سمارٹ بننے کا جادوئی فارمولا - محمد عامر خاکوانی

سمارٹ بننے یعنی وزن اتارنے کے جادوئی فارمولے پرآج بات کرتے ہیں، مگر پہلے اس کا پس منظر بیان کرنا ضروری ہے۔ اس بات سے تو آپ واقف ہی ہوں گے کہ وزن کم کرنا کس قدر کٹھن اور جاں جوکھوں والا کام ہے۔ امکانات ہیں کہ زندگی میں کبھی آپ کو بھی اس کٹھن آزمائش سے گزرنا پڑا ہو۔ اگر ان خوش نصیبوں میں سے ہیں، جنہیں کبھی یہ مسئلہ درپیش نہیں رہا، اس صورت میں بھی آس پاس ایسے لوگ تو ضرور ہوں گے جو اس کڑے سوال کا زندگی میں بار بار سامنا کرتے رہے۔ ایسے میں آپ یقینا جانتے ہوں گے کہ وزن بڑھانا جس قدر آسان ہے، اسے کم کرنا اسی قدر مشکل۔

لاہور بلکہ یوں کہہ لیں کہ پنجاب میں ایک فقرہ بہت مشہور ہے کہ مجھے پانی بھی گھی بن کر لگتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میرے کھانے پینے کا قصور نہیں، کم بھی کھاؤں تب بھی موٹا ہوجاتا ہوں۔ یہ خاکسار کالم نگار برسوں اسی نظریے کا قائل بلکہ شارح رہا ہے۔ قدرت کی طرف سے عطا کردہ تمام ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس حوالے سے نت نئے دلائل تراشے جاتے رہے۔ وزن کے ”بحران“ میں مسلسل گھرے رہنے کی وجہ سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ہم نے اس موضوع پر بے پناہ ریسرچ کی، دنیا جہاں کے نسخے، ایورویدک سے جاپانی، چینی اور کمبوڈین طریقہ علاج تک پڑھ ڈالے، مغربی سائنس دانوں اور ماہرین نے اپنی تحقیق کا نچوڑ جن رسائل میں پیش کیا، انہیں بھی انٹرنیٹ سے کھنگال ڈالا، ریڈرز ڈائجسٹ جیسے جرائد کا مطالعہ فرمایا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ہم دنیا کے کسی بھی شخص کو اس کی عمر، وزن اور حالات کے مطابق ایک انتہائی مناسب قسم کا ڈائٹ پلان تجویز کر سکتے ہیں۔ کئی بار تو سوچا کہ اپنے میگزین میں وزن گھٹانے کے مشوروں والا کالم ہی شروع کر لیا جائے، پھر یہ سوچ آئی کہ ساتھ تصویر کون سی دیں۔ بعض کالم نگاروں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ اپنے سکول کے زمانے کی تصویر سے برسوں قارئین کو بہلاتے رہے، خاکسار یہ بھی نہیں کر سکتا۔ بیس برس پرانی تصویر دی جائے، تب بھی وہ وزن کے اعتبار سے کم ”ہوشربا“ نہیں ہوگی۔ ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوا کہ کئی قسم کے ڈائٹ پلان آزما ڈالے۔ وہ بھی جو نیٹ اور رسالوں سے مفت دستیاب ہوں اور وہ بھی جن کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ فلاں سلمنگ کلینک، فلاں ہربل واٹر ٹریٹمنٹ، فلاں حکیم صاحب کی وزن گھٹانے والی گولیاں، نہار منہ چار گلاس پانی پینا، پانی میں لیموں نچوڑنا، گریپ فروٹ کے جادوئی اثرات، گرم پانی میں شہد کا چمچ ملانا، سیب کا سرکہ، اجوائن، دار چینی، ادرک والا قہوہ، بران بریڈ، ملٹی گرین بریڈ.... وغیرہ وغیرہ۔ ہر نسخے پر ہم نے ہاتھ صاف کیا اور ہر چیز آزمائی جا چکی۔ نتائج کے بارے میں امید ہے آپ پوچھ کر شرمندہ نہیں فرمائیں گے۔

