ترکی بہ ترکی، احوالِ سفر ترکی - حافظ ساجد اقبال

جیسے جیسے ہماری سیٹ کے سامنے والی سکرین پر یہ نظر آرہا تھا کہ ہمارا جہاز تھوڑی دیر میں استنبول کے ہوائی اڈے پر اترنے والا ہے، ویسے ویسے ہی ترکی اور استنبول کے ساتھ ہمارے تاریخی ربط کے جھروکے کبھی بازنطینی ریاست سے قسطنطنیہ، رومی سپر پاور سے سلطان محمد فاتح، میزبانِ رسول ؐ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے خلافت عثمانیہ، بدر الزمان سعید نورسی سے نجم الدین اربکان، مصطفیٰ کمال پاشا سے عدنان میندریس اور حال کے زمانے میں داخل ہوتے ہوئے فتح اللہ گولن کے تعلیمی نیٹ ورک اور طیب اردگان کے عالمی کردار تک پہنچ کہ تہ و بالا ہو رہے تھے کہ جہاز کی لینڈنگ کی تیاریاں شروع کردی گئیں اور عملے نے ہر نشست تک پہنچ کر سیٹ بیلٹ باندھنے اور نشست سیدھی کرنے کی درخواست کردی۔

لینڈنگ سے ذرا پہلے ہمیں کھڑکی سے ساحل سمندر پر چلتے پھرتے سمندری جہاز نظر آنا شروع ہوگئے تھے اور یہ مناظر بہت خوبصورت تھے، گویا کہ استنبول پر ہونے والی پہلی نظر نے ہی اس کی دلفریب خوبصورتی کی توثیق کردی تھی۔ جہاز اترتے ہی مسافر اپنے سامان کے ساتھ باہر نکلنے لگے امیگریشن کے درجنوں کاؤنٹر مصروفِ عمل تھے لیکن رَش اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ دنیا بھر کے سیاح استنبول کی خوبصورتی اور تاریخی کردار سے متاثر ہیں۔ انتظار کے لمحات گو فطری طور پر طویل ہی محسوس ہوا کرتے ہیں لیکن عملے کا انداز مجموعی طور پر خوشگوار تھا اور ہم جلد ہی اپنے بیگ سمیٹ کر دوستوں کے ہمراہ استنبول کے بڑے اور مصروف ایئر پورٹ سے باہر نکل رہے تھے سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے ٹریول گائیڈ بھی خاصی تعداد میں اپنے clients کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ ہوٹل کی بس کے انتظار میں ہمیں قریبی مسجد سے اذان کی خوبصورت آواز سنائی دی اور ہم پھر ترکی کی جمہوری ریاست کے قیام کی تاریخ اور اثرات کو یاد کرنے اور ترکی کے عوام کی اسلام سے لازوال محبت اور استقامت کی داستانوں کو اپنے کانوں سے پایۂ ثبوت تک پہنچتا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ گو ہمارا ہوٹل ایئر پورٹ سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا لیکن ہمیں مساجد کی تعمیر میں خاص اور منفرد ترکی طرز اور ایک جیسے مینار بہت بھلے لگے۔ بل کھاتی سڑکوں اور خوبصورت عمارتوں کے ساتھ ساتھ استنبول کے صاف شفاف ماحول اور سرسبز گرین بیلٹس نے تمام سنی سنائی حکایات کی تصدیق کردی تھی۔

ہوٹل پہنچ کر لنچ اور بعد ازاں کچھ آرام اور پورے پاکستان سے شریک سفر ۲۵ کے قریب دارِ ارقم کے ریجنل ڈائریکٹرز مختلف گروپس میں قریبی علاقوں میں گھومنے اور اہل ترکی کے انداز خورد و نوش سے لطف اندوزہونے کے لیے ہوٹل سے نکل گئے اور کچھ دیر بعد واپس تشریف لے آئے۔

اگلے دن صبح ناشتے کے بعد ہمیں حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے مزار اور استنبول کے معروف مرکز تقسیم سکوائر کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ہمارے ٹریول گائیڈ کی ترتیب کے مطابق پہلے ہم تقسیم سکوائر پہنچے اور وہاں ایک فسیٹیول پر لگے سٹالز کو دیکھا مختلف سٹالز کے درمیان کچھ کتب کے سٹال تھے لیکن سب کتابیں ترکی زبان میں تھیں۔ ایک سٹال پر بیٹھی خاتون سے انگریزی کتابیں موجود ہونے کا سوال بھی کیا لیکن جواب تھا کہ ’’No‘‘۔ انگریزی زبان سے ترکوں کی بے نیازی کمال کا درسِ عبرت ہے انگریز ی کو ہی ترقی اور جدیدیت کا ذریعہ سمجھنے والے ہمارے جیسے غلام ذہنوں کے لیے ۔ ترکی کے موجودہ صدر کو تمام عالمی فورمز سمیت اہم ترین مواقع پر ترکی کے علاوہ کسی اور زبان میں گفتگو کرتے نہیں سنا گیا، سوائے ایک آدھ ہنگامی حالت کے شاید ہی کسی موقع کے۔ پورے استنبول میں انگریزی کے بورڈز گنتی پر شمار کیے جاسکتے ہیں اور ٹریول گائیڈز کے علاوہ بہت کم لوگ انگریزی بولتے اور سمجھتے ہیں۔ گویا یہ اعلان کہ اپنی ہی زبان ترقی اور عروج کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔

تقسیم سکوائر کے کھلے میدان میں قریبی تاریخی علامتیں موجود ہیں اور اس میدان کے نیچے کئی منزلہ میٹرو ٹرین جسے مقامی زبان میں ٹرام کہا جاتا ہے، کا وسیع سٹیشن واقع ہے۔ سکوائر کے درمیان سے معروف استقلال سٹریٹ کا آغاز ہوتا ہے۔ جو خاصی طویل اور خوبصورت ہے۔ بعد ازاں ایک کیبل کار کے ذریعے ہم ایک بڑے پہاڑی قبرستان سے ہوتے ہوئے اس کے دامن میں واقع صحابی رسولؐ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار اور عین سامنے مسجد میں حاضر ہوئے۔

استنبول کی تمام مساجد کا طرز تعمیر مخصوص انداز کا حامل ہے۔ درمیان میں اونچا گنبد اور باہر کی طرف دور سے نظر آتے دو مینار (بعض جگہ میناروں کی تعداد کم زیادہ بھی ہے) اور بلند چھتیں ایک خاص رعب کی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ روایات کے مطابق بہت سے صحابہ کرامؓ بشمول حضرت ابو ایوب انصاریؓ اُس حدیث مبارکہ کے مصداق بننے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے اس علاقے کی فتح کے آنے والے لشکروں میں شامل ہوئے جس میں اس لشکر اور اس کے سپہ سالار کو بہترین لشکر قرار دیا گیا جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور جنت واجب ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا اور بہت سے تابعین اور تبع تابعین بھی اس علاقے کی فتح کے لیے تشریف لاتے رہے اور بالآخر یہ سعادت سلطان محمد فاتح کے حصے میں آئی۔

ظہر اور عصر کی نمازیں ہم نے اپنے گروپ کے ساتھ اسی مسجد میں ادا کیں اور پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے اور مسنون دعائیں پڑھیں۔ پوری دنیا سے آنے والے مسلمان اور غیر مسلم بھی یہاں آتے ہیں۔ مسلمانوں کے چہروں پر نمایاں طور پر خوشی، محبت اور عقیدت کے جذبات دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ غیر مسلم مرد و خواتین کا شوق بھی دیدنی تھا۔ مزار کے احاطے میں وہ احادیث مع متن درج تھیں جن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا نام نامی اسم گرامی موجود ہے۔ بعض احادیث خود حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت ام ایوبؓ سے روایت کردہ ہیں۔

مزار سے باہر نکلتے ہی ایک خاتون جو سکارف اور عبایا میں ملبوس تھیں اور شکل و شباہت میں پاکستانی محسوس نہ ہوتی تھیں، ہمیں دیکھ کر اردو میں کہا کہ پاکستان سے آئے ہیں؟ ہم حیران تھے کہ یہ کون ہیں انہوں نے تعارف کروایا کہ میں پشاور سے ہوں اور اپنی فیملی کے ہمراہ استنبول میں رہائش پذیر ہوں۔ اس خاتون نے ہمارے گروپ لیڈر عامر محمود چیمہ کی فرمائش پر مزار کے باہر نصب ترکی زبان کے کتبہ کا ترجمہ بھی کر کے سنایا۔ مسجد اور مزار پر حاضری یقینا ایک روح پرور منظر تھا۔ مسجد میں تلاوت اور نماز کے دوران ہجرت مدینہ اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ بطور میزبان رسولؐ کے واقعات بار بار ذہن میں گھوم رہے تھے اور ہم اپنی خوش بختی پر بھی اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ ہمیں ان مقامات کی زیارت کا موقع نصیب ہوا۔ یہاں سے فارغ ہوکر ہم استنبول کی گلیوں سے ہوتے ایک بڑے شاپنگ مال میں پہنچے اور کھانا وغیرہ کھا کہ دوبارہ اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔

اگلے روز ہمیں استنبول کی تین مشہور ترین عمارات کا دورہ کرنا تھا ان میں پہلے نمبر پر سلطان احمد مسجد جو کہ نیلی مسجد کے نام سے معروف ہے دوسرا آیا صوفیا جو کہ اسلام اور عیسائیت کی تہذیبوں اور کشمکش کا شاہکار ہے اور تیسرا توپ کاپی میوزیم شامل تھے۔

ہماری گاڑی نے ہمیں نیلی مسجد کے عین قریب چوک میں اتارا اور ہم ارد گرد کی تاریخی عمارات اور قدیم مینار دیکھتے ہوئے مسجد کے اندر داخل ہوگئے۔ ویسے تو ترکی کو مساجد کا ملک کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ترکی کے پھر چھوٹے بڑے شہر میں مسجد ایک مخصوص نقشے کے مطابق ہی تعمیر ہوتی ہے ہم نے نئی مساجد کی تعمیر بھی اسی طرز تعمیر کے مطابق ہوتے دیکھی۔ نیلی مسجد ایک خاص رعب کی حامل مسجد ہے۔ مسجد کا بڑا اور قدیم ہال پوری اسلامی عبادات کی روح اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ ترکی کی اکثر مساجد قدیم تعمیر شدہ ہیں، اس وسیع اور خوبصورت مسجد کو سلطان احمد نے 1609ء سے 1615ء کے دوران تعمیر کیا اسی لیے اس کا نام سلطان احمد مسجد بھی ہے۔ نیلی مسجد اسے اندر لگنے والی نیلی ٹائلوں کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور اس کی مرمت کا کام جاری رہتا ہے۔ ہم مسجد کی سیر کر رہے تھے اور اس کے روحانی ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ ظہر کی اذان کا وقت ہوگیا اور ہم نے ظہر کی نماز با جماعت ادا کی۔ ترکی کی مساجد میں با جماعت نماز کا منظر قابل دید ہوتا ہے۔ اذان، دعائیں، اقامت نماز کے بعد کے اذکار اور دعاؤں کا اہتمام ایک مخصوص انداز سے کیا جاتا ہے۔ اذان کے لیے الگ چبوترا ترکی کے تمام شہروں کی مساجد میں دیکھا گیا۔ اسی چبوترے سے موذن اذان اور اقامت کہتا ہے اور مختلف مواقع کی دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے۔ ہمارے لیے یہ ایک نیا اور مختلف تجربہ تھا۔ نماز کے بعد امام صاحب خوب صورت آواز میں قرآن حکیم کی 2/3 آیات کی خوبصورت انداز سے تلاوت فرماتے ہیں۔ نماز کے بعد ہم باہر نکلے تو ہمارے سامنے ترکی کے دو تاریخی معروف ترین مقامات تھے پہلے آیا صوفیا اور پھر اس سے ذرا گے توپ کاپی کا میوزیم۔ ہمیں بتایا گیا کہ تفصیلی سیر کی جگہ توپ کاپی کا میوزیم ہے اور آیا صوفیا تو محض ایک ہال ہے۔ بہرحال ہم توپ کاپی کے محل میں داخل ہوئے۔ یہ محل اب بہت بڑے میوزیم کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس میوزیم کو دیکھنے کے لیے کئی گھنٹے درکار ہیں۔ اس میوزیم میں قرآن مجید کے قدیم نسخے، انبیائے کرام ؑ سے منسوب مختلف چیزیں، خانہ کعبہ کی چابیاں، نبی کریمؐ، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت کی استعمال شدہ تلواریں، لباس اور زرہیں وغیرہ قابل دید ہیں اس کے علاوہ خلافت عثمانیہ کے دور میں استعمال شدہ آلات حرب بھی بہت خوبصورت انداز میں محفوظ کیے گیے ہیں۔ توپ کاپی میوزیم کے وسیع رقبے میں آپ ترکی کے سلطانوں کے استعمال شدہ رہائش گاہیں، حرم اور شہزادیوں اور ملکاؤں کے زیر استعمال کمرے اور مجالس گاہیں فرنیچر سمیت محفوظ کی گئی ہیں۔ یورپ، عرب ممالک اور افریقہ وغیرہ کے سیاحوں کی بڑی تعداد میوزیم کو دیکھنے کے لیے موجود تھی۔ کمال یہ ہے ساری اشیاء کو انتہائی احتیاط اور خوب صورتی سے محفوظ کیا گیا ہے اور محفوظ کرنے کا عمل مزید جاری ہے۔ میوزیم کے بعض حصوں سے باہر نکل کر سمندر کا خوب صورت منظر دیر تک دیکھنے کے قابل ہے خاص طور میوزیم کے کیفے کا بڑا حصہ سمندر کے کنارے پر واقع ہے۔ وسیع و عریض نیلے پانی میں سفید رنگ کے چھوٹے بڑے بحری جہاز ایسا منظر پیدا کرتے ہیں کہ خالقِ کائنات کے نعمتوں اور کمالات کا بے اختیار شکر ادا کرنے کو جی چاہتا ہے۔میوزیم کے کیفے کی یادگاروں میں سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی تصاویر اور ان کے دورے کے موقع پر لی گئی تصاویر اور ان کے تاثرات مع دستخط موجود تھے۔ میوزیم سے باہر نکل کر اسی احاطے میں اسلامی تعمیری آرٹ میوزیم اور تاریخی چرچ بھی دیکھنے کے قابل مقامات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (13) – احسان کوہاٹی

