بیت المقدس کا سقوط، ذمہ دار کون؟ - یاسر محمود آرائیں

امریکا کی جانب بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنا اور پھر اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا اعلان کرنا اس صدی کا سب سے حماقت خیز قدم ہے۔ اس عمل سے امریکا کا اسلام دشمن چہرہ جو پہلے کسی حد چھپا ہوا تھا بالکل عیاں ہوکر سامنے آچکا ہے۔ اپنے اسلام دشمن اقدامات میں امریکا تنہا ہرگز نہیں ہے بلکہ پورا مغرب اس کا ہمدم ومعاون ہے۔ اسرائیل کی تخلیق اور پروان میں بھی یہ تمام برابر کے شریک کار ہیں۔

صیہونی ریاست کا وجود بالکل ناجائز ہے اور یہ برٹش استعمار کا ایسا گناہ ہے جو رہتی دنیا تک اس کے ماتھے پر داغ کی صورت قائم رہے گا۔ شاید اسی احساس گناہ سے شرمندہ ہوکر برطانوی لیبر پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں دو ریاستی نظریے پر عمل درآمد کا عندیہ دیا تھا ہے اور کہا تھا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر قبول کرلیا جائے گا۔ انگریز اپنی زیر تسلط مسلم ریاستوں سے جب نکلا تو کچھ مسائل دانستہ بغیر حل کیے چھوڑ کر چلاگیا۔ جن کی بدولت آج تک فسادات اور خون خرابا ہورہا ہے اور لاکھوں جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

برصغیر کے بٹوارے کے وقت قواعد وضوابط کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ لیکن کشمیر کو مسلم اکثریتی علاقہ ہونے اور وہاں کے عوام کی پاکستان سے الحاق کی خواہش کے باوجود سازشوں اور حیلوں سے پاکستان میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔ اسی مسئلے کو لیکر آج تک دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ ریاست کشمیر میں آزادی کی خواہش میں ایک لاکھ کے قریب جانیں ضائع ہوچکی ہیں مگر ہنوز یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

اسی طرح راندۂ درگاہ صیہونیوں کو کسی استحقاق اور جواز کے بغیر ارض فلسطین میں بسایا گیا اور پھر تمام طاغوتی طاقتوں کی اعانت سے ایک ناجائز ریاست قائم کی گئی جسے اسرائیل کا نام دیا گیا۔ کچھ عالمی طاقتوں کی سرپرستی اور کچھ اپنے دیرینہ”خبط عظمت” سے مجبور ہوکر صیہونیوں نے توسیع پسندانہ عزائم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردگرد کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ جس کے نتیجے میں 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ شروع ہوگئی۔ اس چھ روزہ جنگ کے اختتام پر اسرائیل مصر کے صحرائے سینا، شام سے متصل گولان کی پہاڑیوں، اردن کے کچھ حصے اور مشرقی اور مغربی بیت المقدس پر قابض ہوچکا تھا۔ بعد میں اسرائیل ایک معاہدے کے تحت مصر اور اردن کے مقبوضہ علاقوں کو چھوڑنے پر رضامند ہوگیا مگر گولان کی پہاڑیوں اور مقبوضہ بیت المقدس پر وہ مسلسل نئی بستیاں تعمیر کرکے غیر قانونی طور پر یہودیوں کی آبادکاری میں مصروف رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

واضح رہے کہ 1949 کی جنیوا سفارشات کے مطابق کوئی بھی قابض ریاست اپنے مقبوضہ علاقوں میں اپنے شہریوں کو ہرگز آباد نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر اسرائیل کو متنازعہ تعمیرات سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں قرار دادیں پیش ہوتی رہی ہیں۔ مگر ہمیشہ سے اس کے جواب میں اسرائیل ہٹ دھرمی سے کام لیتا رہا اور بیت المقدس کو اپنا “اٹوٹ انگ” قرار دیتا آیا ہے۔

مسلم حکمرانوں کا رویہ اس کے جواب میں بزدلی کی حد تک مصلحت پسندانہ رہا، جس کے نتیجے میں انہیں اپنا حق چھوڑ کر دو ریاستی حل(قبلہ اول کے بٹوارے)پر آمادگی ظاہر کرنی پڑی۔ امت مسلمہ کے آپسی اختلافات اور کمزوریوں کی وجہ سے مگر، اس دو ریاستی حل پر بھی عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔ امریکا نے مسلمانوں سے اپنی عداوت کے باعث بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کر کے دو ریاستی حل کو بھی اب عملاً دفن کردیا ہے اور بین السطور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی اس علاقے پر بلا شرکت ''ملکیت'' تسلیم کرتا ہے۔

