موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹرعبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 20 ربیع الاول 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس" ارشاد فرمایا انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ، دن رات کا آنا جانا اور گرمی سردی یہ سب کچھ اللہ کی نشانیاں ہیں اور اللہ تعالی کے محکم نظام اور دستور کے مطابق ایک وقت تک چلتا رہے گا، اس نظام  میں صرف مشیت الہی کار گر ہے، کسی  دوسرے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، اللہ تعالی ان تبدیلیوں کو کسی کے مفید تو کسی کے مضر بنا دیتا ہے، چنانچہ نوح، موسی، ہود اور صالح علیہم السلام کے لیے انہیں باعث نجات بنایا جبکہ ان کی اقوام کو انہی چیزوں سے تباہ کر کے رکھ دیا، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ شدید گرمی اور سردی حدیث نبوی کے مطابق جہنم کے دو سانسوں کی وجہ سے ہوتی ہے، اور دنیاوی آگ جہنم کی آگ سے 70 گنا کم ہے، جبکہ جہنم کی آگ کو 3ہزار سال تک دہکایا گیا جو کہ سرخ، سفید  ہونے کے بعد سیاہ رنگ اختیار کر چکی ہے، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ  شرعی  احکامات نے بھی موسمی تبدیلیوں کو مد نظر رکھا اور ان کے مطابق شرعی احکام بتلائے، مثلاً: سردیوں میں لمبی   راتیں قیام  اللیل اور مختصر دن روزوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں، سرد موسم میں موزوں اور جرابوں پر مسح کرنا، بیماری کے خدشے کی بنا پر وضو کی بجائے تیمم کرنا وغیرہ، پھر انہوں نے کہا کہ بعثت نبوی کے لیے خطہ عرب کا انتخاب بھی اسی لیے ہوا کہ یہاں گرمی اور سردی دونوں موسم ہیں یہاں رہنے والے لوگ دونوں زمینی قطبوں تک دین اسلام کا پیغام پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، رسول اللہ ﷺ نے بھی گرمی سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے صبر اور تحمل کی تعلیم دی چنانچہ غزوہ احزاب   ٹھٹھرتی سردی اور غزوہ تبوک تڑاکے کی گرمی میں ہوا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرد موسم میں اردگرد  مستحق افراد تک گرم لباس اور سردی کی ضروری اشیا پہنچائیں اس کے لیے سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ترجیح دیں، آخر میں انہوں نے بیت المقدس کے متعلق کہا کہ یہ ہر کلمہ گو مسلمان کی جگہ ہے اور مملکت سعودی عرب اپنے دو ٹوک موقف پر قائم ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، اس کے بعد انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس کے حکم سے زمانہ چل  رہا ہے، اسی کے حکم سے صدیاں تسلسل کے ساتھ گزرتی جا  رہی ہیں، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غلاف بنا دیتا ہے، اسی نے سورج کو ضیا اور چاند کو منور بنایا، اسی نے ان کی منزلیں بنائیں تا کہ تم سالوں کا اور دیگر امور کا حساب رکھ سکو، میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں وہی ثنا اور تعریف کا اہل ہے، میں اس کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے لوگوں کو رضائے الہی کی دعوت دی، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین اسلام دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان پر  اسلام کو  غالب کر دے، چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، تقوی پر مبنی کلمہ سب سے قوی ذریعہ نجات ہے، بہترین ملت  ابراہیمی ہے، افضل ترین واقعات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں، اعلی ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

اللہ کے بندو!

میں تمہیں اور اپنے آپ کو خلوت اور جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ تقوی ہی فانی دنیا میں باعث نجات اور سرمدی آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہمیشہ سیدھی بات کیا کرو [70] وہ تمہارے امور سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ عظیم کامیابی پا گیا۔[الأحزاب: 70، 71]

مسلم اقوام!

زمانے کے آنے جانے ، موسموں اور مہینوں کے گزرنے  اور دن رات کے تسلسل میں نصیحتیں، عبرتیں، یاد دہانیاں اور نشانیاں ہیں {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} بیشک آسمانوں  اور زمین کی پیدائش  میں اور شب و روز کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔[آل عمران: 190]

اللہ کے بندو!

