القدس پر لہو جلانے کا کیا فائدہ؟ - فیض اللہ خان

درد حد سے بڑھ جائے تو راحت کا ہی سبب بن جاتا ہے ویسے ہی جیسا کہ ارض فلسطین کا گھاؤ ہے۔ جہاں ٹینک کے سامنے پتھر لہراتا تکبیر کی صدا بلند کرتا بچہ نوید سحر بنتا ہے یا پھر وہ نوجوان جو اپنے کمزور اسلحے اور قوی جذبے کو لے کر صہیونیوں پہ چڑھ دوڑتا ہے اور شرق تا غرب پھیلی عالم اسلام کی لاکھوں افواج جوہری بم توپ و تفنگ کا مذاق اڑا کر لعنت بھیجتا ہے۔

امریکی صدر کی اس بات پہ پہلے بھی تحسین کی ہے کہ کمبخت جو کچھ بھی کرتا ہے، ڈنکے کی چوٹ پہ کرتا ہے۔ مسلمانوں سے متعلق جو اس کے دل میں ہے وہی زباں پہ ہوتا ہے۔ یہ بش کی طرح نہیں کہ پہلے افغانستان پہ حملہ صلیبی جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف مہم قرار دے کر خفت مٹانے کی کوشش کرے۔

القدس سفارتخانے کی منتقلی ہر امریکی صدر کی خواہش رہی لیکن عملدرآمد موجودہ صدر نے کیا۔ ٹرمپ اس سمیت متعدد معاملات میں کسی ابہام کا شکار نہیں۔ بہرحال ٹرمپ و اسرائیل طاقتور ہیں اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے عالمی اصول کے مطابق وہ بالکل درست کر رہے ہیں۔ ان سے گلہ بے وقت کی راگنی ہے۔

سب سے زیادہ مضحکہ خیز صورتحال اسلامی خطوں پہ مسلط ان بونوں کی ہے جو طاغوت کے پیروکار ہیں۔ ننھے حقیر سے مفادات رکھنے والے ان بالشتیوں کی ذرا چیخ و پکار سنیں جو کسی فحش لطیفے سے کم نہیں۔ ٹرمپ نے انہیں پرلطف مصیبت سے دوچار کردیا۔ یہ حکمران منافقانہ انداز میں شور مچا کر اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان ایمان فروشوں کا واویلا کسی کام نہیں آنے والا، ان کی حقیقت کئی برس قبل عیاں ہوچکی اور عالمی دنیا کے چوک پہ مدت گزری کہ یہ تمام لباس سے محروم کھڑے ہیں۔

کائنات میں طاغوت کا سب سے بڑا کوئی نوکر ہے تو وہ آل سعود ہیں۔ ایک شاہ فیصل شہید کو نکال کر آج تک ان میں کوئی مسلمان تو ایک طرف انسان بھی نہیں دیکھا۔ جو اقصیٰ کی آزادی کی جنگ لڑسکتے تھے، انھیں بونوں نے اپنے آقا کی ایماء پہ قتل کیا، زندانوں میں ڈالا۔ ایران نے عراق تا یمن الگ سے ان کے منہ پہ کالک مل رکھی ہے اور ان کے پاس کوئی علاج یا تدبیر نہیں۔ اب ان نالائقوں سے کسی کو کوئی امید ہے تو اس کی عقل پہ فاتحہ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ ان سے غیرت مندانہ مؤقف کی کبھی امید نہ رہی، لیکن یہ لوگ چاہتے تو علم و فن اور معاشی طور تو کم از کم مسلمانوں کو ترقی دے سکتے تھے، افسوس کہ یہ خواب بھی خواب رہا۔

بس اب اس دن کا انتظار کیجیے کہ جب اسرائیلی وزیراعظم ریاض ائیرپورٹ پہ اترے اور وھن کے مرض میں مبتلا شاہ سلمان یا اس کا پُتر یہودی کے بوسے لے لے کر اپنے مالک کے حضور چاکری کا ثبوت دے، یا پھر خادم حرمین اپنی آل اولاد کے ساتھ تل ابیب کے ہوائی اڈے پہ اپنے اقتدار کے طول کی بھیک مانگیں۔

پوری اسلامی دنیا میں ایک اردگان سے " کچھ " امید ہے، لیکن فرعونوں کے لشکر کے سامنے تنہا آدمی کیا اور کتنا لڑے؟

ارض قدس ضرور آزاد ہوگی لیکن ابھی نہیں، یہ مرحلہ صرف دور ہی نہیں بلکہ بہت دور ہے، تب تک لہو جلانے کا کیا فائدہ ؟

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.