ٹرمپ کے ہاتھ میں استرا - ڈاکٹر شفق حرا

گزشتہ کئی روز سے مجھ سمیت امت مسلمہ کو ایک سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے کہ میری راتوں کی نیند اڑ چکی ہے۔ شب و روز ایک ہی خیال میں غلطاں ہوں کہ آخر ٹرمپ صاحب کو کیا سوجھی جو انہوں نے وہ کام کردکھایا جو بل کلنٹن سے براک اوباما تک کوئی صدر نہ کرسکا؟ منتخب امریکی صدور تو پہلے بھی رہے لیکن شاید وہ یہودی لابی کے کم زیر اثر تھے یا پھر ان کو سیاست کی سوجھ بوجھ تھی۔

بچپن سے سنا تھا کہ بندر کے ہاتھ میں استرا آجائے تو وہ سب سے پہلے اپنا منہ کاٹ ڈالتا ہے۔ اسلام آباد میں اگر کبھی دامن کوہ جانے کا اتفاق ہو تو بندروں کے غول در غول نظر آتے ہیں تاہم طویل عرصہ اسلام آباد میں گزارنے کے باوجود کسی بندر کو استرے کا یہ استعمال کرتے تو دیکھنے کا شرف حاصل نہ ہوسکا لیکن ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات شاید اس کہاوت کی سو فیصد عکاسی کرتے ہیں۔ ٹرمپ ایسا کیوں نہ کریں؟ آخر وہ بھی تو ڈارون کی تھیوری کے مطابق عادات میں اپنے آبا و اجداد کی مماثلت کے حامل ہیں۔ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اقدام شاید ان لوگوں کے لیے قطعی حیران کن نہ ہو جو ان کے چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا اقدام دیکھ چکے ہیں۔ شاید ٹرمپ کو لگتا ہے کہ وہ چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کا دروازہ بند کرکے امریکا کو آدھے دہشت گردوں سے نجات دلا چکے ہیں اور باقی ماندہ دہشت گردی کا خاتمہ امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی سے عملی جامہ پہن لے گا۔

امریکی صدر اپنی انتخابی مہم میں یہ اعلان کرچکے تھے کہ وہ اقتدار کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے ہی امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حکم صادر کردیں گے تاہم حیرت اس بات پر ہے کہ ان کو آج تک یہ وعدہ یاد رہا۔ کچھ عرصہ قبل جب ٹرمپ سعودی عرب جاکر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کے ہمراہ تلوار کے ساتھ محو رقص تھے تو مجھے لگا کہ وہ شاید اپنا یہ وعدہ بھول چکے ہیں۔ پھر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے تو مجھے یقین ہوگیا کہ ٹرمپ کی آنکھوں پر اب سعودی دفاعی معاہدوں کی پٹی بندھ گئی ہے اور وہ چار سال تک اسی طرح سے ہر چھ ماہ بعد یہ کام ملتوی کرتے رہیں گے لیکن شاید یہودی لابی کے ڈالر سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر حاوی ہوگئے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ قدم اٹھا لیا۔ ٹرمپ کی ہمت کی داد سے قبل یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ جب یہی ٹرمپ چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی لگا رہے تھے تو سب سے پہلے اس کے خلاف اسرائیل میں مظاہرے شروع ہوئے اور پھر پوری دنیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن مسلم حکمران اور عوام ستو پی کر خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے۔ مسلم حکمرانوں اور عوام کی خاموشی دیکھ کر دنیا بھر میں جاری مظاہرین بھی ٹھنڈے پڑ گئے کیونکہ انہوں نے سوچا کہ جب مسلمانوں کو فکر نہیں تو ہم کیوں اپنا آرام غارت کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان مفاہمتی عمل کے ادوار، آغاز تا اختتام کیا ہوا - قادر خان یوسف زئی

