جہاں بچے زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں - سید رحمان شاہ

پوری تحصیل کو ضلع سے ملانے والی واحد سڑک، وہ بھی ایسی کہ کوئی سفر کرے تو اس کی ناف اتر جائے۔ سفر بھی ایسا پرخطر کہ شاید اتنا خطرہ موت کی کھائی میں شب بسری میں نہ ہو۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑ تو دوسری جانب شیر دریا۔ جہاں پڑھنے والے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی اتنی کہ خیبر پختونخوا کے ٹاپ سکولوں میں وہاں کے پرائمری اسکولوں کی پوزیشنز ضرور آئیں لیکن ایک ڈگری کالج بھی موجود نہیں۔ جہاں وادیوں میں قدرتی خوبصورتی اب بھی ملتی ہے لیکن سیاح اس کا نام تک نہیں جانتے۔ جاں سکئی سر جیسی نوکیلی شاہگوری نما چوٹی ہے، جہاں خاپیرو ڈنڈ اور اس جیسی بہت سی نادیدہ و گمنام جھیلیں ہیں!

یہ ایک ڈھلتی دوپہر کی بات ہے، ہمارے اردگرد قد آدم گھاس اگی ہوئی تھی، جس میں کہیں کہیں خوش رنگ پھول کھلے تھے۔ دھوپ تھی، پر دھوپ میں وہ گرمی نہ تھی۔ وادیوں کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ وہاں دھوپ ہوتی ہے، پر وہ کہتے ہیں نا ’’ سردی کی وہ دھوپ کے جیسی‘‘ توجناب! وادیوں کی دھوپ سردیوں کی دھوپ کی طرح ہوتی ہے۔ جس میں وہ حضرات جو زندگی میں کبھی نہاتے نہیں، صدبار ’’غسل آفتابی‘‘ کرلیتے ہیں۔، بہرحال ڈھلتی دوپہر میں قد آدم گھا س میں سے ایک چھوٹا سا راستہ نیچے وادی میں اترتا تھا، اور اس پر میں اور شوکت بھی نیچے وادی میں اتر رہے تھے۔ صرف اس لیے کہ ہم دونوں نے اپنی وادی کے پرائمری سکول ماسٹر صاحب کو کھانے پر مدعو کرنا تھا۔میرے اصرار پر شوکت بھی میرے ساتھ روانہ ہوا تھا، ورنہ ایسا کون ہے جس کی شادی ہورہی ہو اور وہ ’’خیالستان‘‘ سے نکل کر کسی کو دعوت دینے جائے؟

میں بار بار شوکت سے پوچھتا’’ کیا آپ مجھے ماسٹر صاحب سے ملائیں گے؟‘‘ اور وہ آگے سے کہتے’’ ہاں ہاں، کیوں نہیں؟ وہ میرے دوست ہیں‘‘ میں جب شوکت سے یہ سنتا’’ وہ میرے دوست ہیں‘‘ تو یقین جانیے کہ میں بڑا ہیجان محسوس کرتا اور سوچتا کہ میں ایک ایسے بندے کا دوست ہوں،جس کا ایک ماسٹر ’’دوست‘‘ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھئی اس میں کون سے بڑی بات ہے کہ کوئی کسی ماسٹر صاحب کا دوست ہے؟ تو صاحبو! اس کے پیچھے ایک راز ہے، بتاؤں کیا؟

دراصل میں ماسٹر صاحب سے ملنے کے لیے اس لیے بھی بے تاب تھا کیوں کہ میں نے اپنی وادی میں کسی سے سن رکھا تھا کہ بچے اب سکول والی بلڈنگ کے بجائے وادی کے مدرسے میں سکول پڑھنے جاتے ہیں۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ جن صاحبان کی جگہ میں سکول کی بلڈنگ تھی وہاں اب ایک ’’کریانہ سٹور‘‘ ہے، اور سکول ماسٹر ’’ اپنے جذبے آپ ‘‘ کے تحت بچوں کو مدرسے میں پڑھانے لے گئے۔ بس میں اسی لیے بے تاب تھا۔ یقیناًآپ بھی اس ماسٹر صاحب کے ’’فین ‘‘ بن گئے ہوں گے۔

