یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت کیوں نہیں ہوسکتا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سوشلسٹ روس کے زوال کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے کئی دیسی سوشلسٹ مشرف بہ امریکا ہو کر "لبرل" کہلانے لگے۔ دیسی سوشلسٹ کم از کم فلسطینیوں کی آزادی کے حق میں اور اسرائیل و امریکا کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔ تاہم کایاپلٹ کے بعد "شوقیہ لبرل" بننے والے تو خیر و شر کا فرق ہی بھول گئے ہیں۔ ان شوقیہ لبرلز کی دیکھا دیکھی "اعتدال" اور "داعیانہ اسلوب" کے مدعی مولوی صاحبان بھی اسرائیل اور امریکا کے خلاف بولنے والوں کو کوسنے دینے لگے ہیں۔

ایک عام مغالطہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ فلسطین اور یروشلم کی سرزمین یہود کی ہے، اس لیے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے پر اعتراض غلط ہے۔ یہ دعوی تسلیم کرنے کےلیے دو کام کرنے پڑتے ہیں:
ایک، اس سرزمین کی ابدی ملکیت کے متعلق یہود کا دعوی تسلیم کیا جائے؛ اور
دو، معاصر بین الاقوامی قانون کے تمام اصول نظرانداز کیے جائیں۔

پہلی بات اس وقت قطعی غیرمتعلق ہے۔ بعض مسلمان اہلِ علم نے یہود کے "حقِ تولیت" کےلیے قرآن وحدیث سے استدلال کی روش بھی اختیار کی ہے۔ اس استدلال کی صحت یا عدمِ صحت پر بحث بھی اس وقت قطعی غیرمتعلق ہے۔ اصل بحث یہ ہے کہ معاصر بین الاقوامی قانون یہود کا "حقِ ملکیت" تسلیم کرتا ہے یا نہیں؟

"شوقیہ لبرل" بننے والے تو خیر و شر کا فرق ہی بھول گئے ہیں۔ ان شوقیہ لبرلز کی دیکھا دیکھی "اعتدال" اور "داعیانہ اسلوب" کے مدعی مولوی صاحبان بھی اسرائیل اور امریکا کے خلاف بولنے والوں کو کوسنے دینے لگے ہیں۔

پہلی جنگِ عظیم تک بین الاقوامی قانون کی رو سے کسی سرزمین پر کسی ریاست کا حقِ ملکیت تسلیم کرنے کے جو جائز طریقے تھے، ان میں ایک طریقہ "فتح" (Conquest) تھا بشرطیکہ اس کے بعد فاتح ریاست اس مفتوحہ علاقے کا الحاق (Annexation) کرلیتی۔ اسی اصول پر 1857ء کے بعد سے ہندوستان کو برطانوی بادشاہت کا حصہ قرار دیاگیا اور اسے "برطانوی ہند" (British India) کہا جانے لگا اور برطانیہ کی ملکہ ہندوستان کی بھی ملکہ ہوگئیں۔ یہ اصول پہلی جنگِ عظیم کے بعد تک بین الاقوامی قانون میں تسلیم کیا گیا۔ تاہم 1928ء میں امریکا اور فرانس نے آپس میں معاہدہ کر کے یہ اصول طے کیا کہ جنگ کے ذریعے علاقے فتح کرنا ناجائز ہے۔ کچھ ہی عرصے میں دیگر ریاستوں نے بھی اس معاہدے کو، اور اس کے ذریعے طے شدہ اصول کو، تسلیم کرلیا۔ چنانچہ 1928ء کے معاہدۂ پیرس کے بعد سے "فتح" کے ذریعے کسی علاقے کے "الحاق" کو بین الاقوامی قانون تسلیم نہیں کرتا۔ اب "فاتح" ریاست کو "قابض طاقت" (Occupying Power) اور مفتوحہ علاقے کو "مقبوضہ علاقہ" (Occupied Territory) کہا جاتا ہے اور اصول یہ طے کیا گیا ہے کہ جب تک قبضہ ختم نہیں ہوجاتا، حالتِ جنگ برقرار رہتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ اصول بھی مانا گیا ہے کہ قابض طاقت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی آبادی یا جغرافیے میں کوئی مستقل اور دور رس تبدیلی لائے کیونکہ جلد یا بدیر اس قابض طاقت کو اس مقبوضہ علاقے سے نکلنا پڑے گا۔

