چابہار، کیا واقعی گوادر کے لیے خطرہ ہے؟ - یاسر محمود آرائیں

قدرت ہمیشہ سے ارض پاک پر مہربان رہی ہے اور اس نے ہمیں بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنی نااہلیوں، کمزویوں، گروہ بندیوں اور تساہل پسند طبیعت کے باعث مگر ان سے کبھی کماحقہ فائدہ نہیں اٹھا پائے۔

انہی نعمتوں میں سے ایک گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ گوادر بھی ہے۔ جس کے بارے میں اٹھاروِیں صدی میں ایک برٹش آفیسر نے پیشگوئی کی تھی کہ یہ کبھی عالمی تجارت کا مرکز ثابت ہوگا۔ قیام پاکستان کے وقت یہ علاقہ ملکی حدود میں شامل نہیں تھا۔ 1958 میں اسے 10ملین ڈالرز کے عوض مسقط سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ شکر خدا کا کہ نصف صدی کے بعد ہی کسی کو اسے استعمال کرنے کا خیال آ گیا۔ ایک بار یہ منصوبہ آپریشنل ہوگیا اور صحیح معنوں میں اپنی استعداد کار کے مطابق کام کرنا شروع کردیا تو حقیقتاً ملکی تقدیر بدل جائے گی۔

جب سے اس منصوبے پر کام شروع ہوا اور جوں جوں یہ تکمیل کی جانب گامزن ہے، سازشوں میں تیزی آتی جارہی ہے۔ خبر یہ آئی ہے کہ بھارت نے ایران کے علاقے چابہار میں قائم ہونے والی''شہید بہشتی''نامی بندرگاہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ گو کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کیا کہ ایران کا مقصد گوادر کو ہدف بنانا ہے، بلکہ علاقے میں نئی بندرگاہ کے قیام سے علاقائی تعاون کو فروغ حاصل ہوگا اور صحت مند مسابقت کی فضا وجود میں آئے گی۔

ایرانی صدر کے بیان سے قطع نظر یہ بات قابل ذکر ہے چابہار کی بندرگاہ گوادر سے محض سو میل کی دوری پر واقع ہے۔ بھارت کی جانب سے اس میں دلچسپی لینے اور بھاری سرمایاکاری کا واحد مقصد وہاں بیٹھ کر پاکستان میں شورش برپا کرنا اور گوادر اور پاک چین اقتصادی راہ داری (سی پیک) کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس کا کوئی دوسرا ہدف نہیں اور کسی ذہن میں اس بارے میں کوئی ایک فیصد شک بھی ہے تو اسے رفع ہوجانا چاہیے۔ بتایا یہ جارہا ہے کہ اس بندرگاہ کی بدولت وسطی ایشیاء کی سمندروں سے محروم ریاستوں تک بھارتی مصنوعات کی رسائی سہل ہوجائے گی اور اسی راستے سے بھارتی مصنوعات کی کم لاگت میں یورپ تک رسائی بھی ممکن ہوجائے گی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ بارہا پاکستان سے تجارتی راہداری مانگ چکا ہے مگر پاکستان نے کبھی اسے سنجیدہ نہیں لیا، اس لیے اسے مجبوراً یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اس راستے سے وسط ایشیائی ریاستوں کو برآمد کی گئی بھارتی مصنوعات کی لاگت بہت بڑھ جائے گی جس کے بعد وہ چین یا پاکستان کی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوسکتا۔ دوسری بات یہ کہ یورپی یونین کے لیے بھارتی برآمدات کا حجم ابھی اتنا وسیع ہے ہی نہیں کہ اسے بھاری سرمایاکاری کرکے اپنی حدود سے باہر بندرگاہ تلاش کرنی پڑے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اس بندرگاہ کو افغانستان کے علاقے بامیان میں موجود اربوں ڈالرز کی معدنیات اور لوہے کے ذخائر کو منتقل کرنے کے لیے استعمال کرے گا، جن کی تلاش اور کان کنی کے لیے بھارت افغان حکومت کے ساتھ معاہدہ کرچکا ہے۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ افغان حکومت خود غیر ملکی افواج کی مرہون منت ہے۔ ملک کے 65فیصد رقبے پر اس کی کوئی عملداری ہے ہی نہیں ۔ اس 65 فیصد علاقے پر قابض طالبان قابض کبھی بھارت کو آسانی سے افغان وسائل لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری جانب اگراسٹریٹجک لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی ''چابہار'' کسی صورت گوادر بندرگاہ کے متبادل تصور نہیں کی جاسکتی۔ ''چابہار''بندرگاہ کی گہرائی اتنی نہیں کہ اس میں کوئی بڑا تجارتی جہاز لنگرانداز ہوسکے۔ مہینے میں بمشکل پانچ یا چھ روز سمندری مدوجزر کی بدولت پانی کا لیول اتنا ہوتا ہے کہ درمیانے سے کچھ بڑے جہاز وہاں آسانی سے لنگر انداز ہوسکیں۔ چابہار کی نسبت گوادر کی گہرائی تین گنا زائد ہے۔ چابہار میں بیک وقت 16 سے زائد جہاز لنگر انداز نہیں ہوسکتے کیونکہ اس کی چوڑائی بہت کم ہے جبکہ گوادر میں اس وقت بھی 40 سے زائد جہاز لنگرانداز ہونے کی گنجائش موجود ہے۔

اس کے علاوہ چابہار محل وقوع کے لحاظ سے گوادر سے پیچھے ہے جبکہ گوادر ایک کونے کی صورت اس سے آگے نکلا ہوا ہے۔ دنیا میں تیل کی تجارت کی تقریباً 40فیصد ٹریفک اس کے قریب سے گزرتی ہے۔ بھارت کو ان تمام حقائق سے بخوبی آگہی حاصل ہے اور اس کی نفسیات سے سب واقف بھی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مذکورہ بندرگاہ سے اسے کوئی مالی فائدہ ہرگز نہیں ہوگا، اگر ہوتا تو بھارت بہت پہلے تعمیر کرچکا ہوتا کیونکہ اس کی تعمیر کا معاہدہ تو گوادر پر کام شروع ہونے سے پہلے 2003ء میں کیا گیا تھا لیکن عالمی برادری کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کو جواز بناکر بھارت نے راہ فرار اختیار کرلی تھی۔ اس کے بعد برسوں تک یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑا رہا مگر جیسے ہی گوادر اور سی پیک منصوبے کا آغاز ہوا بھارت نے اس کی مخالفت پر کمر باندھ لی اور اسے نقصان پہنچانے کی نیت سے اس پراجیکٹ پر عمل درآمد شروع کردیا۔

بھارت پاکستان کو کسی صورت پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتا اس لیے گوادر منصوبے کو وہ ہر صورت نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ چابہار میں اپنے پنجے گاڑنے کا بڑا سبب یہ ہے کہ بھارت وہاں اپنا دہشت گردی کا نیٹ ورک فعال کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ پروپیگنڈے اور دیگر ہتھکنڈوں سے تو گوادر اور سی پیک میں رکاوٹ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوا، اب وہ پاکستان میں بے امنی کو ہوا دے کر یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا ثبوت کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بیان ہے، جس میں اس نے ایران کی سرزمین پر ''را''کے نیٹ ورک کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ اس تعاون کے بدلے میں بھارت اسی راستے کے ذریعے شام، عراق، یمن اور لبنان میں ایرانی پراکسی وار لڑنے والوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔

بارہا ایران اور بھارت کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ہمارا مقصد کسی دوسرے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانا نہیں مگر حقیقت میں سب اس کے پس پردہ مقاصد جانتے ہیں۔ چین کی پالیسی شروع سے یہ رہی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ممالک کے اندرونی یا آپسی تعلقات پر کوئی بیان نہیں دیتا۔ مگر چابہار پر ہونے والی تازہ ڈیولپمنٹ پر اسے تشویش ہے جس کا اظہار چینی اخبار میں چھپنے والے ایک مضمون سے ہورہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت گوادر پورٹ کے بغض میں ایران کی چابہار بندرگاہ کو اپ گریڈ کرنا چاہتا ہے۔ مزید یہ کہا گیا کہ بھارت اس منصوبے کی آڑ میں اپنے دفاعی مقاصد پورے کرنا اور اپنا سیاسی اثر و نفوذ بڑھانا چاہتا ہے۔ چینی سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ایک اور اخبار''گلوبل ٹائمز''نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اس بندرگاہ سے بھارت کے عزائم تعمیری نہیں تخریبی ہیں۔

بھارت جتنی مرضی کوشش کر لے، دنیا جہاں کے بدمعاشوں کو ساتھ ملالے، دہشت گردی سے بھی کام لے کر دیکھ لے ، وجدان یہی کہتا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ''چاہ ''اب ادھوری ہی رہے گی اور کبھی وہ ''بہار'' نہ آئے گی جس کے خواب بھارت دیکھ رہا ہے۔ گوادر اور سی پیک سے صرف پاکستان کی ضروریات ہی وابستہ نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اب چین کے مفادات اس میں پنہاں ہیں۔ چین ہر صورت اس کی تکمیل چاہتا ہے اور اس کے لیے کسی حد تک جانے سے دریغ نہیں کرے گا۔ ایران بھی کسی صورت چین کی موجودگی میں ایک حد سے زیادہ محاذ آرائی نہیں چاہے گا کیونکہ چین اور ایران کے درمیان تجارتی حجم 53 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے جو بھارت اور ایران کے باہمی تجارتی حجم سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ ایران کو اس چیز کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ چاہ بہار ایرانی صوبہ سیستان میں واقع ہے، جہاں سنّی تنظیموں کی جانب سے مسلح بغاوت موجود ہے۔ اگر ایران نے آگ سے کھیلنے کا شوق جاری رکھا تو اس کے شعلے اس کے آنگن کو جلاتے دیر نہیں لگائیں گے۔