نقش دل، وہ لڑکی جس نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کی بنیاد رکھی - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

خلافت عثمانیہ، خلافت راشدہ، خلافت امویہ اور خلافت عباسیہ کے بعد، اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی خلافت تھی۔ اس میں تقریباً 642 سال از 1282ء تا 1924ء تک 37 حکمران مسند آرائے خلافت ہوئے۔ پہلے 8 حکمران سلطان تھے، خلیفۃ المسلمين نہ تھے۔ انہیں اسلامی سلطنت کی سربراہی کا اعزاز تو حاصل تھا، لیکن خلافت کا روحانی منصب حاصل نہ تھا۔ 9 ویں حکمران سلطان سلیم اول سے لے کر 36 ویں حکمران سلطان وحید الدین محمد سادس تک 30 حضرات سلطان بھی تھے اور خلیفہ بھی، کیونکہ خلافت عباسیہ کے آخری حکمران نے سلطان سلیم کو منصب اعزاز و خلافت کی سپردگی کے ساتھ وہ تبرکات نبویہ بھی بطور سند و یادگار دے دیے تھے جو کہ خلفائے بنو عباس کے پاس نسل در نسل محفوظ چلے آ رہے تھے۔

یکم نومبر 1922ء کو چونکہ مصطفیٰ کمال پاشا نے مغربی طاقتوں اور ''برادری'' کی ایما پر ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کی قرارداد منظور کر کے خلیفہ اسلام، عثمانی سلطان محمد وحیدالدین ششم کی اٹلی کی طرف ملک بدری کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ اس لیے اس نامبارک دن سلطنت ختم ہوگئی، البتہ خلافت اب بھی باقی تھی۔ سلطان وحیدالدین ششم کی جلاوطنی کے بعد ان کے پہلے قریبی رشتہ دار عبدالمجید آفندی کو آخری عثمانی خلیفہ بنایا گیا، مگر 3 مارچ 1924ء کو ترکی کی قومی اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر اسلام دشمنی اور مغرب پروروں کا ثبوت دیتے ہوئے اتاترک کی قیادت میں اسلامی خلافت کے خاتمے کا قانون بھی منظور کر لیا۔ اس طرح آخری خلیفہ جو سلطان نہ تھے، خلیفہ عبدالمجید دوم کی اپنے محل سے رخصتی اور پہلے سوئٹزر لینڈ پھر فرانس جلاوطنی کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کے بعد خلافت عثمانیہ کے سقوط کا المناک سانحہ بھی پیش آگیا۔

محقق مؤرخین اور محقق معاصرین کے مطابق ان 37 حکمرانوں میں سے آخری تین محض برائے نام حکمران تھے۔ اصل طاقت ان خفیہ قوتوں کے ہاتھ میں تھی جو سلطنت اور خلافت کے خاتمے کے درپے تھے جنہوں نے جمہوریت کے سحر میں دنیا کو گرفتار کرنا تھا۔ وہ اچھے وقت کے انتظار میں ان کو برائے نام سامنے رکھ کر باگیں اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے تھے تاکہ ان پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اور زوال کی تمام وجوہات خود عثمانی حکمرانوں کی طرف منسوب ہوں۔ سلطنت عثمانیہ کے سقوط کے اسباب اور اتاترک جیسے دین دشمنوں کے برسراقتدار آنے کے عوامل پر مختلف حضرات نے اپنے انداز میں روشنی ڈالی ہے۔

ہم کہانی کو ذرا پیچھے جاکر 30 ویں عثمانی حکمران سلطان محمود دوم سے شروع کریں گے، کیونکہ زوال کا ظہور اگرچہ آخری تین حکمرانوں سے ہوا تھا، مگر اس کی بنیاد اسی حکمران کے والد سلطان مصطفیٰ چہارم کے حرم میں ایک خاتون کے آنے سے ہوا تھا۔ اس داستان کے دوران وہ اسباب خودبخود سامنے آتے جائیں گے جو اس المناک سانحے کا اسباب کی دنیا میں ظاہری سبب ہے اور امت کو سائبان خلافت سے محروم کرگئے۔ آخر میں ہم ان اسباب کی واضح تعیین اور ان کے خوفناک نتائج کی صاف نشاندہی بھی کریں گے۔ مقصد اس داستان اور اس کے نتائج کا یہ ہے کہ اس طرح کے اسباب پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں کھلے ڈلے پائے جاتے ہیں۔

کہانی بحر ظلمات کے پار واقع ایک گمنام جزیرے سے شروع ہوتی ہے۔ 1492ء میں امریکا کی دریافت کا تمغہ سجانے کے بعد 1502ء میں کرسٹوفرکولمبس نےویسٹ انڈیز کے مشرق میں ایک جزیرہ دریافت کیا۔ ”بحرظلمات کے پار ”برطلسمات“ کی تلاش میں سرگرداں یورپی کے درمیان ان نو دریافت جزائر پر قبضے کے لیے رسہ کشی جاری تھی۔ 1635ء میں اس جزیرے کو فرانسیسی حکومت نے آباد کیا، لیکن برطانوی بھی حسب روایت وہاں پہنچ گئے۔ پھر کئی برسوں تک فرانس اور برطانیہ کے درمیان آویزش کے بعد اسے فرانس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ ”مارٹینیک“ کہلاتا ہے۔ 18 ویں صدی کے وسط میں یہ جزیرہ کولمبس کے ساتھ آنے والی”برادری“ کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ یہاں وہ کیا کر رہے تھے؟ ایسی دوشیزاؤں کی تربیت کر رہے تھے جن سے حسب منشا کام لے سکیں۔ “مارٹینیک“ میں دو لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کی فتنہ خیز کارروائیوں نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ بنی نوع انسان کے لیے ایک امتحان بن گئیں۔ ان 2 کو دو الگ الگ اہداف کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کیا گیا۔ ایک کا ہدف مشکل تھا، دوسری کا آسان۔

یہ بھی پڑھیں:   صبح شام ہائے جانو! ہائے جانو! کرتی ہماری نئ نسل کیا جانے ارطغرل کون تھا - محمد فہیم

ان میں سے ایک جوزفین تھی۔ یہ 1763ء میں پیدا ہوئی۔ شاہ فرانس نپولین بونا پارٹ کی بیوی بنی۔ جوزفین کا ہدف زیادہ دشوار نہیں تھا۔ اسے صرف فرانس پہنچنا تھا۔ پھر نپولین تک رسائی مغربی اقدار کی وجہ سے آسان تھی، البتہ اس کی کزن”میری مارتھا“ کا کام ذرا مشکل تھا۔ اسے ترک سلطان کے حرم میں پہنچنا اور مشکوک ہوئے بغیر رہنا تھا۔ یہ کام کافی مشکل تھا۔ نہ حرم تک آسانی سے پہنچا جاسکتا تھا اور نہ اندر پہنچنے کے بعد مطلوب ہدف تک رسائی آسان تھی۔ حرم کے اردگرد چار پانچ میل تک حفاظتی اقدامات کیے جاتے تھے اور یہاں متعین تندخو پہرہ دار جنہیں ”بوستانی“ (اسپیشل گارڈ) کہا جاتا تھا، سخت قسم کا پہرہ دیتے تھے۔ اس طرح غیر لوگوں کے حرم تک براہ راست رابطے کے امکانات ختم ہو جاتے تھے، ایک صورت ایسی تھی جو محفوظ بھی تھی اور یقینی بھی۔ یہ صورت کیا تھی؟ جو لوگ حرم کے اندر نقب لگانا چاہتے تھے، ان کا بھیجا ہوا ایک جاسوس لکھتا ہے
"یونانی اور فرانسیسی خواتین بعض اوقات حرم میں بیگمات سے ملنے جاتی ہیں۔ ان کے شوہر سوداگروں اور ترجمانوں کے روپ میں قلیوں کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ یہ خواتیں یورپ کے نوادرات دکھانے اور فروخت کرنے کے بہانے حرم میں داخل ہوتی ہیں۔ حرم کے بارے میں درست معلومات ایسے مواقع پر حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کچھ اسی طرح میں بھی یہ معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہوں۔ (فری میسنری اور دجال از کامران رعد)

