حدیث و سنت کی حجیت: جاوید احمد غامدی كا مؤقف - سید منظورالحسن

[یہ تحریر راقم کے ایم فل علوم اسلامیہ کے تحقیقی مقالے سے ماخوذ ہے۔ ’’حدیث و سنت کی حجیت پر مکتب فراہی کے افکار کا تنقیدی جائزہ‘‘کے زیر عنوان یہ مقالہ جی سی یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ عربی و علوم اسلامیہ کے تحت 2012۔ 2014 کے تعلیمی سیشن میں مکمل ہوا۔ ]

جناب جاوید احمد غامدی رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی اطاعت اور دین میں آپ کے مقام و مرتبے کے حوالے سے اُسی موقف پر قائم ہیں جس پرتمام علماے سلف کھڑے ہیں۔ چنانچہ وہ نبى صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو کمال انسانیت کا مظہر اتم اور زمین پر خدا کی عدالت کہتے، آپ کی ہستی کو عقیدت اور اطاعت، دونوں کا مرکز مانتے اور آپ کے احکام کی بے چون و چرا تعمیل کو لازم قرار دیتے ہیں۔ وہ دین کو آپ کی ذات میں منحصر سمجھتے اور اِس بنا پر آپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو قیامت تک کے لیے حجت تسلیم کرتے ہیں۔ ماخذ دین کی بحث میں انہوں نے ’’دین کا تنہا ماخذ‘‘ کی جو منفرد تعبیر اختیار کی ہے، اُس سے حصول دین کا سارا رخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور آپ کے وجود پر دین کا انحصار رائج تعبیرات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور زیادہ مرتکز ہو کر سامنے آیا ہے۔ دین اسلام پر اپنی کتاب ’’میزان ‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے:

’’دین اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جو اُس نے پہلے انسان کی فطرت میں الہام فرمائی اور اِس کے بعد اُس کی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اپنے پیغمبروں کی وساطت سے انسان کو دی ہے۔ اِس سلسلہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ ‘‘ (غامدی، میزان، ص13) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دین کا تنہا ماخذتسلیم کرنے کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ تمام تر دین کو آپ کے قول و فعل اور تقریر وتصویب پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ درج بالا مقدمے کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’یہ صرف اُنھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔ ‘‘ (غامدی، میزان، ص13) یہی وجہ ہے کہ اُن کے نزدیک اخذ دین کی ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مقدم اور قرآن و سنت کا موخر ہے اور آپ کی حیثیت ماخذ و مصدر کی اور قرآن وسنت کی نوعیت اس سے پھوٹنے والی دو الگ الگ صورتوں کی ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے: ۱۔ قرآن مجید ۲۔ سنت۔ ‘‘ (غامدی، میزان، ص13) غامدی صاحب کے تمام تر دینی فکر کا مدار اسی اصولی مقدمے پر قائم ہے۔ حدیث و سنت کی حجیت کی بحث بھی اسی مرکز ی نکتے کے گرد گھومتی ہے۔ اس بحث کے بنیادی نکات کو اگر ہم اُن کی تحریروں سے اخذ کرنا چاہیں تو وہ درج ذیل ہیں:

1۔ غامدی صاحب کے نزدیک ایمان بالرسالت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے رسول کی مکمل اطاعت کی جائے، کیونکہ رسول صرف عقیدت کا مرکز نہیں، بلکہ اس کے ساتھ اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ اُس کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اُسے فقط منذر اور مذکر کے طور پر نہیں، بلکہ واجب الاطاعت ہادی کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور زندگی کے ہر معاملے میں اُس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ لکھتے ہیں:

’’نبی صرف عقیدت ہی کا مرکز نہیں، بلکہ اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ وہ اِس لیے نہیں آتا کہ لوگ اُس کو نبی اور رسول مان کر فارغ ہو جائیں۔ اُس کی حیثیت صرف ایک واعظ و ناصح کی نہیں، بلکہ ایک واجب الاطاعت ہادی کی ہوتی ہے۔ اُس کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں جو ہدایت وہ دے، اُس کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے۔ ‘‘(غامدی، میزان، ص144) وہ اطاعت رسول کو محض رسمی اور قانونی ضرورت کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ خلوص و محبت اور عقیدت و احترام کے جذبات کو بھی اس کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں:

’’یہ اطاعت کوئی رسمی چیز نہیں ہے۔ قرآن کامطالبہ ہے کہ یہ اتباع کے جذبے سے اور پورے اخلاص، پوری محبت اور انتہائی عقیدت و احترام سے ہونی چاہیے۔ انسان کو خدا کی محبت اِسی اطاعت اور اِسی اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت خود بھی مختلف طریقوں سے واضح فرمائی ہے۔ ایک روایت میں آپ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ کسی شخص کا ایمان اُس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتا، جب تک وہ مجھے اپنے باپ بیٹوں اور دوسرے تمام لوگوں سے عزیز تر نہ رکھے۔ ‘‘ (غامدی، میزان، ص145) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اس بنا پر آپ کے قول و فعل کی حجیت کو آپ کے زمانے تک محدود نہیں سمجھتے، بلکہ اُسے ابدی مانتے ہیں اور اسے کسی کی راے کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن کے فیصلے کے طور پر قبول کرتے ہیں:

’’ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ہدایات قیامت تک کے لیے اُسی طرح واجب الاطاعت ہیں، جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ کا کام ختم ہو گیا۔ رسول کی حیثیت سے آپ کا ہر قول و فعل بجائے خود قانونی سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کو یہ مرتبہ کسی امام و فقیہ نے نہیں دیا ہے، خود قرآن نے آپ کا یہی مقام بیان کیا ہے۔ ‘‘(غامدی، برہان، ص138) آپ کے قول و فعل کی قانونی سند و حجت کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں شریعت دینے کا حق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور آپ کی دی ہوئی شریعت میں کسی انسان کو، خواہ وہ ابوبکر و عمر جیسا بلند پایہ ہی کیوں نہ ہو، تغیر و تبدل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لکھتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   صرف دین کے سنجیدہ طلبہ و طالبات کے لیے - عظیم الرحمن عثمانی

’’اِس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد رسول اللہ کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں، اور جب اُن کی طرف سے کوئی چیز شریعت قرار پا جائے تو پھر صدیق و فاروق بھی اُس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتے۔ ‘‘(غامدی، برہان، ص138)

2۔ غامدی صاحب کا موقف ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وجوب قیامت تک کے لیے ہے۔ اپنی حیات مبارکہ میں آپ بنفس نفیس مرجع اطاعت تھے اور اب یہ مقام و مرتبہ قرآن وسنت کو حاصل ہے۔ حکومت و ریاست کی اطاعت انھی کی اطاعت کے ماتحت ہے۔ لہٰذا حکمرانوں سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، مگر قرآن و سنت سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حکمرانوں سے اختلاف کی صورت میں بھی فیصلے کے لیے قرآن وسنت ہی کو حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک مسلمان اپنی ریاست میں قرآن وسنت کے خلاف یا اِن کی رہنمائی کو نظر انداز کر کے کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے:

’’اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے، لہٰذا جن معاملات میں بھی کوئی حکم انہوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اولی الامر کے احکام اِس اطاعت کے بعد اور اِس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں۔ اِس اطاعت سے پہلے یا اِس سے آزاد ہو کر اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔ اہل ایمان اپنے اولی الامر سے اختلاف کا حق بے شک، رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا، بلکہ اِس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولی الامر سے بھی پیش آ جائے اور اُس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اُس کا فیصلہ لازماً اُس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا۔ ‘‘(غامدی، میزان، ص484) 3۔ غامدی صاحب حدیث و سنت کے ایک حصے کو دین کے ایسے مستقل بالذات جز کے طور پر قبول کرتے ہیں جس کی ابتداء قرآن سے نہیں ہوئی اور جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے اہتمام، پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ امت کو منتقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسے پورے اہتمام، پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے۔ ‘‘ (غامدی، مقامات، ص163) چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب میں اُن تمام اجزاے دین کی سنن ہی کی حیثیت سے فہرست بندی کی ہے جو امت کی علمی و عملی روایت میں عبادت، معاشرت، خورو نوش اور رسوم و آداب کے د ائرے میں مراسم دین کے طور پر مسلم رہے ہیں۔ یہ فہرست درج ذیل ہے:

