یروشلم … مایوسی کس بات کی؟- آصف محمود

شریف مکہ علی بن حسین نے جب مکہ میں اپنے محل کی کھڑکی سے گولی چلا کر برطانوی کھیل کا حصہ بنتے ہوئے ترکوں کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا تو ترک فو ج اس وقت طائف جا چکی تھی اور مکہ میں صرف چند ہزار ترک فوجی موجود تھے۔ انہوں نے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ شریف مکہ کی مدد کو برطانیہ کے جنرل ریگنالڈ آرٹلری لے کر پہنچ گئے ۔4 جولائی کا دن تھا جب ترک لڑتے لڑتے شہید ہو گئے ۔ یہ بغاوت سلطنت عثمانیہ کے زوال کی ابتدا تھی ۔سلطنت عثمانیہ بکھری تو فلسطین برطانوی قبضے میں چلا گیا اور چند سال بعد وہاں اسرائیل کے قیام کا اعلان ہو گیا۔ چنانچہ مورخین جہاں اس بغاوت کو سلطنت عثمانیہ کے زوال کی ابتدا قرار دیتے ہیں وہیں وہ اسے اسرائیل کے قیام کا نقش اول بھی کہتے ہیں۔ اتفاقات زمانہ دیکھیے ، ترک تو آج ایک صدی بعد پھر سے اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے ، لیکن عربوں کو اسرائیل کے آزارسے آج تک نجات نہیں مل سکی۔یہ شاید اس گناہ کی سزا کے طور پر ان پر مسلط کر دیا گیا ہے۔نہ عربوں نے سلطنت عثمانیہ کی بربادی میں برطانیہ کا ساتھ دیا ہوتا نہ آج اسرائیل کی شکل میں ان پر یہ بلا مسلط ہوتی۔ اپنی ہی غلطیاں ہوتی ہیں جن کی تعزیر قوموں کی پشت پر کوڑا بن کر برسا کرتی ہے۔

یروشلم کے حالیہ تنازع میں طاقت کا توازن ہمارے حق میں نہیں اور خود طیب اردوان کا رد عمل بتا رہا ہے کہ جذبات تو مجروح ہیں لیکن ہمارے پاس فوری آپشنز بہت محدود ہیں۔لیکن کیا اس صورت حال سے مایوس ہو جانا چاہیے؟ ہر گز نہیں۔ ہم کمزور ہیں۔مسلم دنیا میں ایک بھی ملک ایسا نہیں جو امریکہ کو وہی دھمکی دے سکے جو ماضی میں او آئی سی نے ساری دنیا کو دی تھی کہ جس جس نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا اس کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔امریکہ کا بائیکاٹ ممکن ہی نہیں۔طیب اردوان سب سے پہلے بولے لیکن وہ بھی یہ نہیں کہہ سکے کہ امریکہ نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا تو اس کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔وہ صرف اتنا کہہ پائے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جائیں گے۔امریکہ کا سفارتی بائیکاٹ ہو سکتا ہے نہ معاشی ۔عسکری اعتبار سے بھی معاملہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مد مقابل نہیں۔پاکستان اسلامی دنیا کی قابل ذکر عسکری طاقت ہے اور اس کے پاس بھی زیادہ تر اسلحہ وہ ہے جو امریکہ سے لیا گیا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ طاقت کے توازن کی صورت حال یہ ہے کہ عربوں نے اس کے ساتھ جب جب جنگ کی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل پہلے سے زیادہ علاقوں پر قابض ہو تا گیا۔اس وقت اسرائیل کے ساتھ کسی تصادم کا اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ وہ مزید علاقوں پر قابض ہو جائے ۔1967 کی جنگ کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ صرف چھ دنوں میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے 5878مربع کلومیٹر، غزہ کے 363 مربع کلومیٹر ، مصر کے صحرائے سینا ، اور شام کی گولان کی پہاڑیوں کے 1150 مربع کلومیٹر پر قبضہ کر لیا ۔مصر کا 80 فیصد اسلحہ تباہ ہو گیا ، 10ہزار مصری، 6ہزار 96اردنی اور ایک ہزار شامی اس جنگ میں شہید ہو گئے۔مشرقی یروشلم کے مقامات مقدسہ پربھی اسی عرصے میں اسرائیل کا قبضہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

یہ اس وقت کی بات ہے جب عرب دنیا قدرے بہتر حالت میں تھی۔ اب حالات مختلف ہیں۔عراق اجڑ چکا، شام میں آگ لگی ہے ، سعودی عرب داخلی بحران سے دوچار ہے اور امریکی اثر ورسوخ غیر معمولی طور پر بڑھ چکا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں، اس سب کے باوجود مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

درست کہ ہم کمزور ہیں لیکن کتنے؟ ایک صدی قبل جو حال یہودیوں کا تھا کیا ہم اس سے بھی برے حال میں ہیں؟ ذرا پڑھیے اسرائیل کے قیام سے ڈیڑھ دوعشرے قبل ان کا کیا حال تھا۔وہ بے حال تھے، در بدر تھے، رسوا پھرتے تھے۔لیکن پھر انہوں نے وہ طاقت حاصل کی کہ لارڈ بالفور کو کہنا پڑا کہ صیہونیت ان کے لیے سات لاکھ عربوں کی خواہشات سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور جمی کارٹر تو اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے کہا اسرائیل کی بقاء سیاسی نہیں مذہبی فریضہ ہے۔چنانچہ پال فنڈلے نے They Dare to Speak Out میں لکھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اپنے ملک میں جتنا اثر رکھتا ہے اس سے زیادہ اثرو رسوخ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر رکھتا ہے۔

