بیت المقدس، مسلم جسد کا اٹوٹ حصہ - حامد کمال الدین

ارضِ مقدس یعنی فلسطین، بحر ابیض (Mediterranean Sea) کے جنوبی ساحل کا وہ نقطہ ہے جہاں دنیا کے دو سب سے گنجان آباد براعظم، ایشیا اور افریقہ ملتے ہیں۔ صحرائے سینا، جوکہ فلسطین کا غربی حصہ ہے، جنوب کی جانب سے بحر احمر اور شمال کی جانب سے بحر ابیض کو الگ کرتا ہوا وہ خطہ ہے جو ایشیا اور افریقہ کے مابین خشکی کا سنگم ہے۔ یہیں کھڑے ہو کر بحرا بیض کے دوسرے پار جھانکیں تو تھوڑی ہی دور، براعظم یورپ ہے۔ اس لحاظ سے ’فلسطین‘ دنیا کا وہ خطہ ہے جو تین براعظموں کو نہایت قریب پڑنے والا ایک مقام ہے۔

بعثتِ ابراہیمیؑ کے ساتھ ہی تہذیب انسانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے، اور قوموں کا تبادلۂ عمرانی ایک نئی زوردار صورت دھارنے لگتا ہے، تو کوئی خاص وجہ ہوگی جو بابائے ملت ابراہیم علیہ السلام عراق سے اٹھ کر یہاں آ ڈیرہ لگاتے ہیں۔ یہی نقطہ ایک طرف افریقہ (مصر) کی جانب توحید کی پیش قدمی کا مرکز بنتا ہے تو دوسری جانب یہیں سے چل کر ابراہیم علیہ السلام جزیرۂ عرب میں توحید کا ایک پودا ازسر نو کاشت کرکے جاتے ہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے بعد تو یوں ہوتا ہے کہ یہیں پر نبوتوں کا تانتا بندھ جاتا ہے اور زمین کا یہ خطہ آسمان کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے۔

مابعد موسیٰ ؑاور ماقبل مسیحؑ کا یہی وہ زمانہ ہے (موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے مابین کوئی ڈیڑھ ہزار سال سے زائد عرصہ بنتا ہے) جب بحر ابیض کے دوسری جانب، یورپی اقوام بھی تہذیب کی کرنوں کی تمازت سے بیدار ہوکر آنکھیں ملنے لگی تھیں اور ان کے کئی ایک روشن دماغ بحر ابیض کا حوض پار کر کے ارضِ انبیاءسے فیضِ علم ومعرفت حاصل کرکر کے واپس جاتے اور یونان اور روم کی وحشی بت پرست اقوام میں ایک تبدیلی کا پیش خیمہ بننے لگے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، فلاسفۂ یونان کی تاریخ کے ضمن میں بیان کرتے ہیں۔

بعثتِ محمدی کے بعد ایشیا کا ایک بڑا خطہ نہ صرف ’عالم اسلام‘ بنتا ہے بلکہ ’عالم عرب‘ کہلاتا ہے۔ یہ ’عربستان‘ مشرق کی جانب فارس اور ماوراءالنہر سے ملتا ہے اور جنوب میں جزیرۂ عرب اور صومال کے ساحلوں پر بحر ہند سے تو مغرب کی جانب افریقہ کے اندر مصر، سوڈان، لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش سے ہوتا ہوا موریطانیا بلکہ مالی تک جاتا ہے بلکہ کسی وقت اندلس تک جاتا تھا۔ یہ ’عربستان‘ جو زیادہ تر شرقاً غرباً پھیلا ہے، خطۂ فلسطین بڑی حد تک اس کے وسط میں پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپیوں کے ہاں ’مشرقِ وسطیٰ‘ کی اصطلاح بنیادی طور پر اسی خطے کے لیے وجود میں آئی تھی۔

تاریخی طور پر فلسطین ’وسیع تر شام‘ (Greater Syria) کا حصہ رہا ہے۔ تاریخ میں جس خطے کو ’بلادِ شام‘ کہا جاتا ہے اس کے چار اقلیم ہیں، حالیہ شام، فلسطین، لبنان اور اردن، جوکہ اس وقت چار الگ الگ ملک ہیں۔ خطۂ شام صرف قدیم نبوتوں اور صحیفوں کے حوالے سے نہیں، احادیث نبوی کے اندر بھی ایک قابل تعظیم خطہ کے طور پر مذکور ہوتا ہے اور محدثین نے رسول اللہ ﷺ سے ثبوت کے ساتھ ’شام‘ کے لاتعداد مناقب روایت کیے ہیں۔ یہاں تک کہ کئی اہل علم نے آیات اور مستند احادیث پر مشتمل، سرزمین شام کی فضیلت پر باقاعدہ تصانیف چھوڑی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا بخاری میں مروی ہے:

اللھم بارِكْ لنا فی شامنا (صحیح بخاری حدیث رقم: 990 )

”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت فرما“۔

مزید برآں کئی احادیث سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ خطۂ شام طائفۂ منصورہ کا مسکن بنا رہے گا، مثلا حدیث:

لایزال أهل الغرب ظاهرین علی الحق حتی تقوم الساعۃ

(صحیح مسلم حدیث رقم 5067)

”شام کی جہت والے لوگ بالاتر رہیں گے، حق پر رہتے ہوئے، یہاں تک کہ قیامت آجائے“۔

یہاں تک کہ آپ ﷺ کا یہ فرما دینا:

اِذا فسد أهل الشام فلا خیر فیکم، لا تزال طائفۃ من أمتی منصورین لا یضرهم من خذلهم حتیٰ تقوم الساعۃ (مسند احمد حدیث رقم 15635، عن معاویۃ بن قرۃ)

”جب اہل شام فساد کا شکار ہوجائیں تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں۔ میری امت میں سے ایک طبقہ نصرت مند رہے گا، جو لوگ ان کو بےیار ومددگار چھوڑیں گے وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ پائیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے“۔

ایسے ہی نبوی اخبار و آثار کے پیش نظر صحابہ کی بہت بڑی تعداد خاص شام کو مسکن بنا کر رہی اور شام و مابعد خطوں میں جہاد کرنا صحابہ کو سب سے زیادہ مرغوب تھا۔ مدینہ یا عمومی طور پر جزیرۂ عرب کے بعد اگر کوئی خطہ ہے جس کو یہ شرف حاصل ہو کہ وہاں اصحابِ رسول اللہ کی سب سے بڑی تعداد دفن ہے تو وہ بلاد شام ہی ہے۔ پس یہاں جگہ جگہ انبیاءؑ مدفون ہیں، جوکہ مخلوق میں برگزیدہ ترین ہیں اور یا پھر خاتم المرسلین کے اصحابؓ جوکہ انبیاءکے بعد برگزیدہ ترین ہیں۔ اور جہاں تک تابعین وما بعد ادوار کے اولیاء و صلحاء، ائمۂ و علماء، شہداء اور مجاہدین، قائدین اور سلاطین اور عجوبۂ روزگار مسلم شخصیات کا تعلق ہے، تو خطۂ شام کے حوالے سے وہ تو شمار سے باہر ہے۔ یوں سمجھیے شام ہمیشہ ہیروں موتیوں سے بھرا رہا ہے!

کئی ایک نصوص کی رو سے شام ہی ارض محشر ہے۔

شام کا ایک تاریخی حوالہ اہل اسلام کے ہاں ’ارضِ رِباط‘ رہا ہے....

اسلامی فتوحات سے پہلے دراصل شام ہی دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کا پایۂ تخت رہا ہے۔ یہیں سے بیٹھ کر رومن سیزر ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ایک بڑے خطے پر قائم اپنی ایمپائر کا انتظام و انصرام کرتا تھا، جوکہ اس جگہ کی جغرافیائی اہمیت کی ایک واضح دلیل ہے۔ رومن طنطنہ و جبر کا سکہ کوئی چوتھائی دنیا پر یہیں سے چلایا جا رہا تھا۔ اسلام کے شیر جزیرۂ عرب سے نکلے تو مغربی سمت سب سے پہلا ہلہ ظلم کے اسی راج گھاٹ پر بولا گیا۔ چنانچہ بیرونی فتوحات میں انبیاءکی یہ سرزمین اہل اسلام کے لیے پہلا خدائی تحفہ تھا۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی مجاہد سپاہ کے ہاتھوں یرموک کی فیصلہ کن شکست کے بعد سیزر ہریکولیس اپنا یہ تاریخی جملہ کہتا ہوا رخصت ہوا ’سلام اے ارض شام، جس کے بعد کبھی ملنا نہیں‘.... اور اس کے ساتھ ہی یہ خطہ اذانوں کی گونج میں عدل فارقی کا نظارہ کرنے لگا!

شام کا مسلم افواج کے ہاتھوں میں آنا تھا کہ ایشیا اور افریقہ میں پھر رومنز کے باقی مقبوضات پکے پھل کی طرح ایک ایک کر کے عمر فاروقؓ کی جھولی میں گرنے لگے اور تکبیروں کی گونج میں مغرب کی جانب پیش قدمی کرتی ہوئی مسلم افواج مصر سے بڑھتی ہوئی افریقہ کے ایک بڑے علاقے تک صبح صادق کی طرح پھیل گئیں۔ بلکہ کچھ ہی دیر بعد بحر ابیض کے ساحلوں پہ بڑھتی ہوئی پورے شمالی افریقہ پر حاوی ہوگئیں، یہاں تک کہ قیروان، مراکش سے اِدھر کہیں رکنے کا نام نہ لیا، جہاں شمال کی جانب بحر ابیض کے دوسرے پار اندلس (یورپ) رہ جاتا تھا تو مغرب کی جانب خشکی ختم، بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) شروع ہوجاتا تھا، جس کی بابت اُس وقت کے لوگوں کا خیال تھا کہ دنیا یہاں پر ختم ہوجاتی ہے!

اس سے کوئی دو عشرے بعد یہیں شام سے بیٹھ کر امیر معاویہؓ نے بحر ابیض کو، جس کا دوسرا نام کسی وقت ’بحرِ روم‘ ہوا کرتا تھا، اسلام کے بحری بیڑوں کی آماج گاہ بنا دیا اور قبرص اور سسلی ایسے اسٹریٹجک جزیروں کو زیر نگین کرتے ہوئے سیزر کے پایۂ تخت قسطنطنیہ پر چڑھائی کے لیے موحدین کے لشکر روانہ کیے۔ چند عشرے بعد یہیں سے بیٹھ کر خلیفہ ولید بن عبد الملک اندلس کا خراج وصول کرنے لگا۔ چنانچہ مغرب کی جانب ہونے والی تمام تر اسلامی توسیع کے لیے ارض شام ایک گیٹ وے بنا رہا۔

اس کے بعد کوئی تین صدی تک رومنوں کی بائزنٹینی ایمپائر کے ساتھ عباسی خلفاءاور بعد ازاں کچھ علاقائی امارتوں کی مسلسل جنگ رہی تو اس کا بیس کیمپ بڑی حد تک شام ہی رہا۔ اس لحاظ سے، شام مجاہدین سے کبھی خالی نہ رہا۔ اسلام کے دور عروج میں بھی شہادت کے متلاشی صدیوں تک اسی جگہ کو اپنا مستقر بناتے رہے۔ پھر جب مسلم قوت کے کمزور پڑجانے کے بعد صلیبی یلغاریں شروع ہوئیں تو یہی خطہ جو کبھی بندگانِ صلیب پر عرصۂ حیات تنگ کر کے رہا تھا، اب ان کی دست درازی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا ہدف تھا۔ پانچویں صدی ہجری میں بیت المقدس اور فلسطین کا ایک بڑاحصہ مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتا رہا اور بقیہ شام لینے کے لیے صلیبی افواج ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں، جس کے بعد ان صلیبی قوتوں کا اگلا ہدف یہ تھا کہ عالم اسلام کے دیگر خطے بھی تاراج کر دیں، بلکہ ان کا ایک بدبخت رینالڈ ڈی شاتیلون، جو کہ کرک کا صلیبی بادشاہ تھا، اور مصر سے آنے والے حجاج کے قافلے لوٹنے کے لیے بہت آگے تک جایا کرتا تھا، علی الاعلان بکتا تھا کہ وہ مدینہ پہنچ کر پیغمبرِ اسلام کی قبر اکھاڑنے سے کم کسی بات پر رکنے والا نہیں۔ یہی وہ خبیث النفس تھا جس کی بابت صلاح الدین نے قسم کھا کر نذر مانی تھی کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے جہنم رسید کرے گا۔ چنانچہ اب ایک بار پھر، پوری عیسائی دنیا کے مدمقابل پورے عالم اسلام کی جنگ یہیں پہ مورچہ زن ہو کر لڑی جانے لگی۔ چھٹی صدی ہجری میں عماد الدین، نور الدین اور پھر صلاح الدین کے گھوڑے اسی ارض شام میں دوڑائے گئے کہ بالآخر اللہ نے بیت المقدس مسلمانوں کو واپس دیا۔ حطین کا وہ تاریخی میدان فلسطین ہی میں واقع ہے جہاں پر صلاح الدین کی مجاہد سپاہ نے عالم صلیب کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور جس میں سات صلیبی بادشاہ قید کر کے صلاح الدین کی سرکار میں پیش کیے گئے تھے۔ صلاح الدین کی جانب سے رینالڈ کہ گستاخِ رسول اور آخری درجے کا بدعہد تھا، کو چھوڑ کر باقی چھ کی جان بخشی کر دی گئی تھی۔ ’حطین‘ درحقیقت سات عشرے سے مسلسل جاری جہادی عمل کا نقطۂ عروج تھا۔ مگر اس کے بعد بھی کوئی دو سو سال تک ایوبی سلاطین اور پھر ممالیک، صلیبی حملوں کے مدمقابل یہیں پر معرکہ آرا رہے اور امت کے لیے خدائی نصرت کا ذریعہ بنتے رہے۔

چنانچہ شام خصوصاً فلسطین کے علاوہ شاید ہی کوئی خطہ ہو جس کو اتنی صدیاں اس تسلسل اور اس شدت کے ساتھ ’ارضِ رِباط‘ بنا رہنے کا شرف حاصل رہا ہو، اور وہ بھی امت کے ایک نہایت فیصلہ کن محاذ کے طور پر۔

