لاشیں گرنے پر شادیانے بجانا، بیمار ذہنیت؟ - ابراہیم جمال بٹ

کسی زیرک نے کہا تھا کہ ’’جب کبھی دنیا میں کہیں خون خرابہ ہوا تو اس کی وجوہات میں سے ایک اہم اور بنیادی وجہ انسانیت کے رشتے سے انسان کی دوری تھی اور جب کبھی انسانیت کے اس رشتے کی کمزوریوں کو دور کرنے اور اس کو مضبوطی عطا کرنے کے لیے لوگ اُٹھے تو دنیا کا ایک بڑا حصہ اس کا محافظ بن کر بنی نوع انسان کے لیے ایک نمونہ بن گیا‘‘
عصر حاضر میں قوموں کی درد انگیز داستانوں میں کئی ایسی ہیں کہ انسانیت شرمسار ہو جائے لیکن انسان کی اَنا اور انسانیت کے رشتے کی اصل فکر نہ ہونے کی وجہ سے ہر چہار جانب خون خرابہ ہی پسند ہے۔ دنیا کا وہ کون سا حصہ ہے جہاں آج خون خرابہ نہ ہو رہا ہو؟ ہر مقام، ہر ملک ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے، ایک دوسرے پر طاقت کا بے جامظاہرہ کرکے اپنی ظاہری قوت کا سہارا لے کر کمزوروں،مظلوموں اور نہتوں پر غیر انسانی اور غیر اخلاقی طور پر مسلط ہونے کے لیے بنی نوع انسان کا خون بہارہا ہے۔ خون اس قدر سستا ہو چکا ہے کہ کسی کو بحیثیت انسان اس کے بہنے پر افسوس بھی نہیں ہوتا بلکہ قوم پرستی کی مہلک بیماری نے آج انسانوں میں اس خون خرابے کو ہی محبت کا تقاضا قرار دیا ہے۔ عام انسان نہ سہی البتہ وہ جو کسی نہ کسی حیثیت سے ’’بڑے لوگوں‘‘ میں شمار کیے جاتے ہیں، آج قومیت کی بیماری نے ان میں بھی اتنی گھٹیا سوچ پیدا کردی ہے کہ وہ بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’فلاں تعداد میں لوگوں کو قتل کرنے پر قوم کو مبارک ہو۔‘‘
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی وریندر سہواگ نے اپنے ایک حالیہ ٹویٹ میں رواں سال کے دوران وردی پوشوں کی جانب سے دو سو عسکریت پسندوں کو مارنے پر مبارک بادی کا پیغام دیا ہے، جس نے ذی حس انسانی ذہنوں میں لاکھوں سوالات پیدا کیے ہیں کہ یہ کیسی ذہنیت ہے جو انسانی لاشیں گرنے پر شادیانے بجا کر ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کرتی ہے؟ حالانکہ مہذب دنیا میں اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ کوئی کسی انسانی جان کے زیاں پر خوشی کا اظہار کرے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کو بڑا کہلوانے سے کوئی بڑا نہیں ہوتا بلکہ انسان کی پہچان اپنے کلام، عادات واطوار، اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ کون کتنا انسانیت نواز ہے اس کا پرتو انسان کی زبان ہی سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے ایک دوسرے کے احترام و عزت کرنے سے واضح ہو جاتا ہے۔
بہر حال موجودہ دور میں منجملہ اقوام عالم میں انسانیت کاتقدس پامال ہوتا جارہاہے، ختم تو نہیں کہیں گے البتہ اس کا کھونا بھی ختم ہونے سے کم نہیں۔ قوموں کی تباہی کی وجوہات میں اگر کسی وجہ کوڈھونڈا جائے تو ان میں سے ایک بڑی چیزانسانیت کا فقدان پایا جا سکتا ہے۔ آپ چاہے مذہبی تاریخ کا مطالعہ کریں یا سماجی وسیاسی محاذوں سے لڑنے والے قولی وعملی میدانوں کی تاریخ کے اوراق کو پھیر دیں، ان اوراق میں ایک چیز جو مشترکہ طور پائی جاتی ہے وہ قوم پرستی کا بھوت ہے۔
قوم پرستی کے اس بھوت نے انسان کو انسانیت کی اعلیٰ قدروں سے گرا کر حیوانیت کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ قوموں کے عروج وزوال، اُتار وچڑھاؤ، مستقبل میں اپنے قوم کی ترقی و کامیابی کے لیے آج ’’قوم پرستی ‘‘ کو ایک اصول بنایا جا چکا ہے۔ آج قوم پرستی اس قدر سوار ہو چکی ہے کہ کسی کو انسانیت کے بہتے خون کی فکر ہی نہیں۔ جن ہاتھوں سے لوگوں کا خون بہتا ہے وہ یہ سوچتے ہی نہیں ہیں کہ بھلا وہ کیوں اس عمل بد میں ملوث ہورہے ہیں؟ بلکہ وہ تواس زعم باطل میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ضروراُن کے اس عمل سے قوم کو ہی فائدہ ہو گا۔اپنی قوم اور نسل کا نام اونچا رہنا چاہیے، باقی انسانیت مرے یا جیے، اُن کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔
پوری دنیا کی بات کریں تو ایک نہیں بلکہ لاتعداد کتب تیار کی جا سکتی ہیں لیکن ہم اپنی سرزمین کی بات کریں گے۔ جموں وکشمیر مسلم دنیا کا ایک اہم اور مشہور ومعروف حصہ ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے تاہم غیر مسلم جن میں پنڈت، سکھ، عیسائی، بودھ اور دیگر دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگ بھی رہتے ہیں،کے ساتھ یہاں کی مسلم آبادی نے ہمیشہ برادرانہ تعلقات ہی قائم رکھے ہیں۔ حالانکہ کئی شاطرانہ سازشی دماغوں نے بار بار ان کے اس رشتے میں کمزوریاں پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کی لیکن ہر بار انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ البتہ جب کبھی بھی اس رشتے میں کمزوریاں اور دراڑیں ڈال کر ان کے درمیان نفرت اور خوف کا ماحول پیدا کیا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہی برآمد ہوئے ہیں۔ اس رشتے کو کمزور کرنے والو ں کی سازشیں ہی تھیں کہ انسانیت آج بھی شرمسار ہے۔ یہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کو اکثر و بیشتر اکثریتی طبقے کے حوالے سے بدظن کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں، اُن میں پھوٹ ڈالنے کے لیے کئی اقدام ثمر آور بھی ثابت ہوئے ہیں، البتہ یہاں کے مسلمانوں نے کبھی بھی اقلیتی طبقے کے لیے اپنے دلوں میں کدورت پیدا نہیں ہونے دی۔ ہر سیاسی بازی گر اپنی سیاست کی بازی کھیل کر لوگوں کو اندھا اور بہرہ بنانے کی کوششیں کر کے انسانیت کے اس رشتے کو کمزور کرنے میں لگا ہوا تھا بلکہ آج بھی اسی سوچ کے حامل لوگ یہاں کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سازشی ذہنیت سے کام کر رہے ہیں۔ کوئی اپنا بن کر تو کوئی پیٹھ پیچھے آکر کر، ہمارے ذہنوں میں اس سوچ کو پروان چڑھانے کی سازشیں کر رہا ہے۔
ریاست میں حالات ابتر ہیں، جنگی صورتحال ہے۔ اس مخدوش صورتحال میں جب کوئی پولیس والا یا فوجی مارا جاتا ہے تو کیا اس میں انسانی دل رکھنے والوں کے لیے خوشی کی کوئی بات ہے؟ کوئی عسکریت پسندجاں بحق ہوجائے یاعام شہری جرم بے گناہی کی پاداش میں قتل کیا جائے، تو کیا اس سب میں خوشی یا شادیانے منانا اچھی بات ہے؟
انسانی زندگیاں محترم ہوتی ہیں، قیمتی ہوتی ہیں اور دنیا کا ہر قانون انسانی زندگی کے احترام اور تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ایسی سوچ پہلی بار دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ۲۰۰ عسکریت پسندوں کو مارنے کی خوشیاں منائی جارہی ہیں؟ ویندر سہواگ جیسے بیمار سوچ کے حاملین لوگ اپنے کند ذہنیت کا برملا اظہار کرتے ہیں۔اس طرح کی سوچ کو بہرحال ایک منفی اور بیمار ذہنیت ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس طرح کی سوچ کا پروان چڑھنا ہی یہ بتا دینے کے لیے کافی ہے کہ جمہوریت میں یقین رکھنے والی مملکت کا مستقبل کس نہج پر استوار ہورہا ہے؟
کسی نے کہا ہے کہ ’’دنیا میں انسان انسان بن کر رہے اس کے بغیر یہاں انسان کے لیے کوئی جگہ نہیں، کیوں کہ انسان انسانیت کی خوشبو سے معطر ہو کر انسانیت کے لیے خوشی کا پیغام ہے اور اگر یہی انسان انسان بن کر زندگی نہ گزارے تو خوشبو کی جگہ اس دنیا کو بدبو آگھیر لے گی اور بدبو انسانیت کے خاتمہ کا اعلان ہے۔ ‘‘