آج اس کی طاقت ہمارے سامنے ہے۔ساری دنیا ایک طرف ہے لیکن اس نے امریکہ کو اپنا ساتھ دینے پر مجبور کر رکھا ہے اور اسے کسی کی پروا نہیں۔سوال یہ ہے اگر مٹھی بھر صیہونی یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ہم تو ان سے بہت بہتر حالت میں ہیں۔کمزور ہی سہی لیکن پچاس سے زائد ممالک ہیں۔ایک ملک ایٹمی قوت ہے۔ کچھ ممالک غیر معمولی دولت رکھتے ہیں۔سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹ کر بکھر جانے کے باوجود آج ترکی پھر سے قدموں پر کھڑا ہو چکا ہے۔غیر فعال ہی سہی لیکن ہمارے پاس او آئی سی کی شکل میں ایک فورم موجود ہے۔ابھی اس کے نقوش مبہم ہی سہی لیکن چالیس ممالک ایک مشترکہ فوج بنانے کا سوچ رہے ہیں۔امکانات بھی موجود ہیں اور ٹیلنٹ بھی۔بس اب محنت اور ہمت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان مفاہمتی عمل کے ادوار، آغاز تا اختتام کیا ہوا - قادر خان یوسف زئی

وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔سو سال پہلے دنیا پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔آج دوسروں کا راج ہے لیکن یہ دوسرے کیا قیامت تک راج کرنے کے جملہ حقوق لے کر پیدا ہوئے ہیں؟ ہر گز نہیں۔کسے خبر وقت کا موسم کب بدل جائے؟اور یہ تو طے ہے کہ وقت بدلتانہیں اسے بدلنا پڑتا ہے۔ ’’لیس للانسان الا ما سعی ‘‘۔مایوسی اور فرسٹریشن میں سرنڈر کر دینا کوئی آپشن نہیں۔ہمیں مزاحمت کرنا ہے اور اپنی تعمیر پر توجہ دینا ہے اور قومیں چند سالوں میں نہیں بنتیں۔اس میں وقت لگتا ہے، ایک گھر کی قسمت بدلنے میں بیس پچیس سال لگ جاتے ہیں۔ایک باپ ایک بیٹے پر محنت کرتا ہے ، وہ بیٹا کچھ بن جاتا ہے تب گھر میں خوشحالی آ جاتی ہے۔اگر ایک گھر کی قسمت بدلنے میں دو عشرے درکار ہیں تو ایک قوم کا نصیب راتوں رات کیسے بدل سکتا ہے؟

اپنی آگ میں جلتے رہیے، اپنی شناخت پر قائم رہیے ، اپنے نظریے سے جڑے رہیے ، اپنی پلکوں میں خوابوں کو سنبھال کر رکھیے، اپنے زخموں کو کریدتے رہیے، وقت بدلے گا! یہ کبھی ایک سا نہیں رہتا لیکن یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آ سکتی۔یاد رکھیے کہ اسرائیل طاقت میں ہے اور امریکہ اس کی پشت پر۔امریکہ ایک سپر پاور بھی ہے۔لیکن اس کے باوجود امریکہ کو اپنا سفارت خانہ یروشلم لے جانے کا فیصلہ کرنے میں50 سال لگ گئے۔وہ یہ فیصلہ 1967ء میں نہیں کر سکا ۔وہ یہ فیصلہ 1980ء میں بھی نہیں کر سکا۔وہ یہ فیصلہ 1995ء میں بھی نہیں کر سکا جب اس نے یروشلم ایمبیسی ایکٹ پاس کیا۔

ہمیں طویل ریاضت درکار ہے۔جو آپشن دستیاب ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے اور نئے آپشنز کی جستجو جاری رہنی چاہیے۔

جب آپشنز کی بات کی جاتی ہے تو یاد رہے کہ عسکری حل ہی واحد آپشن نہیں ہوتا۔ مسلم ممالک اگرفی الوقت اس قابل نہیں کہ معاملے کو عسکری طور پر حل کر سکیں تو اس میدان میں بروئے کار آئیے جو آپ کر سکتے ہیں۔سفارتی سطح پر متحرک ہونا ہو گا، میڈیا میں آواز اٹھانا ہو گی، دنیامیں فلسطینیوں کی مظلومیت اور ان کے موقف کا ابلاغ کیجیے۔ان کے لیے کچھ آسانیاں تلاش کر لیجیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنی تعمیر کرنا ہے۔مایوسی کی کوئی بات نہیں۔اس برے وقت میں بھی دنیا میں اسرائیل کے سوا ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے امریکی اقدام کی تحسین کی ہو۔ویسے بھی مزاحمت کامیابی کی ضمانت پر نہیں ،ہر حال میں کی جاتی ہے ۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.