’’اِس (سنت کے ) ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے، وہ یہ ہے:

عبادات

۱۔ نماز۔ ۲۔ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر۔ ۳۔ روزہ و اعتکاف۔ ۴۔ حج و عمرہ۔ ۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں۔ معاشرت ۱۔ نکاح و طلاق اور اُن کے متعلقات۔ ۲۔ حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔ خور و نوش ۱۔ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت۔ ۲۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔ رسوم و آداب ۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔ ۲۔ ملاقات کے موقع پر ’السلام علیکم‘ اور اُس کا جواب۔ ۳۔ چھینک آنے پر ’الحمدللہ ‘ اور اُس کے جواب میں ’یرحمک اللہ‘۔ ۴۔ مونچھیں پست رکھنا۔ ۵۔ زیر ناف کے بال کاٹنا۔ ۶۔ بغل کے بال صاف کرنا۔ ۷۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ ۸۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا۔ ۹۔ ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ۱۰۔ استنجا۔ ۱۱۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ۱۲۔ غسل جنابت۔ ۱۳۔ میت کا غسل۔ ۱۴۔ تجہیز و تکفین۔ ۱۵۔ تدفین۔ ۱۶۔ عید الفطر۔ ۱۷۔ عید الاضحی۔ ‘‘(غامدی، میزان، ص14)

واضح رہے کہ ان میں سے بعض سنن، مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج و عمرہ وغیرہ کو بیش تر علماے امت آیات قرآنی کی تبیین پر محمول کرتے ہیں۔ یعنی یہ احکام اصلاً قرآن میں وارد ہوئے ہیں اور سنت نے ان کی تشریح و تفصیل کی ہے۔ غامدی صاحب کا موقف اس کے برعکس ہے۔ اُن کے نزدیک ان کی حیثیت مستقل بالذات سنن کی ہے جن کی ابتداء قرآن سے نہیں ہوئی۔ قرآن میں ان کا ذکر اصل حکم کے طور پر نہیں، بلکہ تاکید کے لیے یا کسی اور ضرورت کے تحت آیاہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ علما اور غامدی صاحب کے اس اختلاف کا تعلق بات کی پیشکش اور استدلا ل کی ترتیب سے ہے، نتیجے سے ہر گز نہیں ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب انہیں دیگر علماے امت ہی کی طرح واجب العمل سنن کی حیثیت سے دین کا لازمی حصہ مانتے ہیں۔ اس ضمن میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ سنت کا مرتبہ اُن کے نزدیک اُس مرتبے سے بھی زیادہ ہے جو دیگر علماے امت اُسے دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر علماے امت مذکورہ سنن کو قرآن کے تابع اور اُس کی شرح و فرع کے مقام پر رکھتے ہیں، جبکہ غامدی صاحب انہیں اُس کے مساوی سمجھتے ہیں اور اُس سے منفرد حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔ 4۔ غامدی صاحب قرآن مجید کی تفہیم و تبیین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منصبی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اس اعتبار سے آپ کے مقام کو مامور من اللہ مبین کتاب کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔ سورۂ نحل کی آیت تبیین کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’آیت کا مدعا یہ ہے کہ خالق کائنات نے اپنا یہ فرمان محض اِس لیے پیغمبر کی وساطت سے نازل کیا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے اُس کی تبیین کرے۔ گویا ‘تبیین‘ یا ‘بیان‘ پیغمبر کی منصبی ذمہ داری بھی ہے اور اُس کے لازمی نتیجے کے طور پر اُس کا حق بھی جو اُسے خود پروردگار عالم نے دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر مامور من اللہ ‘مبین کتاب‘ ہے۔ ‘‘(غامدی، برہان، ص40) اسی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم تھے اور اس اعتبار سے آپ کو یہ امتیازی حیثیت حاصل تھی کہ وحی الٰہی کی تائید وتصویب کی بدولت آپ کا علم ہر خطا سے پاک تھا۔ لکھتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   سخن فہم اور غالب کے طرف دار، غامدی صاحب کے دینی انحرافات کا مسئلہ - محمد دین جوہر

