یہ بھی لبرلزم ہے - شاہد اقبال خان

لبرلزم کی وضاحت اور تشریح ایک بہت تحقیق طلب اور پیچیدہ سا موضوع ہے اور میں اپنی کم عقلی اور کم علمی کا اقرار کرتے ہوے پہلے ہی disclaimer دے رہا ہوں کہ یہ میری رائے تجزیے سے زیادہ کچھ نہیں۔

لبرلزم کا بڑا سادہ سا بیک گراؤنڈ ہے۔ جیسےا کہ انسانی سرشت میں ہے کہ وہ آزادی چاہتا ہے اور خودمختاری کی زندگی اس کی ایک ایسی ہی بنیادی خواہش اور ضرورت ہے جیسے کہ کھانا پینا، سونا، گھومنا پھرنا اور لوگوں سے ملنا ملانا۔ اسی خواہش کو انگریز فلاسفر جان لوک نے جب فلسفے کا لبادہ اوڈھا دیا تو یہ لبرلزم قرار پایا۔

لبرلزم کے بنیادی نظریے کو اگر میں سادہ ترین الفاظ میں بیاں کروں تو وہ یہ ہے کہ ایک انسان ہر وہ کام کرنے میں آزاد اور خود مختار ہے جو قانون کے دائرے میں ہو اور اس سے کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ "قانون" اور "نقصان" کی ٹرمز کی تشریح بھی الگ سے ایک بڑا قابل وضاحت موضوع ہے اور اس کی تشریح میں اتنی ہی ورائٹی دستیاب ہے جتنی قران کریم یا حدیث مبارکہ کی تشریح کی لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جو ان دونوں الفاظ کی ہر تشریح میں موجود ہیں۔ وہ کیا ہیں؟

ہر شخص آزاد ہے کہ وہ کون سا مذہب اختیار کرے، کس پیغمبر کی بیعت کرے، کس سیاستدان کی حمایت کرے، کون سے کپڑے پہنے، کون سا کھانا کھائے، کون سے مشروب پیے، کیسا گھر بنائے، کون سی زبان بولے، کس معاشی نظریے کو پسند کرے، کون سا کھیل کھیلے، کب سوئے، کب جاگے، کون سا پرفیوم لگائے، کس سے شادی کرے، کسے طلاق دے، کسے پسند کرے، کس سے نفرت کرے وغیرہ وغیرہ۔ ان سب باتوں کو اگر علمی الفاظ میں بیان کیا جائے تو انہیں آزادی اظہار،آزادی مذہب، آزادی خرید، آزادی انتخاب اور احساس انسانیت کہا جاتا ہے مگر مگر، مگر۔۔۔۔لبرلزم میں آزادی تضحیک نہیں ہے۔ لبرلزم میں آزادی کردار کشی نہیں ہے۔ تضحیک اور کردار کشی لبرلزم میں کیا دنیا کے کسی قانون میں جائز نہیں مگر لبرلزم کے جدید پیرکاروں نے تضحیک اور کردار کشی کو آزادی اظہار کے دلکش لبادے میں پیک کر کے ایک ایسی الگ قسم کی شدت پسندی کو جنم دیا کہ لبرلزم کی بھی روح تڑپ اٹھی ہوگی۔

ایک بات اور۔۔۔۔لبرلزم یہ بالکل نہیں کہتا کہ مذہب پر ایمان نہ رکھو بلکہ لبرلزم کہتا ہے جو مذہب پسند آئے اس پر چلو اور دوسروں کو بھی اپنے من پسند مذہب پر چلنے دو۔ لبرلزم یہ ہرگز نہیں کہتا کہ داڑھی والے کو اقتدار نہ دو بلکہ لبرلزم یہ کہتا ہے کہ اقتدار کے لیے داڑھی لازمی نہیں۔ لبرلزم یہ نہیں کہتا کہ اپنی آزادی اور اپنے دفاع کے لیے ہتھیار نہ اٹھاؤ بلکہ لبرلزم یہ کہتا ہے کسی کو ہتھیار اٹھانےپر کسی بھی طرح مالی، معاشی یا سماجی طور پر مجبور نہ کرو۔ لبرلزم یہ نہیں کہتا کہ اپنے حقوق کی مسلح جدوجہد کرنے والے غلط ہیں بلکہ لبرلزم تو یہ کہتا ہے کہ لوگوں کے حقوق غضب کرنے والے مجرم ہیں چاہے وہ کوئی فرد ہو یا ریاست۔

یقین کریں اگر آپ ہر کام کا الزام فوج پر نہیں لگائیں گے، مظلوم کے لیے بلا تفریق آواز اٹھائیں گے، چاہے وہ داڑھی والا ہو یا کلین شیو، اگر آپ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے ظلم پر بھی اسی طرح آواز اٹھائیں گے جیسے یہودیوں کے ہالوکاسٹ پر، اگر آپ افغانستان، عراق اور شام پر امریکی بمباری اور ڈرون حملوں میں مرنے والوں کے لیے بھی ویسے ہی تڑپیں گے جیسے خود کش حملوں اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے میں لقمہ اجل بننے والوں کے لیے، اگر آپ ملّا کے نظریات کو بھی اتنی ہی ویلیو اور عزت دیں گے جتنی ایک سوشلسٹ کے، تو بھی کوئی آپ کو لبرلزم کے دائرے سے خارج نہیں کرے گا۔ یقین رکھیے، یقین کیجیے!

ٹیگز