یہاں تک کہ ساتویں صدی ہجری میں جب تاتاریوں کا سیلاب قریب قریب پورے عالم اسلام کو غرقاب کر چکا تھا اور بغدا د کے دارِ خلافت کو تہس نہس کر چکا تھا تو صرف شام کا کچھ خطہ اور مصر باقی رہ گیا تھا جو ابھی تک مسلم قلمرو کا حصہ تھے۔ تاتاریوں کی وحشی یلغار کے سامنے ’ممالیک‘ اب عالم اسلام کی آخری امید رہ گئے تھے۔ تب سلطان العلماء عز الدین بن عبد السلامؒ کے زیر تحریک، مملوک سلطان سیف الدین مظفر قطز کی قیادت میں مصر سے اسلام کا ایک لشکر اٹھتا ہے اور ہلاکو کے نائب کتبغا کے زیر قیادت شام میں پیش قدمی کرتی ہوئی تاتاری افواج سے مقابلہ کے لیے فلسطین کے تاریخی مقام ’عین جالوت‘ کا انتخاب کرتا ہے۔ معرکۂ عین جالوت کے نتیجہ میں پہلی بار مسلم دنیا ’اہل اسلام کے ہاتھوں تاتاریوں کو شکست فاش‘ ہونے کی خبر سنتی ہے، ورنہ تاحال تاتاریوں کے لیے ’شکست‘ کا لفظ سننے کی حسرت تک مسلم دلوں میں کبھی پوری نہ ہو پائی تھی۔ معرکۂ عین جالوت کی بابت ہی سلطان قطز کا یہ تاریخی نعرہ مشہور ہے ’وا اسلاماہ!!!‘ کہ ’ہائے، اسلام گیا!‘۔ اسی معرکہ کی بابت، جو کہ رمضان میں جمعۃ المبارک کے روز ہوا، اور جس کا نتیجہ جاننے کے انتظار میں پورا عالم اسلام دم سادھ کر بیٹھا تھا، مشہور ہے کہ سلطان نے نماز جمعہ کے وقت تک معرکہ شروع نہ ہونے دیا، جس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ عالم اسلام میں شرق تا غرب مسجدیں لشکر اسلام کی نصرت کے لیے دعاگو ہوجائیں تو معرکہ تب شروع ہو!

اس سے چند عشرے بعد قازان کی قیادت میں تاتاری سیلاب کا ایک اور زوردار ریلہ شام کا رخ کرتا ہے اور شقحب کے مشہور معرکہ میں مسلم افواج کے ہاتھوں منہ کی کھا کر لوٹتا ہے۔ اس معرکۂ شقحب کے روحِ رواں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ہوتے ہیں!

یوں بلامبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شام اور خصوصا فلسطین وہ ارضِ رباط ہے جہاں تاریخ اسلام کے پر آشوب ترین دور میں، ایک صدی کے اندر اندر، عالم اسلام پر چڑھ آنے والی دو بدترین کافر افواج کے گھٹنے لگے؛ ایک یورپ کے قلب سے اٹھنے والا صلیبی طوفان اور دوسرا صحرائے گوبی سے اٹھنے والا تاتاری ٹڈی دل۔ دونوں ’جہادِ شام‘ کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوئے اور یوں یہی خطہ پورے عالم اسلام میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دینے کا منبع بنا!

تاریخ اگر اپنا آپ دہراتی ہے تو کیا معرکۂ کفر و اسلام کا حالیہ ڈراپ سین بھی کہیں ارضِ فلسطین میں اور موجودہ دور کی جہادی تحریکوں کے ہاتھوں تو نہیں ہونے والا!؟ تاریخ انسانی کے دو نہایت عظیم شر، صیہونیت اور صلیبیت جو عالم اسلام کے خلاف صدیوں کا بغض پال کر ایک خاص تیاری اور خاص ایجنڈے کے ساتھ اس بار آئے ہیں.... اس عالمی مملکتِ کفر کے خاتمہ کے سلسلہ میں کیا یہی ’ارضِ رباط‘ پھر سے کسی خدائی تدبیر کے ظہور میں آنے کے لیے ”میدان“ بننے والی تو نہیں، بلکہ بن نہیں چکی!؟ جس کے نتیجہ میں قدسیوں کی لازوال مملکت، ایک وقتی تعطل کے بعد، ہر بار کی طرح ایک بار پھر اپنی تاریخی شان و شوکت کے ساتھ بحال ہوجائے اور صدیوں تک کے لیے اسلام کے قلعے یہاں پھر سے ناقابلِ تسخیر ہو جائیں؟!

کیا مسجدِ اقصیٰ کے نمازیوں پر گزرنے والی ایک طویل صبر آزما آفت، عالم اسلام کے حق میں ایک نئے حسین دور کا پیش خیمہ بننے والی تو نہیں؟! کیا آج بیت المقدس کے معصوم ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پتھر عالمی ساہوکاری نظام پر بجلیاں بن کر گرنے والے تو نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   القدس کی پکار ’’تم کہاں ہو؟‘‘ - محمد عنصر عثمانی

آخر کیا بعید....!!!


چنانچہ شام کے عمومی مناقب کا معاملہ ہو تو ’فلسطین‘ ان میں برابر کا حصہ دار ہے۔ البتہ خطۂ بیت المقدس الگ سے جو فضائل اور مناقب رکھتا ہے وہ اس کا اپنا خاصہ ہے، جن کی رو سے مکہ اور مدینہ کے بعد مسلمانوں کا کوئی مقدس ترین مقام ہے تو وہ بیت المقدس ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر مسلمانوں کے ہاں ہرگز کوئی دو رائے نہیں، امتِ اسلام کے ہاں بیت المقدس کو یہ مقام بالاتفاق حاصل ہے۔


چونکہ آج وہ دور ہے کہ بین الاقوامی صحافت سے لے کر رائج العام تصورات تک ہر جگہ کسی جہانی مسئلے یا کسی بین الاقوامی تنازعے کا ’اسرائیلی ورژن‘ چلتا ہے، ہمارے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقوں کے ہاں مغربی مصادرِ دانش سے متاثر ہونے کے باعث اُنہی کے پھیلائے ہوئے خیالات دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں، اور پھر جبکہ فلسطین اور بیت المقدس کا مسئلہ تو مغرب اور عالم اسلام کے مابین پائے جانے والے حالیہ تنازعات میں ’ام المسائل‘ کا درجہ رکھتا ہے، ’امنِ عالم‘ کے بہت سے لا ینحل عقدوں کی جڑ درحقیقت یہیں پر پائی جاتی ہے، بلکہ عالم اسلام کی کئی اور جنگیں ایک معنیٰ میں اسی جنگ کی پیدا کردہ ہیں؛ ایشیا تا افریقہ مسلمانوں پر آج جو جنگیں مسلط کی جارہی ہیں ان کے پیچھے بڑی حد تک یہی مقصد کارفرما ہے کہ ارضِ مقدس میں یہودی مفادات کو کسی طرح محفوظ بنا دیا جائے .... لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ارضِ فلسطین پر ’یہودی حق‘ کا ڈھکوسلہ ہمارے سامنے واضح ہوجائے۔ اس کے لیے ہمیں فلسطین کی ماقبل اسلام تاریخ کے ادوارمیں بھی کچھ دیر کے لیے جانا پڑے تو یہ حرج کی بات نہیں۔

فلسطین پر ’یہودی حق‘ کا دعویٰ یا تو ’مذہبی‘ بنیاد پر ہوسکتا ہے اور یا پھر ’قومی و تاریخی‘ بنیاد پر۔ آج ’اقوام متحدہ‘ کے دور میں ’مذہب‘ کو بنیاد بنا کر کسی سرزمین پر دعویٰ کرنا اور ہنستے بستے باشندوں کو وہاں سے اٹھا کر چلتا کرنا دنیا کے پڑھے لکھوں کے ہاں کہاں تک ایک ’معقول حرکت‘ کہی جانے کے قابل ہے، محتاجِ بیان نہیں۔ پھر بھی ہم وہ امت ہیں جو کسی مسئلہ کی ’دینی‘ بنیادوں کو، اگر وہ حق ہوں، سب سے پہلے تسلیم کرنے والے ہیں۔ زمین اللہ کی ہے اور وہ جسے چاہے اس کا وارث بنا دے۔ البتہ ہم ہی وہ امت ہیں جو یہود کی مذہبی جعلسازیوں کا پول کھول دینے کے لیے بھی پوری پوری قدرت اور اہلیت اور مستند علمی مصادر اپنے پاس رکھتے ہیں، اور اس پہلو سے بھی ہم ہی دنیا کو وہ حقیقت منکشف کر کے دے سکتے ہیں جسے یہود کی کذب بیانی نے تحریف زدہ کر کے، پچھلی ایک صدی سے، امنِ عالم کو تہس نہس کر دینے کی بنیادبنا رکھا ہے۔ حق یہ ہے ’فلسطینی مسلمان‘ کے ہوتے ہوئے ارضِ قدس پر یہود نہ تو کوئی ’مذہبی‘ حق رکھتے ہیں اور نہ ’قومی و تاریخی‘۔

سیکولر دنیا کی بابت سمجھا جاتا ہے کہ وہ ’قومی و تاریخی‘ حق کو ہی اقوام کے ’دعوائے زمین‘ کی بابت درخور اعتنا سمجھتی ہے، لہٰذا ہم بھی مسئلۂ فلسطین کے قومی و تاریخی پہلو پر ہی پہلے کچھ بات کریں گے، اس کے بعد یہود کے مذہبی دعویٰ کو بھی روشنی تلے لائیں گے۔


دس ہزار سال قبل مسیح میں فلسطین یقینا ایک بستا ہوا ملک تھا، مگر یہ ’ماقبل تاریخ‘ دور اپنی تفصیلات کے معاملہ میں آج نامعلوم ہے۔ دس ہزار سال قبل مسیح کے بعد ادوار کو نطوفی (Natufian) تہذیب کا دور کہا جاتا ہے مگر ’نطوفیوں‘ کی اصل کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ یہاں اریحا کا تاریخی شہر جو ایک اندازے کے مطابق نو ہزار سال پرانا ہے، اسی تہذیب کے نشانات میں شمار ہوتا ہے۔

کوئی پانچ ہزار سال کے لگ بھگ کی بابت یہ البتہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جزیرۂ عرب سے وقفے وقفے کے ساتھ بہت سے انسانی مجموعے فلسطین کے زرخیز خطوں کی جانب نقل مکانی کر آئے تھے۔ جزیرۂ عرب کے یہ مختلف النسب گروہ، جن میں سامی نسل کے قبائل بھی تھے اور کنعان بن حام کی نسل سے بھی، عمومی طور پر ایک ہی نام سے جانے گئے۔ یا پھر اس پورے دور کو ہی کنعانی دور کہا گیا۔ اس لحاظ سے اس خطہ کے ساتھ عربوں کا تعلق تب سے ہے جب سے تاریخ، انسانی وثائق کا حصہ بننے لگی۔ بائبل کا صحیفہ ’پیدائش‘ جگہ جگہ ارضِ فلسطین کو کنعانیوں کا ملک مانتا ہے، جہاں پر اسحاق اور پھر یعقوب علیہما السلام کو رہنے کے لیے کچھ زمین میسر آئی۔ خود اسرائیلی، زبان، ثقافت اور رہن سہن کے لحاظ سے ’کنعانیوں‘ کے رنگ میں رنگے گئے۔کنعانیوں نے اس ملک میں 119 شہر قائم کیے، گو یہ واضح ہے کہ کنعانی تہذیب نے بابلی، آرامی، اور فینیقی تہذیب سے بہت کچھ لیا اور اس پر بہت کچھ اضافہ کیا۔

کنعانیوں کے علاوہ یہاں مصریوں نے بے شمار نشانات چھوڑے ہیں۔ بارہ سو سال قبل مسیح یہاں جزیرۂ کریٹ سے فلستی قوم آتی ہے اور غزہ کے جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ بسنے لگتی ہے۔ بعد ازاں دیگر کئی ایک شہروں میں پھیل جاتی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد، یہ بھی کنعانی ثقافت کا ہی حصہ بن جاتی ہے۔فلستیوں کے آنے سے یہ خطہ اور بھی ترقی کرتا ہے۔

اسی دوران ہی یہاں ’عبرانیوں‘ کا ایک نہایت چھوٹا خانوادہ آتا ہے۔ بنی اسرائیل کی کل بارہ فیملیاں۔ بلکہ یوسف علیہ السلام کا بیاہ مصر میں جاکر ہوتا ہے۔ تب یہ پورا گھرانہ مصر جا بیٹھتا ہے۔ ’زمین کے مالک‘ جو ہوتے ہیں وہ اس کو چھوڑ کر نہیں جاتے!

انکے ہاں کسی وقت کہا جاتا ہے یہ مصر سے صرف اَسی سال بعد موسیٰ علیہ السلام کی معیت میں فلسطین لوٹ آئے تھے۔ دوسری جانب کہتے ہیں، یہ واپس آئے تو چھ لاکھ تھے بلکہ مرد مرد چھ لاکھ سے اوپر تھے! 80 سال میں ’بارہ گھرانے‘ لاکھوں کو نہیں پہنچتے! یہ صدیوں مصر میں رہے۔ جب تک حقیقتِ اسلام پر قائم رہے تھوڑے ہوتے ہوئے مصر پر حکمران رہے، پھر زیادہ ہوکر غلام ہوئے؛ ان کو یہ بتانے کے لیے کہ ان کا دعویٰ قومی نہیں ہوسکتابلکہ ان کی سب خیر خدا اور اس کے نبیوں کے ساتھ وفاداری اپنا رکھنے میں ہے۔

یہ تمام تر عرصہ فلسطین البتہ فلسطینیوں سے بسا رہتا ہے!