توپ کاپی میوزیم کے مرکزی دروازے سے نکل کر نیلی مسجد کی طرف چلتے ہیں تو آپ کے دائیں ہاتھ آیا صوفیا کی عظیم الشان عمارت نظر آتی ہے۔ آیا صوفیا کی عالیشان اور خوبصورت عمارت سے قبل ایک بڑے احاطے میں کئی کمروں پر مشتمل ترکی کے سلاطین اپنے خاندان کے افراد سمیت محو استراحت ہیں ان کی قبروں پر ایک جیسے سبز رنگ کے قالین چڑھے ہوئے ہیں۔ آیاصوفیا کی عمارت میں داخل ہوکر اس عظیم الشان اور بلند و بالا عمارت پر غور کرنے سے انسان اسلامی اور عیسائی تاریخ کے اس مشترکہ ورثے کی ہیبت میں ڈوبے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ، محمدؐ، خلفائے راشدین، حضرات حسنؓ و حسینؓ کے بڑے بڑے سبز طغرے اور قبلہ رخ منبرد محراب کے ساتھ ساتھ چرچ کی مخصوص تصاویر و دیگر نقوش ایسا ماحول بناتی ہیں جس سے نصرانی تہذیب کے غلبے کی علامات کو اسلامی تہذیب کے احیاء کے لیے سلطان محمد فاتح سے لے کر طیب رجب اردگان کی کاوشوں کو ان در و دیوار سے با آسانی دیکھ سکتے ہیں، محسوس کرسکتے ہیں اور سن سکتے ہیں۔ بلاشبہ آیا صوفیا نے اتوار کی عیسائی دعائیں اور عبادات بھی دیکھی ہیں اور اللہ اکبر کی صدائیں بھی، آج بھی یہ منظر زبانِ حال سے بولا اور سنا جاسکتا ہے۔

اگلے دن ہم سمندری سفر پر روانہ ہوئے اور ہماری منزل پرنسس آف آئی لینڈ المعروف بوئے کدہ کا جزیرہ تھا۔ بحری جہاز کے ذریعے قریباً ایک گھنٹے میں ہم اس سر سبز پہاڑوں پر مشتمل جزیرے کے ساحل پر لنگر انداز تین منزلہ جہاز سے اتر رہے تھے جس میں کیفے اور دیگر سہولیات بھی موجود تھیں۔ دنیا کے مختلف خطوں سے مرد و خواتین سیاح موجود تھے۔ یہ جزیرہ کیا تھا؟ کبھی ہمیں مری کی مال روڈ اور نتھیا گلی کے خوبصورت پہاڑی مناظر کی طرح نظر آتے تھے اور کہیں اس کے سمندر کے چہچہاتے نیلے پانیوں سے ٹکراتے ہوئے پہاڑی سلسلے مل کر ایک عجیب فطری حسن پیدا کر رہے تھے۔ جزیرے کی خاص بات یہاں بگھی (ٹانگے) کی سیر تھی۔ کوچوان نے ہم چار افراد سے ۷۵ لیرا پر ہمیں اونچے نیچے پہاڑی راستوں پر ۱۰ منٹ کی بریک کے ساتھ لمبی سیر کروائی تو ہمیں احساس ہوا کہ کرایہ کچھ زیادہ نہیں لیکن پاکستانی روپے سے ضرب دے کر ذرا مہنگائی کا احساس ہوتا تھا۔ اس کے بعد ہم نے جزیرے کی وسیع مارکیٹ سے مچھلی کھائی جو اپنی شکل و شباہت اور ذائقے میں لا جواب تھی۔ نماز مغرب سے ذرا پہلے ہم مقررہ وقت پر چلنے والے بحری جہاز پر سوار ہوچکے تھے جو ہمیں دوبارہ استنبول شہر کی طرف لے کر جا رہا تھا اور اس دوران ہم نے سورج کو سمندر سے ڈوبتے دیکھا اور یہ منظر بلاشبہ قابل دید اور یادگار تھا۔ سمندری سفر کی حسین یادیں لیے ہم اپنے ہوٹل پہنچے اور ہوٹل آنے کے لیے بحری جہاز کے بعد استنبول کی آرام دہ اور تیز رفتار ٹرام کا بھی مزہ لیا گیا۔

