اصطلاحات کی کشمکش - فیصل ریاض شاہد

زبان کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا بدقسمتی سے ہمارے ہاں سمجھ لیا گیا ہے۔ ہم الفاظ بولتے وقت ان کے پس منظر تو کیا، ان کے معانی پر بھی دھیان نہیں دیتے اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہم جو لفظ بول رہے ہیں ان میں کہیں خرابی ہے یا نہیں؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمیں زبان سے بالکل بھی لگاؤ نہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں زبان آتی ہی نہیں۔ ہاں جو اہل زبان و اہل علم ہوں وہ ان باتوں کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

اس تمہیدکے بعد یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی فرصت میں الفاظ اور ان کے مترادفات پر غور فرما کر دیکھیے۔ الفاظ آپ کو خود بتائیں گے کہ اگرچہ ہم مترادف ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے معانی میں، تھوڑا سہی، فرق ضرور ہے۔ یہ فرق اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب دو مقابل الفاظ کا تعلق دو مختلف زبانوں سے ہو اور یہ فرق اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتا ہے جب دو مختلف زبانوں کے ہم معنی الفاظ، اپنے پس منظر سمیت (اصطلاح کی صورت میں) مقابل آ جائیں۔

ہر معاشرے ایک خاص زبان کو جنم دیتا ہے، اور یہ زبان ایک خاص تصور علم (علمیت) کی پروردہ ہوا کرتی ہے۔ اس زبان اورتصور علم کے کچھ مخصوص الفاظ اس مخصوص معاشرے کی اصطلاحات کہلاتی ہیں جو محض اسی معاشرے کے لیے موزوں (سوٹ ایبل) ہوتی ہیں۔ ان اصطلاحات کو دوسرے معاشرے اور خصوصاً دوسرے نظریات کے افراد پر چسپاں نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم اس غلطی کا ارتکاب کر لیں تو اہل زبان ہمیں اس سے منع کریں گے اور ہمیں احساس دلائل گے کہ ہم نے کہیں کی اینٹ کہیں جا لگائی ہے۔

اوپر کی تمام باتوں کو سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں:

1۔ شوبر کی فیلڈ (معاشرہ/علمیت) میں اچھے اداکاروں کو "اسٹار" کہا اور مانا جاتا ہے۔ انہی اداکاروں کوہماری اسلامی دیہاتی علمیت میں "کنجر" کہا اور مانا جاتا ہے۔ دیکھیں افراد وہی ہیں جو ایک علمیت کے اسٹارز ہیں لیکن دوسری علمیت کے "کنجر"!

ہم جانتے ہیں کہ فلمی دنیا میں سٹار سے مراد روشن ستارہ ہوتا ہے۔ روشن ستارہ ان معنوں میں کہ بقیہ تمام اداکار بھی ہوتے تو آسمان ِادا کے ستارے ہی ہیں لیکن کچھ اداکار بڑے فنکار ہوتے ہیں، یعنی یہ ستارے بقیہ ستاروں کی نسبت زیادہ روشن ہوتے ہیں۔ پس انہیں اہل فلم خاص طور پر "سٹار" کا لقب دیتے ہیں جس سے ان کی مراد "روشن ستارہ" ہوا کرتا ہے۔

اب اگر کوئی شخص اس اصطلاح"سٹار" کے پس منظر سے واقف نہ ہو تو وہ یہی سمجھے گا کہ سٹار سے مراد صرف ایک "روشن تارہ" ہی ہے یعنی ایک ممتاز ستارہ۔۔۔ اور وہ اپنی پسندیدہ کسی بھی شخصیت کے لیے اس لفظ کا استعمال شعوری یا لاشعوری طور پر جائز سمجھے گا۔ وہ شخص اگر اس کا اطلاق کسی مشہور اداکار پر کرے تو تب تو یہ ایک درست بات مانی جائے گی لیکن آپ خود سوچیے کہ اس لفظ کو اس کی علمیت سے جدا کر کے، بالکل ایک دوسری علمیت مثلاً اسلامی علمیت کے کسی فرد پر بولا جائے تو کیسا لگے گا؟ مثلاً اگر صحابہ اکرام میں سے ممتاز ترین صحابہ اور خصوصاً خلفائے راشدین کو "سٹار" کہا جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ آپ کی چھٹی حس فورا آپ کو خبردار کر دے گی کہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہے، اگر آپ کی حس اس موقع پر کام نہ کریں تو اپنی نبض چیک کروائیں۔ یہ گڑ بڑ دراصل اسی وجہ سے ہے کہ آپ نے زبان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

2۔ یہی حال ایک دوسری اصطلاح "ہیرو" کا ہے۔ کیا آپ اس ایک مختلف علمیت کے لفظ کو دوسری علمیت کے افراد مثلاً انبیاء کرام کے لیے بولنا گوارا کریں گے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ اگریہ لفظ ہیرو اور اس جیسے دیگر الفاظ کے مفاہیم پوری ایمانداری کے ساتھ صادق بھی آتے ہوں تو پھر بھی ان الفاظ کا اطلاق مقدس ہستیوں پر نہیں کیا جا سکتا۔

3۔ اسی طرح اصطلاح "بنیاد پرست " ہے، جس کا طعنہ ہمیں اغیار سے سننے کو ملتا ہے۔ وہ لوگ یہ لفظ ہمارے لیے بطور طعنہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کی علمیت میں واقعی یہ ایک طعنہ ہے لیکن ہم اسے طعنہ نہیں سمجھتے۔ کیونکہ ہماری علمیت میں بنیاد پرستی تو ایمان کا حصہ ہے۔ مثلاً ہماری بنیاد اسلام ہے اور اسلام کی بنیاد توحید و رسالت، لہذا ہم بنیاد پرست ہی ہیں۔ ہاں ہم بنیاد پرست ہیں! اس میں شرمندگی کی کیا بات؟

4۔ اسی طرح ایک مشہور فسانہ لفظ "مولوی " ہے جو دور حاضر کا بدنام ترین لفظ قرار دیا جا ئے تو بے جا نہ ہو گا۔اس لفظ کو بدنام کس نے کیا؟ دیسی لبرلز نے کیونکہ ان کی علمیت میں مولوی ایک عجیب ترین مخلوق کا نام ہے۔ لیکن اگر ہم اسلامی علمیت کے مطابق جائزہ لیں تو آج سے سو سال پہلے یہ لفظ بڑے بڑے علماء کے لیے بطور لقب بولا جاتا تھا۔ دیکھیں لفظ ایک ہی ہے مگر دو مختلف علمیتوں میں (روایتی مسلمانوں اور دیسی لبرلز کے درمیان ) اس کا استعمال اور اثر بالکل الٹ ہے۔

یقیناً آپ الفاظ و اصطلاحات،اور علمیتوں کی کشمکش کو سمجھ رہے ہوں گے۔ اس مختصر سی تحریر میں اس موضوع کو سمیٹنا میرے بس کا کام نہیں ہے۔ اس لیے حاصل کلام کے طور پر اپنا موقف ان الفاظ باندھ رہا ہوں: "ایک خاص اصطلاح کو اس کی علمیت سے نکال کر کسی دوسرے علمیت کے افراد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر موزوں، غیر علمی اور غیر منطقی ہے بلکہ بسا اوقات جب بات مقدس ہستیوں کی آئے تو اس ارتکاب کو توہین بھی شمار کیا جا سکتا ہے، اس لیے زبان کے معاملے میں عموماً اور مشہور اصطلاحات کے حوالے سے خصوصاً احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔"