شکریہ سپریم کورٹ - پروفیسر جمیل چودھری

دھرنے کے دوران تمام سرکاری اداروں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ بعد میں بھی کئی دن تک کسی کو کچھ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کئی دن کے بعد سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا مختصر حکم نامہ گزشتہ ہفتے کو سنایاگیا۔ یہ حکم نامہ پوری قوم کے دل کی آواز محسوس ہوتا ہے۔ ہر غلط کام جو دھرنے میں ہوا، اس پر عدالت عالیہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ دھرنے کے دوران تو محسوس ہوتاتھا کہ ایٹمی پاکستان میں کوئی حکومت سرے سے ہے ہی نہیں۔ 21 کروڑ لوگوں کی قوم بے یارومددگار محسوس ہوئی تھی۔ دھرنے سے کیسے نپٹنا ہے؟ کیسے بات کرنی ہے؟ کس نے آگے بڑھ کر مذاکرات کرنے ہیں؟ کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ پاکستان میں سول مسلح افواج کا کوئی ایک ادارہ نہیں بلکہ بے شمار ہیں، ہر لحاظ سے تربیت یافتہ اور مسلح اور اسلام آباد پولیس کے علاوہ صوبائی پولیس جو لاکھوں کی تعداد میں ہے۔

مسئلہ یہ تھا کہ وفاق میں کوئی بھی وزیر آگے بڑھ کر مسٔلے کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کوئی کسی ادارے کو حکم دینے میں دلچسپی نہ رکھتا تھا۔ دھرنے والوں کا رخ اس وقت ہی اسلام آباد کی طرف ہوگیاتھاجب انہیں لاہور سے ایک معاہدے کے ذریعے اٹھا دیاگیاتھا۔ اسلام آباد آنے والے شروع میں 3سو سے زیادہ نہ تھے۔ دوسرے تیسرے دن تک 5ہزار سیکیورٹی افراد دھرنے والوں کو گھیر چکے تھے۔ لیکن وہ منتظر ہی رہے کہ کوئی پالیسی یا حکم نامہ انہیں ملے اور وہ آگے بڑھ کرکارروائی کریں۔ جوں جوں دن گزرتے گئے مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد نہ صرف بڑھتی گئی بلکہ وہ خطرناک اشیاء ڈھیر لگانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ پتھر، آنسو گیس اور مضبوط لاٹھیاں اب دھرنے والوں نے اکٹھی کرلی تھیں اور یہ عرصہ 21 دن پر مشتمل ہے۔

اس عرصے میں ملک کا سپریم ادارہ پارلیمنٹ کہاں تھا؟کیا اس کا اجلاس خاص اس دھرنے کو ختم کرانے کے لیے منعقد ہونا ضروری نہیں تھا؟ آخرقوم کا یہ نمائندہ ادارہ کس مقصد کے لیے ہے؟ ابتدا میں ہی اس کا اجلاس ہوتا، تمام پارٹیوں پر مشتمل مذاکراتی ٹیم بنائی جاتی، جب عوام کے نمائندوں کی ٹیم دھرنے والوں سے مذاکرات کرتی تو اس کا نتیجہ ضرور مثبت انداز سے نکلتا۔ وزیروں اور سرکاری نمائندوں سے چونکہ ایک غلطی سرزد ہوچکی تھی، اسی لیے ان کی آواز ماثر نہیں رہی تھی۔ جب پارلیمنٹ کی بھر پور مذاکراتی ٹیم دھرنے والوں سے رابطہ کرتی، تو پوری پاکستان قوم کی وہ بے عزتی نہ ہوتی جو بعد میں معاہدے سے ہوئی۔ فوج کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنا، حکومت اور فوج - آصف محمود

جب ہم کہتے ہیں کہ ملک کی پارلیمان تمام مسائل کاحل ہے۔ کیا2 ہزار لوگوں کے مطالبات کو سننا اور حل نکالنا پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا؟ وفاقی حکومت نے کوئی بھی ایسا کام نہیں کیا جس سے دوراندیشی اور بالٖغ نظری ظاہر ہوتی ہو۔