الغرض! خاطر خواہ معلومات حاصل کرنے کے بعد 1784ء کے قریب ایک خوبصورت 14 سالہ دوشیزہ استنبول لائی گئی۔ مختلف نسلوں کے ملاپ نے اسے طلسماتی حسن اور کرشماتی ذہانت کا پیکر بنا دیا تھا۔ اس کے خیرہ کن حسن نے کسی کو بولی دینے کی جرات نہ کرنے دی۔ فروخت کنندہ ہر کسی کو بتاتا یہ لڑکی نئی سرزمین (امریکا) میں آباد ہونے والے ابتدائی فرانسیسی یا ہسپانوی مہم جوؤں کی اولاد میں سے ہے۔ اسے قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ بعدازاں ان سے بازیاب کرا لیا گیا۔ اس نے کبھی نہ بتایا کہ اسے قزاقوں سے کس نے بازیاب کرایا؟ یہ لڑکی سلطان عبدالحمید اول (از 1774ء تا1789ء) کے دور میں بازار میں لائی گئی۔ آخرکار اس کے غیر معمولی فتنہ خیز حسن کی شہرت شاہی محل تک پہنچ گئی۔ فروخت کنندہ نے کسی اور کی بولی کو کامیاب ہونے دینا تھا، نہ سلطان کے حرم کے علاوہ کسی اور تک اسے جانے دینا تھا۔ اس 14 سالہ لڑکی کو حرم میں ”نقش دل“ کا نام دیا گیا۔ یہ نام پوری سلطنت عثمانیہ میں مشہور ہوا۔

جب ”نقش دل“حرم میں داخل ہوگئی تو ”بڑا کھیل“ شروع کر دیا گیا، لیکن بڑا مسئلہ یہ تھا کہ حرم کے اندر سے جوابی معلومات حاصل کیسے کی جائیں؟ نقش دل کیا کر رہی ہے؟ اس نے مزید کیا کرنا ہے؟ معلومات کی برآمدگی اور ہدایات کی درآمدگی ایک مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ مذکورہ بالا صورتحال میں یہ ناممکن تھا، لیکن ”برادری“ ہماری طرح جلد باز نہیں، لہٰذا ناممکن کے لفظ سے آشنا نہیں۔ جلد باز شخص ہی ناممکن اور ممکن کی تفریق میں پڑا رہتا ہے۔ تحمل مزاجی اور استقامت ایسی چیز ہے کہ ناممکن کے لفظ کو لغت سے خارج کر دیتی ہے۔ باورچیوں، خانساماؤں خصوصی محافظوں اور خادموں کی شکل میں ماہر تجربہ کار افراد کی حرم سلطانی میں بھرتی کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ رابطہ کاری اور پیغام رسانی کی ایک زنجیر تیار ہوگئی۔ انھیں سات آٹھ سال لگ گئے، لیکن انہوں نے تحمل کے ساتھ انتظار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   صبح شام ہائے جانو! ہائے جانو! کرتی ہماری نئ نسل کیا جانے ارطغرل کون تھا - محمد فہیم

جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو مغرب نے تبصرہ کیا ”بڑا کھیل ختم ہوگیا“، یہ ایک حیرت انگیز جملہ تھا۔ کیا یہ ایک طنزیہ جملہ تھا یا پھر واقعی کوئی بڑا کھیل کھیلا جا رہا تھا؟ اس لڑکی نے بہت جلد ترکی زبان سیکھ لی۔ شاید وہ پہلے سے جانتی تھی۔ اپنی مخصوص تربیت کی بنا پر اس نے سلطان کے دل میں اترنے میں زیادہ دیر نہ لگائی۔ 20 اگست 1785ء کو اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ اس کا نام محمود رکھا گیا۔ بعد ازاں وہ محمود ثانی دوم کے نام سے 30 واں سلطان (1818ء تا 1839ء) بنا۔ ”نقش دل“ کے بطن سے جنم لینے والے اس بچے کو اس کے بہت سارے بھائیوں اور چچازادوں کی موجودگی میں تخت تک پہنچایا گیا۔ یہ محلاتی سازشوں سے پر ایک طویل داستان ہے جس کا آغاز سلطام سلیم سوم کو تخت سے اتارنے سے ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے ”ینی چری“ سے زیادہ موزوں کوئی نہیں ہوسکتا تھا، چنانچہ نقش دل نے ان کو ہاتھ میں لینا شروع کیا۔

