ٹرمپ پالیسی، اُمید کی کرن! - کرم الٰہی گوندل

گزشتہ رات سے دنیا بھر کے مسلمان اور یورپ کے معتدل مزاج حکمران و سیاستدان شدید اضطراب میں ہیں۔ ٹرمپ آگ سے کھیل رہے ہیں، مشرق وسطیٰ میں سرخ لکیر عبور کر گئے ہیں، مقبوضہ بیت المقدس کو قابض اور جارح اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امن عمل کو دفنا دیا گیا ہے۔ ان کے اس اقدام کا شدید ردعمل سامنے آئے گا اور اس جیسے نہ جانے کتنے تبصرے کل رات سے ٹوئٹر، فیس بک اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھ رہا ہوں۔ کوئی برہم دکھائی دیتا ہے، تو کسی کے لیے یہ محض ایک جارحانہ سفارتی اقدام ہے جس پر صرف تشویش کا اظہار کافی ہے۔ کچھ لوگ او آئی سی اور عرب لیگ کا ذکر بھی کر رہے ہیں کہ ان کو مشترکہ اور دو ٹوک مؤقف اپنانا چاہیے۔ چھوٹی بڑی مذہبی جماعتیں، کچھ مسلم ممالک کی محنت کش تنظیمیں سڑکوں پر آ رہی ہیں، ملکوں ملکوں احتجاج کی کال دی جا رہی ہے۔ کوئی امریکہ کے سفارتی مقاطعہ کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کو کوس رہا ہے تو کسی کے تیر کا نشانہ بے عمل اور نام نہاد مسلم حکمران ہیں جن کی جاہ پرستی اور عیش کوشی نے عالم اسلام کو یہ دن دکھایا۔

صاحبان! بیت المقدس تو 1967ء سے عملی طورپر اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ غزہ کا جارح اسرائیلی افواج نے دس سال سے اس سختی سے محاصرہ کر رکھا ہے کہ یہ علاقہ دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ غریب اردن میں نام نہاد فلسطینی رہنما محمود عباس کی حکومت صرف کاغذوں تک محدود ہے، صہیونی جب چاہتے ہیں کوئی بھی فلسطینی گاؤں یا بستی مسمار کر کے وہاں اپنی نو آبادی تعمیر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ او آئی سی ، عرب لیگ، مسلم امہ، عالم اسلام کے دیگر مجاوروں نے تب کون سا تیر مار لیا؟ ہمیں تو اپنے بھائیوں کے گلے کاٹنے، ایک دوسرے کو برباد کرنے، مسلک، زبان، خطے کے اختلاف کی آڑ میں دیگر مسلم ممالک کو برباد کرنے سے ہی فرصت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مشرق وسطیٰ میں صنعتی انقلاب کا آغاز - قادر خان یوسف زئی

عالم عرب کا سرخیل سعودی عرب شام، لبنان ، یمن اور قطر سے سینگ لڑا رہا ہے۔ عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت پاکستان اپنے پڑوسی افغانستان اور ایران کے ساتھ ساتھ عربوں کی پراکسی وار سے نبرد آزما ہے۔ خلافت عثمانیہ کا وارث ترکی ایک طرف امریکی فوج کا ایک اڈہ ہے، اور ساتھ ہی اسی امریکہ کے علاقائی اتحادی کردوں سے بھی لڑ رہا ہے، شام میں وہ روس اور ایران کے ساتھ نظر آتا ہے تو قطر کے بحران پر سعودی عرب کے آمنے سامنے بھی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے والے ایرانی یمن، شام، لبنان، بحرین، عراق میں سنّی عرب مسلمانوں سے دست و گریباں ہیں۔ عرب لیگ کے اجلاسوں میں اسرائیل کے حوالے سے سخت موقف اپنانے والے معمر قذافی، صدام حسین اور بشار الاسد کا انجام سب کے سامنے ہے۔ ان کے ملک تباہ و برباد کر دیے گئے۔

ہم نے آج تک صرف ایک کام پوری ہمدردی کے ساتھ کیا ہے، وہ یہ کہ نقبہ سے انتفاضہ تک، جب جب اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا، ہم نے ان کے کفن دفن کے لیے پیسے بھیجے۔ چند روزہ عوامی احتجاج، سفارتی مراسلوں اور نمائشی ہنگامی اجلاسوں کے بعد یہی کام اب پھر ہوگا۔

ہاں! ایک امید کی کرن باقی ہے، وہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ۔ ابھی اس نے اپنے ملک کا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان ہی کیا ہے کہ استنبول، ریاض، تہران، دمشق، اسلام آباد اور کابل تک ایک ہی آواز گونجنے لگی ہے۔ مسلم ممالک کے جن دارالحکومتوں سے ایک دوسرے کے خلاف آوازیں اٹھتی تھیں، وہ سب کل رات سے ٹرمپ پالیسی کے خلاف یک زبان دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ پالیسی مزید آگے بڑھی، سفارت خانہ منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع ہو گئے تو شاید یہ باہم دست و گریباں مسلم ممالک جو ابھی القدس کے ایشو پر محض یک زبان دکھائی دے رہے ہیں، شاید اپنی لڑائی بھول کر اصلی دشمن کے خلاف یک جان بھی ہو جائیں۔

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