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔ ‘‘ (غامدی، مقامات، ص163) 5۔ غامدی صاحب کے نزدیک روایات میں منقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ارشادات تفہیم و تبیین کی حیثیت رکھتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی نسبت کی تحقیق کے بعد ان کی پیروی ایمان کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے معمولی اختلاف بھی ایمان کے منافی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات بھی دین کی حیثیت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض کو میں نے ’’تفہیم و تبیین‘‘ اور بعض کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کے ذیل میں رکھا ہے۔ یہی معاملہ عقائد کی تعبیر کا ہے۔ اِس سلسلہ کی جو چیزیں روایتوں میں آئی ہیں، وہ سب میری کتاب ’’میزان ‘‘ کے باب ’’ایمانیات ‘‘ میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔ یہ بھی ’’تفہیم و تبیین‘‘ ہے۔ علمی نوعیت کی جو چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نقل ہوئی ہیں، اُن کے لیے صحیح لفظ میرے نزدیک یہی ہے۔ آپ سے نسبت متحقق ہو تو اس نوعیت کے ہر حکم، ہر فیصلے اور ہر تعبیر کو میں حجت سمجھتا ہوں۔ اِس سے ادنیٰ اختلاف بھی میرے نزدیک ایمان کے منافی ہے۔ ‘‘ (غامدی، مقامات، ص151) یہاں یہ ملحوظ رہے کہ غامدی صاحب حدیث و سنت کی اصطلاحات میں واضح فرق کے قائل ہیں۔ حدیث کو تو وہ سابق علما کے موقف کے مطابق دین کی تفہیم و تبیین ہی قرار دیتے ہیں۔ تاہم، وہ اِسے قرآن کی تفہیم و تبیین تک محدود نہیں کرتے، بلکہ سنت کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔ سنت کو وہ قرآن ہی کی طرح دین کا مستقل بالذات ماخذ قرار دیتے ہیں۔ گویا اُن کے نزدیک قرآن اور سنت مستقل بالذات ماخذ دین ہیں اور حدیث اُن کی شرح و فرع اور تفہیم و تبیین ہے۔ اصطلاحات کے اس فرق کی نوعیت اور ضرورت کے حوالے سے انہوں نے بیان کیا ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو قرآن دیا ہے۔ اِس کے علاوہ جو چیزیں آپ نے دین کی حیثیت سے دنیا کو دی ہیں، وہ بنیادی طور پر تین ہی ہیں:

۱۔ مستقل بالذات احکام و ہدایات جن کی ابتداء قرآن سے نہیں ہوئی۔ ۲۔ مستقل بالذات احکام و ہدایات کی شرح و وضاحت، خواہ وہ قرآن میں ہوں یا قرآن سے باہر۔ ۳۔ اِن احکام و ہدایات پر عمل کا نمونہ۔ یہ تینوں چیزیں دین ہیں۔ دین کی حیثیت سے ہر مسلمان انہیں ماننے اور اِن پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِن کی نسبت کے بارے میں مطمئن ہوجانے کے بعد کوئی صاحب ایمان اِن سے انحراف کی جسارت نہیں کرسکتا۔ اُس کے لیے زیبا یہی ہے کہ وہ اگر مسلمان کی حیثیت سے جینا اور مرنا چاہتا ہے تو بغیر کسی تردد کے اِن کے سامنے سرتسلیم خم کردے۔ ہمارے علما اِن تینوں کے لیے ایک ہی لفظ ’’سنت ‘‘ استعمال کرتے ہیں۔ میں اِسے موزوں نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک پہلی چیز کے لیے ’’سنت ‘‘، دوسری کے لیے’’تفہیم و تبیین‘‘ اور تیسری کے لیے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ اصل اور فرع کو ایک ہی عنوان کے تحت اور ایک ہی درجے میں رکھ دینے سے جو خلط مبحث پیدا ہوتا ہے، اُسے دور کردیا جائے۔ ‘‘ (غامدی، مقامات، ص150) ان اقتباسات سے واضح ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی حدیث و سنت کو من جملۂ دین قرار دیتے اور اِن کی حجیت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دین میں مطاع کی حیثیت کو تسلیم کرنے اور اس بنا پر آپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو واجب الاطاعت ماننے، حدیث و سنت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام سمجھنے اور ان کی تشریعی اور تشریحی حیثیتوں کو تسلیم کرنے اور ان کے انکار کو دین و ایمان کے منافی تصور کرنے کے حوالے سے وه اُسی موقف کے علم بردار ہیں جس پر امت گزشتہ چودہ سو سال سے کاربند ہے۔ ان کا علمی و فکری كام اِس موقف پر واقعاتی شہادت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی تردید علم و استدلال کے دائرے میں ناممکن ہے۔ دین اسلام پر ان کی نمآئندہ کتاب ’’میزان ‘‘ اِس امر کا واضح ثبوت ہے جس میں نماز، زکوٰۃ، روزہ، اعتکاف، حج، عمرہ، عید، نکاح، طلاق، تذکیہ، غسل، تجہیز و تکفین اور اِس نوعیت کے دیگر مجمع علیہ مراسم دین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ سنن ہی کے طور پر مشروع قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ دین کی شرح و فرع کے ضمن میں کم و بیش بارہ سو احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔ تفسير قرآن ’’البيان ‘‘كى تكميل کے بعد اب ان كى تمام تر توجا ت احاديث ہی كى تحقيق اور شرح و وضاحت کے كام پر مرتكز ہیں۔ اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو جاتی ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی حديث و سنت کے ايك مخلص خادم ہیں اور ان پر حدیث و سنت کے انکار کا الزام محض ایک بہتان ہے جس کی علم و فكر اور دین و اخلاق میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بدقسمتی سے صاحب مضمون نے ان دلائل سے تعارض ہی نہیں کیا، جن کی بنا پر علماء و مشائخ غامدی صاحب کو احادیث مبارکہ کے انکار کا مجرم ٹھہراتے ہیں۔اگر آپ ایک جاری علمی مباحثہ کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو کم سے کم اپنے مخاطب کا نقطہ نظر پیش کر کے مردانہ وار ان دلائل کا رد کریں۔ لگتا ہے کہ صاحب مضمون میں علمی و اخلاقی جرات کا فقدان ہے۔

    • خوش قسمتی سے انھوں نے مضمو ن لکھ کر موقع فراہم کر دیا ہے اب آپ ایک ترتیب سے وہ اعتراضات بیان کر دیں ۔ امید ہے اس کا فائدہ ہی ہو گا۔

      • اعتراضات تو مدت ہوئی چھپ کر شائع و زائع ہیں۔ اگر زحمت نہ ہو تو فقط سہ ماہی "جی" میں شائع ہونے والے متعدد مضامین کا جواب ہی دیے دیں۔ اور اسی طرح، فیس بک صفحے "حرف نیم گفتہ" پر غامدی فکر کس کس طرح بے نقاب کی جا رہی ہے، اسی کا جواب دے دیں۔ پھر قطعی الدلالہ پر تو براہ راست جاوید غامدی کے سامنے پیش کی گئی تنقید بھی ہے، جس کا جواب آپ حضرات تو کیا دیں گے، آپ کے فرقے کے بانی ہی جواب دینے سے معذرت کر چکے ہیں، اور جانتے ہیں جواب نہ دینے کا عذر کیا پیش کیا ہے؟ کہنہ سالی اور عدیم الفرصتی!!! آپ اعتراضات سامنے لانا کا مطالبہ فرمارہے ہیں!