خیر، ہم جب سکول پہنچے توسب سے پہلے ایک سوکھے ہوئے درخت کے تنے پر لہراتا ہوا ’’ پاک وطن‘‘ کا جھنڈ ا ہمیں نظر آیا۔ میں نے پہلی بار ایسا خوبصورت لہراتا جھنڈا دیکھاتھا۔ بعد اُس کے، سامنے پتھریلی خستہ عمارت کے’’ خستہ تر ‘‘ برآمدے میں کچھ بچے اور ساتھ ایک ماسٹر صاحب ’’ بیمار‘‘ سی کرسی پر بیٹھے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے۔ شوکت کو دیکھتے ہی ماسٹر صاحب کے چہرے پر بے اختیار تبسم آ گیا۔ کتاب کے درمیان اپنی ’’انگشت شہادت‘‘ رکھ کر بند کی اور شوکت سے ملنے کے لیے اٹھے۔ شوکت سے بغل گیر ہونے کے بعد مجھ سے بھی معانقہ کیا۔ بعد اُس کے وہ اپنی کرسی، میں انتہائی بیمار سی کرسی پر، جس کا ایک پاؤں بھی نہیں تھا، بیٹھ گیا اور شوکت قریب ایک پتھر پر براجمان ہوگئے۔

تعارف کے بعد شوکت اور ماسٹر صاحب کی ’’ خوش گپیوں‘‘ کے دوران ایک افسوسناک منظر دیکھا، بچے ننگی زمین پر بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ ذرا سوچیں! میں ٹاٹ یا گدے وغیرہ کا ذکر بھی نہیں کر رہا، ننگی زمین پر۔ ایک بڑی سی ’’ ستون‘‘ نما لکڑی پر بچوں کے بستے پڑے تھے۔ میں متعجب نظروں سے اُن بچوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں اٹھا اور جس عمارت کے برآمدے میں ہم بیٹھے تھے اُس میں گیا، دروازے کی چوکھٹ اس قدر متحرک تھی کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں گر ہی نہ جائے۔ اندر بڑا سا کمرہ تھا، پر مت پوچھیے کہ کیسا؟ فرش نشیب و فراز پر مشتمل تھا، جس میں جگہ جگہ پتھر پڑے تھے۔ دائیں جانب پتھریلی دیوار میں جو الماری تھی، اس میں کچھ کتابیں’’ بے ترتیب‘‘ پڑی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد میں باہر آیا اور سوچنے لگاکہ اگر کہیں ان بچوں کو یہ علم ہوا کہ ’’ تحصیل الائی ‘‘ یا ’’وادئ بٹیلہ‘‘ کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایسے سکول بھی ہیں، جہاں بچے ننگی زمین کے بجائے بنچوں پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں، تو یہ کیا سوچیں گے؟۔

یہ بھی پڑھیں:   نظامِ تعلیم اور ہمارا معاشرہ - محمد عمار احمد

ایسے قصے تو تحصیل الائی میں ہرجا ملیں گے، پر دکھ تو اس بات کا بھی ہے کہ پوری تحصیل کو ضلع سے ملانے والی واحد سڑک، وہ بھی ایسی کہ کوئی سفر کرے تو اس کی ناف اتر جائے۔ سفر بھی ایسا پرخطر کہ شاید اتنا خطرہ موت کی کھائی میں شب بسری میں نہ ہو۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑ تو دوسری جانب شیر دریا۔ جہاں پڑھنے والے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی اتنی کہ خیبر پختونخوا کے ٹاپ سکولوں میں وہاں کے پرائمری اسکولوں کی پوزیشنز ضرور آئیں لیکن ایک ڈگری کالج بھی موجود نہیں۔ جہاں وادیوں میں قدرتی خوبصورتی اب بھی ملتی ہے لیکن سیاح اس کا نام تک نہیں جانتے۔ جاں سکئی سر جیسی نوکیلی شاہگوری نما چوٹی ہے، جہاں خاپیرو ڈنڈ اور اس جیسی بہت سی نادیدہ و گمنام جھیلیں ہیں!