’’سسٹم بدلنا ہوگا‘‘ - محمد اطیب

چند روز قبل سی ویو پر ہونے والے ایک معمولی حادثے نے ایک نوجوان کی جان لے لی اور ایک نوجوان کو نہ جانے کب تک کے لیے جیل کی سلاخوں کےپیچھے دھکیل دیا ہے۔اس حادثے نے جہاں کئی سوالات کو جنم دیا ہے وہیں ہم سب کے اجتماعی شعور کو بھی جھنجوڑا ہے۔اس تحریر کے ذریعہ چند سنگین نکات کی نشاندہی ضروری ہے۔

۱۔قانون توڑنا ہمارے معاشرے میں عام فرد سے لیکر حکمران تک ہر ایک کے لیے معمولی بات ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ایسے سانحات کا رونما ہونا معمول بن گیا ہے۔اگر حکمران مالی کرپشن میں ملوث ہیں تو ہم عوام بھی اخلاقی کرپشن میں کسی سے کم نہیں۔

۲۔۱۸سال یا اُس سے کم عمر نوجوان کا بغیر لائسنس گاڑی چلانا قانونی طور پر جرم ہے مگر ہم میں سے ہر کوئی اس قانون کو پامال کرتا ہے۔والدین بھی اولاد کو منع نہیں کرتے اور اُولاد بھی گاڑی یا بائیک ہاتھ آتے ہی اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔

۳۔ٹریک ریسنگ پر حادثات معمول بن گئے ہیں جس کے لیے قانونی اداروں کی جانب سے کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔یہ زہر نہ صرف پیسوں کا ضیاع بن گیا ہے بلکہ وقت اور انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی ایک بڑا سبب بن گیا ہے۔بدقسمتی سے ادارے جب ہی حرکت میں آتے ہیں جب کسی قسم کا سانحہ پیش آتا ہے۔

۴۔اسلحہ چاہے لائسنس ہو یا غیر لائسنس یافتہ، اگر گنجے کو ناخن مل جائیں تو وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے اور اسلحہ کا کھلم کھلا استعمال بھی ایک فیشن بن چکا ہے۔والدین بھی اولاد کو اسلحہ تھمانے میں شاید فخر سمجھنے لگے ہیں۔اچھے اچھے سمجھدار گھرانوں کی اولادوں کو کھلم کھلا اسلحہ کا استعمال کرتے دیکھا ہے۔

۵۔شاہ زیب قتل کیس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے، جو نتیجہ ہوا اُس کے پیچھے صرف پیسہ کارفرما تھا۔یہاں مقتول کے اہل خانہ کی حوصلہ شکنی مقصود نہیں مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قانونی معاملات میں ’’مک مکا‘‘ ایک ناقابل تردید حقیقت بن گیا ہے۔اس اخلاقی کرپشن کے نتیجے میں مجرم آج بھی آزاد ہیں اور قانونی ادارے کمزور ہیں۔

۶۔شراب نوشی،منشیات،سگریٹ نوشی نہ صرف نوجوانوں کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ المیہ بن چکی ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان سب چیزوں کی کھلے عام دستیابی ایک سوال ہے۔والدین کا اولاد پر کنٹرول کم ہوتا جارہا ہے۔

قصہ مختصر معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی کرپشن کا شکار ہو کے اپنی اقدار کھوچکا ہے۔مسئلہ صرف اور صرف ’’سسٹم‘‘ کی درستگی کا ہے۔جب تک یہ تبدیل نہیں ہوتا واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔مایوسی نے کچھ اس طرح ہمارے دلوں میں گھر کیا ہے کہ اب ہم ان مسائل پر بات کر کے نا وقت ضائع کرنا چاہتے ہیں نا ہی چیزوں کو بدلنا چاہتے ہیں۔اسی مایوسی کو توڑنا ہوگا کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ اس سسٹم نامی بلا کو ہی بدلنا ہوگا۔سسٹم جب تک نہیں بدلے گا ان کیسز کے نتائج سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔آج سے اس سسٹم کو بدلنا ہوگا تبھی کچھ ہوگا۔میں اس سسٹم کو بدلنا چاہتا ہوں۔کیا آپ میرا ساتھ دینا پسند کریں گے؟