سال کے بدلتے موسم ، جھلسا دینے والی گرمی اور ہڈیو میں گھس جانے والی سردی ؛ یہ سب کچھ  اللہ تعالی کی حکمت اور منصوبہ بندی کے تحت معینہ مدت تک کے لیے ہے۔

آپ سب موسم سرما میں داخل ہو چکے ہو، یہ مومنوں کی بہار  ،متقی اور عبادات گزاروں کے لیے گلزار ہے، محنت کرنے والوں کے لیے میدان عمل بھی ہے، اللہ تعالی نے ان ایام کی راتوں کو قیام کرنے والوں کے لیے لمبا کر دیا ہے چنانچہ ان کی حالت یہ ہے کہ: { قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ (17) وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} وہ رات میں کم ہی سوتے ہیں [17] اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔[الذاريات: 17، 18]

ایک اور مقام پر ان کی حالت بیان فرمائی: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (16) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں   وہ اپنے پروردگار سے خوف اور امید کے ساتھ دعا کرتے ہیں  نیز جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں [16] پس ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے جو کچھ مخفی رکھا گیا ہے اسے کوئی نفس نہیں جانتا  یہ بدلہ ہے اس کا جو وہ عمل کرتے تھے۔[السجدة: 16، 17]

نیز ان دنوں کو اللہ تعالی نے روزہ رکھنے والوں کے لیے مختصر بنا دیا ؛ جس کی وجہ سے کامیابی کے متلاشی  لوگوں کے لیے  یہ کسی غنیمت سے کم نہیں، لہذا ان میں بڑھ چڑھ کر روزے رکھنے چاہییں، {وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا} اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے یا شکر گزار بننا چاہتا ہے۔[الفرقان: 62]

اس لیے تم بھی اپنے لیے نیکیاں کرو اور اللہ سے ڈرو، تا کہ تم پر بھی رحم کیا جائے، نیز ایسے قیمتی مواقع ضائع مت کرو؛ کیونکہ تم سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

إِذَا هَبَّتْ رِيَاحُكَ فَاغْتَنِمْهَا

فَإِنَّ لِكُلِّ خَافِقَةٍ سُكُوْنُ

جب تمہارے حق میں  ہوائیں چلیں تو انہیں غنیمت سمجھو؛ کیونکہ ہوا نے لازمی تھمنا ہے۔

وَلَا تَغْفَلَ عَنِ الْإِحْسَانِ فِيْهَا

فَمَا تَدْرِيْ السُكُوْنُ مَتَى يَكُوْنُ

ان موقعوں میں عمدہ کارکردگی سے غافل مت رہنا؛ کیونکہ نہیں معلوم کہ کون سی گھڑی  سراپا سکون بن جائے

اللہ کے بندو!

لوگ گرمی کی لو اور تپتی دھوپ سے بچتے ہیں تو اسی طرح سردی کی یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لیے موٹے لباس اور چادریں اوڑھ لیتے ہیں، اس بدلتی صورت حال میں عقلمندوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے؛ کیونکہ تڑاکے کی گرمی اور شدید سردی جہنم  کے دو سانسوں کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے کہ  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جب شدید گرمی ہو تو نماز کو قدرے ٹھنڈے وقت میں پڑھو؛ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لو کی وجہ سے ہے) نیز ایک اور حدیث میں ہے کہ: (جہنم نے اپنے پروردگار کو شکایت کی اور کہا: "پروردگار! میرا وجود ایک دوسرے کو کھا رہا ہے" تو اللہ تعالی نے جہنم کو دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور دوسرا سانس گرمی میں، تو جو شدت کی گرمی یا سخت ترین سردی محسوس کرتے ہوئے اسی وجہ سے ہوتی ہے) متفق علیہ

تو اللہ کے بندو! تمہارا اس جہنم کے بارے میں کیا تصور ہے؟ یہ جہنم اللہ تعالی کی دہکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی،  اس آگ سے انتہائی بڑے بڑے شعلے نکلیں گے ان کا حجم بڑے بڑے محلات جتنا ہو گا، ان کا رنگ زرد سیاہی مائل اونٹوں جیسا ہو گا، یہ آگ  گوشت اور ہڈی کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی بلکہ چمڑی کو تباہ کر کے رکھ دے گی، اس آگ پر انیس  فرشتے مقرر ہیں، یہ آگ شعلوں والی ہے، چمڑی ادھیڑ دینے والی ہے، یہ آگ دنیا میں رو گردان اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کو  پکارے گی جو گن گن کر مال جمع کرتا تھا اور اس کا حق ادا نہیں کرتا تھا، یہ آگ ہی گناہگاروں کا ٹھکانا ہے، آپ کو کیا معلوم وہ کیسا ٹھکانا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔

اس آگ کو ہزار سال بھڑکایا گیا کہ اس کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر مزید ہزار سال  اسے جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی اور اس کے بعد بھی مزید ہزار سال دہکایا گیا تو اس کا رنگ سیاہ ہو گیا، تو اب یہ آگ کالی سیاہ ہے، اس کے انگارے روشنی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے شعلے بجھتے ہیں، اس لیے اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تمہاری یہ آگ جسے ابن آدم جلاتا ہے یہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے) صحابہ نے کہا: " اللہ کی قسم! [عذاب کے لیے تو]دنیا کی آگ ہی کافی تھی، اللہ کے رسول!"  تو آپ ﷺ نے فرمایا: (جہنم کی آگ کو دنیا کی آگ پر 69 درجے زیادہ [حرارت ]دی گئی ہے، اس  کے تمام درجات کی حرارت یکساں ہے) اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے۔

مسلم اقوام!

نظام کائنات  ایک محکم دستور کے مطابق چل رہا ہے، اللہ تعالی کے فیصلے اس دستور میں اٹل ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی ان فیصلوں کے ذریعے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے نقصان پہنچا دیتا ہے، تو در حقیقت یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی مشیت  کے تابع ہیں، اس کائنات میں کسی بھی چیز کی کوئی مرضی ، یا تدبیر نہیں چلتی ، فرمانِ باری تعالی ہے: {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ} یہی ہے تمہارا پروردگار اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو  وہ تو قطمیر کے بھی مالک نہیں ہیں۔[فاطر: 13]

چنانچہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کی طوفان کے ذریعے مدد فرمائی اور اسی طوفان  سے ان کی قوم کو غرق کر دیا، ایمان والوں کو آپ کے ساتھ بچا لیا۔

ایسے ہی اللہ تعالی نے سمندر میں موسی علیہ السلام کو گزار کر فتح یاب فرمایا اور فرعون وہیں پر اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہو گیا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے ہود علیہ السلام کی قوم کو تیز آندھی کے ذریعے تباہ کیا؛ یہ ایسی تباہ کن اندھیری تھی کہ جس چیز سے گزرتی تو اسے بوسیدہ بنا ڈالتی۔

ایسے ہی صالح علیہ السلام کی اللہ تعالی نے مدد فرمائی تو  دیکھتے ہی دیکھتے ان کی قوم کو ایک چیخ کے ذریعے تباہ کر دیا اور وہ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی نہ رکھ پائے نہ ہی اور کوئی ان کی مدد نہیں کر سکا۔

فرمان باری تعالی ہے: {فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا، ان میں سے کچھ  ایسے ہیں جن پر ہم نے پتھر برسائے، کچھ کو چیخ نے آ پکڑا، اور کچھ کو ہم نے زمین دوز  کر دیا، اور کچھ کو ہم نے غرق کر دیا، اور اللہ تعالی ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا، تاہم انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔[العنكبوت: 40]

اس لیے اس کائنات میں رونما ہونے والی تمام تر تبدیلیاں  اللہ تعالی کے ہاتھ اور اختیار میں ہیں ، نیز ان اختیارات میں اس کا کوئی شریک بھی نہیں۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ} اور اللہ تعالی کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔[النور: 42]

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، مجھے اور آپ کو قرآنی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے مستفید فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور سب مسلمانوں کیلیے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں  ، اسی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اندھیرا اور اجالا بنایا، دن اور مہینے وہی چلاتا ہے، سالوں اور صدیوں کو فنا کر دیتا ہے، میں ہر حالت میں   اسی کی حمد بیان کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول  ہیں، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر رحمتیں  اور سلامتی روزِ قیامت تک نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو!

سردی میں یخ بستہ موسم مشقت کا باعث ہے، چنانچہ اس مشقت کو شرعی احکام نے نظر انداز نہیں کیا، بلکہ سردی کے پیش نظر  جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت عطا فرمائی، بلکہ پانی سے وضو کرنے میں نقصان کا خدشہ ہو تو تیمم کی اجازت بھی دی، اسی طرح اگر قحط سالی ہو تو بارش کے نماز استسقا بتلائی اور ضرورت پڑے تو بارش تھمنے کی دعائیں بھی سکھلائیں۔

ان تمام امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مشقت پیدا ہو رہی ہو تو وہاں قدرے آسانی والے احکامات لاگو ہوتے ہیں، یہی وجہ  ہے کہ اللہ تعالی نے دینی معاملات میں تشدد نہیں رکھا، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ یہ رخصتیں عیاشی اور آوارگی کے لیے نہیں ہیں۔

اللہ تعالی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر ہی اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے چاہے مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی کے لیے کرۂ ارضی کا درمیانی خطہ اس لیے اختیار فرمایا کہ یہاں جنوبی قطب کی انتہا درجے کی گرمی بھی ہے اور شمالی قطب کی یخت بستہ سردی بھی، ان زمینی حقائق کا تقاضا یہ تھا کہ یہاں کے لوگ طبعی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لیں، اور پھر گرم یا سرد  دونوں قسم کے خطوں میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی کے لیے کرۂ ارضی کا درمیانی خطہ اس لیے اختیار فرمایا کہ یہاں جنوبی قطب کی انتہا درجے کی گرمی بھی ہے اور شمالی قطب کی یخت بستہ سردی بھی، ان زمینی حقائق کا تقاضا یہ تھا کہ یہاں کے لوگ طبعی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لیں، اور پھر گرم یا سرد  دونوں قسم کے خطوں میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو سخت گرمی اور سردی دونوں کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے، بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی تربیت بھی دیتے، آپ ﷺ انہیں تاکید فرماتے کہ جنتی محنت اتنی اجرت پاؤ گے، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑے گا، جنت کو مشقتوں سے گھیرا گیا ہے جبکہ جہنم کو شہوتوں سے گھیرا گیا ہے، نیز ناز و نخرے کے ساتھ نعمتیں نہیں ملتیں۔

رسول اللہ ﷺ غزوہ احزاب میں دشمن کے مقابلے کے لیے نکلے، آپ کے خلاف جنگجوؤں کی تعداد دس ہزار تھی، پھر بھی رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں آئے، حالانکہ اس وقت شدید سردی تھی  بلکہ پورے مدینے میں ہول اور خوف کا عالم چھایا ہوا تھا، ساتھ میں [طویل محاصرے کی وجہ سے ]بھوک پیاس  بھی برداشت کرنا پڑی۔

چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "ہم پر ایسی شدید رات کبھی نہیں آئی تھی جس میں اتنی سخت سردی، اندھیرا اور آندھی چل رہی ہو، اس رات میں اندھیری طوفان کی طرح چل رہی تھی، اندھیرا اتنا تھا کہ کسی کو اپنی انگلی تک نظر نہیں آتی تھی"

اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے لیے تقریباً 30 ہزار جان نثاروں کے ساتھ نکلے یہ انتہائی شدید گرمی کا موسم تھا، حتی کہ منافقوں نے  حوصلے پست کرنے کے لیے کہا: { لَا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ } یعنی گرمی میں مت نکلو۔ تو ان کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: { قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ} آپ کہہ دیں: جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ حرارت والی ہے، کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے۔[التوبہ: 81]

