سقوط - شاہ حسین آفریدی

سقوط کے معنی اور مفہوم تو آپ لوگ مجھ سے زیادہ اچھی طرح سمجھتے ہوں گے۔ یہاں سقوط سے مراد وہ عذاب الٰہی ہے جس کو ہم خود ہی دعوت دی ہے اپنی بےوقوفی، عارضی اختیارات، دشمن کی چال، جہالت لاعلمی اور شاید کچھ اپنی بے بسی کی وجہ سے ۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمان جب تک متحد تھے وہ بارعب اور دوسروں پر حکمرانی کیا کرتے تھے ۔ سلطنت عثمانیہ اور اس پہلے کے حالات سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ یہاں برصغیر میں جب دہلی کی مرکزی حکومت مضبوط تھی تو ہندوستان نہ صرف آزاد تھا بلکہ خوشحال اور مستحکم ریاست تھی۔ لیکن جب مسلمان اپنی بےوقوفی اور لاعلمی کی وجہ سے اغیار کی باتوں اور چال میں پھنس گئے تو انہوں نے مغربی طرز پر نیشنلزم کا نعرہ لگایا۔ ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوا اور یوں ایک معمولی سی ایسٹ انڈیا کمپنی کا مقابلہ اور ریاست کا دفاع مشکل ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا ہندوستان انگریز کے قبضے میں چلا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر سلطنت عثمانیہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وسط ایشیا روس کے قبضے میں چلا گیا جو روس کے ٹکڑے ہونے سے دوبارہ کچھ آزادی تو نصیب ہوگئی لیکن دین بھول گئے، ایمان کھو دیا۔ عرب لسانیت کی بنیاد پر سلطنت سے علیحدہ ہوگئے اورپھر زمانہ جاہلیت کی بنیاد پر مزید آپس میں تقسیم درتقسیم ہوئے اور یوں اپنا دفاع کرنے کے بھی لائق نہ رہے۔ فلسطین پر یہود نے قبضہ کرلیا، جنگ ہوئی لیکن پورا عرب فلسطین کو آزاد نہ کر ا سکا اور یوں بیت المقدس اور قبلہ اول اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔ اس صدی میں جب قومیں آزاد ہورہی تھیں مسلمان سقوط بیت المقدس پر رورہے تھے۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ ہوا اسی نیشنلزم کے طرز پر ۔ بنگلہ دیش نے کونسا تیر مارا؟ بھارت کے کہنے پر اپنے لوگوں کو پھانسی پر چڑھا رہے ہیں اور عنقریب بنگلہ دیش ہندوستان کی ایک ریاست ہوگا۔ افغانستان پر روس نے حملہ کیا ناکام ہوا لیکن ہماری داخلی کمزوریوں کی وجہ سے وہاں امن قائم نہ ہوسکا ۔ یوں ہم نے امریکہ کو آنے کا جواز فراہم کیا۔ افغانستان اپنا دفاع نہ کر سکا، پھر عراق کی باری آئی صدام کے بعد عراق کی کیا حالت ہوگئی؟ اب کہتے ہیں ہم نے برا کیا۔ پھر شام، لیبیا کو تباہ کیا گیا، وجہ؟ جمہوری ملک بنانا ہے اب پچھتا رہے ہیں، یمن کھنڈرات میں تبدیل، صومالیہ خانہ جنگی کا شکار، سوڈان شمال اور جنوب میں تقسیم، باقی افریقی ممالک تو چھوڑ ہی دیں۔ مصر نے اپنے ہی لوگوں کو امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر ٹینکوں سے نشانہ بنایا، کچھ کو پھانسی پہ لٹکایا اور کچھ انتظار کر رہے ہیں۔ مسلمان اس تمام غیر یقینی صورتحال سے بھی سبق نہیں سیکھتے اور آئے روز تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں۔ کرد اپنا ملک بنانے کی کوشش میں ہیں۔ عراق ایران اور ترکی کو تقسیم کرکے، سعودی عرب میں شیعہ ریاست بنائی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں کے کچھ عاقبت نااندیش بلوچستان اور پختونستان کی باتیں کررہے ہیں۔ لیکن کیا انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ اگر برا وقت آگیا تو وہ اپنا دفاع کس طرح کریں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانو متّحد ہوجاؤ - سلیم مغل

تقسیم سے تو سب کمزور ہوں گے، مضبوط نہیں۔ کبھی لسانیت کبھی قومیت کبھی علاقائی تو کبھی فرقہ واریت کی بنیاد پر۔ یورپ یورپی یونین کے نام سے ، نیٹو کے نام سے، اکٹھا ہوگیا۔ ان چکروں میں نہ کینیڈا بے وقوف بنا نہ روس، چین نہ بھارت لیکن اگر کوئی بےوقوف ہے تو وہ مسلمان جو ان مغربی ایجنٹوں کی باتوں آکر خود کو اور امّت کو تباہ کرنے پر تلے ہیں۔

جب تک مسلمان امت واحدہ نہیں بنتے، غلام اور ذلیل رہیں گے۔ دعا بھی ہے، درخواست اور دعوت بھی کہ خدا کے لیے قبلہ اول کی خاطر اپنے تمام فروعی مسلکی لسانی اور تعصبی اختلافات بھلا کر ایک امت بن جاؤ اور اس کو آزاد کرو ورنہ خدانحواستہ مکہ اور مدینہ پر حملہ ہوا تو تب بھی شاید ہم اسی طرح مصلحت کا شکار ہوں گے، ذلیل اور خوار ہوں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