ایسا نہیں کہ ہمیں کسی پلان میں کامیابی نہیں ہوئی۔ اپنے تمام ڈائٹ پلان بہت اچھے طریقے سے کرتے رہے ہیں اور وزن بھی کم ہوا۔ ایک ڈائٹ پلان کے بعد دو ماہ میں پندرہ سولہ کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کمر چھ انچ کم ہوگئی۔ یہ اور بات کہ پلان چھوڑنے کے صرف تین چار ماہ کے اندر وہ سولہ کلو نہ صرف واپس آگئے بلکہ کم بخت اپنے ساتھ پانچ کلو مزید لے آئے۔ ایک اور پلان لیا۔ ان صاحب کا دعویٰ تھا کہ وہ باہر سے خاص قسم کا پانی امپورٹ کرتے ہیں، جو چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں کلائنٹس کو دیا جاتا، اسے پانی کی بڑی بوتل میں ملا کر پینا ہوتا، دعویٰ یہ تھا کہ اس سے چربی ختم ہوجائے گی۔ یہ پلان اس لحاظ سے دلچسپ تھا کہ دو ماہ میں روٹی، ڈبل روٹی بلکہ بران بریڈ کا بھی ایک نوالہ تک نہیں لینا تھا، چاول کا ایک چمچ تک حرام تھا۔ مختلف دن مقرر تھے، ایک چکن کا، ایک سبزی، ایک دال اور ایک فروٹ کا۔ وزن تو کم ہوگیا، پینتیس چالیس پونڈز گھٹ گئے۔ مسئلہ پھر وہی کہ جیسے ہی آدمی روٹی دوبارہ سے شروع کرے، یہ وزن پھر سے آ دھمکا بلکہ اپنے ساتھ چربی کے نئے تودے لے آیا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب ڈائٹ پلان، شارٹ کٹ میں سیروں وزن کم کرنا دراصل ایک دھوکا ہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل بعض عوارض کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب سے ملا تو انھوں نے ایک بار پھر تاکید کی کہ وزن کم کیے بغیر اب کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ اس پر سنجیدگی سے غور کیا اور لمبے چوڑے دعووں سے گریز کرنے والے طبی ماہرین سے مشاورت کی۔ یہ بات بہت بار پڑھی تھی، مگر تجربات کے بعد اب حقیقی معنوں میں سمجھ آئی ہے کہ وزن گھٹانے کا کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں۔ ہاں وزن عارضی طور پر کم کرنے کے ایسے فارمولے ضرور ہیں، مگر فائدہ کوئی نہیں۔ وزن گھٹانے کے لیے دراصل ہمیں اپنی عادتیں بدلنا پڑتی ہیں۔ زندگی بھر جن بری عادات کو اپنائے رکھا، انہیں خیرباد کہنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر کم کھانا کوئی حل نہیں، ہمیں اچھا، صحت مند کھانے کی عادت ڈالنی پڑتی ہے۔ اپنے آپ کو منزل مقصود کی طرف فوکس رکھنا پڑتا ہے، کہیں پر ڈی ٹریک ہوئے تو پھر سے دوبارہ اصل سڑک پر چلنا شروع کر دیا۔ ایک بار نیچے گر کر دوبارہ سے کھڑے ہوجانے والے مستقل مزاج بچے کی طرح۔ فیٹس یعنی چربی سے ہر حال میں بچا جائے۔ بظاہر پرکشش، مگر اصل میں جسم کو تباہ کرنے والی پرکشش غذاؤں، جنک فوڈ، بازاری کھانے، کولا ڈرنکس، بیکری آئٹمز، مٹھائیاں وغیرہ کو بالکل نظرانداز کرکے گزرج انا۔ اس کے لئے قوت ارادی کی ضرورت پڑتی ہے، بلکہ پہلے سے موجود اس قوت کو مزید صیقل کرنا، اسے مضبوط اور طاقتور بنانا پڑتا ہے۔

یہ سب باتیں تو آپ لوگ بھی جانتے ہوں گے، ممکن ہے کسی کو مایوسی ہوئی ہو کہ اگر یہ جادوئی فارمولہ ہے تو پھر ایسے جادو کو بھی چولہے میں جھونک دینا چاہیے۔ نہیں آپ غلط سمجھے۔ یہ جادوئی فارمولا نہیں ہے اور میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ وزن گھٹانے کا کوئی جادوئی فارمولا ہے ہی نہیں۔ ہوا یوں کہ وزن گھٹانے کے لیے اب لانگ ٹرم پلان بنایا ہے تو اس پر غور کرتے ہوئے ایک دن خیال آیا کہ ہم اپنے جسم کو سمارٹ بنانے کے لیے اتنا کچھ کرتے ہیں، کبھی یہ نہیں سوچا کہ ذہن کو سمارٹ بنانے کے لیے بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ اپنی زندگی کو سمارٹ بنانے کے لیے بھی اسی نوعیت کے ڈائٹ پلان لازمی ہے۔ ہمیں یہ پتا چلانا ہے کہ کون سی عادتیں ہماری شخصیت کے لیے نقصان دہ ہیں، کون سی ایسی باتیں ہیں جو ہم اپنا لیں تو شخصیت زیادہ خوبصورت، سمارٹ اور دیدہ زیب ہوجائے گی۔ اپنی گفتار، اخلاق، کردار، برداشت، تحمل مزاجی پر کام کیا جائے۔ اپنے لباس کو تو ہم خوبصورت بنانے کے لیے سو جتن کرتے ہیں، کچھ اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے بھی محنت کر لی جائے۔ مثال کے طور پر صرف یہ سوچ لیں کہ دوسروں کی کون سی ایسی باتیں ہیں جو ہمیں ناپسند ہیں۔ ایسے لوگ جو ہمارے سامنے صرف اپنی تعریفیں کرتے رہیں، اپنے آپ کو سپر جینئس ثابت کریں، ایسے لوگ ہمیں کتنے برے لگتے ہیں؟ اسی طرح جو لوگ ہمارے کسی کام، کسی کوشش کو نہ سراہیں، تعریف کے دو جملے بھی نہ بولیں، ان پر کس قدر غصہ آتا ہے۔ جو چالاک بننے کی کوشش کریں، ہمیں بے وقوف سمجھیں، رنگ بازی کریں، باتوں سے ٹرخا دے دیں، وعدے پورے نہ کریں تو ہم جلد یا بدیر ان کی اس چالاکی کو سمجھ کر کس قدر ناگواری محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح اور بھی کئی ایسی خامیاں ہیں جو آسانی سے ڈھونڈی جا سکتی ہیں، انہیں اپنی زندگی سے نکال دیں، دوسروں کے مثبت، پلس پوائنٹس کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ سب سے بڑھ کر کچھ نئی مستقل عادات کا اضافہ کریں۔ جس طرح وزن گھٹانے کے لیے تیس منٹ واک ضروری ہے، اسی طرح ذہنی مستعدی اور فکری ارتقا کے لیے دن بھر میں کم سے کم ایک گھنٹہ مطالعے کے لیے نکالنا لازم ہے۔ اس ایک اچھی عادت کو اپنانے سے سمارٹ بننے کی ابتدا ہوجائے گی۔ ٹی وی چینلز کے بیکار ڈراموں، ٹاک شوز پر گھنٹوں ضائع کرنا بھی ایک طرح سے جنک فوڈ کھانے کے برابر ہے۔ اپنے ذہن کو کوالٹی فوڈ دیں۔ دنیا کی شاہکار کتابیں پڑھیں، بہترین فلمیں دیکھیں، سحرانگیز موسیقی سے لطف اٹھائیں، معلومات افزا دستاویزی فلمیں دیکھی جائیں۔ اللہ کی کتاب، سیرت مبارکہ ﷺ اور مذہب کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ ان تمام حوالوں سے یوٹیوب پر اتنا کچھ موجود ہے کہ تاحیات دیکھتے رہیں، ختم نہ ہو۔ بہترین چیزوں کا انتخاب کریں اور اپنے ذہن کو اس سے روشن کریں۔

حرف آخر یہ کہ جسمانی فٹنس کی طرح ذہنی فٹنس کا بھی کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں۔ اس کے لیے صرف مستقل مزاجی کے ساتھ اچھی عادتیں ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ منفی، نقصان دہ عادتوں سے چھٹکارا اور مفید نئی چیزوں کا اضافہ ۔ کامیابی کا یہی راستہ ہے، تھوڑا طویل مگر منزل مقصود تک لے جانے والا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */