اسلامی تاریخ کا بد ترین فیصلہ - نویرا محمود

امریکا نے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا۔ رات کے اس پہر جب یہ خبر سماعت سے ٹکرائی تو ایک لمحے کو اعصاب سن ہو کر رہ گئے۔ وہی بیت المقدس! وہی پاک اور عظیم مقام کہ جو شخص بھی اسلامی تاریخ کے واقعات پر نظر دوڑاتا ہے اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم حکمت پر آن ٹھہرتی ہے۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کا چناؤ اور انتخاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں حضرت جبریلؑ کو چنا، انسانوں میں سے انبیاء کو چنا، انبیاء میں سید الانبیاء محمد ﷺ کو چنا اور جگہوں میں سے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کو چنا۔ اللہ رب العالمین نے مسجد اقصیٰ کو بلندی اور پاکیزگی سے متصف فرمایا۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے‘‘ (مؤمنون: 50) توحید ورسالت کی گواہی کے بعد جب اہم ترین اسلامی فریضہ، یعنی نماز کا حکم نازل ہوا تو اس میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا کہا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ کے تیرہ برس اور مدینہ منورہ کے پہلے سترہ مہینے اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ پھر قرآن کریم میں مسجد حرام کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم نازل ہو گیا۔ ان دونوں مسجدوں کا تعلق بہت پرانا، گہرا، دینی اور تاریخی ہے۔ یہ زمین پر پہلی دو مسجدیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا ابو ذر غفاری نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد حرام! انہوں نےپوچھا: اس کے بعد کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسجد اقصیٰ‘‘ سیدنا ابو ذر نے دریافت کیا کہ مسجد حرام بنائے جانے کے کتنے عرصے بعد مسجد اقصیٰ بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس سال بعد‘‘ (بخاری)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’مخلوقات اور احکام الٰہیہ کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی اور بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے میدان حشر بنایا۔ تمام لوگ بیت المقدس میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وہیں حشر کا میدان ہو گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ حشر کی جگہ اور حشر کے بعد منتشر ہونے کی یہی جگہ ہے۔ یہ وہ مسجد ہے جو تمام شریعتوں میں مقدس ہے، تمام انبیا نے اس کا احترام کیا ہے اور اس میں اللہ کی چاروں کتابوں کی تلاوت کی گئی ہے۔زبور، تورات، انجیل اور قرآن ‘‘

جب مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ وہاں کے پادریوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی کنجیاں خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطابؓ کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہ کریں گے۔ ہم اپنی کتابوں میں ان کا ذکر پاتے ہیں چنانچہ حضرت عمر مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور بیت المقدس کی کنجیاں حاصل کیں۔

تاریخ میں روشن لفظوں سے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے کوئی چرچ، کلیسا، عبادت گاہ گرائی اور نہ کوئی گھر توڑا بلکہ دوسروں کی عبادت گاہیں سلامت رکھیں اور اہل علاقہ کے لیے عمومی امان کا عہد نامہ لکھا اور لوگوں کو اس پر گواہ بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان دورِ حکومت میں یہودی اور عیسائی ایسی بہترین زندگی گزارتے رہے، جس کی مثال کسی دوسرے دورِ حکومت میں نہیں ملتی۔ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی عبادت سرانجام دیتے رہے۔اسلام اعتدال اور میانہ روی کا دین ہے، عدل وانصاف کا دین ہے۔ یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا یا ظلم وزیادتی اور جنگوں اور فتنوں کا دین نہیں ہے۔

تاریخ زمانے کے لیے آئینہ ہے، یہ حال میں ماضی دکھانے والا دریچہ ہے اور یہی حال میں مستقبل دکھانے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں گزرا کہ جس کے بارے میں ہماری شرعی نصوص، تاریخی حقوق اور تہذیبی وابستگی یوں اکٹھی ہو گئی ہوں، جس طرح اس مسئلے میں یہ اکٹھی ہیں۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اسلامی مسئلہ ہے۔ تازہ مسائل یا لڑائیوں میں اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ یہ پہلے قبلے، تیسری مقدس مسجد اور آپ ﷺ کی جائے معراج کا مسئلہ ہے۔ یہ اقصیٰ مبارک کا مسئلہ ہے کہ جو ہر مسلمان کے دل میں رہنا چاہیے اور اس کے بارے میں کوئی سودےبازی یا دستبرداری کی بات نہیں ہونی چاہیے۔مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے، مسجد اقصیٰ کی مصیبت ہماری مصیبت ہے اور مسجد اقصیٰ کی مشکل ہمارے دلوں مشکل ہے۔

تاریخ میں یہودیوں کے کرتوت اہل اسلام سے پوشیدہ نہیں اور گزشتہ دنوں میں انہوں نے جو قتل وغارت کی ہے یہ ان کے رویوں اور دل کے کالے کرتوتوں کی کھلی دلیل ہے۔ گزشتہ حالات پر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل افسوس میں ڈوب جاتا ہے۔ سنو! ہماری مقدسات کے بارے میں کوئی سودہےبازی قابل قبول نہیں! ہمارے دین کے معاملے میں کوئی پیچھے ہٹنا روا نہیں۔ حالیہ حالات نے ہمارے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ کہاں ہیں خالد اور صلاح الدین؟ کیا ہمارے مقدس مقات مسلسل چیختے رہیں گے؟ کیا ہمیں قدس ہمیشہ ہی بلاتا رہے گا؟ فلسطین مدد کا منتظر رہے گا؟ اقصیٰ مدد کے لیے پکارتی رہے گی اور ہم اپنی زندگی میں مگن ہی رہیں گے؟ ہمیں کبھی سکون بھی نصیب ہو گا یا یوں ہی بہتے بہتے ہمارے آنسو خشک ہو جائیں گے؟

فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘ (حج: 40-41)۔

دنیا بھر میں مؤمنین کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ حقوق چھینے گئے، اب کیا ہمارے مقدس مقامات بھی چھینے جائیں گے ؟ اس دل کی تڑپ کو مدھم نہ ہونے دیں، آواز بلند کریں اور یہ ثابت کردیں کہ یہ رد و بدل، یہ جارحانہ تجارت ہمارے قبلہ اول کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ نہیں تو روزِ حشر مسجد اقصیٰ یہ سوال اٹھائے گی کہ جب میری حرمت کی بات تھی تو امّت محمدی کدھر تھی؟