ٹرمپ کے اس اقدام پر مجھے امید تھی کہ اس بار امت مسلمہ ضرور جاگے گی اور ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دے کر یہ اقدام واپس لینے پر مجبور کردے گی۔ امت مسلمہ اگر نہ جاگی تو پھر سعودی عرب کی قیادت میں ہمارا قائم کیا گیا فوجی اتحاد ضرور حرکت میں آئے گا اور پھر امریکا بہادر کو بزور شمشیر علم ہوجائے گا کہ مسلم فوجی اتحاد لاتوں کے بھوت کو باتوں کی بجائے لاتوں سے قائل کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں ویسے ویسے میری یہ امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں کیونکہ نہ تو فوجی اتحاد کے کرتا دھرتا حرکت میں آئے اور نہ ہی امت مسلمہ نے کوئی بڑا قدم اٹھایا۔ زیادہ سے زیادہ ایک مذمتی بیان جاری کرکے روح کی تسکین فرمائی اور پھر اپنی سیاست میں الجھ کر دامن بچا لیا۔ عرب ممالک نے اگرچہ امریکا کو بیانات کے دباؤ میں لانے کی بہت کوشش کی لیکن اگر امریکا ان کے بیانات سے مرعوب نہیں ہورہا تو وہ بھی کیا کریں۔ حیرت مجھے بے بس و لاچار اقوام متحدہ اور اس کے سیکرٹری جنرل پر ہوئی جنہوں نے نہ صرف سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا بلکہ امریکا بہادر کے اس اقدام پر ایک بھرپور مذمتی بیان بھی جھاڑ دیا۔ شاید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اندازہ ہوگیا ہو کہ امت مسلمہ کو خواب خرگوش میں مگن رکھنے کے لیے ایسے مذمتی بیان ازحد لازم ہوچکے ہیں۔ اس اجلاس کی خاص بات اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا الزام تھا کہ اقوامِ متحدہ نے فلسطینیوں اور اسرائیلوں کے درمیان امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے اور اقوام متحدہ دنیا کے ان مراکز میں سے ایک ہے جو اسرائیل دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔

اگر یروشلم کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہزاروں برس پرانی تہذیب و تمدن کا گہوارہ یہ شہر مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبرحضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔ مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے جبکہ مسلمانوں کا قبلۂ اول اسی شہر میں واقع ہے جبکہ حضرت محمد ﷺ نے معراج کی شب مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی۔ ان تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل یہ شہر کئی ہزار سال سے اپنے ہی معتقدین کے خون سے رنگا جارہا ہے۔ کبھی اس پر یہودیوں کا غلبہ تھا تو کبھی عیسائی اس شہر میں قدم جمانے میں کامیاب ہوئے۔ مسلمانوں کو بھی جب حضرت عمرؓ اور صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالار میسر آئے تو انہوں نے بھی اس شہر کا کنٹرول حاصل کیا۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے یہ شہر دو حصوں میں تقسیم ہوا اور اقوامِ متحدہ نے یروشلم کا مشرقی حصہ فلسطینیوں جب کہ مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کر دیا۔ یروشلم کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس شہر کو کسی ایک ملک یا مذہب کے ماننے والوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ امن نہیں بلکہ بدامنی کا سبب بنے گا اور یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک بھی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل نہیں کررہا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے پر بضد رہتے ہیں تو شاید ہمیں ایک بار پھر اسرائیل اور فلسطینی عوام کے مابین پرتشدد واقعات نظر آئیں کیونکہ فلسطینی عوام اپنی جان تو دے سکتے ہیں لیکن اس شہر پر اسرائیل کا قبضہ برداشت نہیں کرسکتے۔ اس وقت اقوام متحدہ سمیت تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر ٹرمپ کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کریں تاکہ امریکا کو کشت و خون کے اس راستے سے گریز پر مجبور کیا جاسکے۔ دوسری جانب امت مسلمہ بالخصوص پاکستان میں موجود مذہبی جماعتوں کو اس معاملے پر سیاسی دکانیں کھولنے کی بجائے حکومت کے ہاتھ مضبوط کرکے امریکا کو واضح پیغام دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ملک کے اندر جلاؤ گھیراؤ اور شٹر ڈاؤن کے ذریعے اپنے ہی ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی دیرینہ روش سے دور رہنا چاہیے۔ او آئی سی پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے پر حسب سابق اجلاس بلا کر انگریزی والے "اوہ آئی سی" جیسے جملوں سے بڑھ کر دنیا کو کوئی پیغام دے تاکہ فلسطینی عوام کو مزید اسرائیلی ظلم و ستم سے تحفظ مل سکے۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.