مُہرِنَبُوَّت، حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ - انعام حسن مقدم

الله تبارک و تعالٰی نے حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کو جن امتیازی اوصاف و خصوصیات سے متصف فرمایا اور ان کا بیان بطورِ امتیاز و علامات سابقہ کتب میں بھی ارشاد فرمایا ان میں سے ایک "مُہرِ نبوّت" بھی ہے۔ مہرِ نبوت حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم کے آخری نبی ہونے کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ سابقہ الہامی کتب میں مذکور تھا کہ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم کی ایک علامت اُن کی پشتِ اقدس پر مہرِ نبوت کا موجود ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ کتاب جنہوں نے اپنی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا، اس نشانی کو دیکھ کر حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم پر ایمان لاتے تھے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ بھی حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم کی پشتِ اقدس پر مہرِ نبوت کی تصدیق کر لینے کے بعد ہی ایمان لائے تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ کے قبولِ اسلام کا واقعہ کتبِ تاریخ و سیر میں تفصیل سے درج ہے۔ آتش پرستی سے توبہ کر کے عیسائیت کے سے وابستہ ہوئے۔ پادریوں اور راہبوں سے حصولِ علم کا سلسلہ جاری رہا، لیکن دل کو اطمینان حاصل نہ ہوا۔ اسی سلسلے میں اُنہوں نے کچھ عرصہ عموریہ کے پادری کے ہاں بھی گزارا۔ عموریہ کا پادری الہامی کتب کا ایک جید عالم تھا اُس کا آخری وقت آیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ نے دریافت کیا کہ اب میں کس کے پاس جاؤں؟ الہامی کتب کے اُس عالم نے بتایا کہ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم کا زمانہ قریب ہے۔ یہ نبی دینِ ابراہیمی کے داعی ہوں گے اور پھر عموریہ کے اُس پادری نے مدینہ منورہ کی تمام نشانیاں حضرت سلمان فارسی رضی الله تعالٰی عنهُ کو بتا دیں کہ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم مکہ سے ہجرت کر کے کھجوروں کے جھنڈ والے اس شہر میں سکونت پذیر ہوں گے۔ عیسائی پادری نے الله کے اس نبی کے بارے میں بتایا کہ وہ صدقہ نہیں کھائیں گے البتہ ہدیہ قبول کر لیں گے اور یہ کہ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہو گی۔پادری انتقال کر گیا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ شہرِنبی کی تلاش میں نکل پڑے۔

سفر کے دوران حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ چند تاجروں کے ہتھے چڑھ گئے لیکن دل میں نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم کے دیدار کی تڑپ ذرا بھی کم نہ ہوئی، یہ تاجر اُنہیں مکہ لے آئے، تاجروں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ کو اپنا غلام ظاہر کیا اور اُنہیں مدینہ (جو اُس وقت یثرب کہلاتا تھا) کے بنی قریظہ کے ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اُنہوں نے یہودی کی غلامی قبول کر لی۔ یہودی آقا کے ساتھ جب وہ یثرب (مدینہ منورہ) پہنچ گئے تو گویا اپنی منزل کو پا لیا۔

عموریہ کے پادری نے یثرب کے بارے میں انہیں جو نشانیاں بتائی تھیں وہ تمام نشانیاں حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ نے دیکھ لیں، وہ ہر ایک سے نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم کے ظہور کے بارے میں پوچھتے رہتے لیکن ابھی تک وہ بے خبر تھے کہ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم مکہ سے ہجرت کر کے اس شہر میں تشریف لا نے والے ہیں۔ روایات میں مذکور ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ ایک دن اپنے یہودی مالک کے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے کہ اُنہوں نے سنا کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آنے والی ہستی نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم ہونے کی داعی ہے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ ایک طشتری میں تازہ کھجوریں سجا کر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یہ صدقے کی کھجوریں ہیں۔ آقائے دوجہاں نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم نے وہ کھجوریں واپس کر دیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے۔ عموریہ کے پادری کی بتائی ہوئی ایک نشانی سچ ثابت ہو چکی تھی۔ دوسرے دن پھر ایک خوان میں تازہ کھجوریں سجائیں اور کھجوروں کا خوان لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ عرض کی یہ ہدیہ ہے، قبول فرما ئیے۔ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم نے یہ تحفہ قبول فرما لیا اور کھجوریں اپنے صحابہ میں تقسیم فرما دیں۔ دو نشانیوں کی تصدیق ہو چکی تھی۔ اب مُہرِ نبوت کی زیارت باقی رہ گئی تھی۔ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم جنت البقیع میں ایک جنازے میں شرکت کے لیے تشریف لائے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ حضور کی پشت کی طرف بے تابانہ نگاہیں لگائے بیٹھے تھے۔ نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم نے نورِ نبوت سے دیکھ لیا کہ سلمان رضی اللهُ تعالٰی عنهُ کیوں بے قراری کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ ازرہِ محبت اپنی پشت انور سے پردہ ہٹا لیا تاکہ مہرِ نبوت کے دیدار کا طالب اپنے من کی مراد پا لے۔ پھر کیا تھا حضرت سلمان فارسی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ کی کیفیت ہی بدل گئی، فرطِ محبت سے آگے بڑھ کر مہرِ نبوت کو چوم لیا اور نبی آخر الزماں حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیهِ وَ آلهِ وَ بارِک وَ سلم پرایمان لے آئے۔ (حاکم۔المستدرک؛ بزار۔المسند؛ طبراني۔معجم الکبير؛ ابن سعد-الطبقات الکبريٰ؛ ابونعيم اصبهاني۔دلائل النبوة)

یہ بھی پڑھیں:   مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا - نوید احمد

خاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰی حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے دونوں شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر (یہ تشبیہ سائز کی نسبت سے ہے) مہر نبوت تھی یہ بظاہر سرخ ابھرا ہوا گوشت سا تھا۔ لیکن ایک اور روایت کے مطابق بائیں شانہ کے پاس چند مہاسوں کی مجموعی ترکیب سے ایک مستدیر (دائرے دار، گول، مدوّر) شکل پیدا ہوگئی تھی اُسی کو مہر نبوّت کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللهُ تعالٰی عنهُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت کو دیکھا جو کبوتر کے انڈے کی مقدار میں سرخ اُبھرا ہوا ایک غدود تھا۔ (الشمائل المحمدیۃ، باب ماجاء فی خاتم النبوۃ)۔

مہرِ نبوت حضور صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی گردن کے نیچے دوکندھوں کے درمیان ایک پارۂ گوشت تھا جس پر کچھ تل تھے۔ کبوتری کے انڈے یا مسہری کی گھنڈی کے برابر پارۂ گوشت نہایت چمکیلا اور نورانی تھا، تِل سیاہ، آس پاس بال، ان کے اجتما ع سے یہ جگہ نہایت بھلی ہوتی تھی۔ نیچے سے دیکھو تو پڑھنے میں آتا تھا؛"اَللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَہٗ" اور اوپر سے دیکھو تو پڑھا جاتا تھا "تَوَجَّہَ حَیْثُ کُنْتَ فَاِنَّكَ مَنْصُورٌ"۔ اس رائے میں اختلاف ہے کہ بوقت ولادت یہ مہر موجود تھی یا نہیں۔ بعض نے فرمایا کہ شق صدر کے بعد فرشتوں نے جو ٹانکے لگائے تھے ان سے یہ مہر پیدا ہوگئی تھی۔ صحیح یہ ہے کہ بوقتِ ولادت اصل مہرموجود تھی مگر اس کا ابھار اُن ٹانکوں کے بعد ہوا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد اول)۔

