مریض کی عیادت اور اسلامی تعلیمات - نوید احمد

بچپن سے مقولے سن رکھے تھے کہ" تندرستی ہزار نعمت ہے" اور "جان ہے تو جہان ہے"۔ ان اقوال کی اہمیت کا صحیح ادراک اسی شخص کو ہو سکتا ہے جسے کسی بیماری نے آ لیا ہو اور اس کے لیے چلنا پھرنا بھی محال ہو جائے، دوست احباب ساتھ چھوڑ جائیں اور یہ تکلیف تب دو چند ہو جاتی ہے جب آفس میں ہر وقت خوشامدی اور جی حضوری کرنے والے اپنی مصروفیت میں سے چند لمحے عیادت کے لیے نکالنا بھی گوارا نہ سمجھیں۔ گویا جیتے جی بیمار یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی عزت اور مقام عہدے کی بنا پر تھا، انسانیت کی بنا پر نہیں۔

مجھے جب کبھی گورنمنٹ ہسپتال جانا ہوا، وہاں کی گندگی اور عملے کی غفلت دیکھ کر شدید دکھ ہوا۔ ہمارے علما کرام، سیاسی پنڈتوں کی تقاریر میں اکثر یہ سنا کہ مغربی معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے، لیکن مان لیجیے کہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت بھی روبہ زوال ہے۔ مسیحا اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے کئی کئی دن ہسپتالوں کو بند تو رکھتے ہیں لیکن اسی ہسپتال میں مریضوں کی بے بسی پر ان کو کبھی احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔ کئی مریض مسیحاؤں اور ہسپتال کے عملے کی غفلت کی وجہ سے اور بروقت علاج نہ ہونے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ کیا مریض کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ سلوک ایک مسلمان معاشرے کو زیب دیتا ہے؟

اخلاقی بدحالی میں یہ چلن بھی اب عام ہونے لگا ہے کہ شدید بیماری کی حالت میں تو ہسپتال کا چکر بھی لگا لیا، گھر بھی چلے گئے لیکن بعد ازاں مریض کو پوچھنا، اس کی تیمارداری کے لیے وقت نکالنا ضروری تصور نہیں کیا جاتا۔ گویا تیمارداری بھی ایک منہ دکھائی کی رسم بن گئی ہے۔ آئیے رحمت للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی حاصل کریں کہ ایک مسلمان کا دوسرے بیمار مسلمان کے ساتھ کیسا رویہ ہونا چاہیے؟

یہ بھی پڑھیں:   خالق و مخلوق کے عارف - ابو یحییٰ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماروں کی عیادت کو اعلیٰ درجے کی نیکی قرار دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے انعامات کی بشارت سنائی اور عیادت کرنے کے آداب سکھائے، دعائیں بتائیں اور اسے ثواب کا حصول قرار دیا ہے۔ ایک موقع پر ارشاد فرمایا ’’کہ جو کوئی صبح کے وقت کسی بیمار کی بیمار پرسی کرتا ہے تو شام تک فرشتے اس کی مغفرت کی دعا مانگتے ہیں اور جب شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک فرشتے اس کی مغفرت کے لیے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے ہیں۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے آسمان سے ندا کرنے والا ندا کرتا ہے تجھ کو خوشی ہو تیرا چلنا اچھا ہے تو نے جنت میں ایک بڑا مقام حاصل کرلیا ہے(مشکوٰۃ)

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیادت کی فضیلت دلکش طرز ادا سے بیان فرمائی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! میں بیمار پڑا تو تُو نے میری عیادت نہ کی؟ وہ کہے گا ’’اے میرے پروردگار! تُو تو سارے جہان کا مالک ہے، میں تیری عیادت کیونکر کرتا۔ اللہ فرمائے گا میرا بندہ بیمار ہوا مگر تونے اس کی عیادت نہ کی۔ اگر کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔"

مریض کو تسلی دینا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت کی عیادت فرمائی اور اس سے پوچھا :کیسا محسوس کر رہی ہو؟‘‘ اس نے عرض کی:’’بہتر،مگر اس بخار نے مجھے تھکا دیا ہے۔‘‘رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’صبر کرو کیونکہ بخار آدمی کے گناہوں کو اس طرح دورکردیتا ہے جس طر ح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   خالق و مخلوق کے عارف - ابو یحییٰ

مریض کے سرہانے بیٹھنا اور اس کے لیے دعا کرنا بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کو جائے اور سات بار یہ دعا پڑھے أَسْأَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم أَنْ یَّشْفِیَکَ اگر موت کا وقت نہیں آگیا ہے تو اسے ضرورشفا ہوگی۔(مشکوۃ المصابیح )

آپ نے دیکھا کہ ہمارا دین کتنا خوبصورت ہے؟ گویا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے جو بیمار کے لیے بھی ہے اور بیمار کی تیمارداری کرنے والے کے لیے بھی۔ آئیے آج ہی سے یہ نیت کر لیں کہ بیمار کے لیے وقت نکالیں گے، اس کے لیے رب سے دعا بھی کریں گے اور اس کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سب صرف معاشرے کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر، رب کی رضا کے لیے، ہر طرح کے رنگ، نسل، مذہب، قبیلہ سے بالاتر ہو کر۔ اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!