مصیبت - در صدف ایمان

“بیٹا! تمہارا رشتہ تمہاری پھپو کے یہاں کرنے کا سوچا ہے۔” فیصل کی والدہ نے بیٹے کو بتایا

“ٹھیک ہے امی!” تابع دار بیٹے نے سر جھکا لیا۔

دونوں طرف سے بات چیت ہوئی، رشتہ طے پا گیا۔ شادی دو سال بعد ہونا قرار پائی۔ اس عرصے میں فیصل نے، جو اچھی ملازمت کرتا تھا لیکن گھر کرائے کا تھا، محنت میں جت گیا تاکہ شادی سے پہلے کرائے کے گھر سے جان چھوٹ جائے۔ بفضل تعالیٰ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہو گیا۔ اب شادی کے لیے سسرال کی جانب سے دباؤ بڑھنے لگا۔ بہرحال شادی کی تاریخ طے ہوگئی۔ ایک طرف گھر بنانے کی مد میں لیا گیا قرضہ تھا تو دوسری طرف دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق دھوم دھام سے شادی کے تقاضے۔ فیصل چاہتا تھا کہ سادگی کے ساتھ بغیر جہیز کے سنت پر عمل ہو جائے لیکن سسرال کے تقاضوں، آنے بہانوں سے بارات کیسی ہو اور کتنی شاندار ہو کے خواب، بری میں کیا کیا ہو، دلہن کے لیے شادی اور ولیمے کے جوڑے کس بوتیک سے لیے جائیں، ان فرمائشوں کے سامنے ڈھیر ہوگیا۔

تب غور کیا کہ جہیز تو یونہی بدنام ہے، بری کے نام پر بھی اچھے خاصے سودے کیے جاتے ہیں۔ دراصل لڑکی والوں کو ہر دور میں مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ اصل مظلوم تو لڑکا ہوتا ہے۔ کبھی کسی نے یہ سوچا کہ 25، 30 ہزار تنخواہ والا لڑکا، گھر بنائے، شادی کے لیے پیسے جمع کرے، بہنوں کی رخصتی کرے یا ان بے جا تقاضوں کو پورا کرے؟ جبکہ بہنوں کی تعداد کہیں آٹھ سے نو بھی ہو سکتی ہے۔

اس لیے اپنے ارمان تھوڑے کم کریں، سوچ کے حامل اور اسے پروان چڑھانے والے ہم ہی ہوتے ہیں۔ دراصل ایسی سوچ لڑکوں سے زیادہ لڑکوں کی ماؤں کی ہوتی ہے۔ نہ آج کی ماں بیٹی کو جہیز کم دینا چاہتی ہے اور نہ بہو کے جہیز میں کمی چاہتی ہے۔ سب نہیں تو 80 فیصد تک توایسا ہی ہے۔ معاشرے میں شادی کو مشکل بنانے میں سب سے بڑا کردار لڑکے اور لڑکی کے والدین ہی ہیں۔ لڑکا غریب ہے، نوکری پکی نہیں، گھر اپنا نہیں اور کچھ نہیں تو ہماری برادری کا نہیں، پھر جب لڑکی خوبصورت نہیں، لمبی نہیں یا بہت لمبی ہے، ہنستی ہوئی بری لگتی ہے جیسے اعتراضات سننے کے لیے بھی تیار رہیں۔ یہ سب خوبیاں خامیاں بتانے والے خود ماں باپ ہی ہوتے ہیں۔ اس فرمان سے بے گانہ ہوکر کہ نکاح محبت پیدا کرتا ہے اور نصیب رب العالمین بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جہیز لعنت، عادت یا سُنّت؟ - عادل سہیل ظفر

سوچ کو تھوڑا بدلیں ورنہ چوتھی کلاس سے لیکر آٹھویں کلاس تک کے بچے ‘لو لیٹرز’ لکھنے، میٹرک کے کے بچے خود کشی کرنے، کالج کے ڈیٹ پر جانے اور یونیورسٹییز کے چور راستے ڈھونڈنے تو لگ ہی گئے ہیں۔ تب معاشرے کی اس خرابی کا رونا بھی نہیں رونا پڑے گا۔