اگلے دن جمعۃ المبارک تھا ہم دوستوں نے مشورہ کیا کہ نماز جمعہ استنبول کی مرکزی جامع مسجد سلیمانیہ میں ادا کریں گے۔ ناشتے کے بعد تیاری وغیرہ کے مراحل طے کرنے کے بعد ہوٹل کے قریب ہی پینو راما میوزیم پہنچ گئے جو کہ سلطان محمد فاتح کی فتح استنبول کے حوالے سے جنگی ساز و سامان سے لیس ایک میوزیم نما عمارت تھی۔ خاص بات یہاں کا ماحول تھا جس میں بالکل جنگ کا مامنظر دکھایا گیا تھا کہ درمیان میں اصلی جنگی اسلحہ اور 3ڈی پرنٹنگ کی دیواریں عین جنگ کا منظر پیش کر رہی تھیں اور اس میوزیم کی لوکیشن بھی عین اس مقام پر تھی جو کہ فتح استنبول کے مقام سے قریب ترین تھا۔ لاہور سے سید وقاص جعفری صاحب نے تاکید کی تھی اسے ضروردیکھنا ہے اور احساس ہوا کہ نہ دیکھتے تو واقعی محروم رہ جاتے اور اسی حوالے سے تاریخی اور قیمتی نودرات بھی محفوظ کی گئیں ہیں اور سیاحوں کی اکثریت اسے دیکھنے کے لیے آتی ہے۔ ترکی کی حکومت نے ایسے مقامات پر ٹکٹ لگا رکھے ہیں اور اس سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنے معاشی وسائل سیاحت کی انڈسٹری سے بھی پورا کرتی ہے۔اس میوزیم کو تفصیلی طور پر دیکھنے کے بعد ہم بذریعہ ٹرام سلیمانیہ مسجد سے کچھ دور اسٹیشن پر اترے اور مصروف بازاروں سے ہوتے ہوئے سلیمانیہ مسجد کی طرف روانہ ہوئے سلیمانیہ مسجد کے تین اطراف خوبصورت سمندر کا نظارہ ہے۔ سلیمانیہ مسجد روایتی عثمانی طرز تعمیر کے مطابق ایک بڑی مسجد ہے نماز جمعہ کے حوالے سے مقامی و غیر ملکی مرد و خواتین بڑی تعداد میں مسجد میں موجود تھے۔ نماز جمعہ کا خطبہ ترکی زبان میں جاری تھا بعد از خطبہ ہم نے ایک وی آئی پی شخصیت کو حفاظتی کمانڈوز کے ہمراہ اگلی صفوں میں جاتے دیکھا لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ کون ہیں۔ نماز کے بعد روایتی اور مسنون اذکار کے بعد حسب معمول امام صاحب نے خوبصورت انداز میں تلاوت فرمائی اور بعد ازاں ترک زبان میں اعلان ہوا جس میں سے ہمیں یہ تفہیم ہوئی کہ مذکورہ شخصیت سے مصافحہ اگر کوئی کرنا چاہے تو قریب آکر کرلے اور لوگ نماز سے فارغ ہوکر امام کے قریب جمع ہوگئے۔ ہمارے ساتھی نماز سے فارغ ہوکر مسجد کے وسیع ہال کے پچھلے حصے بیٹھ گئے مگر میں مصافحہ والے لوگوں میں شامل ہوگیا۔ مذکورہ شخصیت امام صاحب کے ساتھ کھڑی تھی۔ قریب پہنچ کر اندازہ ہوا جو کہ مقامی افراد سے تصدیق پاگیا کہ وہ شخصیت حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم جناب احمد داؤد اوغلو ہیں۔ اپنی باری آنے پر میں نے ان سے مصافحہ کیا اور بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں تو ان کے چہرے پر انتہائی خوشی کے آثار امڈ آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم سب بھی پاکستان ہیں "We all are Pakistan"۔ پورے ترکی میں لیڈر، پروفیسر، تاجر اور عوام سب پاکستان سے اسی طرح پیار سے پیش آتے ہیں اور یہ محبت اور احترام ترکوں کا پوری دنیا میں سب سے زیادہ پاکستان کے ساتھ ہے۔میں نے آکر اپنے گروپ لیڈر جناب عامر محمود چیمہ اور دیگر ساتھیوں کو بتایا کہ یہ صاحب سابق وزیراعظم ترکی ہیں اور پاکستان کے بارے میں مثالی جذبات کا اظہار کر رہے ہیں تو تمام ساتھی ان کی طرف لپکے۔ ہمیں اپنے قریب پا کر انہوں نے اپنے محافظوں کو اشارہ کیا کہ ان سب کو میرے قریب آنے دو تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور ہم کافی دیر ان سے باتیں کرتے رہے اور ان کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے رہے۔ عامر چیمہ صاحب کے اس اعلان پر کہ ہم مولانا مودودیؒ کے افکار کے پیرو کار ہیں تو احمد داؤد اغلو نے فرمایا کہ ہم بھی مولانا مودودیؒ کے پیروکار ہیں۔ یقیناً یہ ملاقات ہمارے دورے کا حاصل تھی اور ہمارے ساتھی اس پر بہت خوش تھے اور کچھ ساتھی جنہوں نے دوسری مساجد میں نماز ادا کی تھی اس محرومی پر خاصے ملال نظر آئے۔

نماز جمعہ کے بعد ہم نے مصری بازار اور سپائس بازار دیکھا۔ خاصے بڑے، لمبے، صاف ستھرے اور با رونق بازاروں کی خاص بات پاکستان گروپ کو دیکھ 'جیوے جیوے پاکستان' کا ترانہ پڑھنا تھا جو کہ ترکوں کی بڑی تعداد کو زبانی یاد ہے اور پاکستانیوں کو دیکھ کر خوشی سے پڑھتے ہیں۔ بازار سے باہر نکل کر ہم دوبارہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے سمندر کنارے واقع بالائی منزل والے ہوٹل پر ہم نے کھانا کھایا اور دوبارہ بذریعہ سمندر ہم استنبول شہر کے دوسرے حصے یعنی ایشیائی حصے کی طرف روانہ ہوئے اب ہماری منزل اسکودار نامی ساحلی علاقہ تھا۔ ویسے تو یورپی اور ایشیائی استنبول کو ملانے کے لیے سمندر کے نیچے سے بھی ٹرام اور بس کے رابطے بنائے گئے اور المعروف باسفورس پل بھی یورپ اور ایشیا کو ملاتا ہے۔ ایشیا والا حصہ بھی اسی طرح صاف ستھرا، با رونق اور خوبصورت قالینوں اور میناروں والی مسجد سے مزین تھا۔ تھوڑی سی شاپنگ اور ریفرشمنٹ کے بعد اسی سمندری راستے کے ذریعے ہم واپس اپنے عارضی مسکن پر پہنچ گئے۔

بورصہ ترکی کا چوتھا بڑا شہر ہے اور بلند پہاڑوں کے دامن میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی سیر بھی ایک یادگار سے کم نہ تھی۔ استنبول کے بس ٹرمینل سے ہم میٹرو کمپنی کی بس کے ذریعے بورصہ کے بس اڈے پر پہنچ گئے۔ ترکی میں ہر چھوٹے بڑے شہر میں صاف ستھرے اور کشادہ بس اڈے موجود ہیں اور ترکی میں بس اڈے کو Otgar کہا جاتا ہے جہاں مارکیٹ اور ہوٹل وغیرہ موجود ہیں۔ عموماً بسیں راستے میں آنے والے بس اڈوں پر بھی چند منٹ کا سٹاپ کرتی ہیں۔ استنبول سے بورصہ جانے والی بس نے بھی راستے میں آنے والے چند اڈوں پر تھوڑا تھوڑا قیام کیا اور بالآخر ہم شہر بورصہ پہنچ گئے۔ وہاں سے ایک مقامی بس کے ذریعے بورصہ کی چیئرلفٹ جسے ترکی زبان میں (Teleferih) کہتے ہیں، جا پہنچے اور اس لفٹ پر سوار ہوئے 45 منٹ کی مسافت کے بعد اپنی منزل پر پہنچے۔ اس دوران ہم پہاڑوں کے درمیان انتہائی خوبصورت بورصہ شہر کے پینورامک نظارے دیکھتے رہے اور واقعی ہمیں پتریاٹہ مری میں موجود چیئرلفٹ یاد آگئی۔ بورصہ کی یہ چیئرلفٹ بھی بہت بلندی پر جاتی ہے اور پہاڑی درختوں کے انتہائی قریب سے ہوتی ہوئی اپنی منزل تک پہنچی۔ یہ بورصہ کے ٹاپ پر ایک سرد مقام تھا جو انہیں اپنے صاف ستھرے ماحول کے ساتھ بہت اچھا نظارہ دے رہا تھا۔ وہاں سیر کے لیے موٹر بائیک/ رکشہ وغیرہ بھی موجود تھے۔ کچھ دیر میں سیر اور چائے وغیرہ کے بعد ہم دوبارہ لفٹ کے ذریعے برسا شہر پہنچے اور رات ہونے کی وجہ سے بورصہ کی معروف سبز مسجد نہ دیکھ سکے۔ اسی طرح بورصہ میوزیم بھی ہمارے دیدار سے محروم رہا۔ رات استنبول پہنچ کر صبح سویرے بذریعہ ہوائی جہاز ہمیں استنبول سے ازمیر روانہ ہونا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (15) – احسان کوہاٹی

ترکش ایئر لائنز کی ایک انٹرنیشنل فلائٹ کے ذریعے ہم تقریباً 1 گھنٹے میں ازمیر کے عدنان میندریس ایئرپورٹ پرپہنچ گئے۔ ایئر پورٹ کے ماتھے پر 1960ء میں عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی پانے والے عدنان میندریس شہید (سابق وزیر اعظم ترکی) کا نام دیکھ کر اس عظیم شخصیت کی اسلام کے لیے قربانی اور شہادت یاد آئی جن کے خون کی وجہ سے آج ترکی اسلام کا نمائندہ اور امین بن کر ابھر رہا ہے۔

ازمیر شہر میں ساحل کے قریب ہمارا ایک معروف ہوٹل میں قیام تھا۔ ہوٹل سے سمندر اور شہر کا نظارہ بہت پیارا تھا اور اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کچھ آرام کے بعد ہم ازمیر میں موجود تاریخی حصار مسجد دیکھنے گئے جو ہوٹل سے قریباً ۱۵ منٹ پیدل مسافت پر تھی۔ روایتی طرز تعمیر اور کشادگی ترکی کی مساجد کا خاصا ہے۔ اتوار کی وجہ سے مسجد کے گرد اکثر مارکیٹیں بند تھیں۔ مسجد میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد ہمیں ایک کونے پر چند نوجوان بیٹھے نظر آئے تو ہم نے ان سے ملاقات کا ارادہ کیا اور ان کے پاس پہنچ گئے تعارف کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کا تعلق ترکی کی حکمران اے کے پارٹی کے یوتھ ونگ سے ہے اور یہ ہر اتوار کو اس وقت مسجد میں حدیث سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہم نے فرداً فرداً سب نوجوانوں سے تعارف کیا صرف ایک نوجوان کو کچھ انگریزی آتی تھی اسی نوجوان کے تعاون سے ہم سب سے متعارف ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے قائد جناب علی کوسٹیپیان (Ali Costepan) انتہائی ذہین اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں سے لیس تھے ہر آنے والے نوجوان کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہنا اور حوصلہ بڑھنا بڑا ہمیں اچھا لگا۔ علی ازمیر کی معروف کاتب چلبی یونیورسٹی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہماری خواہش پر اگلے دن انہوں نے ہمیں یونیورسٹی آنے کی دعوت دی۔ ان نوجوانوں سے ملاقات کئی حوالوں سے بہت اہم ثابت ہوئی۔ ہمیں ان کے کام کا اندازہ ہوا پاکستان اور اسلام سے والہانہ محبت تو خیر ترکی میں ہر جگہ موجود ہے۔ ان نوجوانوں کے ذریعے ہمیں حکمران پارٹی کے استنبول آفس اور امام خطیب انٹرنیشنل سکول استنبول دیکھنے کا موقع ملا۔

