مسجد اقصیٰ کے دروازے سے ایک خط - زبیرمنصوری

(فلسطینی بھائی کا مسجد اقصیٰ کے دروازے سے ایک تصوراتی خط)

پوری دنیا کےپیارے مسلمان بھائیو!

السلام علیکم!

امید ہے آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے۔

آپ کے بچے بھی ٹھیک ہوں گے اور کاروبار اور جابز بھی ٹھیک چل رہے ہوں گے۔

اللہ آپ کو مزید خوشیاں اور اسانیاں عطا فرمائے عافیت میں رکھے۔

بس اس شدید سرد رات میں یہاں مسجد اقصیٰ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔

دل مغموم ہے ،دکھی ہے آقا ﷺ کی سجدہ گاہ ناپاک اسرائیلی قدموں کے نیچے آنے سے بچانے کے لیے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں

عزیز بھائیو!

ہمارے گھر بارود برسا کر گرا دیے گئے ، ہم نہیں روئے۔

ہمارے مرشد شیخ یاسین کو شہید کر دیا گیا، ہم نے نئے شیخ تیار کرنے کا عزم کر لیا ۔

ہمارے قائد عبد العزیز رنتیسی نے بستر کے بجائے اپاچی ہیلی کاپٹر کےذریعے موت کا انتخا ب کیاہم نے آ پ سے اپیل نہیں کی ہمارے اپنے مصری بھائیوں نے ہمارے قاتلوں کے کہنے پر ہمارے معصوم بچوں کی دواؤں اور گندم کے دانے ہم سے چھین لیے، ہمارے راستے بند کر دیے، ہم کچھ نہیں بولے ۔

ہماری زمین پر قبضہ ہو گیا، ہم لڑتے رہے کسی سے کچھ نہیں مانگا۔

اس سب کچھ کے باوجود ہم نے اپنے اسکول بند نہیں ہونے دیے، ایسا نہ ہوتا تو آخر مزاحمت کی تحریک کو خون کہاں سے مل پاتا؟

ہم نے اپنے نوجوانوں کو لبرلزم اور عرب نیشنل ازم سے نکال کر مزاحمت کار بنا دیا۔ ہم نے آپ سے نہ کتابیں مانگیں، نہ اپنے بچوں کے لیے پنسلیں اور کلرنگ کاپیاں !

ہماری لڑائی تھی ہم لڑ گئے!

مزاحمت کے ہر میدان کو خون سے گلزار کیا اور امت مصطفیٰ ﷺ کے وہ بوجھ بھی اٹھائے جو واجب بھی نہیں تھے ۔

مسجد اقصیٰ کی پہرہ داری کرتے ہوئے اس سخت سرد رات کی قسم ہم اپنا آخری جوان اور خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے، آپ سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔

ہاں!

مگر کبھی کبھی تنہائی کے کسی لمحہ میں ہمارے بچے اور ہم افق کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید ایٹمی پاکستان سے گھڑ سواروں کے کسی لشکر کی گرد کے بادل نظر آ جائیں ۔

ٹی وی کھولتے اور دیر تک نیوز چینلز پر کسی مسلم حکمران کا بیان تلاش کرتے رہتے ہیں کہ شاید کسی نے اسرائیل کی ناکہ بندی کا فیصلہ کر لیا ہو۔

سوچتے ہیں وہاں شاید اپنے اکابر کے رستوں پر چلنے والوں کاکوئی قافلہ ہم تک بھی پہنچےگااور کچھ نہیں تو بیس کروڑ کے ملک مین کوئی بیس لاکھ کا طاقتور مارچ ہی ہو جائے گا۔

شاید آقا ﷺ کے براق باندھنے کی جگہ کی توہین پر کوئی دھرنا دے کر بیٹھ جائے ۔

کوئی نماز میں رفع یدین سے آگے بڑھ کر دشمن پر ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کر لے، کوئی سعودی کوئی ایرانی کوئی مصری حاکم کوئی تو ایمانی غیرت کا ثبوت دے۔

پیارے بھائیو!

میری کسی بات پر ناراض نہ ہونا ہم نے تو محمد ﷺ کے ہاتھ پر موت تک جہاد کی بیعت کر رکھی ہے ہم تو

خیبر خیبر یا یہود!

جیش محمد سوف یعود!

کے نعرے دیوانہ وار لگاتے رہیں گے

آج ہم

ہمارے بعد ہمارے بچے

پھر ان کے بچے

اور پھر ان کے بچے۔۔۔۔!

ہم عیسیٰ ؑ کے ساتھی ہوں گے

مگر آپ سوچ لیں

حوض کوثر پر آقا ﷺ نے پوچھ لیا تو ‎کیا جواب دیں گے؟

والسلام

آپ کا فلسطینی بھائی

عبداللہ

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.