اب واپس آتے ہیں تو نہایت مختصر عرصہ فلسطین کے چند شہروں پر حاکم رہ لینے کے بعد مقامی باشندوں کے ہاتھوں یہ پھر بے گھر کر دیے جاتے ہیں، ان کو بتانے کے لیے کہ مسئلہ ’قومی حق‘ کا ہے اور نہ ’زورِ بازو‘ کا، بلکہ خدائی مشن پورا کرنے کا ہے۔ در بدر پھرتے، تا آنکہ طالوت کے زمانے میں ان کے دن پھرتے ہیں اور خدا کے دو نبیوں داودؑ اور سلیمانؑ کا ساتھ دے کر یہ ایک عرصہ کے لیے پھر آبرومند ہوتے ہیں۔ فلسطین کے اطراف واکناف میں اس قوم کا ڈنکا بجتا ہے تو صرف خدا کے ان دو نبیوں کے زمانے میں، جوکہ لگ بھگ 1000ءتا 850ءقبل مسیح کا زمانہ ہے۔ سلیمان علیہ السلام کے رخصت ہوجانے کے بعد اس کا شیرازہ پھر بکھرنے لگتا ہے۔ ان کی مملکت دو حصوں میں بٹتی ہے۔ یہودہ اور اسرائیل۔ یہ وہ زمانہ ہے جب یہی قوم جو یہاں حق کے قیام کے لیے برپا کی گئی تھی، تاریخ کا بدترین فساد برپا کرتی ہے۔ تا آنکہ چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کا شہنشاہ بخت نصر ان پر تاریخ کی بدترین تباہی لاتا ہے۔ یہ بھاری تعداد میں ذلت کی موت مرتے ہیں اور باقی کے لوگ اسیر ہو کر بابل لے جائے جاتے ہیں، کہ قبطیوں کی بجائے اب بابلیوں کو ’غلاموں‘ کی ضرورت تھی!

فلسطین پھر اپنے باشندوں کے ساتھ آباد رہ جاتا ہے! تاآنکہ 539 ق م میں فارسی شہنشاہ سائرس ان کے لیے پروانۂ آزادی جاری کرتا ہے اور ان کو فلسطین لوٹنے کی اجازت مرحمت فرماتا ہے۔رہا یہ خطہ تو اس پر فارسی شہنشاہت، اور بعد ازاں 330 ق م میں یہاں پر سکندر اعظم کا اقتدار قائم ہوجاتا ہے۔ تا آنکہ 63 ق م میں یہاں رومیوں کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ اس سارا عرصہ البتہ اس کے باشندے وہی رہتے ہیں جو ہمیشہ سے تھے۔ اسرائیلیوں کے نکلنے سے یہ علاقہ کبھی خالی ہوا اور نہ ان کے یہاں سکونت اختیار کر جانے سے کبھی آبادیوں کے گنجان ہوجانے کی شکایت ہوئی!

چڑھتے سورج کے پجاری، یہودیوں سے رومیوں کی جتنی کاسہ لیسی ہوسکتی ہے اتنی کرتے ہیں۔ زکریا اور یحییٰ علیہما السلام ایسے انبیاءکو قتل کرتے ہیں بلکہ اپنے تئیں عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرتے ہیں۔ تا آنکہ ان کا فساد حد سے بڑھ جاتا ہے تو خدا کا کرنا رومی بھی ان پر غضب ناک ہوجاتے ہیں۔ 77 ءمیں رومی بادشاہ ٹیٹس ان پر خدا کے قہر کا کوڑا ثابت ہوتا ہے۔ رومی جی بھر کر یہودیوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔ تب سے آج تک فلسطین میں یہودی نہیں ملتے۔ دو ہزار سال سے دربدر پھرتے ہیں۔ جبکہ فلسطین مسلسل اپنے باشندوں سے آباد رہتا ہے۔

تا آنکہ تین صدی بعد رومن خود بھی عیسائی ہو جاتے ہیں، جوکہ یہودیوں پر نئی آفت لے آنے کا ایک خوفناک پیش خیمہ بنتا ہے۔ عیسائیوں کے لیے مسیح علیہ السلام نبی نہیں بلکہ خدائی کا مرتبہ رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اور بے دید اور طاقتور قوم کے ’خدا‘ کو مارنے والی قوم کیونکر اس کے قہر سے بچی رہ سکتی تھی؟! یہود کے لیے دنیا بھر میں کہیں پر چھپ کر بیٹھنا اب تو بالکل ہی دوبھر ہوگیا تھا۔ ’ارضِ میعاد‘ کو بھلا اب کون یاد رکھتا!؟

پس واضح رہے، ان کی دربدری نبوت محمدی کے دور سے شروع نہیں ہوئی۔ نہ ہی مسلمان اس نام نہاد ’سام دشمنی‘ سے کسی بھی دور کے اندر واقف رہے تھے۔ ہٹلر صرف آج جا کر بدنام ہوا، یورپی اقوام کی جب سے مسیحیت کے ساتھ نسبت ہوئی یہود کے لیے اسی دن سے قیامت کھڑی ہوئی رہی ہے۔ عالم عیسائیت کی یہودیوں پر یہ ’کرم فرمائی‘ بیسویں صدی تک جاری رہی۔ جو فرق اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے اس ’چولی دامن‘ کی تاریخ چند عشروں سے زیادہ نہیں۔

غرض دورِ مسیح سے اِن کا پودا یہاں سے اکھاڑا گیا اور اس کو دوبارہ یہاں لگنا پھر کبھی نصیب نہ ہوا۔

بعض تاریخ دانوں نے حساب لگایا ہے، یہودیوں کا فلسطین میں کلی اور زیادہ تر جزوی اقتدار ملا جلا کر چار سو سال سے زیادہ نہیں بنتا۔ البتہ اب دوہزار سال سے یہ مسلسل زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ آج جا کر ’جمہوریت‘ اور ’آزادی‘ کے اس دور میں یہ برطانیہ کے کندھوں پر سوار ہوکر فلسطین آتے ہیں اور برطانوی حمایت اور بندوق کے زور پر ایک ہنستی بستی، صدیوں سے آباد قوم سے، اپنے ’آباءکی جاگیر‘ کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں! ملک کے باشندوں کو خیمہ بستیوں میں ٹھونس دیتے ہیں اور ایک بڑی تعداد کو جلاوطن ہوجانے پر مجبور کردیتے ہیں! یورپ اور امریکہ ’ارضِ میعاد‘ میں اس یہودی درندگی پر تالیاں پیٹتے ہیں، ان کے لیے اسلحہ اور دولت کی بوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں، اقوام متحدہ کے ایوانوں میں اس ناجائز بچے کو ہر جگہ انگلی سے لگائے پھرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح عالمی برادری اس سے مانوس ہوجائے اور اس کو ’تسلیم‘ بھی کرلے! فلسطینیوں پر یہ جتنا ظلم ڈھا لے کبھی ٹس سے مس نہ ہوں گے، جس وقت البتہ اِس ’منظورِ نظر‘ کے لیے خطہ میں کوئی مسئلہ بنتا نظر آئے تو ’قیامِ امن‘ کے لیے بھاگے چلے آئیں گے۔

یہ دو ہزار سال تک ملک ملک کی خاک چھانتے رہے۔ جبکہ فلسطین کے باشندوں نے ایک دن کے لیے اپنا ملک نہیں چھوڑا۔ فلسطین میں بسنے والی اقوام ان سے پہلے سے یہاں آباد ہیں اور اس سارا عرصہ یہیں رہتی رہی ہیں۔ بیس صدیاں پیشتر یہودیوں کو یہاں سے نکالا گیا تھا تو اس وقت بھی یہ پاپ ’فلسطینیوں‘ نے نہیں کیا تھا کہ اس کی سزا ان کو خیمہ بستیوں اور بے خانمائیوں کی صورت میں آج جا کر دی جائے۔ بیس صدیاں پہلے یورپ کے رومنوں نے ان کو یہاں سے بھگایا تھا اور اب بیس صدیاں بعد یورپ کے انگریزوں نے ان کو یہاں لا بسایا۔ صدیوں کے یہ طفیلی (parasites) یوں جا کر انگریز کے طفیل ایک بستے بساتے ملک کے ’وارث‘ ہوئے اور ملک کے اپنے باشندے در بدر! اقوام متحدہ کے انسانی قواعد کی روسے یہ وہاں کے رکھوالے البتہ وہ جو صدیوں سے اس گھر کے مالک رہے وہ اب ’باغی‘ اور ’دہشت گرد‘ اور ’امن کے لیے خطرہ‘!