امام خطیب سکول سرکاری اسلامی سکول ہیں جن میں اس وقت قریباً 13 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان بھی اسی سکول سے فارغ التحصیل ہیں امام خطیب سکول کی ازمیر برانچ میں ہماری آمد سے قبل ہی سکول انتظامیہ ہمارے بارے میں آگاہ تھی۔ سکول کے ڈائریکٹر آفس میں ہم بیٹھے تو کچھ دیر میں ایک بزرگ شخصیت کمرے میں داخل ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کا نام توکل ہے اور وہ اسی سکول کے ڈائریکٹر ہیں۔ جناب توکل سے کئی گھنٹے کی ملاقات ہمارے ترکی کے دورے کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے امام خطیب سکول کے تعلیمی نظام، ویژن اور نصب العین کے بارے میں بتایا۔ ہماری ملاقات سکول کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات سے کروائی انہوں نے امام خطیب میں حفظ قرآن کے طریق کار کو بھی تفصیلی انداز میں متعارف کرایا۔ ان کا جذبہ اور ارادہ ہے کہ ترکی دوبارہ خلافت عثمانیہ کے دور کو تازہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کی رہبری کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ طلبہ و طالبات کے ساتھ ہم نے گپ شپ اور تعارف کرنے کی کوشش کی خاص بات یہ تھی کہ طلبہ و طالبات کے چہروں پر کوئی بوجھ اور تھکن نہیں تھی کیونکہ ہر 40 منٹ کے پیریڈ کے بعد 10 منٹ کی بریک ہوتی ہے اور ظہر کے وقت 80 منٹ کی بریک ہوتی ہے جس میں وہ نماز پڑھتے اور کھانا کھاتے ہیں اور 4 بجے چھٹی ہوتی ہے۔ ہمیں رخصت کرتے وقت جناب توکل اور ان کے ساتھیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہماری آسانی کے لیے انہوں نے بطور خاص اپنے ایک شاگرد محمد فاتح کو بلایا تھا جو کہ پی ایچ ڈی سکالر تھے اور اس سلسلے میں کچھ عرصہ امریکہ میں بھی قیام کرچکے تھے۔

امام خطیب سکول سے ہم تقریبا 1 گھنٹہ بذریعہ کار سفر کر کے ازمیر کی کاتب چلبی یونیورسٹی پہنچے تو علی کوسٹیپان اور فیکلٹی آف اسلام سٹڈیز کے وائس ڈین نے ہمارا استقبال کیا۔ فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر سافت کو سے جو کہ اسلامک لاء میں پی ایچ ڈی ہیں کے دفتر میں ان کے ساتھ اور دیگر اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے ساتھ ترکی کے حالات، تاریخ، سیاسیات، معیشت، عالمی حالات اور پاکستان کے بارے میں تفصیلی نشست ہوئی جناب عمران مرزا نے دار ارقم سکولز کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ دوران گفتگو خشک میوہ جات اور روایتی ترکی چائے سے ہماری ضیافت کی جاتی رہی۔

نشست کے بعد ہم نے یونیورسٹی کا دورہ کیا اساتذہ سے ملاقاتیں کیں۔ ہر فرد نے بڑی محبت سے ہمارا استقبال کیا کئی اساتذہ کے ساتھ علامہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کے حوالے سے بھی تذکرے ہوئے۔ تفہیم القرآن کا ترک ترجمہ بھی کئی اساتذہ کے دفاتر میں موجود تھا۔ رخصت ہوتے ہوئے یونیورسٹی کی گاڑی ہمیں ہمارے ہوٹل چھوڑنے کے لیے موجود تھی۔ تمام افراد نے ہمیں انتہائی تپاک سے رخصت کیا ان کی الفت اور محبت نے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جو مدتوں یاد رہیں گے۔

ازمیر ترکی کا تیسرا بڑا اور قدیم ترین شہر ہے۔ یونانی دور میں اس کی اولین تعمیر کی گئی تھی اور سکندر اعظم کے بارے میں بھی روایت ہے انہوں نے ازمیر کی تعمیر نو کی تھی۔ ازمیر میں اگورا اور اصحاب کہف کے نام سے تاریخی عمارات موجود ہیں جن سے کئی تاریخی واقعات منسوب کیے جاتے ہیں۔

ازمیر سے ہمارا اگلا پڑاؤ ڈینسلی ڈینزلی صوبہ تھا جہاں ہم پاموق قلعہ کے مقام پر کیلشیم کے سفید پہاڑوں پر گرم پانی کے چشموں کی سیر کرنی تھی۔ بلاشبہ یہ منظر عجیب و غریب تھا کہ خشک پہاڑوں کے عین درمیان میں سفید رنگ کے پہاڑ تھے جو کہ دور سے برف محسوس ہوتے تھے لیکن وہ رنگت میں سفید تھے اور ان میں جگہ جگہ گرم پانی کے چشمے نکلتے تھے۔ یہاں کی سیر اور نہانے کے لیے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں اور اس کے قریب بھی تاریخی کھنڈرات، آڈیٹوریم اور قلعے وغیرہ موجود ہیں۔