اسی غزوے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی جانب روانہ ہوئے ، تو راستے میں کسی جگہ پڑاؤ کیا اور وہاں اتنی سخت پیاس لگی کہ ہمیں جان نکل جانے کا خدشہ ہونے لگا، بلکہ آدمی اپنا اونٹ ذبح کر کے اس  کی اوجھڑی نچوڑ کر پانی نکال  کر پیتا اور باقی پانی اپنے جسم پر مل لیتا تھا"

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اس طرح سے اپنے دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جان نثاری سکھلائی کہ خوش حالی اور بد حالی سمیت جنگی حالات میں بھی  انہیں صبر، تحمل، برداشت اور سخت حالات کا مقابلہ اطاعت گزاری پر قائم رہتے ہوئے سکھایا۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے ہم پر بے شمار نعمتیں کی ہیں، ہم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کے دریا بہا دئیے ہیں، یہ سب اللہ تعالی کا کرم، فضل اور رحم ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ہمیں اپنے آپ کو آسانی ہو یا مشکل ، تنگی ہو یا فراخی، خوش حالی ہو یا بد حالی ہر حال میں صرف اسی کی اطاعت کے لیے مگن کرنا ہو گا۔

یہ بھی ہم پر لازمی ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو اسی کی اطاعت میں استعمال کریں، ہم کوشش کریں کہ ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی رضا مندی کے لیے معاون بنائیں، تا کہ یہ چیزیں ہمارے جنت میں جانے کا باعث بن جائیں۔

نیز ہم اللہ تعالی کی اس بات سے پناہ چاہتے ہیں کہ اس کی نعمتوں کو کسی گناہ میں صرف کریں، یا اس کی نعمتیں ناراضی یا عذاب کا موجب بنیں۔

آزمائشوں اور بلاؤں کو ٹالنے کا سب سے کار آمد ذریعہ اور  برکت و اضافے کا سبب یہ ہے کہ غریب لوگوں کی غم خواری کریں؛ خصوصاً ایسے وقت میں جب سردی کا موسم آ چکا ہو؛ کیونکہ بہت سے ایسے غریب ہیں جو سردی میں گھرے ہوئے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی کپڑا اور چادر تک نہیں ہے، کچھ بھوک سے فاقہ کشی میں ہیں ان کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہیں ہے، کچھ ایسے بھی ہی جو سیلاب اور بارش کی نظر ہو گئے ہیں، کچھ ناتواں یتیم، بیوگان، اور بوڑھے افراد بھی ہیں، بلکہ ممکن ہے کہ آپ کے آس پاس آپ ہی کے رشتہ دار اور پڑوسی بھی ایسی حالت میں ہوں ۔

اللہ کے بندو!

نیکی کرنے والے کو بری موت سے بچا لیا جاتا ہے۔ آزمائشوں اور بلاؤں کو ٹالنے کا سب سے کار آمد ذریعہ اور  برکت و اضافے کا سبب یہ ہے کہ غریب لوگوں کی غم خواری کریں؛ خصوصاً ایسے وقت میں جب سردی کا موسم آ چکا ہو؛ کیونکہ بہت سے ایسے غریب ہیں جو سردی میں گھرے ہوئے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی کپڑا اور چادر تک نہیں ہے، کچھ بھوک سے فاقہ کشی میں ہیں ان کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہیں ہے، کچھ ایسے بھی ہی جو سیلاب اور بارش کی نظر ہو گئے ہیں، کچھ ناتواں یتیم، بیوگان، اور بوڑھے افراد بھی ہیں، بلکہ ممکن ہے کہ آپ کے آس پاس آپ ہی کے رشتہ دار اور پڑوسی بھی ایسی حالت میں ہوں ۔

اس لیے اپنے ضرورت مند بھائیوں کی خبر گیری کریں، سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کی خبر لیں، پھر اپنے پڑوسیوں کو دیکھیں، اپنے ہم وطنوں کا خیال کریں، اور پھر اس طرح جو قریب تر ہو اس کی مدد کریں۔ نیکی کے اس کام میں کسی بھی چھوٹی نیکی  کو حقیر مت جانیں۔

لوگوں کی تکالیف دور کریں، مظلوموں کی مدد کریں، آفت زدہ کا ہاتھ بٹائیں، اور اللہ سے ڈرتے رہیں، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

مسلم اقوام!

