ہم تو ہیں ہی ’’جنونی‘‘ اور ’’انتہا پسند‘‘۔۔۔۔سیلانی کی آنکھوں میں بابری مسجد کی شہادت کی تصاویر پھرنے لگیں دل بوجھل اور اداس ہوگیا اس نے کرسی کی پشت پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں اور سرد آہ بھر کر چشم تصور سے بابری مسجد پر چڑھے ترشو ل برداروں کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */