ارض فلسطین: پنجہ یہود میں جکڑی مقدس سرزمین - محمد عاصم حفیظ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنےکے بعد مسئلہ فلسطین ایک بار پھر عالمی سیاست کا اہم ترین ایشو بن چکا ہے ۔ عالم اسلام میں اس اقدام کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے ضروری ہے کہ مسئلہ فلسطین کےتاریخی پس منظر اور ماضی میں ہونیوالے واقعات کا جائزہ لیا جائے۔

ارض فلسطین کے باسیوں کی آزمائش دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہی جاری ہے ۔ برطانیہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے بل بوتے پر بننے والی نام نہاد ریاست اسرائیل نے گزشتہ ستّر سال سے اس دھرتی کے باسیوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ان نہتے لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے ، ہنستے بستے گھر اجاڑ دیے جاتے ہیں ، زرعی زمینیں چھین لی گئی ہیں ۔ شاید ہی تاریخ انسانی کا کوئی ایسا ظلم نہ ہو جو ان مسلمانوں پر نہ ڈھایا گیا ہو اور شاید اسی لیے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا جاتا ہے۔ اسرائیلی طیارے اور ٹینک آئے روز بمباری کرکے یہاں کے باسیوں کو خون میں نہا دیتے ہیں ۔ امریکی آشیرباد سے اسرائیل یہاں خون کی ہولی کھیل رہا ہے ۔ عربوں کے ساتھ اس کی جنگیں بھی ہوئیں تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی آڑ میں ، معاشی تعاون کے لالچ میں اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر عربوں کو اس مسئلے سے لا تعلق کر کے رکھ دیا ہے۔ اب فلسطین کے لیے دنیا میں شاید ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہو۔ اسرائیل وقفے وقفے سے غزہ پر بدترین حملے کرکے، جن میں اکثر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں ، کئی بار تو اقوام متحدہ کی عمارتوں پر بمباری کی ، بچوں کے سکول تباہ کر دیے گئے جبکہ سینکڑوں گھروں کو مٹی کے ڈھیر بنا دیا۔ اس مضمون میں ہم مسئلہ فلسطین کی تاریخی اہمیت اور اس حوالے سے ہونیوالے تاریخی واقعات کا جائزہ لیں گے تاکہ امت مسلمہ کو قبلہ اول کی حفاظت کا بھولا ہوا فریضہ یاد کرایا جا سکے ۔

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے مقامات مقدسہ میں شامل ہے ۔ مسجد الحرام بیت اللہ شریف، مسجد نبوی ﷺ اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے سفر کرنا باعث اجر و ثواب بھی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے معراج کے موقع پر مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی اور انبیاء کرام کی امامت فرمائی ۔ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف تعمیر کرنے کے 40 سال بعد اس دوسرے خانہ خدا کی بنیاد رکھی گئی ۔حضرت ابراہیمؑ نے ارض فلسطین کی طرف ہجرت کے بعد مسجد اقصیٰ کی بنیادیں از سر نو اٹھا کر اسے اپنے مبارک ہاتھوں سے دوبارہ آباد کیا۔ ان کے بعد حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور پھر حضرت سلیمان علیہم السلام نے بھی بیت المقدس کی تعمیر نو کی ۔ 636 عیسوی میں حضرت عمر بن خطابؓ اور اس کے بعد 715 عیسوی کے اموی دور حکومت میں مسجد اقصیٰ کی توسیع کی گئی ۔مسجد اقصیٰ مقبوضہ بیت المقدس شہر کے جنوب مشرق میں وسیع احاطہ پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ ایک لاکھ 44 ہزار مربع میٹر ہے۔ مسجد اقصیٰ کے چودہ دروازے تھے تاہم صلیبی جنگوں کے دوران جب صلاح الدین ایوبی نے جب اس مسجد کو آزاد کروایا تو اس کے چار دروازوں کو بعض وجوہات کی بناء پر بند کر دیا ۔ مسجد اقصیٰ کے چار مینار ہیں اور اس کا احاطہ متعدد عمارتوں سے ملکر تشکیل پاتا ہے۔ جن میں محرابیں، منبر، بارہ دریاں، چبوترے اور کنویں وغیرہ پر مشتمل تاریخی آثار بھی شامل ہیں۔ احاطہ مسجد اقصیٰ کے قلب کی حیثیت گنبد صخرہ کو حاصل ہے جس کو قبۃ الصخرہ بھی کہتے ہیں۔ یہ سنہری عمارت اسلامی فن تعمیر کا حسین نمونہ ہے۔ مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس کی عمارت اور گنبد صخرہ کی عمارات علیحدہ علیحدہ ہیں۔

مسجد اقصیٰ اسرائیل کے قیام کے بعد یہودیوں کی سازشوں کا شکار ہے ۔اسرائیل کی جانب سے اس مسجد میں عبادت کرنے پر متعدد پابندیاں عائد ہیں ۔ متعدد بار مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں ۔ یہودی اس جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے مسجد کو شہید کرنے کے لیے سازشیں کرتے ہیں ۔ مسجد اقصیٰ کی حفاظت فلسطینی اور عرب عوام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔

ارض فلسطین پر قبضے کا خواب یہودی ہمیشہ سے ہی دیکھتے آئے ہیں تاہم ماضی میں مسلمان اور عیسائی فوجی طاقتوں کے باعث یہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔ ماضی میں رومی ، عراقی اور دیگر قومیں ارض فلسطین کی حاکم رہیں ۔حضرت عمرؓ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو اس وقت عیسائی حکمران تھے ۔ اس کے بعد سے ارض فلسطین پر ہمیشہ مسلمانوں کی اکثریت رہی ۔ صلیبی جنگوں کے دوران کچھ عرصہ دوبارہ عیسائیوں کا قبضہ ہوا لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی نے آزاد کرا لیا ۔ بعد ازاں فلسطین چار صدیوں تک سلطنت عثمانیہ کا حصہ رہا ۔ یہودی جو کہ اپنے شر انگیزیوں اور مختلف حکمرانوں کے ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے مختلف ممالک میں بٹے ہوئے تھے انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں 1897 کے اجلاس میں عالمی صہیونی تنظیم کی بنیاد رکھی ۔ اسی تنظیم کے قیام سے ہی یہودیوں میں ایک بار پھر ارض فلسطین پر قبضے کی خواش پیدا ہوئی ۔ اس تحریک کا بانی تھیوڈرہرزل تھا۔یہودیوں کی اس صہیونی تنظیم نے اسرائیل کے قیام کے لیے لٹریچر تیار کرنا شروع کیا جبکہ معروف پروٹوکولز بھی بنائے گئے ۔ فلسطین میں صنعت ، زراعت اور دیگر مقاصد کے لیے زیادہ سے زیادہ زمین کے حصول کے منصوبے بنائے گئے ۔

صیہونی تنظیم کا دوسرا اجلاس بھی باسل میں ہی ہوا جس میں پہلے سے بھی زیادہ مندوبین شریک تھے جبکہ 1899 میں ہونیوالے تیسرے اجلاس کے دوران اسرائیل کے قیام کے ناپاک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے '' جیوش امپیریئل بنک '' بنایا گیا جس کے لیے تمام یہودی سرمایہ داروں نے بھرپور فنڈز فراہم کیے۔ اس بنک اور جیوش نیشنل فنڈ کی بدولت یہودیوں نے فلسطین میں خفیہ طریقے سے زمینیں خریدنی شروع کیں ۔ 1890 تک فلسطین میں صرف 12000 یہودی آباد تھے جوکہ چند سالوں کے اندر 80 ہزار ہو گئے۔ دنیا کے ہر حصے میں موجود یہودیوں نے علیحدہ صیہونی ریاست کے قیام کو اپنی زندگیوں کا مقصد بنا لیا۔ اس دوران یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید کو باقاعدہ آبادکاری کی درخواست بھی دی ۔ سلطان کے انکار پر یہودیوں نے 1901 میں سلطنت عثمانیہ کے تمام قرضے ادا کرنے ، فوجی دستے کو تیار کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی اور ساڑھے تین کروڑ دینار قرض فراہم کرنے کی پیشکش کی ۔ لیکن ان کی یہ کوشش بھی رائیگاں گئی اور سلطان نے ارض فلسطین میں زیارت کے لیے آنیوالے یہودیوں کے تین ماہ سے زائد رکنے پر پابندی عائد کر دی ۔

