جماعت اسلامی کے لیے مہربانوں کے تیار کردہ 5 ٹریپ! - وسیم گل

جماعت اسلامی قرآن و سنت کو اپنی اساس تسلیم کرتے ہوئے آئینِ پاکستان کے تحت ایک رجسٹرڈ جماعت ہے۔

یہ پاکستان کے شہریوں کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے لیے باوقار مقام دلانے کے لیے انتخابی سیاست میں حصہ لیتی ہے کیونکہ اقتدار کے بغیر بہتر گورننس ممکن ہی نہیں۔

اس سلسلے میں یہ کتنی کامیاب رہی؟ اس کا حساب کتاب اس جماعت کو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں جتنی نمائندگی ملی ان سب میں اس کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈز موجود ہیں جن سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔

جماعت اسلامی کے مخالفین جب اس پر تنقید کرتے ہیں تو بالعموم جماعت کے وابستگان اس تنقید پر غور و فکر بھی کرتے ہیں اور اسے مناسب طور سے زیر بحث بھی لاتے ہیں۔ لیکن مشاہدہ و تجربہ بتاتا ہے کہ معدودے چند کے علاوہ اکثر ناقدین محض کوئی ساڑ ہی نکال رہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں:

1- جب جماعت کے وابستگان معقول طریقے سے ادب و اخلاق کے دائرے میں رہ کر جواب دیتے ہیں تو ناقدین اور ان کے حواری اسے انجوائے کرتے ہیں اور آپس میں آنکھ مار ایک دوسرے کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ: ”دیکھا! کیسے بگھو بگھو کر مارا!“ جماعتی بیچارے جو احمقانہ حد تک سادگی کے مارے ہوتے ہیں، وہ یوں صفائیاں پیش کر رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی ملزم یا مجرم ہوں جبکہ ناقدین تھانیدار یا جج۔
یوں جماعتی اپنے ناقدین کے سامنے بدھو بنے کٹہرے میں کھڑے رہتے ہیں۔
یہ ٹریپ نمبر 2 ہے۔

2- جب ناقدین ناجائز تنقید میں زیادہ آگے بڑھ جائیں اور ظلم پر اتر آئیں، غلیظ زبان استعمال کریں تو کوئی نہ کوئی جماعتی کتنے ہی مناسب طور پر جواباً احتجاج کرے تو اس کا منہ بند کرنے کے لیے مخصوص جملے استعمال کیے جاتے ہیں مثلاً: ”آپ تو ایک دینی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں آپ کو ایسا یا ویسا نہیں کہنا چاہیے تھا“ یوں بیچارے جماعتی مار کھا کر بھی کٹہرے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
یہ ٹریپ نمبر 2 ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

3- جوں ہی مخالفین کو اشارہ بھی ملے کہ جماعت اپنے لیے آگے بڑھنے کے کوئی راستے ڈھونڈ رہی ہے تو فوراً مشورے اور نصیحتیں لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ ان مخلص مگر سادے جماعتیوں کو کنفیوز کرنے اور اپنی قیادت سے متنفر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور کئی جماعتی ان کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر جماعت سے متنفر ہو بھی جاتے ہیں۔
یہ ٹریپ نمبر 3 ہے

4- جو کام مخالفین کی پسندیدہ جماعتیں ہمیشہ کرتی ہوں، اگر جماعت بھی وہی کرنے کی کوشش کرے تو فوراً یہ چورن لیکر پہنچ جاتے ہیں کہ: ”دیکھیں جی یہ چیز آپ کیسے کر سکتے ہیں جبکہ آپ تو ایک مذہبی جماعت ہیں؟“ یوں جماعتی کنفیوز ہو جاتا ہے اور اگلے قدم کے طور پر اسے اپنی ہی قیادت سے متنفر کر دیا جاتا ہے۔
یہ ٹریپ نمبر 4 ہے۔

5- جو بھی جماعت کا حاضر سروس امیر ہوتا ہے اس کا تقابل پچھلے امراء سے کر کے پچھلوں کی عظمت کے گیت گائے جاتے ہیں، جبکہ موجودہ امیر کو فضول باور کرایا جاتا ہے، حالانکہ جب پچھلا امیر حاضر سروس تھا تو اس کا ساتھ دینے کیےبجائے اس کا تقابل اس سے پچھلے امیر سے کیا جاتا تھا۔ یوں بھی قیادت سے متنفر کیا جاتا ہے۔
یہ ٹریپ نمبر 5 ہے۔

ان تمام ٹریپس پر گفتگو اور ان کا تجزیہ پھر کبھی، لیکن جماعت کے کارکن کو ان سب ٹریپس اور یہ ٹریپس بچھانے والوں سے حد درجہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Comments

وسیم گل

وسیم گل

وسیم گل ٹیلی کام کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.