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم نامے میں ہر پہلو کاجائزہ لیاہے۔ گندی زبان جودھرنے والوں کی طرف سے استعمال کی گئی، اسے مسترد کیا ہے۔ سیاست کے لیے اسلام کو استعمال کرنے کو بھی غلط قرار دیاہے۔ یہ کہاگیا ہے کہ آئین میں تقریر کی آزادی کا بنیادی حق ضرور ہے لیکن اس حق کو اسلام کی شان گھٹانے، پاکستان کے دفاع اور عدالت کی توہین کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، لوگوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے خلاف بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے، گندی زبان، طاقت اور تشدد کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں8 صفحاتی مختصر حکم نامے میں کہی گئی ہیں۔ کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔ 2 ایجنسیوں آئی ایس آئی اور آئی بی نے بھی رپورٹیں جمع کرائیں لیکن انہیں ابھی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایاگیا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان سے پوچھنے کے بعد ان رپورٹس کو ریکارڈ میں شامل کیاجائے گا۔ وزارت داخلہ اور دفاع کو بھی تفصیلی رپورٹس کے لیے کہاگیا ہے کہ ریاست پاکستان کا کتنا نقصان ہوا؟عوام کی کتنی پراپرٹی ضائع ہوئی؟ مظاہرہ کرنے والوں کا کتنا نقصان ہوا؟ کتنے لوگ اور سرکاری اہل کار مارے گئے اور زخمی ہوئے؟ تفصیلی رپورٹس مانگی گئی ہیں۔ جب دھرنے کے اثرات پورے ملک میں پھیل گئے توہر شہر میں کتنا نقصان ہوا؟ پاکستانیوں کا یہ حق ہے کہ وہ معلوم کریں کہ ان دنوں میں ہر پہلو سے کتنا نقصان ہوا؟ ابھی تک عوام کویہ معلوم نہیں ہوا کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کس شخص نے کی؟ وفاقی حکومت34رکنی پارلیمانی کمیٹی کا نام لے کراپنی غلطی چھپا رہی ہے۔ سپریم کورٹ جائزہ لے کہ آخر وہ کون سی شخصیت تھی جس نے یہ گستاخی کی؟

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ڈر گئے؟ ڈاکٹر شفق حرا

بعض حلقوں کی طرف سے تباہی کو جائز قرار دیاجارہا ہے، جو درست نہیں ہے۔ پیمرا والوں سے بھی رپورٹس منگوائی جارہی ہیں کہ اس نے میڈیا کو کس طرح کی ہدایات دیں؟ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی حاکمیت، سالمیت، تحفظ اور اخلاقی بلندی کا خیال کرے۔ میڈیا کے20سیکشن کے تحت ضروری ہے کہ وہ تشدد، نسلی اختلاف اور مذہبی اختلافات کو نہ ابھارے، نفرت انگیزی کاکام نہ کرے۔ اگر چینل یہ کام کرے تو اسے سیکشن 33کے تحت ایک کروڑ روپے تک کی سزادی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ میڈیا کی کارروائی کابھی جائزہ لے گی۔ سرکاری اہل کار بھی بے دست وپاتھے۔ ان کو آتشیں اسلحہ رکھنے سے تو منع کردیاگیا لیکن اگر مظاہرہ کرنے والے خطرناک اشیاء استعمال کریں تو کیا سرکاری اہل کار صرف مارکھاتے رہیں؟

دھرنے والوں سے نپٹنے کے لیے پروگرام میں بہت سے خلاء نظر آتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا شکریہ کہ اس نے ہمہ پہلو جائزہ لینا شروع کیاہے، جس طرف سے بھی غلطی ہوئی ہے، اس کا پتہ لگنا ضروری ہے۔ پاکستان میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ریاست کی عملداری صفر ہوگئی ہولیکن اس دھرنے میں ایسا ہی ہوا۔ سپریم کورٹ ریاست سے بھی تفصیلی جواب لے۔ پارلیمان کا اجلاس اور تمام پارٹیوں کی مذاکرتی کمیٹی کیوں نہ بن سکی، حکومت سے پوچھا جائے۔ سپریم کورٹ سے ہی توقع ہے کہ وہ اس پورے سانحہ کا جائزہ لے اورآئندہ کے لیے ملک میں دھرنوں پرپابندی لگانے کا بھی جائزہ لیاجائے۔ ریاست کو قانون سازی کی ہدایات دی جائیں۔ اب تو پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوچکی ہے، آئندہ کے لیے تدارک ضروری ہے۔