سراب زندگی (3) - احسن سرفراز

پچھلی قسط پڑھیے

محسن پر اب چھوٹی سی عمر میں ہی باقاعدہ چند لڑکوں کی مارکیٹنگ ٹیم اور آفس سنبھالنے کی ذمہ داری تھی۔ اسنے تندہی سے اپنا کام سنبھالا اور جلد ہی کمپنی کا اعتماد اس پر اور گہرا ہوگیا۔ اس نے اب اپنی کمائی سے گھر کی اوپر والی منزل شروع کروا دی تھی۔ کہکشاں سے دور اس چھوٹے سے شہر کی شامیں محسن کو کاٹنے کو دوڑتیں، سورج ڈوبتے ہی اسے اپنا دل بھی ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا۔
دوسری طرف اب جب بھی دوسرے شہر سے مہنگی کال اسے کرنا پڑتی تو اسے کہکشاں کے رویے میں ہر کال کے ساتھ سرد مہری واضح محسوس ہوتی، محسن کو کہکشاں کی باتیں بہت روائتی روائتی لگنے لگی تھیں۔

وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا گوکہ محسن بظاہر اپنی منزل کے قریب جارہا تھا لیکن کہکشاں کی بڑھتی ہوئی بے اعتنائی کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی، اسکا دل کہہ رہاتھا کہ کہکشاں مٹھی سے پھسلتی ریت کی مانند اسکی زندگی سے نکل رہی ہے۔ لیکن پھر وہ ہر قسم کے خیالات کو جھٹک کر سوچتا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ، وہ تو اسکے لیے ہمیشہ ہی بے قرار رہی ہے اور جب وہ اسے کہا کرتا کہ اسے دعاؤں میں مانگا کرے کیونکہ اللہ دعاؤں کو رد نہیں کرتا، جو دعا میں مانگیں یا وہ چیز ملتی ہے یا اس سے بہتر چیز، وگرنہ آخرت میں دعائیں نامہ اعمال میں تولی جائیں گی، تو وہ جواباً تڑپ کر کہتی کہ مجھے صرف آپ ہی چاہیے ہو اور آپ سے بہتر متبادل بھی کوئی نہیں چاہیے۔

دن ہفتے اور مہینے بن کر گذر رہے تھے اور محسن اپنی جاب میں تمام تر اداسی کے باوجود بہتر جارہا تھا۔ ایک دن کہکشاں سے فون پر بات کرتے ہوئے اس نے بے اختیار کہا کہ اب وہ وقت جلد آنے والا ہے جب دل والے اپنی دلہنیا لے جائیں گے، لیکن کہکشاں نے بے اختیار کہا کہ ایسا تو کوئی اور بھی کہتا ہے۔ یہ سننا تھا کہ محسن کے پیروں تلے گویا زمین نکل گئی ہو، اسے اپنی دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسکی تمامتر محنت ، کاوشیں ، قربانیاں بس کہکشاں کو پانے اور اس سے اپنا وعدہ نبھانے کیلیے ہی تو تھیں۔ تو کیا اب کہکشاں اسکے انتظار کا وعدہ توڑنے جا رہی تھی؟ محسن نے فون پر ہی اس سے چیختے ہوئے پوچھا کہ اسکے علاوہ کسی اور میں اتنی جراْت کہاں سے آئی کہ وہ اسکی منگیتر سے ایسی بات کہے؟ کہکشاں محسن کا یہ انداز دیکھ کر تھوڑی سہم گئی اور بات گھمانے کی کوشش کی، لیکن محسن اسے کریدتا رہا۔ بالآخر کہکشاں کے الفاظ اسکی سماعتوں سے ٹکرائے کہ وہ اس سے شادی کیلیے خود کو تیار نہیں پاتی، وہ شائد اسکے قابل ہی نہیں۔ محسن کا غصہ اب التجاؤں میں بدل چکا تھا ، وہ کہکشاں سے رو رو کر استفسار کر رہا تھا کہ آخر اس سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ وہ اسکے ساتھ کیسے ایسا کر سکتی ہے لیکن کہکشاں نے فون بند کر دیا۔

محسن کی دنیا گویا اندھیر ہو چکی تھی، وہ فوراً اپنے شہر واپس لوٹا اور تمام صورتحال اپنے والدین کو بتائی۔ اسکی والدہ پریشانی کے عالم میں کہکشاں سے ملنے اسکے گھر گئیں تو اسنے ملنے سے انکار کر دیا۔ اسکے گھر والے بھی ٹال مٹول کرتے رہے اور کہنے لگے کہ ہم نے تو کہکشاں کے کہنے پر ہی یہ رشتہ کیا تھا اور اگر اب وہ انکاری ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ محسن کی والدہ نے بہتیرے واسطے دئیے کہ انکا بچہ یہ سب برداشت نہ کر پائے گا لیکن انکی ایک نہ سنی گئی۔

کہکشاں کا آخری رقعہ محسن کو ملا جسمیں اس نے محسن کو اسے بھول جانے کو کہا اور اس سے معافی بھی چاہی۔ لیکن محسن تو گویا دیوانہ ہو چکا تھا، اسے لگتا تھا کہ اسے جیتے جی مار دیا گیا ہے۔ اسکی کہکشاں بے وفائی کیسے کر سکتی ہے یہ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔ اس نے ایک بار کہکشاں سے فون پر بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس کی بھابھی نے فون کہکشاں کے حوالے کر دیا۔ اسنے کہکشاں سے بہتیرا پوچھا کہ ایسا کیا ہوا کہ وہ یہ سب کر رہی ہے لیکن کہکشاں کا سپاٹ لہجہ اسکے دل کو مزید چھلنی کیے دیتا تھا۔ وہ بس ایک ہی بات کہتی رہی کہ شائد ہم ایک دوسرے کیلیے نہیں بنے۔ بالآخر روتے پیٹتے محسن سے اسکے گھر والوں نے فون چھین کر پٹخ دیا اور اسے تسلی دیتے رہے۔ لیکن محسن کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ اسکا یہ خلا کیسے بھرے گا؟

محسن کے لیے کہکشاں سے جدائی کا صدمہ اس کی زندگی کا روگ بن چکا تھا، اگر دین میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو وہ کہکشاں کے بغیر زندگی پر موت کو ترجیح دیتا۔ لیکن محسن کو جینا تھا اور آگے بڑھنا تھا۔ کچھ ہی مہینوں بعد کہکشاں کے کسی اور سے نکاح کی خبر اسے موصول ہوئی تو جہاں وہ بہت رویا وہاں ساتھ ہی ساتھ اسکے دل کو یہ یقین آگیا کہ کہکشاں اس سے ہمیشہ کیلیے دور جا چکی ہے کیونکہ اب وہ کسی اور کی منکوحہ بن چکی تھی اور بہرحال کسی اور کی بیوی کے بارے تو وہ سوچنا بھی گناہ سمجھتا تھا۔ اس موقع پر اسنے اپنی زندگی سے کہکشاں کی تصاویر، تحائف ، خطوط الغرض ہر نشانی جلا کر اسکی یادوں کو دل سے کھرچنے کا ذریعہ سمجھا۔

اب محسن کیلیے کہکشاں سے جدائی کے بعد اسکی جاب بے معنی سی ہوتی جا رہی تھی، دوسرے شہر کی آب و ہوا، پانی اور والدین سے جدائی نے اسکا حوصلہ توڑ ڈالا تھا۔ وہ ہفتے میں تین سے چار دن بیمار رہنے لگا۔ ڈاکٹرز سے مکمل چیک اپ کے بعد پتہ چلا کہ اسے ہیپاٹائیٹس کا مہلک مرض لاحق ہو چکا ہے۔ اسنے اپنا خاصہ علاج کروایا لیکن جو زخم اسکے دل اور روح کو گھائل کر چکے تھے اسکے اثرات اسکے جسم پر نمایاں تھے۔ اسنے اس خلا کو بھرنے کیلیے اب والدین پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ اسکی فوراً ہی کہیں بھی کسی بھی لڑکی سے شادی کر دیں کیونکہ اسی طرح اسکا خلا شائد جلد بھر سکے۔ لیکن اسکے والدین جانتے تھے کہ انکا بیٹا ابھی ذہنی و جسمانی طور پر تھوڑا کمزور ہو چکا ہے اور فوراً کسی کی لڑکی کو آزمائش میں ڈالنا درست نہیں۔

بہرحال محسن کیلیے اچھے رشتے کی تلاش جاری تھی اور دریں اثناء محسن بھی اپنے شہر لوٹ آیا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کا ذریعہ ڈھونڈھنا شروع کر دیا۔ اسنے دوبارہ سے یونیورسٹی کے ایک قدرے اپنی طبعیت کے خلاف مشکل کورس میں داخلہ لے لیا۔ وہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر اتنا تھکا دینا چاہتا تھا کہ کہکشاں کی یادیں اور اسکی بیوفائی کا سوال اسے نہ ستا سکے۔ محسن کی آنٹی کے توسط سے ایک اچھے خاندان کی سلجھی ہوئی لڑکی سے اسکی منگنی کر دی گئی۔ زوبیہ اس سے چھ سال چھوٹی تھی اور خاصی دبلی پتلی نازک سی لڑکی تھی۔ محسن کو بس یہ اطمینان تھا کہ ایک دفعہ پھر زوبیہ کی صورت اسے محبت نہ سہی لیکن جینے کی وجہ مل گئی تھی۔