ینی چری سلطنت عثمانیہ کا ایک خصوصی لشکر تھے۔ انہیں سلطان کے محافظوں کی حیثیت سے بھرتی کیا جاتا تھا۔ ینی چری بنیادی طور پر یتیم بچے تھے جن کی پرورش اور تعلیم وتربیت کسی مذہبی امتیاز کے بغیر سلطان کی سرپرستی میں کی جاتی تھی۔ انہیں بلوغت کے بعد مذہب کی حیثیت سے اسلام کی تعلیمات دی جاتی تھی۔ پھر نہایت اعلیٰ عسکری تربیت دینے کے بعد سلطان کے محافظ دستے میں شامل کردیا جاتا تھا۔ یہ محافظ براہ راست سلطان کے ماتحت اور صرف اس کو جواب دہ تھے۔ سلطان سے ان کی وفاداری اور ناقابل یقین بہادری نے انہیں عزت ووقار کی علامت بنا دیا تھا۔ اس بات نے نہ صرف انہیں فوج میں اعلیٰ مقام دلوایا، بلکہ ان کی اطاعت اور اثر ورسوخ میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ لوگ بذات خود ہر سلطان کے لیے خطرہ بن گئے اور وہ پھر بادشاہ گر بن گئے۔ یہاں پہنچ کر قارئین خود سمجھ گئے ہوں گے کہ جس طرح محل کے اندر نقش دل کو پہنچایا گیا تھا۔ اسی طرح ینی چریوں میں کسی وفادار کو داخل کرنا ہی وہ منصوبہ ہوسکتا تھا جو دو طرفہ رابطوں کے لیے قابل عمل تھا۔

سلطان سلیم سوم اس امر کا ادراک کرچکا تھا کہ بادشاہ گر قوتیں حرکت میں ہیں۔ وہ ینی چریوں کی قوت کو تشویش کی نظر سے دیکھتا تھا اور ان کے تسلط سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ایک نئی پیادہ فوج بنائی۔ اسے نظامِ جدید ( Nizam i Cedid) یا ''نیوآرڈر'' کہا گیا۔ اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ نقش دل جو پس پردہ بیٹھی طاقت کا کھیل کھلوارہی تھی، کا داؤ چل گیا۔ اس نے ینی چری کے ایک سردار سے پینگیں بڑھا کر ینی چریوں کو حسب منشا استعمال کرنا شروع کر دیا۔ نقش دل (بظاہر) ایک ینی چری علی آفندی سے ملی جو البانیہ کے گھوڑوں کے سوداگر کا بیٹا، اور وینیشیئن عیسائی تھا۔ علی آفندی کرفو کا رہنے والا تھا۔ اس کے ذریعے آہستہ آہستہ نقش دل نے ینی چریوں کو حسب منشا استعمال کرنے کا راستہ پیدا کر لیا۔ ینی چری بادشاہ گر تھے اور برادری اپنے لوگوں کو اس بات کی خصوصی تربیت دیتی تھی کہ وہ بادشاہوں کو نہیں بادشاہ گروں کو قابو کریں۔ نقش دل نے ہر حال میں اپنے بیٹے کو تخت پر بٹھانا اور آخر کار سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کرنا تھا، کیونکہ وہ اسے اپنا نہیں ترک سلاطین کا بیٹا سمجھتی تھی۔ وہی سلاطین جن کے حرم میں اسے خصوصی اہداف کے تحت داخل کیا گیا تھا۔ پھر بھی انہوں نے اس سے اچھا سلوک کیا تھا۔ سلطان سلیم معزول کر دیا گیا۔ اسے 28 مئی1807ء کو تخت سے اتار کر قید کر لیا گیا۔ یہ کام ینی چریوں نے کیا جو طاقتور عثمانی رجمنٹ تھے۔

(جاری ہے)