برطانیہ بہادر جو آئرش باشندوں کو ان کا اپنا گھر اور ان کے اپنے باپ کی جاگیر واپس کرنے پر کبھی تیار نہ ہوا تھا، کس دریادلی کے ساتھ فلسطینیوں کے ملک پر پولینڈ، جرمن، آسٹریا اور بیلجئم کے یہودیوں کا حق تسلیم کررہا تھا! بالفور ڈکلیئریشن کی رو سے ملکۂ برطانیہ سرزمین فلسطین پر یہودیوں کے حقِ واپسی کو کس ’احترام اور ہمدردی‘ کی نگاہ سے دیکھتی تھیں! یہی ’ہمدردی‘ کی نظر عالمی توازنِ طاقت کے ساتھ ہی پھر برطانوی تاج سے امریکی انتظامیہ کو منتقل ہوجاتی ہے۔ ’آباءکی قبریں‘ اگر ایسی ہی کوئی دلیل ہے تو اس سے کہیں واضح حق تو پھر امریکہ پر ریڈ انڈینز کا بنتا ہے، جن کا وہاں سے ایک بڑی سطح پر اور نہایت بے رحمی کے ساتھ اور وہ بھی امریکیوں کے ہاتھوں خاتمہ ہوئے ابھی چند صدیوں سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور جوکہ ہزاروں سال تک اس ملک کے بلا شرکت غیرے مالک رہے تھے۔ کیا امریکی جو فلسطین پر اسرائیل کا ’آبائی حق‘ مانتے ہیں، خود اپنے ملک پر ریڈ انڈینز کا یہ حق بھی تسلیم کریں گے؟! اور کیا اندلس پر عربوں کا یہ حق بھی مان لیں گے، جنہیں یہاں سے نہایت ظلم اور ناانصافی کے ساتھ بے دخل ہوئے ابھی صرف پانچ سو سال ہوئے ہیں؟!

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ فلسطین، ایک تلخ منظرنامہ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

اب آئیے مسئلہ کے ’مذہبی‘ پہلو کی جانب....

عرب عمومی طور پر اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کے ساتھ نسبت رکھتے ہیں، جس کے لیے اصطلاحی طور پر ’عرب مستعربہ‘ کا لفظ مستعمل ہے۔ اسرائیلؑ (یعقوب علیہ السلام کا لقب) سام کی نسل سے ہیں تو اسماعیل ؑ بھی سام ہی کی نسل سے ہیں۔ ابراہیمؑ کے حق کی بات ہے یا سامی تخم میں اگر کوئی خاص فضیلت پائی جاتی ہے تو وہ دونوں جانب برابر ہے۔ فلسطین میں آباد عربوں کی ایک بڑی تعداد اسماعیلؑ سے ہی منسوب ہے اور اس کے علاوہ وہ کسی اور نسبت سے واقف نہیں۔ مگر یہاں اگر کوئی دوسری اجناس بھی ہیں جو ابراہیمؑ کا تخم نہیں تو آج وہ ابراہیمؑ کے دین پر ہیں! ابراہیمؑ بہر حال ایک سمت اور ایک راستہ تھا: اِن اِبراہیم کان أمۃ!!!

بعثت محمدی کے ساتھ ارض فلسطین کے اندر، بلکہ دنیا کے ایک بڑے خطے کے اندر، ایک نہایت عظیم الشان فرق رونما ہوچکا تھا۔ فلسطین کے کنعانی، عیلامی، فلستی وغیرہ وغیرہ سب کی سب بت پرست اقوام تھیں، جن کے بالمقابل، قبل مسیح ادوار میں، بنی اسرائیل کو انبیاءکی معیت حاصل رہی تھی، اور اسی وجہ سے نصرت خداوندی کا استحقاق بھی۔ محمد ﷺ کہ رحمۃ للعالمین تھے، ان کنعانیوں، عیلامیوں، آرامیوں، فلستیوں، فینیقیوں اور موآبیوں سب کے لیے ذریعۂ ہدایت بن گئے اور یہ سب کی سب اقوام دین توحید کی علمبردار بنیں۔ پورا فلسطین ہمیشہ کے لیے اب اذانوں کا دیس تھا جہاں سب کے سب بت خانے ان اقوام کے اپنے ہاتھوں توڑ دیے گئے اور ان سب اقوام کو مسجد اقصیٰ میں قدم سے قدم ملا کر خدائے واحد کی بندگی کرنا اور ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سمیت سب کے سب انبیاءکے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ لینا نصیب ہوا۔ دور محمدی، تاریخ کا جدید ترین عہد تھا جس کے حقائق ہی سراسر اور تھے، جبکہ یہ ظالم اسی بند ذہنی کے اسیر!!!

کس قدر ترس آتا ہے امریکہ میں جگہ جگہ بائبل کے اسٹڈی سرکلوں میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ’خردمندوں‘ پر، جب وہ فلسطین کے حوالے سے ’اسرائیلیوں‘ اور ’کنعانیوں‘ کو آج بھی اُسی سیاق میں پڑھ رہے ہوتے ہیں جس سیاق میں کبھی انبیاء کے صحیفوں میں یہ باتیں بیان ہوئی ہوں گی! دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی، اور یہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہیں! صرف یہودی نہیں بلکہ آج کے بنیاد پرست عیسائی بھی۔ یہ ابھی تک دنیا کو اسی یہودی آنکھ سے دیکھنے پر مصر ہیں جب فلسطین کے اندر ’غیر اسرائیلی‘ کا لفظ ’کافر‘ اور ’بت پرست‘ کا ہی مترادف ہوا کرتا تھا! امریکہ اور یورپ کے یہ سب بھلے مانس تاریخ کے اس ’میوزیم‘ سے حقائق کی دنیا میں نکل آنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ یہ نبوتِ محمد کا زمانہ ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو سہی، باہر کتنا بڑا سورج نکل آیا ہے! فلسطین تو سارے کا سارا اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرتا ہے اور ابراہیم، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داود اور عیسیٰ علیہم السلام اور محمد ﷺ پر دل و جان سے فدا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو خدا نے اقصیٰ والی انبیاءکی تاریخی جائے نماز پچھلے ڈیڑھ ہزار سال سے ان کے سپرد کر رکھی ہے۔ فلسطین کے نگر نگر، ڈیڑھ ہزار سال سے اذان اور تکبیراتِ خداوندی ہی کی صدا بلند ہوتی ہے۔ یہاں کا ہر ہر محلہ ہر چند ساعت بعد صفیں باندھ کر خدائے واحد کو پوجتا اور دن میں پانچ بار ابراہیمؑ کے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ انبیاءکی یہاں اب وہ عزت ہوتی ہے کہ دلوں میں بستے ہیں۔ ایک ایک کے لیے ”علیہ السلام“ سے کم کوئی لقب نہیں۔ ہر ہر نبی کے لیے پورے فلسطین کی زبان پر درود اور تسلیمات! یہاں ’اسرائیلیوں‘ کے سوا اب ’کافر‘ کہاں؟

کل کے بت پرست کنعانی آج کے موحد، مومن، فرماں بردار، انبیاءکے پیروکار، مسجد اقصیٰ کے نمازی، قرآن کے قاری.. اور کل جو انبیاءکے نسبت یافتگان رہے تھے وہ آج انبیاءکے کافر، مسیحؑ کے منکر، محمد ﷺ کے گستاخ، خدا کے دشمن، متکبر، گھمنڈی، حیلہ باز اور مفسدین فی الارض!