اسکا ڈگری پروگرام آگے بڑھتا رہا ساتھ ہی ساتھ اسنے پارٹ ٹائم اپنی جاب کو بھی آگے بڑھایا۔ اب اس میں جلد از جلد اور بہت زیادہ کمانے کی چاہت تقریباً دم توڑ چکی تھی، اب تو اسکا پہلا ہدف کہکشاں کی یادوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دینا اور دوبارہ ایک صحتمند زندگی کی طرف لوٹنا تھا۔ اسکی صحت اب پہلے سے بہت بہتر ہو چکی تھی اور پڑھائی بھی اچھی جارہی تھی۔ والد صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملے پیسے سے انھوں نے پہلے گھر کی نسبت تین گنا بڑے پلاٹ پر مکان کی تعمیر بھی شروع کر دی تھی۔ مکان کی تعمیر مکمل ہوتے اور محسن کی ڈگری کی تکمیل کے بعد محسن کی شادی ہوگئی۔ اسکی شادی کہکشاں سے جدائی کے چھ سات سال بعد سرانجام پائی۔

زوبیہ کے ساتھ محسن نے نئی زندگی کا آغاز خاصی گرمجوشی سے کیا، وہ اب اسکی جیون ساتھی اور اسکی ذمہ داری تھی اور ایک خاوند کے طور پر اپنی بیوی کو مکمل پیار اور توجہ دینا محسن کا فرض تھا۔ شادی کے کچھ ہی دن بعد محسن نے زوبیہ سے اپنی زندگی کے گم گشتہ پہلو بیان کر دئیے تھے تا کہ بعد میں کبھی یہ چیزیں اسکے سامنے خود سے آئیں تو اسے پریشان نہ کریں۔ ابھی شادی کو چند ہی ماہ گذرے تھے کہ محسن کے والد کا اچانک ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔ محسن کے والد کی وفات انکے گھر کیلیے جذباتی کے ساتھ ساتھ ایک معاشی دھچکہ بھی تھا۔ والد کی وفات کی تعزیت کیلیے اتنے سالوں بعد محسن کی اتفاقاً غیر موجودگی میں کہکشاں بھی تعزیت کیلیے آئی۔ محسن کو پتہ چلا کہ وہ اسکی والدہ سے مل کر بہت روئی اور ان سے اپنی کیے کی معافیاں مانگتی رہی۔

محسن کو کہکشاں کے آنے کی خبر ایک کسک بن کر محسوس ہوئی لیکن وہ تو اسکی ایک جھلک بھی اتنے سال گذرنے کے باوجود دوبارہ نہ دیکھ سکا۔ ابھی اسکی شادی کو مزید کچھ عرصہ ہی گذرا تھا کہ محسن کو خبر ملی کہ کہکشاں کے خاوند کا اچانک ہی ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور سوگواران میں اسنے ایک کمسن بیٹا اور بیٹی چھوڑے ہیں۔ محسن یہ سن کر بہت رویا ، گوکہ کہکشاں کی بیوفائی اسکے دل پر نقش تھی لیکن بہرحال وہ اسکی محبت اور چاہت رہی تھی وہ اسکا برا کبھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ محسن نےزوبیہ سے دکھی دل سے کہا کہ اب بھی میرا جی چاہتا ہے کہ میں کہکشاں کے دکھوں میں کچھ کمی لاسکوں اور اسے سہارا دے سکوں۔

حیران پریشان زوبیہ نے اپنے خاوند کے یہ الفاظ بڑی ہمت سے سنے اور کہا کہ اگر آپ اسکے لیے اتنی تڑپ محسوس کرتے ہیں تو میں آپکو دوسری شادی کی اجازت دے دوں گی۔ محسن کیلیے زوبیہ کا یہ ردعمل خاصہ حیران کن تھا لیکن اس ردعمل نے اسکی سوچ کے نئے در وا کر دئیے اور اسے یوں لگا کہ شائد کہکشاں کے کھو جانے کی صورت آج بھی جو خلا وہ محسوس کرتا ہے گوکہ اپنی نئی نویلی دلہن سے وہ مطمئن ہے لیکن وہ اب بھی کہکشاں کو پاکر اس خلا کو بھر سکتا ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.