گُھمن گھیریاں - خالد ایم خان

ایک دن بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک ریڑھی بان کی آواز نے چونکا دیا "کیلے بیس روپے درجن، بیس روپے درجن کیلے" میں نے دیکھا پوری ریڑھی اچھے اور خوبصورت کیلوں سے بھری ہوئی تھی۔ لپکا کہیں بندہ مُکر ہی نہ جائے اور جاتے ہی ڈھونڈ ڈھونڈ کر دودرجن کیلے لیے اور گن کر چالیس روپے ریڑھی بان کو دیے ۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا ”بھائی جان! ایک سو بیس روپے اور دیں! میں نے پوچھا "وہ کیوں ؟" کہنے لگا کہ "یہ کیلے 80روپے درجن ہیں اور دودرجن کے ہوئے 160، آپ نے چالیس دیے، باقی 120 اور دیں۔" میں نے کہا "بھائی! آپ بیس روپے درجن کی آواز لگا رہے تھے" تو مکارانہ انداز میں دانت نکالتے ہوئے کہنے لگا "بھائی! بیس روپے درجن والے یہ ہیں" میں نے دیکھا ایک ڈیڑھ یا پھر دو درجن کیلے گلے سڑے سے ایک کونے میں پڑے تھے۔ یقین جانیں میں اُس کی اس گھمن گھیری پر اُسے داد دیے بنا نہ رہ سکا اور اُس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے دل میں سوچ رہا تھا کہ ہو تو تم جوتے کھانے کے قابل لیکن۔۔۔۔۔!

اسی طرح ایک آدمی نے اپنے دوستوں کے ساتھ جا کر ایک عدد خاندانی نسل کا بیل خرید لیا۔ بیل کیا تھا طوفان تھا۔ دور دراز کے علاقوں تک اُس بیل کی شہرت تھی۔ اُن دنوں میں لاکھ روپے بہت بڑی رقم گنی جاتی تھی اور یہ بات بھی تمام علاقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ فلاں گاؤں کے فلاں شخص نے مذکورہ بیل ایک لاکھ روپے میں خرید لیا ہے۔ کچھ دن کے بعد خریدار اپنے کسی کام سے اُس گاؤں پہنچا اور سوچا کہ پھر کون آئے گا بیل بھی کسی نہ کسی طریقہ آج ہی لے جاتا ہوں اور پہنچ گیا بیل والے گھر۔ اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ادھر بیل کا نیا مالک اپنا بیل لینے پہنچا لیکن بیل کے پرانے مالک نے نئے مالک کو انہونی خبر سُنا دی کہ بھائی نہ جانے کیسے آج صبح سویرے میں جب اُٹھا تو دیکھا کہ بیل مرا ہوا تھا، اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آئیں دیکھ لیں ابھی بھی ویسے ہی پڑا ہے اور ہم پریشان ہیں۔ نئے مالک نے کہا کوئی بات نہیں آپ کا میرا سودا تو ہوچکا تھا اب میری قسمت، لیکن ایک شرط ہے آپ نے کسی کو بھی نہیں بتانا کہ یہ بیل مرچکا ہے اور اس بیل کے سینگ اور کُھر مجھے دے دواور وہاں سے اپنے گاؤں روانہ ہوگیا۔ گاؤں پہنچے ہی اُس نے عام منادی کروا دی جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ میں نے فلاں علاقہ سے ایک بیل خریدا ہے لیکن کچھ خراب مالی حالات کی وجہ سے مجھے اپنا نیا خریدا بیل بیچنا پڑے گا جس کے لیے میرے پاس بہت گاہک آئے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ عام غریب افراد بھی اس بیل کو خرید پانے کی امید کریں، اسی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مبلغ پانچ ہزار روپے کی ایک کمیٹی ڈالی جائے اور آخر میں پرچی نکالی جائے جس بھی خوش نصیب کا نام پرچی میں نکلے بیل اُس کو دے دیا جائے الغرض ! قریباً دوسو افراد نے اُس کمیٹی میں اپنا حصہ ڈالا۔ کمیٹی نکالی گئی جس آدمی کا نام کمیٹی میں نکلا اُسے نئے مالک نے دوسرے دن بلا لیا کہ کل آجانا۔ دوسرے دن جیسے ہی کمیٹی والا بندہ بیل لینے کے لیے نئے مالک کے پاس پہنچا تو اُس نے کمال چالاکی کے ساتھ اُسے ایک الگ جگہ لے جاکر کہا "بھائی! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ بیل لا رہا تھا کہ راستے میں نہ جانے کیا ہوا اور بیل مر گیا۔ ثبوت کے طور پر بیل کے سینگ اور کُھر لے آیا ہوں کہ شاید تمہیں یقین نہ آئے، تم نے پانچ ہزار کی کمیٹی ڈالی تھی اُس کے میں تمہیں پچاس ہزار دے دیتا ہوں۔ بس مہربانی کرنا کسی سے کچھ کہنا مت۔" دیہاتی آدمی تھا پانچ کے پچاس بھی مل رہے تھے خاموش ہو گیا اور خوشی خوشی گھر چلا گیا اب اُسے کیا معلوم تھا کہ اس بندے نے ایسی گیم چلائی کہ لاکھوں بٹور لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کا ٹیسٹر - فیاض راجہ

یہی گیم کچھ ہمارے ساتھ ہورہی ہے بیل کا پرانا مالک آصف زرداری تھا اور نیا مالک نواز شریف اور سادہ لوح دیہاتی اس ملک کی عوام جو بے چارے کسی خوبصورت اَن دیکھے بیل کے ملنے کی خوشی میں مسلسل امید کا دامن تھامے بیٹھے ہیں، کبھی آنے والی خوش حالی کا بیل، کبھی نہ ختم ہو نے والی لوڈ شیڈنگ کا بیل، کبھی مہنگائی کا بیل، نجانے یہ بیل کب مرے گا؟ بے انتہا کرپشن کا اپنے نتھنوں سے آگ نکالتا غصہ میں بپھرا بیل! اس خطرناک بیل نے سالہا سال سے ہمیں ہی روندا ہے۔ اب حالات کچھ یوں ہیں کہ بیل تقریباً مر چکا ہے اور کمیٹی ڈالنے کا وقت آگیا ہے، ایک مرتبہ پھر دھوکہ دینے کا وقت آچکا ہے۔ کچھ نے اپنے اندر کی درندگیوں کو دبا کر معصومیت کے لبادے اوڑھ لیے ہیں تو کچھ نے شرافت کے جامے زیب تن کر لیے ہیں۔ ملک کے سادہ لوح لوگوں کے دماغوں میں ملکی معیشت کے استحکام کی باتیں نقش کی جائیں گی، لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات کی باتیں بھی کی جائیں گی اور ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے ملک میں لوڈشیڈنگ بند بھی کردی جائے۔ عوام کی خوش حالی کی باتیں بھی عروج پر دکھائی دیں گی، سڑکیں بنیں گی، روڈ بنیں گے، سیوریج کے نظام کو ٹھیک کرلینے کی خاطر یہ لوگ اپنی پتلونوں کے پائنچے چڑھائے خود سڑکوں پر کام بھی کرواتے نظر آئیں گے، جب آپ لوگوں کو یہ گُھمن گھیری نظر آئے تو سمجھ لیجیے گا کہ الیکشن کی آمد آمد ہے،کمیٹی ڈل چکی ہے کمیٹی کے اختتام پر چند لوگوں کو لگائی گئی رقم کا ڈبل وصول ہو جائے گا باقی سب ڈبہ میں۔ پھر وہی کھونٹا اور وہی بیل!