یروشلم سمیت جن علاقوں پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا، وہ اسرائیل کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے "مقبوضہ علاقے" ہیں، اور 1928ء کے معاہدۂ پیرس کے بعد سے بین الاقوامی قانون مقبوضہ علاقے پر قابض طاقت کا حقِ ملکیت تسلیم نہیں کرتا۔

تاریخی طور پر مسلم ہے کہ یہود کو رومیوں نے پہلی صدی عیسوی میں فلسطین سے نکال دیا تھا، اور اس وقت کے بین الاقوامی عرف اور قانون کے مطابق اس سرزمین پر فاتح طاقت، یعنی رومی سلطنت، کی ملکیت قائم ہوگئی۔ ساتویں صدی عیسوی میں سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اس کی ملکیت مسلمانوں کو منتقل ہوئی، اور یہ ملکیت بیسویں صدی عیسوی کی ابتدا تک برقرا رہی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد اس علاقے پر برطانیہ کا قبضہ ہوا لیکن برطانیہ نے اس پر اپنا حقِ ملکیت قائم نہیں کیا بلکہ اسے "امانت" کے طور پر قبول کیا۔ جنگ کے بعد وجود میں لائی جانے والی تنظیم "مجلسِ اقوام" (League of Nations) نے اس علاقے کو ترقی دینے اور یہاں کے لوگوں کو اپنی حکومت سنبھالنے کے لائق بنانے، بہ الفاظِ دیگر "مہذب بنانے" ، کی ذمہ داری (Mandate) برطانیہ کو دے دی۔ 1948ء تک یہ علاقہ برطانیہ کے پاس امانت کے طور پر ہی رہا اور برطانیہ نے نہ صرف یہ کہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، بلکہ اس امانت میں بھرپور خیانت بھی کی۔ 1948ء میں برطانیہ نے مجلسِ اقوام کی وارث تنظیم، یعنی اقوامِ متحدہِ کو کہا کہ وہ مزید اس امانت کا بار نہیں اٹھا سکتا۔ اقوامِ متحدہ نے یہ علاقہ برطانیہ سے واپس لے کر اسے یہود اور عربوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ اقوامِ متحدہ ہ کو اس تقسیم کا ختیار تھا یا نہیں اور کیا یہ تقسیم منصفانہ اور جائز تھی یا نہیں؟ اس پر تفصیلی بحث کی جاسکتی ہے۔ تاہم اگر اس بحث کو نظرانداز بھی کیا جائے تو یہ دو حقیقتیں بہرحال مسلم ہیں:
ایک یہ کہ 1948ء میں جس سرزمین پر "اسرائیل "کی ریاست قائم ہوئی، اس میں یروشلم شامل نہیں تھا؛
دوسری یہ کہ یروشلم سمیت جن علاقوں پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا، وہ اسرائیل کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے "مقبوضہ علاقے" ہیں، اور 1928ء کے معاہدۂ پیرس کے بعد سے بین الاقوامی قانون مقبوضہ علاقے پر قابض طاقت کا حقِ ملکیت تسلیم نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

چنانچہ اسرائیل یروشلم اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لاسکتا؛ نہ وہ وہاں آبادکاری کرسکتا ہے، نہ ہی وہاں ایسی دیوار تعمیر کرسکتا ہے جو اس علاقے کو مستقل طور پر تقسیم کردے۔ یہ بات 2003ء میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (International Court of Justice) نے اپنے فیصلے میں تفصیلی طور پر واضح کی ہے۔ اس وجہ سے بین الاقوامی قانون کی رو سے قطعی طور پر ناجائز ہے کہ یروشلم یا مقبوضہ علاقے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل کا دارالحکومت بنایا جائے۔

کاش "شوقیہ لبرلز " کو کوئی فیض اور جالب کے اشعار ہی یاد دلا دے۔ یہ ٹھیک ہوجائیں تو "داعیانہ اسلوب" کے مدعی مولوی خود بخود سدھر جائیں گے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.