اب یہودیوں کی سازشوں کا نشانہ سلطنت عثمانیہ تھی ۔ ترکی پر 1911 ء میں جنگ طرابلس اور اگلے ہی سال 1912 ء میں جنگ بلقان مسلط کی گئی ۔سلطنت عثمانیہ کو جنگ عظیم اول میں الجھایا گیا ۔ اس دوران برطانیہ نے عرب ریاستوں کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف ابھارا ۔ شریف مکہ کو ساتھ ملا کر ترک افواج کو حجاز سے نکلنے پر مجبور کر دیاگیا ۔ برطانیہ نے صہیونی تنظیم سے 2 نومبر 1917ء کو بدنام زمانہ خفیہ معاہدہ کیا۔ اسے تاریخ میں اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ یہودی سرمایہ دار اور بنک آف انگلینڈ کے بانی روتھ شیلڈ نے اس خفیہ دستاویز پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی رو سے یہودیوں نے برطانیہ کی بھرپور مالی امداد کی جس کے عوض انگریزوں نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے کا وعدہ کیا۔ یہودیوں کی شہ پر برطانوی فوج فلسطین پر حملہ آور ہوئی اور دسمبر 1917ء میں بیت المقدس برطانیہ کے زیر تسلط چلا گیا ۔مصر ، شام ، عراق اور دیگر عرب ریاستوں کی علیحدگی کے باعث سلطنت عثمانیہ ٹوٹ گئی ۔ یہ تاریخ کا اہم ترین موڑ تھا ۔ برطانیہ نے ایک ہی وقت میں دو الگ الگ معاہدے کیے ۔ عربوں کو آزادی اور خودمختاری کا جھانسہ دیا گیا جبکہ یہودیوں سے اسرائیل کے قیام کا ۔ فلسطین پر برطانوی قبضے کے بعد معاہدے کے مطابق یہودیوں کی آبادکاری شروع ہو گئی ۔

وقتی طور پر تاج برطانیہ نے جنگ جیتنے کے بعد عرب ممالک کی سرحدوں کا اعلان کر دیا تاہم سرزمین فلسطین کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کیا۔فلسطین میں موجود صرف چھ فیصد یہودیوں کی خاطر 94 فیصد فلسطینیوں پر کو الگ ریاست کے حق سے محروم رکھا گیا ۔ کیونکہ یہودیوں کی تعداد کم تھی اس لیے '' لیگ آف نیشنز'' کے ذریعے فلسطین کا کنٹرول مزید 20 سال کے لیے برطانیہ کو دے دیا گیا ۔ انگریز افواج نے اس دوران فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک کو سختی سے کچل دیا۔ صیہونیوں تنظیم کی ایک یہودی ریاست کے قیام کی منزل واضح ہو چکی تھی ، برطانیہ کی بھرپور حمایت کی بدولت یہودیوں کی آباد کاری میں تیزی آگئی ۔ان بیس سالوں کے دوران چھ لاکھ سے زائد یہودیوں کو دنیا بھر سے لا کر فلسطین میں بسایا گیا ۔ 1925ء میں شیخ عزالدین القسام نے فلسطین کی آزادی اور یہودیوں کے بڑھتے ہوئے تسلط کے خلاف الحرکتہ الجھادیتہ الاسلامیتہ کی بنیاد رکھی ۔ 1929ء تک فلسطین میں یہودیوں کا اثر و رسوخ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ انہوں نے مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی کوشش بھی کی ۔ 17 دسمبر 1931ء کو مفتی القدس الحاج امین الحسینی کی قیادت میں الموتمر الاسلامی منعقد ہوئی جس میں عالم اسلام کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی ۔ مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے ۔ اس کانفرنس میں ملت اسلامیہ کو ارض فلسطین میں یہودیوں کی بڑھتی ہوئی آبادکاری سے پیدا ہونیوالے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔

اس دوران فلسطینیوں کی جانب سے آزادی اور یہودیوں کی بڑھتی ہوئی بالادستی کے خلاف جدوجہد بھی جاری رہی ۔ 1940ء تک ایک طرف تو یہودی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آباد ہوتے رہے اور دوسری جانب فلسطینی اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دیتے رہے۔ اسی دوران جنگ عظیم دوئم کا آغاز ہو گیااور دنیا کی توجہ جنگ کی تباہ کاریوں کی جانب ہو گئی ۔ 1945 میں جب جنگ عظیم دوئم ختم ہوئی تو ارض فلسطین پر یہودیوں کی آبادی چھ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی ۔ جنگ کے بعد لیگ آف نیشنز کی جگہ اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل پایا جسے اب فلسطین کا مسئلہ حل کرنا تھا ۔ برطانوی استعمار اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا اور اس کے لیے ہندوستان اور مشرق وسطی کے ممالک میں اپنا قبضہ برقرار رکھنا مشکل تھا ۔ برطانیہ نے خود فلسطین کو آزاد کرنے کی تجویز پیش کر دی اور اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا ۔ مسئلہ فلسطین کی قسمت کے حوالے سے جنرل اسمبلی میں 29 نومبر 1947 کو قراردار پیش ہوئی اور امریکہ ، برطانیہ اور یہودیوں نے دھمکی ، لالچ اور طاقت جیسے ہتھکنڈے استعمال کرکے فلسطین کو تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کرائی ۔ اس موقعے پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ۔ دو مرتبہ ووٹنگ صرف اس لیے ملتوی کر دی گئی کیونکہ مطلوبہ ووٹ ملنے کی امید نہیں تھی ۔ اس قرارداد کی رو سے صرف 6 فیصدرقبے کی ملکیت رکھنے والے یہودیوں کو فلسطین کی 54 فیصد زمین کا مالک بنا دیا گیا۔

یہودیوں نے 14 مئی 1948 کو فلسطین سے برطانیہ کے انخلا کے صرف سات گھنٹے بعد اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا ۔حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ نے دس منٹ اور روس نے پندرہ منٹ بعد اس ریاست کو تسلیم کر لیا۔ اسی دن پہلی عرب اسرائیل جنگ کا آغاز ہوا ۔ شام ، اردن ، عراق ، لبنان اور مصر کی فوجیں فلسطین میں داخل ہو گئیں ۔ عربوں نے انتہائی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ لیکن عرب افواج برطانوی استعمار میں رہنے کی وجہ سے کچھ زیادہ منظم نہیں تھیں ۔ اقوام متحدہ اور بڑے ممالک نے مارچ 1949 میں جنگ بندی کرا دی ۔ اس جنگ کے بعد فلسطین کا 78 فیصد رقبہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا ، غزہ کے علاقے پر مصر ، مغربی کنارے اور بیت المقدس پر اردن اور جولان کے پہاڑی علاقے پر شام کا قبضہ ہو گیا۔ یہودیوں نے اس موقعے پر مسلمانوں کا بے دردی سے قتل عام کیا اور دس لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر کر دیے گئے ۔ اقوام متحدہ نے ابھی تک اسرائیل کو ابھی تک رکن نہیں بنایا تھا اور شرط عائد گئی تھی کہ تمام فلسطینیوں کو ان کے آبائی گھروں میں جانے کی اجازت دی جائے تاہم عالمی ادارہ اپنا یہ وعدہ بھی پورا نہیں کر سکا اور 11 مئی 1949ء کو اسرائیل کو باقاعدہ رکنیت دے دی گئی ۔ فلسطینی ہمسایہ ممالک میں مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیے گئے ۔ مصر کی حمایت سے فلسطین میں آزادی کی تحریکوں کی بنیاد رکھی گئی ۔ یاسر عرفات کی الفتح تنظیم نے اپنی عسکری سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔الفتح نے اسرائیل پر کئی فدائی حملے کیے اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔

مصر کی جانب سے 26 جولائی 1956ء4 کو نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لینے کے فیصلے سے مغربی ملکوں اور اسرائیل میں تہلکہ مچادیا کیونکہ نہر سوئز اس وقت برطانیہ اور فرانس کی ملکیت میں تھی۔

برطانیہ اور فرانس نے مصر کے اس فیصلے کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر سازش کے تحت 29 اکتوبر 1956ء کو اسرائیل کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا جس کے دوران اسرائیل نے جزیرہ نمائے سینا پر قبضہ کرلیا۔ اگلے ہفتے برطانیہ اور فرانس نے بھی نہر سوئز کے علاقے میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ برطانیہ اور فرانس کی اس جارحانہ کارورائی کا دنیا بھر میں شدید رد عمل ہوا، امریکہ نے بھی پرزور مذمت کی اور روس نے مصر کو کھل کر امداد دینے کا اعلان کیا۔ رائے عامہ کے اس دباؤ کے تحت برطانیہ اور فرانس کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسرائیل نے بھی جزیرہ نمائے سینا خالی کردیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے دستے مصر اور اسرائیل کی سرحد پر متعین کردیے گئے تاکہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف جنگی کارروائی نہ کرسکیں۔غیر ملکی افواج کے کامیاب انخلا سے ناصر عرب دنیا میں ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے ابھرے۔ اسرائیلی قیادت کو اس بات کا شدید رنج تھا ۔ اسرائیل نے ایک بار پھر عرب ممالک کے خلاف جارحیت کا منصوبہ بنایا اور جون 1967ء میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑہ ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر ی فوج جنگ کے لیے تیار نہ تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 6 دن کی اس جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کرلیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ نہر سوئز بھی بند ہو گئی ۔ ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالیے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔

عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی ۔ اس جنگ میں پاکستانی فضائیہ نے بھی شرکت کی اور کئی اسرائیلی طیاروں کو تباہ کیا ۔ بعض ماہرین کے مطابق اسرائیل کی پیش قدمی رکنے کی بڑی وجہ بھی پاکستانی فضائیہ کے حملے تھے۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل کے رقبے میں چار گنا اضافہ ہو گیا اور اس نے زبردستی چار لاکھ کے قریب فلسطینیوں کو بے گھر کردیا۔ اسرائیل نے مقبوضہ علاقے کی اسلامی شناخت مٹانے کے لیے کوششیں تیز کر دیں ۔ پانچ سو سے زائد دیہات کو ملیامیٹ کرکے ان کی جگہ یہودی بستیاں تعمیر کر دی گئیں ۔اس دوران مزید 20 لاکھ کے قریب یہودی امریکہ ، یورپ اور دیگر ممالک سے آکر اسرائیل میں آباد ہو گئے ۔

1973 میں ایک بار پھرمصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہوئی ۔ لیکن اس کے بعد عرب ممالک نے عالمی طاقتوں کے کہنے پر اسرائیل کو تسلیم کرنا شروع کر دیا اور ان کی جانب سے فلسطینیوں کے حمایت یکسر ختم ہو گئی ۔ مصر نے نہر سوئز کو بحال کرنے کی خاطر اسرائیل سے شرمناک معاہدے کیے ۔ فلسطینیوں کی تحریک آزادی اور الفتح کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے اسرائیل نے متعدد بار جارحیت کا ارتکاب کیا ۔ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کے لیے بھی اوچھے حربے استعمال کیے جانے لگے ۔ صرف دو سال بعد ہی مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کا بدترین واقعہ پیش آیا ۔ اسرائیل نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسجد کے بڑے حصے کو آگ لگائی جبکہ اس علاقے کو پانی کی سپلائی بھی بند کر دی ۔ ہزاروں مسلمان مرد ، خواتین اور بچوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر آگ بجھائی ۔ اسی واقعے کے نتیجے میں مسلم ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سے بنائی گئی ۔

1978 میں مصر نے امریکی دباؤ پر اسرائیل کے ساتھ بدنام زمانہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا۔ 1982 میں اسرائیلی افواج نے لبنان پر صرف اس وجہ سے حملہ کیا کیونکہ وہاں فلسطینی تحریک آزادی کے دفاتر موجود تھے ۔ یہودی افواج کی نگرانی میں لبنان کے مسیحی مسلح گروہوں نے فلسطینیوں کے مہاجر کیمپوں صابرہ اور شتیلا میں خونریزی کی بدترین واردات کی جس کے نتیجے میں تین ہزار سے زائد معصوم مسلمان شہید کر دیے گے ۔ اب فلسطینی عرب ممالک کی حمایت کے بغیر بالکل بے یارومددگار ہو گئے۔ اسرائیل نے ایک طرف تو بڑی تعداد میں یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کر دی ، مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے کے گرد فصیل بنا ڈالی جبکہ دوسری جانب غزہ پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ، مغربی کنارہ اور غزہ ۔

اسی عرصے میں ایران-عراق جنگ کے باعث مسلم ممالک فلسطینی مسئلے پر کچھ زیادہ توجہ نہ دے سکے ۔ یاسر عرفات کی تنظیم الفتح بھی عسکری کارروائیوں کی بجائے مذاکرات کی طرف توجہ دینے لگی اور اس کا واحد مقصد فلسطین میں ایک بااختیار انتظامیہ کے قیام ہو گیا ۔ عالمی طاقتوں کے دباؤ پر یاسر عرفات اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1988 میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے فلسطین کو تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اس طرح پہلی مرتبہ فلسطینی اتنظامیہ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی ۔ اسی دوران عرب ممالک کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر فلسطینی نوجوانوں نے جہادی تنظیموں کی بنیاد ڈالی جن میں سب سے اہم حماس تھی ۔