خدا کہ ”حق“ اور ”عدل“ نام رکھتا ہے، ’ایمان‘ اور ’اعمال‘ کو دیکھے یا ’نسلی تعلق‘ کو؟

حق یہ ہے کہ یہود دنیا کے اندر نسل پرستی کے بانی ہیں۔ آپ ان کے دعوے دیکھیں، ان کی ذہنیت کا جائزہ لیں، اور خصوصاً کبھی ان کی تلمود پڑھیں، تو معاذ اللہ یہ خدا کو بھی اسی نسل پرستی کے مذہب پر سمجھتے ہیں!

ان کے ہاں ٹیپ کا مصرعہ ہے کہ خدا نے یعقوب علیہ السلام کو سرزمین قدس دے ڈالی تھی۔ مگر ان کی اپنی روایات سے ثابت ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام خدا سے سرزمین قدس لے کر مصر نقل مکانی کر گئے تھے! وہیں پر فوت ہوئے اور وہیں پر نسلیں چھوڑیں۔ اس کا یہ جو بھی جواب دیں مگر اس سے یہ ضرور ثابت ہوگا کہ خدا کا یہ وعدہ کسی خاص وقت اور خاص شروط اور حدود سے مقید تھا، اور یہی ہم مسلمانوں کا مؤقف ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ خاص قیود اور حدود کے اندر خدا نے مومنینِ بنی اسرائیل سے قدس کی پاک سرزمین میں تمکین کا وعدہ فرمایا تھا۔ موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے متصل بعد یوشع بن نون کے دور میں اور پھر داود و سلیمان علیہما السلام کے دور میں اور ان کے مابین اور ان کے بعد کے کچھ جزوی ادوار میں کہ جب انہوں نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا، خدا اپنا یہ عہد پورا کرتا رہا۔ گو یہ خدا کے ساتھ بار بار عہد شکنی کرتے رہے اور خدا ان کی نصرت سے دستکش ہو کر بار بار ان کو خبردار کرتا رہا کہ ’نسلی برتری‘ اس کے دین میں نہیں۔ آخر یہ خدا کے آخری انبیاءکے ساتھ سیدھا سیدھا کفر کر لینے کے بعد ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ ٹھہرے۔ تب سے یہ دنیا میں ذلت اور عبرت کا نشان ہیں نہ کہ کسی خدائی عہد کا ثبوت!

ادوارِ ماضی میں خدا سے اِن کو کچھ قربت تھی تو وہ اس حقیقت کے دم سے کہ یہ انبیاءکے مومن جبکہ باشندگانِ فلسطین خدا اور نبیوں کے منکر بت پرست۔مگر خدا کی آیات کو جھٹلانے اور نبیوں کا خون کرنے کے مجرم ہوکر، اور پھر خصوصا عیسیٰ بن مریمؑ اور پھر خاص طور پر محمد ﷺ کے ساتھ کفر کر لینے کے بعد، کونسا خدائی عہد اور کونسا وعدۂ زمین؟! سوائے ایک عہد کے کہ یہاں دنیا میں ذلت کے جوتے اور آخرت میں عذابِ الیم!!!

جبکہ وہ جن کے کفر کے مقابلے پر کبھی یہ ایمان اور خدا آشنائی کی برتری رکھتے تھے.. ان کے مقابلے پر اپنی نسل پرستی اور ’امیوں‘ سے حسد کے سبب، نہ صرف یہ اپنی اس دولتِ امتیاز سے محروم کر دیے گئے بلکہ وہ ”دولتِ ایمان“ ہی نہایت وافر صورت میں ان ’امیوں‘ کو مل گئی جو زمانے بھر میں اب خدا کے نام کی پاسبانی کرتے ہیں اور خدا کی توحید اور خدا کی تعظیم اور کبریائی کے لیے ڈیڑھ ہزار سال سے دنیا کے اندر برسرِ جہاد ہیں، براعظموں کے بر اعظم بتوں کی پلیدی سے پاک کر دینے کے کامیاب مشن پر ہیں اور جہان کے اندر نہایت اعلیٰ قدریں قائم کرنے کا امتیاز رکھتے ہیں!!!

وہ تو خدا ہے، زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور مردہ سے زندہ کو! سارا فضل اسی کے پاس ہے، اور وہ بے نیاز جس کو چاہے بخشے!!! نبوت محمد کی صورت، زمین پر یہ خیرات بے حد و حساب بانٹی گئی اور زمانوں کے بے نور صدیوں کے لق ودق لمحوں میں روشن اور شاداب ہوئے! اور تو اور، کیا کوئی یقین کرسکتا ہے ہند کے سومناتوں میں بستے ہوئے ہمارے مقدر جاگے!!!.. پر اس بدقسمتی پر کیا کہیے، اس بے مثال باران رحمت کا وقت آیاتو صدیوں کے واقف، کبر کے بھرے دل اس کا کوئی اثر قبول کرنے سے انکار کر گئے اور چٹیل کے چٹیل رہنے پر ہی مصر ہوئے! یہاں سے زمانہ بالکل ہی ایک نیا موڑ مڑ گیا، پیچھے رہنے والے ہمیشہ کے لیے پیچھے رہ گئے اور دنیا میں ’نئی حقیقتیں‘ پورے زور اور قوت سے راج کرنے لگیں!

سورۂ بقرۃ میں بنی اسرائیل کا قصہ شروع کرنے سے پہلے خدا نے ابلیس کا قصہ سنایا؛ حسد، تکبر، خود پسندی، کفر، ہٹ دھرمی اور خدا کے فیصلے پر معترض ہونے کا انجام نہایت عبرت ناک ہے۔ توبہ کے دروازے تک بند ہوجاتے ہیں! معاذ اللہ، خدا سے ٹھن جائے تو مخلوق سے بیر کیا بڑی بات ہے! اور اگر ایسے بغض بھرے کو فساد فی الارض کے لیے کسی وقت ’چھوٹ‘ دے دی جائے تو زمین میں رہنے والوں کو کیا کچھ دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، سورہ بقرہ تا مائدہ پڑھ لیجئے اور بتائیے اس شر سے خبردار کر دینے کے معاملہ میں کونسی بات ذکر ہوجانے سے رہ گئی ہے!؟ دنیا ”ہدایت“ کے لیے قرآن نہیں پڑھتی تو بھی ’بقائے عالم‘ کے لیے مخلص طبقے اس شر سے آگاہ ہونے کے معاملہ میں آخری آسمانی دستاویز سے کبھی مستغنی نہ ہوں گے۔


