درد آگہی (آخری حصہ) - فرح رضوان

فرحت نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کھانے کا انتظام کرنے کچن کا رخ کیا، عفت جلدی جلدی اس کا ہاتھ بٹاتی رہی. پھر کچھ یاد آنے پر پوچھا "مگر آپا تم نے اس لڑکی کو باقیوں پر کیوں ترجیح دی؟ باقی لڑکیاں خوبصورت بھی تھیں، اور ذرا" ..
"ہمم، اگر مختصر جواب چاہیے تو دل کو بھاگئی بس. جسے تم لوگ کلک کرنا کہتے ہو، اور سمجھنے کی بات ہے عفت! کہ خوبصورتی تو کسی کی بھی ہو، کتنی ہی ہو، جلد یا بدیر کچھ ہی سال میں ڈھل جاتی ہے. زین کے بچوں کو، ہماری اگلی نسل کو، جس سیرت کی ماں، اور جس طرح کا ٹینشن فری ننھیال درکار ہوگا، یہ دیکھا ہے میرے دل نے، اس لڑکی میں، زین کو بھی پسند آئی ہے، صفدر کو بھی اعتراض نہیں، کیونکہ تعلیم یافتہ تو آج ہر دوسرا گھرانہ بن چکا ہے بہنا! مگر تہذیب یافتہ لوگ مشکل سے ہی ملتے ہیں."

کھانا بن چکا تھا، فرحت نے ٹائمر سیٹ کر کے چاول دم پر رکھے اور واپس کمرے کا رخ کیا. اب یہ دونوں واپس اسی فائل کو کھولے بیٹھی تھیں.
عفت نے بلیک ڈاٹس والی کیس سٹڈیز کو پوائنٹ کرتے ہوئے پوچھا "یہ کیساگراف ہے آپا؟ ایک ڈاٹ سے شروع ہوکر، کہیں درخت اور کہیں نہر کی طرح اتنی ساری شاخیں کیوں ہیں؟
اس سوال پر فرحت کے چہرے پر، غم و غصے کے آثار صاف دیکھے جاسکتے تھے. اس نے درد مندی سے کہا؛ عفت یہ قریبا پچاس سال پرانی کیس سٹڈیز ہیں؛ ایک چالیس سال کی خاتون جن کا بچپنا ختم ہو کر نہیں دیتا، ایک پچاس سال کے صاحب جو قرآن کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے، پینتالیس سال کا بندہ جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا، مگر اللہ کو نہیں مانتا، اٹھاون سالہ خاتون جادو ٹونے سے باز نہیں آتیں. ان سب کو ایک ہی رنگ سے ہائی لائٹ کرنے کی وجہ، ان کی روٹ کاز کا ایک ہونا ہے، اور شدید افسوس کی بات ہے کہ تانے بانے بےحد مذہبی گھرانوں سے ملتے ہیں.

عفت نے حیرانی سے پوچھا "وہ کیسے آپا؟ سب سے پہلے تو انسان کی دینداری ہی دیکھ کر انسان تعلق بناتا ہے نا! کہ آگے نسل اچھی نکلے.. پھر اس نے خود ہی جواب بھی دے دیا کہ؛ "نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی تو نہیں مانا تھا نا تو ....."
فرحت نے سپاٹ لہجے میں کہا "نہیں عفت! ان لوگوں میں ایسے افراد شامل نہیں، بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے بچپن سے والدین کے درمیان سخت ناچاقی دیکھی، گھریلو تشدد اپنے عروج پر دیکھا، گالیاں، دھمکیاں، مار پیٹ دیکھ کر بھگت کر اور طعنے سہہ سہہ کر، سہمے رہے،گھٹتے رہے، کڑھتے رہے اور مسخ ہوتے رہے.

کچھ دیر خاموشی رہی، پھر عفت نے پوچھا "کیا ان کے اور بہن بھائی بھی ہیں؟ کیا وہ بھی ایسے ہی نکلے؟ "فرحت نے کہا، ہر بچہ مختلف ردعمل کا اظہار کرتا ہے، کم یا زیادہ نقصان تو سبھی کو ہوتا ہے، کچھ خود کو سنبھال لینے اور محنت سے حال اور مستقبل، یعنی اپنا گھریلو اور معاشرتی مستقبل بہترین بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اللہ کی مہربانی سے کامیاب بھی رہتے ہیں، مگر دکھ یہ ہے کہ اگر ناحق ایک انسان کی جان لینا تمام انسانیت کو مار ڈالنے کے برابر ہے، تو ایک بھی بچے کو اس طرح ضائع کر دینا کیساگناہ ہے؟
میرا دل کرتا ہے کہ جن کے والدین زندہ ہیں، اب بھی اپنے سخت رویوں پر معذرت کر لیں، اللہ سے توبہ کر لیں کیونکہ انھوں نے اختیار کا صریح ناجائز فائدہ اٹھایا ہے.

اس گراف پر یہ شاخیں کتنے ہی گھناؤنے جرائم کی ہیں، اللہ کرے کہ کوئی سمجھ سکے کہ گناہ کس طرح پھیلتا ہے کہ خود کو دین کی خدمت پر معمور ہو کر مقدس اور مصلح سمجھنے والے افراد کے ہاتھوں اس دنیا میں کیا کچھ فساد ہوتا رہا ہے" فرحت نے وضاحت سے ایک ایک سیاہ نقطے سے نکلتی شاخوں کو ہائی لائٹ کرتے ہوئے کہا تو عفت نے پوچھا؛ "آپا تمہیں کیا لگتا ہے؟ ایسی کیا وجہ تھی کہ دیندار لوگوں نے اس قدرنادانی کی؟
فرحت نے کہا؛ "حیا کا مطلب نہیں سمجھا" ان لوگوں نے اپنے دو رخے پن پر اللہ سے حیا نہیں کی، حفظ پر جس قدر زور تھا، اتنا قرآن کی آیات پر عمل کرکے خود کو اور اپنی نسل کو محفوظ کرنے پر توجہ نہیں تھی. یہ سب والدین آج سے کئی سال پہلے، خوب خوب نیکی پھیلا رہے تھے، مگر گھر سے باہر، ان کے اپنے گھر میں اخلاق کا معاملہ کیا تھا، اتنا دین پڑھ کربھی یہ نہ جان پائے! کہ عمل صالح ، انسان کے اخلاق کا ہی دوسرا نام ہے،گزشتہ برسوں میں ان ماؤں نے نفس کے ہاتھوں کمزور سے کمزور بن کر کیسے کیسے اخلاق سے پرے کام نہیں کیے؟جب جب بچوں کے سامنے یہ لڑیں، رونے دھونے، الزام تراشی، بد انتظامی اور بد زبانی سے ماحول مکدر کیے رکھا، گھر چھوڑ جانے کی دھمکیاں، بچوں پر ہر طرح غصہ اتارنا، اس رویے کا نقصان یہ ہوا کہ اس ماحول میں بڑھتے ہوئے بچوں کو شادی کے نام سے ہی نفرت ہوتی چلی گئی. اگر لڑکوں نے ماں کا یہ کردار دیکھا تو آگے جاکر اپنی بیوی پر سے اعتماد اٹھ گیا."

عفت سرد آہ بھرتے ہوئے بولی "شادی تو عورت اور مرد کے مابین معاہدہ ہوتی ہے آپا! اعتماد کے بغیر اس میں کیا رہ جاتا ہے؟
فرحت ہونٹ بھینچ کر رہ گئی؛ "اور پتہ ہے عفت، مردوں نے جب جب کمزور بیوی پر ظلم ڈھایا، اس کے ماں باپ، بہن بھائی کی تذلیل کی، ایک ایک جھگڑے میں اپنی بیوی سے جڑے اس کے گھر والوں کا جی بھر کر دل دکھایا، سب کے قیمتی وقت کو برباد کیا، طلاق کو کبھی ہتھیار تو کبھی کھلونا بنا لیا، گھڑی بھر میں گھر سے بےگھر کر دینے کی دھمکی دیتے نہ تھکے، تھپڑ مارے،گالیاں دیں پھبتیاں کسیں،گھر کے ہرفرد کی عزت نفس اور اعتماد کو تار تار کیا، یہ فشار ان کی اولادوں میں پھیلتا گیا، تو پھر ان میں سے کچھ ان سے بھی برے والدین بنے اور کچھ برے شہری بن کر فساد فی الارض میں مبتلا ہوگئے. اکثر گھرانوں میں بہن بھائی کے تعلقات صرف اس لیے برے ہوتے گئے کہ انہوں نے گھر کے بڑوں سے سیکھا ہی یہی، تلخ کلامی، حقوق کی پامالی، غصہ ناراضی.