یاسر عرفات اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات کے بعد 1993 میں معاہدہ اوسلو سامنے آیا ۔ اس شرمناک معاہدے کے تحت الفتح نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ 77 فیصد رقبہ یہودیوں کو دینے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ۔ اسی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج اگلے ہی سال 1994 میں غزہ سے نکل گئیں ۔ اسرائیل کے نکلتے ہی غزہ میں حماس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور اسرائیل کے خلاف پہلے انتفاضہ میں تیزی آ گئی ۔ اس مزاحمتی تحریک کے دوران فلسطینی مجاہدین نے اسرائیل کو بے پناہ نقصان پہنچایا ۔ فدائی حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے خوف کی فضاء بنا دی گئی ۔ اسرائیل کے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس نے الفتح کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے ہر قسم کے ظالمانہ حربے استعمال کیے ۔ ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا ، حماس یا کسی اور جہادی تنظیم کے ساتھ تعلق کی بنا پر سینکڑوں گھرانوں کے مکانات مسمار کر دیے گئے ۔ 1995 میں فلسطینی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کی پاداش میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کو قتل کر دیا گیا۔

اس کے بعد فلسطینی عوام کی طاقت واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔ مغربی کنارے میں الفتح اور غزہ میں حماس کا اثر و رسوخ چلتا ہے ۔اسرائیل کے ساتھ معاہدوں اور مسلح جدوجہد ختم کرنے کے باعث الفتح کو عالمی طاقتوں کی پشت پنائی حاصل ہے اور اسی کو عالمی فورمز پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ حماس کی مسلح جدوجہد اور اسرائیل مخالف نظریات کے باعث غزہ اسرائیل کے ظلم و ستم کا شکار ہے ۔ حماس کی جانب سے سن 2000 میں بھی مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا گیا ۔ اس تحریک کا آغاز اسرائیل کی لیکوڈ پارٹی کے سربراہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون کے ہمراہ دو ہزار سے زائد یہودیوں کا مسجد اقصیٰ پر حملے کے بعد ہوا۔

غزہ بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ساتھ چالیس کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس کی سرحد مصر کے ساتھ ملتی ہے ۔ تین اطراف اسرائیل ہے ۔ غزہ کی آبادی پندرہ لاکھ سے زائد ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ علاقہ مسلسل اسرائیل کے محاصرے میں ہے ۔ اس کی ایک تہائی سے زائد آبادی یعنی پانچ لاکھ افراد مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں ۔ غزہ میں غذائی اجناس اور ادویات کی فراہمی اسرائیلی اجازت کی مرہون منت ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے متعدد بار غزہ پر باقاعدہ فوج کشی ہوئی جبکہ فضائی بمباری اور ڈرون حملے بھی لاتعداد مرتبہ کیے گئے جن میں اب تک ہزاروں فلسطینی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان 2009 میں پہلی مرتبہ جنگ بندی کا معاہدہ بھی ہواتاہم اسرائیل متعدد بار اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے ۔

