ایران سعودی عرب سے بہتر کیوں؟ - فیض اللہ خان

خلیج میں ایران کی شاندار فتوحات کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک ایران اور اس کے اتحادی شیعہ جنگجوں کی مشترکہ نظریاتی یا فکری بنیاد ہے۔ ایران کی صورت میں عالم اسلام میں موجود شیعہ مذہب کو ایک ایسی فکری دلیر و مدبر ریاست میسر آچکی ہے جو کہ سنّی اکثریتی ممالک میں بھی اپنے مضبوط جتھے رکھتی ہے۔

شام و عراق میں دنیا بھر سے اہل تشیع مزارات کے دفاع کے نام پہ صفوی ریاست کی توسیع کے لیے پہنچے۔ ایران نے ان تمام کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ اس دوران جو جو جنگ میں مارا گیا، اسے سرکاری سطح پہ شہید تسلیم کیا گیا، اہل خانہ کی مالی معاونت اور شہریت کی فراہمی سمیت ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی۔ (سعودی عرب نے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا، پھانسی دی، مقابلوں میں مارا، لاپتہ کیا اور اہل خانہ کو پریشان کیے رکھا) دنیا بھر کے اہل تشیع جانتے ہیں کہ ایران کی شکل میں ان کی پشت پہ ایک ایسی ریاست موجود ہے جو اپنی جنگ نظریاتی بنیادوں پہ لڑ رہی ہے نہ کہ اقتدار کی مضبوطی کے لیے۔

ایران طویل عرصے سے عالمی پابندیوں کا شکار ہے، لیکن جس خوبصورتی سے اس نے ان حالات کا سامنا کیا اور سفارتی میدان میں کامیابی سمٹیں، اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔

ایران نے فلسطین کی جنگ آزادی میں مصروف حماس کی عسکری مدد کی اور وقت پڑنے پہ القاعدہ اراکین کو پناہ بھی دی۔ ایران کی ریاستی پالیسی کی البتہ داد بنتی ہے کہ اس نے بیک وقت امریکہ و القاعدہ کے ساتھ مراسم رکھے اور مشکل ترین عمل میں توازن کو بگڑنے نہ دیا۔ مثلاً عراق میں متعصب اہل تشیع قیادت کو اقتدار کی زمام کار دلوانے کے واسطے اس نے امریکہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور اس دوران ایران میں نظربند القاعدہ قیادت سے اسے بلیک میل بھی کرتا رہا اور اپنے مفادات آسانی سے پورے کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے ایران کے سوا دنیا کے ہر اسلامی و غیر اسلامی ملک نے جہادی عناصر پکڑ کر امریکا کے حوالے کیے، لیکن ایران نے اس حوالے سے اپنے پتے یکسوئی کے ساتھ اپنے معاملات درست کرنے کے لیے کھیلے، یہی وجہ ہے کہ آج ایران کے افغان طالبان سے بھی مراسم قائم ہوچکے۔

اب آجائیں سنی مسلمانوں کے امام سعودی عرب کی جانب۔

سعودی عرب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ عرصہ ہوا اپنی نظریاتی سمت کھو چکا، افغان جہاد کے زمانے میں سعودی حکمران دنیا بھر میں جہاد کے علمبردار بنے، بلاشبہ بوسنیا، شیشان اور عراق سمیت متعدد مقامات پہ جہادیوں کی مالی و عسکری معاونت میں پیش پیش رہے، اخوان کے قیادت کے لیے سعودی حکمرانوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے، سید مودودی و سید قطب کا لٹریچر وہاں سرکاری سطح پہ میسر رہا، دنیا بھر میں مساجد تعمیر کی گئیں، اسلامک سینٹرز بنے، لیکن نائن الیون کے بعد پالیسی کچھ یوں تقسیم ہوئی کہ القاعدہ یا اخوان المسلمون سے منسلک جہادی یا سیاسی عناصر ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتے گئے، یہاں تک کے حماس جیسی تنظیم بھی پابندی کی زد میں آگئی، اور ملک کو روشن خیال بنانے کی مہم کا آغاز ہوا، جس کی خود اس کے شہریوں کی جانب سے مزاحمت ہو رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں گرفتاریوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

بلاشبہ سعودی عرب نے شام و عراق میں اپنے من پسند سنّی گروہوں کو اہل تشیع کے مقابل اتارا جبکہ عسکریت کے میدان میں اصل قوت القاعدہ یا داعش کو مکمل نظر انداز کیا (داعش نے شام و عراق اور افغانستان میں امریکیوں کا کام آسان کیا ہے، اور دولت اسلامیہ نے کافروں سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا، اس کی حمایت نہ کرنا بالکل درست عمل تھا۔)

اس پسپائی کی اہم وجہ فکری اور نظریاتی طور پہ سعودی عرب کا یکسو نہ ہونا ہے۔ ہر حال میں اپنے اقتدار کا تحفظ اور امریکہ پہ انحصار نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

پھر ہر کچھ دنوں بعد پتہ چلتا کہ سعودی بادشاہ ہزاروں افراد کے ہمراہ پکنک منانے پیرس پہنچ گئے، شکار ہو رہا ہے، اربوں ڈالرز کی عیاشی نے مسلمانوں کو دکھ پہنچایا۔ گزشتہ دنوں محمد بن سلمان نے سیدنا عیسیٰ ابن مریم ؑکی تصویر پینتالیس کروڑ میں خرید کر اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے کہ سعودی حکمران امّت کے مفادات سے یکسر لاتعلق ہیں، اتفاق سے آپ کو ایران کی جانب سے ایسے تماشے شاید ہی کبھی ملیں۔

یمن کے محاذ کے لیے سعودی عرب نے اپنے ہم خیال ممالک کا اتحاد بنا کر اسے اسلامی اتحاد کا مضحکہ خیز نام دیا، لیکن ایران نواز گروہوں کے آگے اسے شکست ہو رہی ہے۔

سنّی عسکری گروہوں کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ سعودی عرب پہ اعتماد کر سکیں۔ اس کی وجہ اس ریاست کا چھوٹے مفادات پہ سودا کرنا ہے۔ اگر سعودی عرب ایران کی طرح نظریاتی ریاست ہوتی تو وہ نہ صرف مضبوط عسکری گروہوں کی پشت پناہی کرتی بلکہ اس جنگ میں ایران سے کہیں زیادہ کامیابی اسے ملتی۔

عالمی جہادیوں کا یہ حال ہے کہ انہیں پاکستان برداشت کرتا ہے، نہ سعودی عرب لیکن ایران نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ اپنے ملک کو ایسے حملوں سے بھی محفوظ رکھا جو کہ پاکستان سعودی عرب وغیرہ کا مقدر بنے۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */