آہ! جنید جمشید مرحوم - غازی سہیل خان

آج ہم ایک ایسے انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے جا رہے ہیں، جس نے تلاش حق کی جستجو میں سر گرداں لوگوں کے لیے ایک قابل تقلید کا م کیا ہے۔ مادّہ پرستی کے اس دور میں جب پیسہ،عور ت اور شہرت کو حاصل کر نا ہی زندگی کا مقصد زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہو، ایسے دور میں یہ ساری چیزیں ہونے کے باوجود اس مجاہد نے جس بہادری سے ان سب کو لات مار کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کو اسلام کی عظمت اور سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔واقعی میں امت مسلمہ کے مغرب پرست نوجوانوں کے لیے قابل تقلید عمل ہے۔

جی ہاں !میں اور کسی کی نہیں بلکہ برصغیر میں خصوصاً اور دنیا میں عموماًاپنی آواز کا جادوجگانے والے جنید جمشید مرحوم کا ذکر کر رہا ہوں۔ جوگزشتہ سال یعنی ۷ دسمبر کو ۵۲ سال کی عمر میں چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے مقام جان لیوا فضائی حادثے میں اہلیہ اور ۴۳دیگر مسافروں اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ یہ خبر آناً فاناً انٹرنیٹ کے ذریعے سے ساری دنیا تک پہنچی اور جس کی بھی سماعتوں سے ٹکرائی، وہ آنسو بہانے کے بغیر نہ رہ سکا۔ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غمگین، ہر روح کو تڑپتا ہو ا چھوڑ کر جنید جمشید منوں مٹی تلے دفن ہو گئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جنید جمشید سمیت اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے۔آمین!

جنید جمشید کی پیدائش۳ دسمبر ۱۹۶۴ کو کراچی میں ہوئی۔ملک سے باہر ہائی سکول پاس کر نے کے بعد پاکستان ایئر فورس میں فائٹر پائلٹ بننا چاہتے تھے لیکن آنکھوں کی روشنی کی کمزوری کی وجہ سے ان کا خواب پورا نہ ہوا۔تعلیم کو آگے بڑھاتے ہوے ’’یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور‘‘سے انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور ایئر فورس میں ہی انجینیئرنگ کے شعبے میں اپنی خدمات کو انجام دیا۔ چند سال گزر جانے کے بعد ہی سے یعنی ۱۹۸۳ میں روک میوزک پشاور یونیورسٹی سے اپنی گلوکاری کا سفر شروع کیا اور جلد ہی موسیقی میں بلندیوں کو چھونا شروع کیا۔ اسی دوران روحیل حیات نامی ایک نوجوان جو کہ اپنےمیوزیکل بینڈ وائٹل سائنز کے لیے گلو کار کی تلاش میں پشاور یونیورسٹی آئے ہوئے تھے اور یہاں اُبھرتے ہوئے گلو کارجنید جمشید سے ملاقات کر کے اپنے میوزیکل بینڈ کے لیے آفر دی اور پھر ایک نئے سفر کاآغاز ہوا۔ موصوف ایک ایک شو کے لاکھوں روپے کماتے تھے پوری دنیا میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور شرق و غرب میں نوجوانوں کو اپنا دیوانا بنایا۔

جب نائن الیون کے جنید جمشید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ یورپ گئے۔ جہاں کا ماحول اور تہذ یب و تمد ن دیکھا تو وہاں سے اپنے ساتھ چند سوالات بھی لائے، جن میں، پاکستان، کلچر، میوزک اور دہشت گردی کے حوالے سے تھے۔ واپس پہنچتے ہی موصوف نے برصغیر کے مشہور داعی اسلام مولانا طاریق جمیل صاحب سے رابطہ کیا اور جلد ہی پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا شروع کر دیں۔ اس کے بعد پ نے باضابطہ طور پر موسیقی کو خیرباد کہا اور جے ڈاٹ کے نام سے کپڑے کا بزنس کھولا۔ اب جنید جمشید نے اپنی زندگی کو اسلام کے نام وقف کر ڈالا تھا اور پھر تا دم مرگ عظمت والے دین کی اور دنیائے انسانیت کو دعوت دیتے رہے۔

جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی راہ کے لیے قبول کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں روک سکتی۔ یہ وہی جنید جمشید ہیں جو پاپ میوزک میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے اپنے دین کے لیے کام لینا چاہتا ہے تو پھر عمر فاروق ؓجیسے جذباتی انسان بھی پگھل کر موم بن جاتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنید جمشید کو بھی اپنے دین کے لیے چنا تھا اور موصوف نے بھی اللہ کی پکار پر لبیک کہہ کر آخرت میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں سرخروئی حاصل کی۔ پھر اسی آواز کو اللہ تعالیٰ کی حمد اور نبی مہربانؐ کی تعریف میں استعمال میں لائے اور اپنی آواز سے ہزاروں نوجوانوں کو دین اسلام کی طرف راغب کیا۔

گزشتہ سالوں میں ماہ رمضان میں ٹی وی چینل پر مرحوم جنید جمشید کے پروگرامات کو دیکھتا رہا اور اس بات پر فخر کرتا تھا کہ اتنی دولت اتنی شہرت کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا۔اتنا ہی نہیں جنید جمشید کو دیکھ کر اسلام کی عظمت کا اندازہ بھی ہوتا تھا کہ واقعی اسلام ایک عظیم دین و مذہب ہے جو بھی اس عظمت وا لے دین کو اپنائے گا، وہ کامیا ب ہو گا اور جو کوئی بھی اس دین اسلام سے رو گردانی کر نے کا مرتکب ہو گا وہ یہاں اور وہاں بھی ذلت و رسوائی کی زندگی گذارے گا۔

جنید جمشید امت اسلامی کے فخر تھے، داعی حق تھے، نوجوانوں کے آئیڈیل تھے،محسن پاکستان تھے اور ہر لمحہ دعوت و تبلیغ میں سرگرم رہتے تھے۔ اسی تڑپ و جذبے میں ہر ہمیشہ سرگرداں رہا کرتے تھے۔ امت کے نوجوانوں کے بارے میں بے قرار رہا کرتے تھے کہ کب یہ نوجوان مغرب پرستی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے دین کے سپاہی بن جائیں۔ اسی درد دل کو لیے کر جنید بھائی لوگوں کے دل بدلنے چترال گئے اور واپسی پر اسلام آباد کے لیے محو پرواز پی آئی ا ے کے طیارے کے حادثے کا شکار ہوئے۔ جہاز میں عملے سمیت ۴۲ مسافر تھے اور سبھی مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ مرحوم نے اپنے پیچھے تین لڑکے، ایک لڑکی اور ایک بیوی چھوڑی اور سب کو عمر بھر کے لیے غم دے گئے۔جنید بھائی تو اب ہم میں نہیں رہے لیکن میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی آواز اور ان کا کلام ہمیشہ ہمارے کانوں میں رس گھولتا رہے گا۔ ان کا سماجی کام، دین کے تئیں شوق و جذبہ ہر بار ہمیں سماج اور اسلام کے لیے کام کرنے پر اُبھارے گا۔ ان شاء اللہ!

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جنید بھائی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!