ارضِ مقدس پر یہود کے ’آبائی حق‘ کے ضمن میں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے، جوکہ اپنی جگہ بے انتہا اہم ہے، کہ آج دنیا میں جو یہودی پائے جاتے ہیں ان میں ’بنی اسرائیل‘ کے یہود ایک نہایت چھوٹی اقلیت جانے جاتے ہیں اور قیادت کے منصب پر بھی قریب قریب کہیں فائز نہیں۔ آج کے یہود کی اکثریت اشکنازی (Ashkenazi) کہلاتی ہے جن کے آباءخزر (Khazarians) ہیں۔ انہی کو ’کوکیشین‘ (Caucasians) بھی کہتے ہیں (قوقاز سے نسبت کے باعث)۔

یہ نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی گوری اقوام ہیں جو کبھی بحیرہ خزر کے مغربی جانب خطۂ قوقاز میں آباد تھیں اور کوئی دسویں اور گیارھویں صدی عیسوی (چوتھی اور پانچویں صدی ہجری) میں جاکر داخلِ یہودیت ہوئیں، بعد ازاں یہ ہنگری، پولینڈ اور ماسکو میں جا کر بیٹھیں، اور پھر رفتہ رفتہ پورے یورپ میں پھیل گئیں اور ہر جگہ میڈیا، معیشت اور سیاست کے جوڑتوڑ پر اجارہ قائم کر لینے کی حیرت انگیز استعداد دکھانے لگیں۔ ان کو کوئی ایسی شیطانی قوت حاصل تھی کہ جہاں گئے وہیں پر پتلیاں نچانے لگے۔ علاوہ ازیں، دنیا کے ملحد ترین مفکر اور فلسفی اِنہی نے پیدا کیے۔ چونکہ یہ اقوام زیادہ تر اور خاصا طویل عرصہ پولینڈ میں رہی تھیں اس لیے کسی وقت Jews of Poland بول کر بھی یہ سب کی سب اقوام مراد لے لی جاتی ہیں۔ بہرحال یہودیوں کے اندر نسلی طور پر یہ بالکل ایک نیا عنصر ہے۔ یہودیت پر آج یہی گوری اقوام حاوی ہیں۔ دنیا کے اندر پائے جانے والے آج کے یہودیوں میں 80 فیصد یہود، اشکنازی (گورے یہودی) ہیں اور یہود کی باقی سب کی سب اجناس ملا کر صرف 20 فیصد۔ باقی دنیا کی طرح بنی یعقوبؑ بھی جوکہ تاریخی طور پر اصل یہود ہیں، انہی اشکنازی (غیر بنی اسرائیلی) یہودیوں کے محکوم ہیں۔ اکثریت بھی یہود کے اندر آج انہی کی ہے اور زور اور اقتدار بھی۔ اسرائیلی قیادت ہو یا امریکہ اور یورپ میں بیٹھی ہوئی یہودی لابیاں ’بنی اسرائیل‘ کا یہودی کہیں خال خال ہی ان کے مابین نظر آئے گا۔ ”بنی اسرائیل“ آج بھی ذلیل اور بے اختیار ہیں۔

یہاں سے یہ معاملہ اور بھی دلچسپ ہوجاتا ہے۔ ’گورے یہودیوں‘ (جوکہ آج اِن میں کی اکثریت ہے) کا ابراہیمؑ کے نطفہ سے دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں، ’سامی‘ نسل سے اِن کا کوئی واسطہ نہیں مگر ’سامی‘ نسلیت کی سب ٹھیکیداری اور ’سامیت‘ کے جملہ حقوق یورپ اور امریکہ میں اِنہی کے نام محفوظ ہیں! کوئی اِن یہود کے خلاف ایک لفظ تو بولے ’سام دشمنی‘ (Anti-Semitism)کے الزامات کی لٹھ لے کر یہ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، حتیٰ کہ کسی وقت عدالت کے کٹہروں میں کھڑا کر لیتے ہیں۔ ہاروڈ ایسی جامعات سے لوگوں کو اس بنا پر خارج کروا دینے کے واقعات ہوئے ہیں۔ کسی کو ان کی حقیقت بیان کرنا ہی ہو تو بہت گھما پھرا کر بات کہنا ہوتی ہے تاکہ Anti-Semitism کے ’خطرناک‘ دائرے میں نہ آنے پائے!

آج کے دور کی سب سے بڑی جعلسازی اور نوسر بازی شاید اسی کو کہا جائے گا۔ پولینڈ، بلغاریا، ہنگری اور آسٹریا سے آئی ہوئی، تل ابیب کے عریاں ساحلوں پر پھرتی نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی بکینی پوش گوریاں، جو ثقافتی ہی نہیں نسلی لحاظ سے بھی قطعی اور یقینی طور پر یورپ ہی کا پھیلاؤ ہیں اور یورپ ہی کی تلچھٹ، آج بیت المقدس پر ابراہیمؑ اور یعقوبؑ کے نسب کا حق مانگ رہی ہیں! اور ان کے اس ’آبائی حق‘ کے لیے، یہاں صدیوں سے آباد، ابراہیم کے طریقے پر اقصیٰ میں خدا کی عبادت کرنے والوں کو، مسجد خالی کرنے کے نوٹس دیے جارہے ہیں۔ کیونکہ سرزمین مقدس پر ’کنعانیوں‘ کا نہیں ’اولادِ ابراہیمؑ‘ کا حق ہے!

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے! جھوٹ کے کوئی پیر ہوتے ہی نہیں! ان سب محاوروں کا آج ایک ہی بدل: ’میڈیا کی طاقت‘!

اتنا بڑا جھوٹ کس آرام سے آج ’حقیقت‘ مانا جارہا ہے، بلکہ منوایا جارہا ہے، بلکہ جو نہ مانے اس کا ’خرد‘ اور ’دانش‘ سے تعلق تک مشکوک ٹھہرتا ہے! آخر بو العجبی کی انتہا نہیں تو کیا ہے: پولینڈ کے گورے، ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی اولاد؟

جو اس ’حقیقت‘ کا آج مذاق اڑائے وہ ’سام دشمن‘ اور ’نسل پرست‘!!! امریکہ اور یورپ کی عدالتیں آخر کس لیے ہیں؟! یہ ہولوکوسٹ کا نشانہ بننے والے ’سامیوں‘ کو اتنا بھی تحفظ نہ دیں تو دنیا میں ’انصاف‘ اور ’مظلوم کی داد رسی‘ ایسے اصولوں کا تو بھرم ہی ختم ہوکر رہ جائے!

وائے ناکامی! امتِ اسلام کے ’خاموش‘ پایا جانے کی، دنیا کس کس طرح قیمت دے رہی ہے! زمین کے مختلف خطے کیونکر مسلم ضعیفی کا وبال بھگت رہے ہیں! دھرتی کا بوجھ کس قدر بڑھ گیا ہے! سچائی کس طرح پابجولاں ہے اور حقیقت کس طرح قید کردی گئی ہے! اِس کی اپنی نسلیں داؤ پر لگ چکیں۔ مسجدیں، عبادت گاہیں دہائی دے رہی ہیں کہ ’مسلمان‘ آج خاموش ہے اور تماشائے عالم سے آخری حد تک روپوش!