مولانا جلال الدین رومیؒ جو کہ علامہ اقبالؒ کے روحانی مرشد ہیں اور صوفی سلسلوں میں محبت اور طریقت کے حوالے سے کافی بلند مقام پر فائز ہیں اور اپنی بلند پایہ تصنیفات کی وجہ سے پوری دنیا میں معروف ہیں۔ ان کا مزار ترکی کے شہر قونیہ میں واقع ہے۔ ہمیں یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ہم نے جمعہ کا دن مزار کی حاضری اور قریبی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی اور ان کے نوادرات پر مبنی میوزیم کی سیر کی۔ بلاشبہ مولانا رومیؒ کا روحانی اثر وہاں کی آبادی اور حاضرین پر محسوس ہوتا ہے قریب ہی علامہ اقبالؒ کی یادگار بھی موجود ہے جو اقبالؒ اور رومیؒ کے باہمی روحانی رشتے کی یاد دلاتی ہے علامہ نے اپنے مرشد کے بارے میں فرمایا تھا۔

صحبتِ پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش

لاکھ حکیم سر بجیب ایک کلیم سر بکف

قونیہ سے ہم ترکی کے دار الحکومت انقرہ پہنچے۔ انقرہ میں پارلیمنٹ ہاؤس اور دو بڑی مساجد حاجی بہرام ولی اور ملکہ خاتون مسجد کے نظارے قابل دید رہے۔ ترکی کا یوم آزادی 29 اکتوبر کو منایا جاتا ہے اتفاق سے ہم اس وقت انقرہ میں تھے اور ہمیں ترک نوجوانوں کا جشن مناتا دیکھ کر 14 اگست یاد آگیا۔

انقرہ میں ہم نے پروفیسر نجم الدین اربکان مرحوم کی قائم کردہ سعادت پارٹی کے مرکزی دفتر اور ان کی اساتذہ کی تنظیم کے مرکزی ذمہ داران سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس دوران سعادت پارٹی کے مرکزی نائب صدر جناب حسن بطمس کے ساتھ ملاقات ہوئی اور انہوں نے ظہرانے میں ہماری میزبانی فرمائی۔ حسن بطمس متعدد بار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اس دورے میں سعادت پارٹی اور ترکی کے سیاسی حالات پر تفصیلی بریفنگ ہوئی اور پاکستان اور دار ارقم کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔

انقرہ سے واپسی ہمیں استنبول آنا تھا یہ سفر اس اعتبار سے یادگار رہا کہ راستے میں شرکاء نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بہت خوب کیا۔ استنبول میں ہم حکمران اے کے پارٹی کے استنبول سیکرٹریٹ گئے اور ان کے نوجوان قیادت کے ساتھ ترکی کے بغاوت (15 جولائی 2015) کے بعد حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ استنبول یونیورسٹی جن میں قریباً سوا لاکھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اس کا بھی تفصیلی دورہ ہوا، جہاں ہمارے میزبان ڈاکٹر درمش بلگر تھے جو حال ہی میں 5 سال لاہور میں رہنے کے بعد واپس آئے تھے انہوں نے بہت محبت اور خلوص کے ساتھ ہماری میزبانی فرمائی اور بہت سے انتظامی معاملات میں تعاون فرمایا۔

ترکی چھوڑنے سے قبل ہمارا آخری یادگار اور اہم ترین دورہ امام خطیب انٹرنیشنل سکول کا دورہ تھا جس میں 22 ممالک کے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ عالی شان محل نما عمارت اور ہوسٹل جس میں بہترین انتظامات ہیں ترکی حکومت کی اتحاد امت کے لیے بے مثال قربانیوں اور جذبے کی واضح مثال پیش کر رہے تھے۔سکول کے سربراہ جناب مصطفیٰ نے بہت محبت اور مثالی اخوت کے جذبے کے ساتھ ہماری ملاقاتیں دنیا بھر کے طلبہ (بشمول پاکستان) اور اساتذہ سے کروائیں بڑے اصرار سے ہمیں کھانا کھلایا اور سکول کے تعلیمی نظام کے بارے میں تفصیل بتائی اور ہم سے دار ارقم کے بارے میں معلومات لیں۔ حقیقت یہ ہے ہم ان کی آنکھوں میں محبت بھرے آنسوؤں کا بدل نہیں دے سکتے۔

اسی شام ہم سعودیہ ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے براستہ جدہ لاہور کے لیے روانہ ہوئے اور ترکی کے دورے کو اپنے لیے ایک یادگار کے طور پر اور ترکوں کی پاکستان سے محبت کے انمٹ نقوش کو ایک نئے بندھن کے حوالے سے محفوظ کیے اپنے وطن پاکستان پہنچ گئے اور یہ حقیقت وہاں جاکر مزید واضح ہوگئی کہ ہمارا پیارا ملک پاکستان کسی حوالے سے بھی پیچھے نہیں ہے، ہم بھی پاکستان کو بلند سطح پرلے جاسکتے ہیں جس کے لیے علمی اور تحقیقی میدانوں میں جانفشانی کے ساتھ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