کاش! مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا – میاں عتیق الرحمٰن

عالم اسلام کے ایوان اقتدار کےمکینوں کی نبض حیات میں خون تو مسلمانوں کا دوڑ رہا ہےاور ان کی رگ حیات میں اس خون کا بندوبست بھی ایک عام مسلمان تکلیفیں اور مصیبتیں جھیل کر،مشقت اٹھاکرسرانجام دے رہا ہے تاکہ ہمارامقدمہ عزت نفس، بلندئ وقار،غیرت مذہبی اور حمیت اسلامی اقتدار کی کرسی کی طاقت سےلڑاجائے۔ اس کے لیے ہرمسلمان دینی حمیت کے پیش نظر صدائے غیرت بلند کرتا ہے کہ اگر جنبش قلم کی ضرورت ہوگی تو ہم مہیا کریں گے،اگر نوک تلوار کی محتاجگی ہوئی، اس کی ذمہ داری بھی ہم پر،اگر گردنیں پیش کرنے کی نوبت آئی تو وہ کٹا کر اذان پوری کرنے کاتجربہ ہمیں حاصل ہے،مگر تم نے ایوان اقتدار کے محلات میں بیٹھ کر عالم کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہماری طرف سے مقدمہ لڑنا ہے۔ ہم ووٹ بھی دیں گے،نوٹ بھی مہیا کریں گے، جانیں بھی حاضر ہوں گی۔ مگر افسوس کہ جو،جہاں بھی ایوان اقتدار میں پہنچا اسے اس ایوان کی راکھ سے اتنی چاہت اور جذبہ پسندیدگی پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ محل جس کی بنیاد کی کھدائی سے لیکر آخری اینٹ تک مزدوری کی، اس کی اینٹوں کو اپنے پسینے سے تر کیا، اپنا خون کواس کی بنیادوں میں بہایا،اسے بلندی دینے کے لیےاپنی جانیں نچھاور کردیں،انہیں بھول کر، انہیں فضول، رائیگاں اور بے قیمت گردان کراس ایوان کے لہو و لعب میں مست ہوکر وہاں دشمنوں کےساتھ شباب وکباب کی محفلوں کی زینت بن کر ہمارے منہ پر پر تمانچے لگا تے ہیں۔ عالم اسلام کے ایوان اقتدار کے مکین کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سرخاب کے پر لگےہیں ، اس لیے ہمیں ان محلوں کی زینت بنایا گیا ہے؟ اس لیے وہ محلوں کو تعیش بدنی وذہنی کے لیے تو استعمال کریں گے مگر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے نہیں؟

عالم اسلام کے ایوان اقتدار کے مکینو!تم نے وہاں بیٹھ کر ہمیں اکٹھا کرنے کی بجائے الگ الگ کرنے جرات دکھائی ہے کہ اس کا شکار ہوکر سب نفسی نفسی کا شکار ہوچکے،ایک گروہ دوسرے کو جذبہ محبت سے دیکھنے کا روادار نہیں رہا،امت کا لفظ گالی لگنے لگا، وہ جہاد،وہ قتال،وہ ایوبی، وہ غوری سب افسانے معلوم ہونےلگے ہیں۔یہ ترقی، یہ مستی،یہ غرور،یہ تفاخر،یہ لہو ولعب،یہ عشرت پرستی،یہ سکون کدے،یہ سب کس لیے ہیں؟ تم تو اپنے کردار وافعال میں ایسے گندے ہوچکے کہ گٹر کا گند بھی تمہاراس گندگی کے آگے ہیچ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں صرف عالم اسلام کونابود کرنے کے لیے ہی کھینچی گئی تھیں،ان لکیروں کے اندر ہم نے تو اپنے اندر سے اپنے جیسے گوشت پوست کے غیرت مند لوگ چن کرپہنچائے تھے مگرشاید جب خون اور پسینے سے بنے محلات میں جاکر غرور وتفاخر اور نوکر چاکر کے درمیان اپنے آپ کو پاکرخود کو الگ مخلوق سمجھنے لگتے ہیں، سب کچھ بھول بھال کر ہمیشہ کے لیے وہاں کے مکین بننے کی خواہشیں پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ جہاں ایسا ہوجائے،وہاں پھر غیرت وحمیت جیسے مقدس جذبوں کی افزائش رک جاتی ہے، تب انہیں دشمنوں سے ملنا پڑے،اپنوں کا لہو کرنا پڑے،ہمسایوں سے بگاڑنی پڑے،اسلام سے غداری کرنی پڑے،سب کچھ کرگزرتے ہیں۔ دشمنان ملت اورمذہب وایمان سے ساز باز کرنا پڑے،اس میں بھی عار نہیں، سب کچھ قوم وملک کے نام کا لبادہ اوڑھ کر گزرتے ہیں۔

مگر بطور مسلمان مجھے ایسا ملک چاہیے، نہ ایسے محلات اورنہ ہی ان کے غدار مکین جو ان محلات کے پتھروں کی اوقات کو ان کے ٹکانے والوں پر فوقیت دینی شروع کر دیتے ہیں۔ اپنی اصلیت بھول کر اپنوں ہی پر چنگھاڑنے لگتے ہیں اور ان کی ساری کوششیں اور ساری توانیاں اسی کے گرد گھومنے لگتی ہیں کہ ہم یہاں کیسے رہ سکیں گے اور یہاں رہنے کے لیے کن کن کی جانیں لینا ہوں گی۔ ان محلوں اور ایوانوں کےباہرجوکچھ ہماری خواہشات اور آرزوں کے لیے رکاوٹ لگے گا،انہیں کچل دیا جائے گا،ہوش کوجام عشرت پلاکر سلا دیا جائے گا،تلوار ایوبی کوزنگ لگانے پر محنت کی جائے گی،حمیت دینی پرالحاد کا لحاف چڑھا دیا جائے گا۔جس کسی کی بھی قربانی دینا پڑی، اس سے دریغ نہیں کیا جائےگا۔

افسوس کہ! ہم اب بھی اسی بےمنزل اور بے مقصد لڑائیوں میں لگےہیں،اپنو ں ہی کے خون کرنے کوثواب سمجھ رہے ہیں۔ محبت واخوت دینی کو جگہ دینے کو تیار نہیں اور اصحاب اقتدار ہیں کہ ان کی لڑائیاں اپنی کرسی کے پائے مضبوط کرنے کے لیے اب بھی جاری وساری ہیں،اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہم بھی قصہ پارینہ ہی ہوں گے،ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں!