دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو- امجد اسلام امجد

گزشتہ ایک ماہ میں آج دوسری بار اس مصرعے نے میرا راستہ کاٹا ہے۔ پہلی بار اس کا محرک ابن رشد کا وہ مجسمہ بنا تھا جس کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم نے قرطبہ شہر کی پرانی گلیوں میں گھومنے کے دوران تصویریں بنوائی تھیں اور یہ سوچ سوچ کر اداس اور پریشان ہوتے تھے کہ کبھی اسی سرزمین پر ہم نے کئی صدیاں اپنے وقت کے بہترین اور نمایندہ انسانی گروہ اور معاشرے کی شکل میں بھی گزاری تھیں اور ہمارے درمیان ابن رشد جیسے غیرمعمولی انسان زندگی کے ہر شعبے میں ہوا کرتے تھے جب کہ دوسرا موقع 2018ء کے اس کیلنڈر کے حوالے سے صورت پذیر ہوا جو فارم ایوو کے دوستوں ہارون قاسم اور سید جمشید احمد نے اس فرمائش کے ساتھ بھجوایا کہ میں لاہور میں ہونے والی اس کی تقریب رونمائی میں شامل ہو کر اس پر اظہار رائے کروں جو نمایندہ ترین مسلمان سیاحوں کے حوالے سے ترتیب دیا گیا ہے اور جس کا ضمنی عنوان ’’یونہی تو نہیں ملتی یہ حکمت و دانائی‘‘ ہے۔

فارم ایوو کہنے کو تو ایک دوا ساز کمپنی ہے جس نے کاروبار اور معیار کے حوالے سے تو اپنے شعبے میں غیرمعمولی مقام اور کامیابیاں حاصل کی ہی ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا سب سے بڑا تعارف علمی‘ ادبی اور قومی حوالے سے اپنی تہذیب اور تاریخ کی حفاظت اور خدمت کا وہ جذبہ ہے جس کا مظاہرہ یہ لوگ بہت تسلسل‘ محبت اور کمٹ منٹ کے ساتھ ادارے کے قیام سے لے کر اب تک ہر برس پہلے سے بہتر اور بھرپور انداز میں کرتے چلے آ رہے ہیں اور جس کا ایک مظہر یہ سالانہ کیلنڈر بھی ہے جو باقاعدہ تحقیق اور تفکر کے بعد کسی ایک منتخب موضوع پر خطیر لاگت کے ساتھ خاصی بڑی تعداد میں شایع کیا جاتا ہے۔ ترتیب و تحقیق کے معاملات کی دیکھ بھال خواجہ رضی حیدر اور تزئین و آرائش میں معاونت یوسف تنویر صاحب کرتے ہیں اور یہ کہہ سکنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ ’’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘

بظاہر دیکھا جائے تو فی زمانہ روایتی اور بالخصوص دیوار گیر کیلنڈر اب متروکات میں شامل ہو چکا ہے کہ موبائل فون نے گھڑی‘ کیمرے‘ ساؤنڈ ریکارڈر اور ڈائری سمیت کئی اور چیزوں کی طرح اس کو بھی ایک کلک کا غلام بنا کراپنی اسکرین کی غلام گردش کا حصہ بنا دیا ہے۔ سو ایسے میں اس نیم مردہ اور خرچے والی روایت سے جڑے رہنے کی کوئی معقول وجہ بظاہر سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ سودا افادے اور طلب کے مروجہ پیمانوں پر بھی پورا نہیں اترتا اور یہ وہ مقام ہے جہاں غالب کا یہ شعر خواہ مخواہ یاد آنے لگتا ہے کہ
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بے خوری مجھے دن رات چاہیے
اور کھلتا ہے کہ یہ فارم ایوو والے دوست بھی ایسی ہی کسی دلیل کے دامن سے بندھے ہوئے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ سرے سے اس طرح کے نفع نقصان کا ہے ہی نہیں جس کو اعداد کے ذریعے سے جانچا پرکھا یا تولا جاتا ہے‘ وہ اس خرچے کو Expenditure کے بجائے Investment سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی Long term Investment جس کا سارے کا سارا منافع ہماری تہذیب‘ تاریخ اور اخلاقیات کے ایک ایسے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے جس کی مدد سے آدمی کو انسان بننے کے مواقع میسر آتے ہیں۔