امریکا نے یہ قدم راتوں رات نہیں اٹھایا بلکہ سالوں سے اس کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ 1995ء میں صدر کلنٹن کے دور میں پہلی بار امریکی کانگریس نے ''بیت المقدس'' کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو''تل ابیب'' سے وہاں منتقل کرنے کا بل منظور کیا تھا۔ اس میں یہ بھی درج تھا کہ جب تک امریکی سفارتخانہ ''بیت المقدس'' منتقل نہیں کیا جاتا امریکی صدر اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ ہر چھ ماہ بعد کانگریس میں اس عمل سے گریز کی ٹھوس وجوہات پیش کرے کہ اس پر عملدرآمد کی صورت امریکی سلامتی کو کیا خطرات لاحق ہوسکتے تھے جس کے نتیجے میں اس سے گریز کیا گیا۔ اس تمام اشتعال انگیز سازشوں کا بہت پہلے سے مسلم قیادت کو علم تھا مگر امریکا کو اس سے روکنے یا اس کے خلاف عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوئی کوشش کبھی کی ہی نہیں گئی۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی ببانگ دہل اس بات کا اعادہ کیا تھا اور گزشتہ سال مسجد اقصیٰ کے صحن میں جب اسرائیلی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا تھا اسی وقت دردمند احباب نے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا مردہ ضمیر جھنجوڑنے کی کوشش کی تھی مگر ان کے کانوں پر جوں تک نا رینگی جس کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑا۔ اب تقریبا تمام مسلم ممالک کی لیڈر شپ مذمتی بیانات کے ذریعے اپنی عوام کا اشتعال کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ او آئی سی کا اجلاس، بھی خالی خانہ پری اور محض اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کی کوشش ہے اور اس کا نتیجہ نشستند، گفتند، برخاستند سے زیادہ کچھ نہیں نکلے گا۔ واقعتا مسلم حکمران اگر مسئلہ کا حل چاہتے ہیں تو انہیں اس اجلاس میں سب سے پہلے یہ اعلان کرنا چاہیے کہ جب تک مسئلہ ''بیت المقدس'' حل نہیں ہوجاتا ہم ایک دوسرے کے خلاف پراکسیز ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور جب تک مسئلہ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہوجاتا ہم اس فورم کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

امت مسلمہ کے متضاد نظریات اور اس کے متصادم مفادات بھی اس تمام تر زوال اور واردات کی بڑی وجہ ہیں۔ ابھی کچھ دن قبل ایک برطانوی اخبار کا انکشاف کہ'' سعودی عرب کی جانب سے ایران کے خلاف اسرائیل سے مدد طلب کی گئی ہے'' کسے یاد نہیں ہوگا؟ دوسری جانب ایران بیک وقت چار ممالک میں سعودی مفادات کے خلاف مصروف بہ عمل ہے جبکہ اسی توسیع پسند ایران نے آج تک یوم القدس منانے اور مرگ بر اسرائیل کے نعرے لگانے کے علاوہ اسرائیل کا ہاتھ روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

مذکورہ دونوں بڑے اسلامی ممالک "ایران، سعودی عرب"کی تمام تر توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور آپسی لڑائیوں میں صرف ہورہی ہیں۔ نہایت افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کے اختلافات آپسی معاملات تک محدود نہیں ہیں بلکہ''مسئلہ فلسطین''پر بھی ''الفتح اور حماس''کی صورت ان کے مفادات کا ٹکراؤ نظر آتا ہے۔ اسی طرح ایک اور بڑے اسلامی ملک ترکی کے اسرائیل کے ساتھ کاروباری اور سفارتی تعلقات ہیں اور نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے اس نے بھی آج تک بڑھک بازی کےسوا کبھی کچھ نہیں کیا۔ یہ بھی سب کے علم میں ہے کہ پاکستان اپنی مانگنے تانگنے کی عادت کی وجہ سے کبھی اپنی سوچ اور عمل میں آزاد نہیں رہا ہے اور ایٹمی طاقت کا حامل ہونے کے باوجود اسے مسلمانوں کی حمایت میں دو بول ادا کرنے کی جرات کبھی نہیں ہوئی۔ یہ بھی کوئی راز نہیں کہ اگر کچھ لفظ نکالنے لازم ہوجائیں تو بھی سعودیہ سے تحریر آنے تک زبان کو حرکت نہیں دی جاتی۔ انہی اختلافات اور متصادم مفادات کی بدولت مسلمان تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کےخلاف اپنے مشترکہ دشمن سے مدد مانگتے نظر آرہے ہیں۔ میری فہم میں اس وقت ''بیت المقدس'' پر صیہونی قبضے کے مسلمان بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اب شور شرابہ اور احتجاج بعد ازمرگ واویلا اور اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ جب تک آپسی تقسیم ختم نا کریں گے اسی طرح مسلمان دنیا میں ''لٹتے اور پٹتے'' رہیں گے۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.