ایسے "مذہبی" والدین کی وجہ سے ان کی اولادوں کا ایمان کمزور ہوتاگیا کہ اگر اللہ ہے تو ان کی مدد کیوں نہیں کرتا؟
اگر یہ مسلمان ہونا ہے تو اس اسلام کا کیا فائدہ ؟ اسلام کا مطلب کتابوں میں پڑھتے ہیں پیس یعنی امن ، اور "اسلامی گھروں" میں آئے روز دیکھتے ہیں کہ پیس آف مائنڈ موجود ہی نہیں، اگر یہ شادی کا انجام ہے تو شادی کیوں کی جائے؟
مگر وہ انسان تھے، جذبات سے عاری کیسے اور کب تک رہتے؟ تو پھر شادی کے سوا ہر غلط راستہ اپنانا شیطان نے ان کو اپنا حق بنا کر دکھایا. جس سے ان کی اولادیں بھی ہوئیں، جنھیں ان کے والدین جیسے برے والدین بھی میسر نہ ہو سکے تو اگلی نسل مزید تباہ کاریوں میں مبتلا ہوئی. کیا ان جھگڑالو والدین کو علم نہ تھا کہ قابیل نے پہلا قتل کیا تو رہتی دنیا تک ہر انسان کے قتل کی سزا بھی اس کے سر ہوئی تھی؟ کیا اس سےانکار تھا کہ جس نے پہلا بت بنا کر شرک کیا، اس پر ہر ہر مشرک اور بت پرست کےگناہ کا بھی وبال ہوگا؟ تو اب اپنی اس زیادتی اور اتنے گناہوں کی بنیاد بننے سے انکار کیسے کریں گے قیامت کے دن؟

کچھ لوگ جو اپنی ہر ناجائز بات اپنی بیویوں کو طلاق کی دھمکی دے دے کر منوانے کے عادی تھے، اس کے لیے اکثر بیویوں نے جادو ٹونے کاسہارا لینا شروع کر دیا. ان کی اس بات کا شرک، مزید یہ کہ ان جادوگروں نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے جتنے انسانوں کا خون کیا، ان تمام کے قتل کا وبال، مقتولین کے گھروں میں جتنوں کو صدمے اور مشقت کو جھیلنا پڑا، اور ان خبیث جادوگروں نے شیاطین کی تعمیل میں جو بےحرمتی بھی کی، قرآن کی، اس کا حساب کیا ہوگا روز حشر، میری سمجھ میں نہیں آتا. میں کس طرح یہ معاملات ان والدین کے سامنے رکھوں؟ ایک بار لادین بندے کو سمجھانا پھر بھی آسان ہوتا ہے، لیکن جو خود کو مقدس، معتبر اور محترم سمجھتے ہوں، ان کی توجہ کس طرح اس بات پر دلائی جائے کہ [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا] "
جنہوں نے " مذہبی" ہو کر قرآن کو ہی نہیں سمجھا، وہ کسی بندے کی بات کو سمجھیں گے بھلا؟ کیا انہوں نے سورہ عراف میں یہ نہیں پڑھا ہوگا؟
[ پھر ہم خود پور ے علم کے ساتھ سرگزشت، ان کے آگے پیش کردیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے (7)
اور وزن اس روز عین حق ہوگا، جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے (8)
اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے (9)
ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو (10) ]
کیاانہیں خبر نہ تھی اللہ تعالیٰ نے شیطان سے کیا کہا تھا ؟"[درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں" (13)
بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے" (14)
فرمایا، "تجھے مہلت ہے" (15)
بولا، "اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا، میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر (16)
اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا" (17)
فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا، یقین رکھ کہ اِن میں سےجوتیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا (18)] (القرآن )

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */