"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے" - روحی ذوالفقار

ہوا کے رخ پر چراغِ الفت کی لو جلا کر چلا گیا ہے

وہ اک دیے سے نجانے کتنے دیے جلا کر چلا گیا ہے

سات دسمبر 2016 ء کی شام چار بج کر بیس منٹ پر حویلیاں کی پہاڑیوں میں داعی اجل کو لبیک کہنے والے جنید جمشید کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا کہ "جن سے مل کر زندگی سے پیار ہوجائے"

خوشیوں کی اطلاع تو طے شدہ پروگرام کا حصہ ہوتی ہے لیکن غم اور صدمے کی اطلاع اگرچہ خالق تقدیر کے یہاں تو متعین و مقرر ہی ہوتی ہے مگر ہمارے محدود علم میں اسی وقت آتی ہے جب پردۂ غیب سے اس کے ظہور کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے۔ بعض اطلاعات اتنی دردناک اور ناقابل فراموش ہوتی ہیں کہ ان کے غم اور صدمے کو وقت کا مرہم مندمل بھی کردے تو بھی اچانک سے اس لمحے کی یاد آ کر مدتوں دل کو تڑپاتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک خبر 7 دسمبر 2016 کی شام موصول ہوئی جس نے دل ودماغ کو مفلوج کر دیا۔ جنید جمشید فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔۔اناللہ و اناالیہ راجعون!

جنید جمشید کہنے کو ایک نعت گو تھے مگر درحقیقت وہ اپنے وقت کے حسن بصری تھے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ اس دور میں اسلامی اخلاق و کردار کا ایسا جامع نمونہ دنیا میں خال خال ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے عملاً ثابت کیا کہ وہ اخلاق و کردار کی اعلیٰ ترین عملی مثال اور اللہ کے دین کے ان تھک مجاہد اور داعی ہیں۔ ایثار، قربانی، عالی ظرفی، صبر و قناعت، صلہ رحمی، دنیا کے مال و دولت سے بے رغبتی، خدمت خلق میں شوق وانہماک ان کے نامہ اعمال کے چمکتے دمکتے ہیرے موتی اور جواہر تھے۔ شاید ایسے ہی مومن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ

قدم بے باک تیرے از ہجوم جان مشتاقان

تو صاحب خانہ آخر چرا وزوانہ می آئی

وہ حیات عارضی کے محدود ماہ و سال لے کر آئے تھے۔ دعوت دین جیسا عظیم ترین کام اللہ اپنے جن بندوں سے لیتا ہے وہ بلاشبہ بڑے خوش بخت ہوتے ہیں۔ دعوت دین محض درس و تدریس اور تبلیغ و ابلاغ کا نام نہیں بلکہ اس کے بنیادی اجزاء میں دعوت کے ابلاغ کے ساتھ داعی کا ذاتی کردار اور عملی نمونہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پھر یہ عمل خلق خدا کے ساتھ ہمدردی،خیر خواہی اور بے لوث جذبے کا متقاضی بھی ہے۔ نرم دلی،خوش گفتاری اور خوش اخلاقی اسوۂ رسول اللہ کی روشنی میں بنیادی اوصاف شمار ہوتے ہیں۔ جنید جمشید مرحوم کے اندر یہ تمام صفات بدرجہ اول موجود تھیں۔ وہ ہر ایک سے اتنی کشادہ دلی کے ساتھ ملتے تھے جیسے ہر کوئی ان کے لیے بہت خاص ہو۔ وہ اتنے اونچے اخلاق والے انسان تھے کہ اس زمانے میں شاید ہی ایسے لوگ کہیں مل پائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اک نہ بھولنے والی ملاقات - محمد اسامہ امین

جنید جمشید ایسے خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ کی خاطر عیش وعشرت کو چھوڑا،تکالیف اور مشقتیں برداشت کیں مگر ہمت نہیں ہاری۔ جنید جمشید کی زندگی سیکھنے والوں کے لیے نمونہ حیات ہے۔ موسیقی کی دنیا سے نکل کر محبوب عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچے میں چلے آئے اور اپنا نام ثناخوانان مصطفیٰ کی فہرست میں لکھوا گئے۔ اللہ اور اس کے محبوب کی محبت میں شہرت کو خیر باد کہہ کر اللہ کا دین سیکھنے اللہ کے راستے میں نکلے تو گانے والے ساتھی سمجھانے پہنچ گئے کہ کیوں بنی بنائی شہرت کو برباد کر رہے ہو ؟ بھوکوےمر جاؤ گے مگر اس قلب سلیم نے واپسی سے انکار کر دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ شہرت و عزت صرف دنیاوی ہے جسے بالآخر فنا ہونا ہے۔ اصل عزت وہ ہے جہاں خدا بندے سے خود پو چھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟

محبوب کائنات کی محبت میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایسی حمد و ثناء کی کہ ہر کوئی "میرا دل بدل دے" کی دعا مانگنے لگا۔

"محمد ﷺ کا روزہ قریب آرہا ہے"، "الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں"، " مجھے زندگی میں یارب سر بندگی عطا کر "، " وہ زم زم یاد آتا ہے، وہ کعبہ یاد آتا ہے"، " حرم کی مقدس فضاؤں میں گم ہوں"، "میرے نبی، پیارے نبی،سنت تیری دنیا و دیں"، "اے اللہ! اے اللہ! تو ہی عطا تو جود و سخا "، "اے رسول امیں، خاتم المرسلیں، تجھ سا کوئی نہیں،تجھ سا کوئی نہیں" اور " میں تو امّتی ہوں اے شاہ امم، کر دیں میرے آقا اب نظر کرم"جیسے مقبول عام کلام پیش کر کے لوگوں کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو زندہ کر دیا۔ انہوں نے اپنے کردار و عمل سے ثابت کیا کہ انسان اسلام کے قریب ہو کر بھی آئیڈیل بن سکتا ہے، عزت اور شہرت کما سکتا ہے

کسی شخص کی عظمت یہ ہے کہ اسے اس کی موت کے بعد بھی ہر شخص خیر کے کلمات سے یاد کرے۔ جنید جمشید اس پیمانے پر پورا اترتے ہیں۔ رب تعالیٰ ان کے درجات بلندکرے آمین!

وہ شہادت کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ نے ان کی تمنا کو اس طرح پورا کیا کہ اللہ کے راستے میں نکلے سفر کے دوران ہی انہوں نےاپنی منزل کو پالیا۔ ان کی شہادت ظاہری طور پر ایک بڑا حادثہ تھی لیکن درحقیقت یہی مشیت ایزدی تھی۔ اللہ نے ان کو وہ بلند درجہ عطا کرنا تھا جس کے وہ تمنائی تھے۔ ان کی شہادت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آج جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے پورا ایک سال ہو جائے گا لیکن ان کی جدائی کا غم آج بھی تازہ ہے دنیا۔ کا عام قاعدہ یہ ہے کہ کسی شخص کے رخصت ہو جانے کے بعد رفتہ رفتہ لوگ اسے بھول جاتے ہیں اس کی یادیں فراموش ہو جاتی ہیں، اس کے تذکرے کم ہوجاتے ہیں لیکن جنید جمشید کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوا آج بھی لوگ انگلیوں پر گن کر دن بتا سکتے ہیں کہ انہیں ہم سے بچھڑے کتنے دن بیت گئے ہیں۔ ایسا کیونکر ہوا؟ ان کو یہ رتبہ کس نے بخشا؟ یہ اس ذات باری تعالیٰ نے جس کا وعدہ ہے کہ

فاذکرونی اذکرکم (پس تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا )

جنید جمشید 7، دسمبر 2016 سے پہلے تک صرف ایک شخصیت کا نام تھے لیکن اب حق تعالیٰ نے انہیں دین کی موثر دعوت کا استعارہ بنا دیا ہے۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

حقیقت یہ ہے کہ " مرتے نہیں ہیں وہ لوگ، جیتی ہیں جن کی نیکیاں" ۔ جنید جمشید بھائی کے اس دنیا سے چلے جانے پر افسوس و رنج تو ہے لیکن رب کی رضا پر ہم راضی ہیں اللہ سے دعا ہے کہ

" اے مالک یوم الدین! جتنی عزتیں تو نے انہیں اس دنیا میں دی تھیں، اپنے یہاں ان کا اس سے بھی دوگنا اکرام کرنا اور انہیں اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمانا۔ آمین!

اب اٹھ کہ ذرا اشک میں آنکھوں کے سنبھالوں

قصے تیری یادوں کے تو تادیر چلیں گے