حضرت سائب بن یزید رضی اللهُ تعالٰی عنهُ سے مروی ہے کہ؛ "میری خالہ جان مجھے حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی خدمتِ اقدس میں لے گئیں اور عرض گزار ہوئیں؛ یا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم، میرا بھانجا بیمار ہے۔ آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم نے میرے سر پر اپنا دستِ اقدس پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر وضو فرمایا تو میں نے آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے وضو سے بچا پانی پی لیا پھر آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہرِ نبوت کی زیارت کی جو کبوتر (یا اس کی مثل کسی پرندے) کے انڈے جیسی تھی۔" یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ (صحيح بخاری، صحيح مسلم، سنن الکبرٰی، معجم الکبير)۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللهُ تعالٰی عنهُ بیان کرتے ہیں کہ؛ "میں نے حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی پشت مبارک میں مہرِ نبوت دیکھی، جیسے کبوتر (یا اُس کی مثل کسی پرندے) کا انڈا ہو۔" اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جو تبسم رخ زیست تھا ﷺ - نوید احمد

حضرت مخرش کعبی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ؛ "حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم رات کو مقام جعرانہ سے نکلے۔ میں نے آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی کمر مبارک کی طرف دیکھا تو اُسے خالص سفید چاندی کی طرح چمکتا ہوا پایا، پس آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم نے عمرہ ادا فرمایا۔" اِس حدیث کو امام نسائی، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

حضرت عبد الله بن سرجس رضی اللهُ تعالٰی عنهُ بیان کرتے ہیں کہ؛ "میں نے حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی زیارت کی اور آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، یا کہا ثرید کھایا۔" راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الله رضی اللهُ تعالٰی عنهُ سے پوچھا کہ؛ "کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے لیے دعائے مغفرت کی تھی؟" اُنہوں نے فرمایا؛ "ہاں اور تمہارے لیے بھی۔ پھر یہ آیت پڑھی؛ "اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ اُمت کی خاطر اللہ تعالٰی سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے خلافِ اولٰی (یعنی آپ کے مرتبہ عالیہ سے کم درجہ کا) فعل صادر نہ ہو جائے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی اُن کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی اُن کا سامانِ بخشش ہے)۔" پھر میں آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے پیچھے گیا تو میں نے آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت دیکھی، وہ آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے بائیں کندھے کی چپنی ہڈی کے پاس مسوں کے تل کی طرح تھی۔" اِس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

حضرت علی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ نے (حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے) فرمایا؛ "آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی، آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم آخری نبی ہیں۔" اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

"حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی پشتِ اقدس کشادہ تھی اور آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی۔" اِس حدیث کو امام ابن عساکر اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللهُ تعالٰی عنهُ کے پوتے حضرت ابراہیم بن محمد رضی اللهُ تعالٰی عنهُ کہتے ہیں؛ "حضرت علی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ حضور نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی صفات گنواتے تو طویل حدیث بیان فرماتے اور کہتے کہ دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپ صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم خاتم النبیيّن ہیں‪۔‬ (ترمذي، ابن ابي شيبه، ابن عبدالبر، ابن هشام)

حضرت جابر رضی اللهُ تعالٰی عنهُ فرماتے ‪ہیں۔ ‬پس میں نے مہرِ نبوت اپنے منہ کے قریب کی تو اُس کی دلنواز مہک مجھ پر غالب آرہی تھی۔" (صالحي)۔

صحابۂ کرام رضی الله تعالٰی عنہم نے حضور صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلهِ وَ بارِک و سلم کی مہرِنبوت کی ہیئت اور شکل و صورت کا ذکر مبارک مختلف تشبیہات یا الفاظ سے کیا ہے۔ کسی نے کبوتری کے انڈے سے جسامت و قامت کی ہیئت سمجھانے کی کوشش کی تو کسی نے گوشت کے اُبھار سے، کسی نے بالوں کے گچھے سے اور کسی نے مَسّوں یا تِل سے مہرِ نبوت کو تشبیہ دی ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ تشبیہات و الفاظ کا استعمال ہر شخص کے اپنے ذوق اور ذخیرۂِ الفاظ کا رہینِ منت ہوتا ہے اس لیے مختلف روایات میں موجود علیحدہ علیحدہ الفاظ یا استعارات سے چنداں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ شارحینِ حدیث نے انتہائی عرق ریزی اور محنت سے ان تمام الفاظ و تشبیہات و تراکیب کی تطبیق کی ہے جس کو ہم اختصار کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کررہے۔