ارض فلسطین کے خلاف یہودی سازشوں ، جنگوں اور دیگر واقعات کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کے لیے کی جانیوالی یہودی کوششوں کے متعلق جاننا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ یہودی تاریخ میں متعدد بار یہ کوشش کر چکے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے اس مقام سے مسلمانوں کی عقیدت کی بنیادی وجہ ہے ختم کر دی جائے ۔ یہودی اس جگہ پر ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔ تاریخی روایات کے مطابق جو عمارت ہیکل سیلمانی کے نام سے منسوب کی جاتی ہے وہ دراصل مسجد اقصیٰ ہی تھی جسے حضرت سلمان نے تعمیر کیا۔ یہودی اسے ہیکل سلیمانی کہنے لگے ۔ مسجد اقصیٰ کے یہودی قبضے میں چلے جانے کے بعد ان سازشوں میں تیزی آئی ہے ۔ مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے کے لیے 1948ء میں یہودیوں کے ایک مسلح گروہ نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں 55 بم گرائے تھے ۔ اس کے بعد مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کا المناک حادثہ پیش آیا ۔ جولائی 1969 ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسجد کے بڑے حصے کو آگ لگا دی گئی ۔ اس سے مسجد اقصیٰ کے کئی حصے اس آگ سے متاثر ہوئے جن میں مسجد عمر ، منبر صلاح الدین ایوبی ، محراب زکریا ، مسجد کے دو مرکزی ستون ، اندرونی گنبد اور محراب کو نقصان پہنچا جبکہ مسجد کے اندر موجود خطاطی کے خوبصورت نمونے ، بیش قیمت قالین اور قیمتی سازوسامان بھی جل گیا ۔ اسرائیلی انتظامیہ نے ایک سازش کے تحت اس روز مسجد کو پانی کی سپلائی بھی بند رکھی تاکہ آگ کو بجھایا نہ جا سکے لیکن ہزاروں مسلمان مرد ، خواتین اور بچوں نے کئی گھنٹوں کی انتھک محنت کے بعد اس آگ پر قابو پا لیا ۔ 1982 اور 1983 میں مسجد اقصیٰ کے مسلم گارڈز نے دو بڑے بڑے پارسل پکڑے جن کے اندر ٹائم بم نصب کیے گئے تھے ۔ 1984 میں بھی ایک سرپھرے یہودی گروہ نے مسجد اقصیٰ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جنہوں نے ہاتھوں میں دستی بم اٹھا رکھے تھے جبکہ ان کے پاس چھ تھیلے بارود کے بھرے بھی موجود تھے ۔ 1986 میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک پائلٹ نے مسجد اقصیٰ کو میزائلوں سے اڑانے کی کوشش کی تاہم قدرت نے مسجد کو محفوظ رکھا ۔ 1990 میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ہیکل سلیمانی کا سنگ بنیاد رکھنے مسجد اقصیٰ پر حملہ آور ہوئی ۔ مسلمانوں کی مزاحمت پر اسرائیلی افواج نے فائرنگ کرکے 23 نہتے فلسطینیوں کو شہید کر دیا ۔28 سمتبر 2000 کو سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون کی زیر قیادت دو ہزار یہودی مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کے لیے آئے ۔اس یہودی جتھے نے زبردستی مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سینکڑوں مسلمانوں نے اپنی جان پر کھیل کر اس حملے کو ناکام بنا دیا ۔ بیت المقدس میں ہر طرف مسلمانوں کی لاشیں گریں اور پھر وہیں سے انتقاضہ دوئم کا آغاز ہوا جو کسی نہ کسی صورت میں آج بھی جاری ہے ۔ اس کے علاوہ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے چاروں اطراف کھدائی کا سلسلہ بھی جاری رہے ۔ مسجد کی بنیادوں کوکھوکھلا کیا جا رہا ہے جس سے خطرہ ہے کہ مسجد کی عمارت کسی بھی لمحے گر سکتی ہے ۔ کئی سرنگیں دریافت ہو چکی ہیں جو کہ مسجد اقصیٰ کے اردگرد کھودی گئی ہیں ۔

مسئلہ فلسطین ابھی تک حل طلب ہے ۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں مظلوم مسلمانوں کو ان کا حق دلانے میں ناکام رہی ہیں ۔ اسرائیلی کو امریکہ اور دیگر ممالک ہر سال اربوں ڈالر امداد دیتے ہیں تاکہ یہ ناجائز ریاست اپنا وجود برقرار رکھ سکے ۔ فلسطینیوں کے پاس ابھی تک کوئی باقاعدہ عالمی پہچان نہیں ہے ۔2011 میں فلسطینی اتھارٹی نے ایک آزاد ریاست کے طور پر اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اسے ناکام بنا دیا گیا ۔عالم اسلام کے ممالک بڑی طاقتوں کے دباؤ پر اس مسئلے سے الگ ہو چکے ہیں جبکہ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ معاہدوں اور مفادات کے شکنجے میں جکڑے ہیں جن کے ہاں اب مظلوم فلسطینیوں کے حق کے لیے آواز اٹھانا ممنوع قرار دیا جا چکا ہے ۔یہ حققیت ہے کہ اسرائیل کے قبضے اور عالمی طاقتوں کی جانب سے لالچ، طاقت اور سازشوں کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کے دل سے اس خطہ ارضی کی محبت نکالی نہیں جا سکی ۔ حکومتوں کی بجائے عوامی تحریکیں اب فلسطینیوں کی حمایتی ہیں ۔ عالمی امن کے ضروری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو اس کے باعث دنیا بھرکا امن و امان تباہ و برباد ہو سکتا ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com