    • منظور الحسن صاحب نے بہت عمدہ طریقے سے غامدی صاحب کا نقطہ نظر واضح کیا ہے. اس باب میں کچھ دن پہلے حافظ زبیر احمد صاحب کی ایک تحریرنظر سے گزری جس میں انہوں نےغامدی صاحب کی اس بات کی بنیاد پر کے "حدیث دین میں کوئی اضافہ نہیں کرتی" یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کے غامدی صاحب نبی کریم کو شارع نہیں مانتے. میرے ذہن میں یہی آتا رہا کے استاذ کی کتاب کا تو پہلا جملہ یہ ہے کے "دین کا تنہا ماخذ نبی کریم ص کی ذات والا صفات ہیں". دل کیا حافظ صاحب کی تحریر کا جواب لکھنے کو لیکن اللہ نے یہ کام بہت بہتر علم رکھنے والے شخص سے لے لیا. جزاک اللہ

      • جی ، عامر متین صاحب، وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ "دین کا تنہا ماخذ نبی کریم ص کی ذات والا صفات ہیں"، لیکن فوراً ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو دین کے دائرے سے باہر بھی نکال دیتے ہیں۔ یہی انکارِ حدیث ہے۔ اسی وجہ سے ہارون الرشید صاحب نے کہا ہے کہ غامدی اور ان کے متبعین میں پرویزیوں والی اخلاقی جرأت بھی نہیں ہے کہ منکر حدیث ہونے کا اعتراف ہی کر لیں! فقط ہارون الرشید صاحب پر ہی موقوف نہیں، اس سے قبل مولانا زاہد الراشدی صاحب بھی غامدی صاحب کو گمراہ،منکر حدیث و سنت، بلکہ اس سے بھی آگے مسلمانوں کے اجماعی عقائد کا منکر قرار دے چکے ہیں۔ سوال وہی ہے: کیا حدیث دین کا ماخذ ہے؟ اگر نہیں ہے تو یہ منکر حدیث ہوئے۔ باقی جو تقریر منظور الحسن جیسے اُجرتی مضمون نگار کر رہے ہیں، وہ بے کار ہے جب تک اس سوال کا واضح جواب نہ دیں۔

  • جب سے اس فرقے پر علمی تنقیدیں شروع ہوئی ہیں، دفاعی پروپیگینڈا زور پکڑ رہا ہے۔ منظور الحسن صاحب نے اصل اعتراض کا ابھی بھی جواب نہیں دیا: کیا جاوید غامدی صاحب کے نزدیک حدیث - یعنی خبر واحد - دین کا ماخذ ہوتی ہے؟ باقی غیر ضروری اقتباسات نقل کر کے معمولی پڑھے لکھے لوگوں کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے، لیکن غامدی صاحب کے منکر حدیث ہونے کا دفاع غیر ممکن ہے۔ ہارون الرشید صاحب نے درست فرمایا تھا کہ غامدی کے فرقے میں تو وہ اخلاقی جرأت بھی نہیں ہے جو پرویزیوں میں تھی - غامدی اور ان کے متبعین تو منکر حدیث ہوتے ہوئے بھی یہ جرأت نہیں رکھتے کہ مان لیں کہ ہم حدیث کو دین کا ماخذ نہیں مانتے۔ بہرحال، قوی علمی تنقیدوں کے بعد اب لگتا ہے کہ غامدی فرقے کا مستقبل اب یہی رہ گیا ہے کہ اپنے فاسد عقائد کا دفاع کرتے رہیں۔ اب یہ فکر اس دفاعی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جس میں اب قادیانی اور پرویزی ہیں - ان کی بقیہ زندگی اب علمی تنقیدوں کا جیسا کیسا جواب دیتے گزرے گی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