اس کیلنڈر میں جن بارہ منتخب مسلمان سیاحوں کی زندگی اور کام کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں سے دو تین کو چھوڑ کر باقیوں کے ناموں سے بھی کم کم ہی لوگ واقف ہیں حالانکہ تاریخ عالم کے صفحات میں کئی علوم اور شعبے مثلاً قدیم سمندری راستوں کا علم‘ تاریخ‘ جغرافیہ‘ الجبرا‘ جیومیٹری‘ موسم‘ آب و ہوا‘ مذاہب‘ عقائد‘ طرز معاشرت‘ زبانیں‘ رسم و رواج‘ سواریاں اور کشتی رانی وغیرہ ایسے معاملے ہیں جن کے بارے میں مستند معلومات کے بہترین ماخذ انھی لوگوں کے اسفار اور ان سے متعلق مشاہدات اور تجربات ہیں۔ ذاتی طور پر ابن بطوطہ‘ البیرونی‘ ابن جبیر‘ احمد بن فضلاں اور یوسف کمبل پوش کے علاوہ اس کیلنڈر میں شامل باقی سات سیاحوں سے میری واقفیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ عقل دنگ ہو جاتی ہے کہ ان لوگوں نے کیسی کیسی مشکل اور محیرالعقول سواریوں پر اجنبی اور سنگین راستوں‘ خطرناک اور بے آباد علاقوں‘ وحشی اور جان کے دشمن انسانوں‘ بحری قزاقوں‘ سمندری طوفانوں‘ ناواقف زبانوں اور گائیڈوں کے بغیر سمت نمائی کی مشکلات کا کس کس طرح سے سامنا کیا اور کیسے ان یادوں اور یادداشتوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف النوع معلومات جمع کیں۔

نت نئے علوم سیکھنے اور تہذیبوں کے درمیان پل کا کام کیا، ان سب کی تفصیل ناقابل یقین حد تک حیرت انگیز ہے ٹوٹی ہوئی کمزور بادبانی کشتیوں میں کرہ ارض کے تین چوتھائی حصے پر مشتمل اجنبی‘ خطرناک اور وسیع سمندروں میں انتہائی محدود ٹیکنالوجی کے ساتھ سفر کرنا اور پھر مختلف براعظموں کے طول و عرض میں آباد علاقوں‘ قوموں اور تہذیبوں کے بارے میں ایسے نقشے تیار کرنا جو آج بھی قابل عمل ہوں اور پھر ان معلومات کو کتابوں میں محفوظ کرنا ایسے کارنامے ہیں جن کی وجہ سے یہ سیاح بعد میں آنے والوں کے لیے بیک وقت مسیحا اور محسن بن گئے کہ یہ اپنے وقتوں میں کسی گوگل یا انٹرنیٹ سے کم نہیں تھے۔ بلاشبہ یہ لوگ حکمت و دانائی میں اپنی مثال آپ تھے، تقریب میں دو مختصر مگر بہت محنت اور سلیقے سے تیار کی گئی ڈاکیومینٹریز کی مدد سے حاضرین کو ادارے کے جملہ منصوبوں اور بالخصوص اس موجودہ کیلنڈر کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی۔

ادارے کے سربراہ ہارون قاسم اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر سید جمشید احمد نے تعارف اور شکریے کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کی تفصیلات اور اس کے پس پردہ کار فرما اس فلسفے پر بھی روشنی ڈالی جس کا مقصد اپنے گمشدہ یا فراموش کردہ تاریخی اور تہذیبی رشتوں کی بازیافت اور انھیں دوبارہ مشعل راہ بنا کر مستقبل میں اپنی قوم اور معاشرے کو حوصلے اور فخر سے آراستہ کر کے ترقی کی اس دوڑ میں شامل کرنا ہے جس میں ہم ایک پس ماندہ اور صارف معاشرے کے بجائے دوبارہ وہ مقام حاصل کر سکیں جس میں غور و فکر‘ تحقیق اور ایجاد ہمارے فکر و عمل کے محور ہوا کرتے تھے اور یوں ماضی کے سمندر میں غوطہ لگا کر اُن لہروں کے راستوں تک پہنچنا ہے ۔

جن کا رخ مستقبل کی طرف ہے اور مل جل کر اُس معاشرے کو پھر سے تخلیق کرنا ہے جو ہم سے کہیں کھو گیا ہے اور جس کی بنیاد انصاف، تحقیق محنت‘ محبت اور مساوات پر استوار ہے یعنی گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑانے کا مقصد ماضی میں زندہ رہنا نہیں بلکہ اس کے اندر موجود ’’زندگی‘‘ کو ڈھونڈ کر واپس لانا ہے کہ حکمت اور دانائی کا یہ راستہ جن اصولوں پر چل کر ملا تھا ان کی طرف لوٹنا اصل میں آگے کی طرف جانے کا ہی ایک طریقہ اور وسیلہ ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ’’ہم تو نکلے تھے ہاتھوں میں سورج لیے رات کیوں ہو گئی؟‘‘