اپنے ملک اور دیگر اسلامی ممالک کا دفاع یقینی طور پر  اسلام، مسلمانوں اور مسلمانوں  کے مال و جان کا دفاع ہے، سب مسلمان  ایک عمارت کی مانند ہیں، سب مسلمان ایک امت  اور ایک جان ہیں، اگر  اس جان کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم ہی بخار اور بے خوابی کی سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

مسلمانوں کے کسی بھی حصے  اور ملک کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام  تمام کے تمام مسلمانوں  کے حقوق کی پامالی ہو گی

اس لیے مسلمانوں کے کسی بھی حصے اور ملک کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام  تمام کے تمام مسلمانوں  کے حقوق کی پامالی ہوگی،  اور بیت المقدس نزول وحی کی جگہ ہے،  یہاں انبیائے اور رسول مبعوث ہوئے، یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے، ایک مدت تک مسلمان بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز ادا کرتے رہے ہیں، یہ نبی ﷺ کی جائے اسرا ہے، یہاں آپ کا محراب ہے جہاں آپ نے انبیائے کرام  کی امامت کروائی، {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے اردگرد ہم نے بہت برکت رکھی ہے، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ [الإسراء: 1]

اب وقت آ چکا ہے کہ ساری دنیا کو یہ بات معلوم ہو جائے ، اب وقت آ گیا ہے کہ ساری دنیا کو بتلا دیا جائے کہ ہمارے نبی ﷺ کی جائے اسرا پوری دنیا میں موجود  تمام فرزندان توحید  کی جگہ ہے، یہ جگہ ہر اس شخص کی ہے جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ساری دنیا کو یہ بات معلوم ہو جائے ، اب وقت آ گیا ہے کہ ساری دنیا کو بتلا دیا جائے کہ ہمارے نبی ﷺ کی جائے اسرا پوری دنیا میں موجود  تمام فرزندان توحید  کی جگہ ہے، یہ جگہ ہر اس شخص کی ہے جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے۔

اور سعودی عرب روزِ اول سے اپنے دو ٹوک موقف  قائم ہے، لہذا فلسطینی اور مقبوضہ بیت المقدس  کے معاملے میں اپنے اسلامی  اور انسانی  موقف  سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا، نہ ہی اس میں کوئی لچک پیدا ہو گی، بلکہ سعودی عرب اللہ کے حکم سے مظلوموں کی مدد اور اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

ہم اللہ تعالی کے وعدوں پر مطمئن ہیں؛ اس لیے دشمن جس قدر بھی مسلط ہو جائیں، فتح ڈٹ جانے والے مؤمنوں  کی ہم نوا ہو گی، اور بیت المقدس کا رب اس کی ضرور حفاظت فرمائے گا، {وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (105) إِنَّ فِيْ هَذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِيْنَ}  ہم زبور میں پندو نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے[105] بیشک اس میں عبادات گزاروں کے لیے واضح پیغام ہے۔ [الأنبياء: 105 -106]

یا اللہ! بیت المقدس شریف کی حفاظت فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں  کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں  کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس کو مکاروں کی مکاری  اور غاصبوں کی جارحیت سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا۔

یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ممالک کی قیادت کو مزید بہتر بنا۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو  خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو  ایسے کام کرنے کی توفیق دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کی بہتری ہو، جس میں ملک و قوم  کا فائدہ ہو، یا رب العالمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

پی ڈی ایف فارمیٹ سے پرنٹ یا ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.