’’ہم کوئٹہ میں میٹرو بنائیں گے‘‘ - آصف محمود

شاہ ذی وقار کو اقتدار سے محروم ہونے کے بعد یاد آہی گیا کہ پاکستان صرف لاہور اور مری کا نام نہیں بلکہ اس میں کوئٹہ نام کی ایک بستی بھی سوتیلے پن کا عذاب سہہ رہی ہے۔ ظلّ سبحانی ایک اُجلی صبح کوئٹہ پہنچے اورنوید سنائی :’’ ہم کوئٹہ میں میٹرو بنائیں گے‘‘۔ نظام سقے کو حکومت ملی تو اس نے چمڑے کی کرنسی متعارف کرا دی ، میاں صاحب کے بس میں ہو تو اپنی خواب گاہ میں بھی میٹرو چلا دیں۔

اس سوال کو تو چھوڑہی دیجیے کہ اپنے دورِ اقتدار میں نواز شریف کتنی دفعہ بلوچستان تشریف لے گئے اور ان کی کابینہ کے روشن دماغوں میں سے کتنے ہیں جنہوں نے بلوچستان کی زمین پر کبھی اپنے قدم مبارک رنجہ فرمائے ہوں۔ اس سوال پر غور فرما لیجیے کہ کوئٹہ میں میٹرو بنانے کا اعلان مسیحائی ہے یا تارہ مسیحائی؟

کوئٹہ کا حال یہ ہے کہ 8اگست 2016ء میں جب یہاں وکلاء کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو معلوم ہوا سول ہسپتال میں ابھی تک’ آئی سی یو ‘ ہی موجود نہیں ہے، زخمیوں کو کراچی لے جانا پڑا اور کئی وکلاء اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ کوئٹہ میں ان کو مناسب طبی سہولیات دینا ممکن نہ تھا۔ معاملہ جب سپریم کورٹ میں آ یا تو معلوم ہوا کہ وہاں کوئی ’’ ٹراما سنٹر‘‘ بھی موجود نہیں تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سول ہسپتال میں کہنے کو تو 13 آپریشن روم موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک کام کر رہا ہے ۔ بلوچستان ایکسپریس کے مطابق یہاں ایک عدد ایکسرے مشین موجود تھی اور وہ بھی معیاری نہیں تھی۔ لیکن شاہِ معظم یہاں میٹرو بنانے چلے ہیں۔

یہ تو صوبائی دارالحکومت کی حالت ہے۔ غور فرمائیے باقی بلوچستان کس حال میں ہو گا؟ اور یاد رکھیے کہ بلوچستان کی 90 آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ وسائل سے مالا مال اس صوبے کی مختصر سی آبادی کے ساتھ جو حسن سلوک روا رکھا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اوسطاً 2345 مریضوں کے لیے ہسپتال میں ایک عدد بستر کی سہولت ہے۔ 2624 مریضوں کو اوسطاً ایک عدد ڈاکٹر میسر ہے۔ 50000 لوگوں کے لیے اوسطاً ایک عدددانتوں کا ڈاکٹر موجود ہے۔ 20000 خواتین کے لیے اوسطاً ایک عدد لیڈی ہیلتھ وزیٹر دستیاب ہے۔

اس دور جدید میں بلوچستان کا حال یہ ہے کہ صرف 16 فیصد مائیں ایسی ہیں جو ہسپتالوں میں طبی سہولیات کے ساتھ بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ 84 فیصد عورتیں اس سہولت سے محروم ہیں۔ چنانچہ دوران زچگی اموات کی شرح افغانستان سے بھی دگنی ہو چکی ہے۔ بلوچستان اس وقت صومالیہ اور لائبیریا کے برابر آن کھڑا ہے۔ صومالیہ میں ہر ایک لاکھ میں سے ایک ہزار مائیں دوران زچگی مر جاتی ہیں۔ لائبیریا میں یہ تناسب 770 کا ہے ۔ افغانستان عشروں سے جنگ کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہا ہے لیکن وہاں ان اموات کا تناسب 327 کا ہے جب کہ بلوچستان میں یہ758 تک پہنچ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پانچ آدمی ہیں، پانچوں کی کہانی معلوم - ہارون الرشید

بچوں کی شرح اموات کو لے لیجیے ۔ بلوچستان میں ہر ایک ہزار میں سے 108بچے مر جاتے ہیں اور یہ دنیا کی دوسری بد ترین شرح اموات ہے۔ مقبوضہ فلسطین کے مغربی کنارے میں یہ شرح 14ہے اورغزہ میں بچوں کی شرح اموات 17 ہے۔ سونے ، کاپر اور گیس کے وسائل سے مالا مال صوبے کا حکمرانوں نے یہ حال کر دیا ہے کہ بلوچستان میں بچوں کی شرح اموات گھانا اور نمیبیا جیسے ممالک سے تین گنا زیادہ ہے۔ جس صوبے سے سوئی گیس فیلڈ سے 750ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ حاصل کی جا رہی ہو اور جس کی سالانہ مالیت85 ارب روپے ہو اس صوبے کے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک میٹرو کا لولی پاپ دے کر کسے بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

ڈیرہ بگٹی کے جس ضلع سے ہر سال85 ارب مالیت کی گیس نکالی جا رہی ہے اس ضلع کی حالت یہ ہے کہ اس کے 90 فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔ یہ اعزاز صرف دس فیصد بچوں کو حاصل ہے۔ صوبے کی حالت یہ ہے کہ 7 ہزار سکول صرف ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل ہیں۔ 5 ہزار سکول ایسے ہیں جن کے پاس کوئی عمارت نہیں۔ کھلے آسمان تلے کلاسیں لگتی ہیں۔ 71فیصد سکولوں میں پینے کا پانی نہیں ہے۔ 83 فیصد سکولوں میں کوئی ٹائلٹ نہیں ہے۔ 75 فیصد سکولوں کی باؤنڈری وال نہیں ہے۔ تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کا 81 فیصد کسی سکول میں جا ہی نہیں رہا اور 66 فیصد اساتذہ کی تعلیمی قابلیت ایف اے یا اس سے کم ہے۔

80 فیصد لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ 90 فیصد آبادی دیہاتوں میں ہے اور 75 فیصد دیہات بجلی سے محروم ہیں۔ جس کوئٹہ میں شاہ معظم میٹرو بنانا چاہتے ہیں اس کوئٹہ میں پانی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ چند سال بعد وہاں رہنا شاید ممکن نہ رہے۔ چند سال قبل یہاں 90 میٹر کھدائی پر پانی نکل آتا تھا۔ اس وقت اوسطا قریبا 400 میٹر گہرائی تک جا کر کہیں پانی دستیاب ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ زراعت تباہ ہو چکی ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق پھلوں کے باغات کا 70 فیصد تباہ ہو چکا ہے۔ بلوچستان فارمز گروور ایسو سی ایشن کے سیکرٹری جنرل عبد الرحمن بازئی کا کہنا ہے کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے باغ کے 7 ہزار 5 سو درخت کٹوانا پڑے۔ شہر ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہے او رلوگوں کی آمدن کا ایک معقول حصہ اس مد میں چلا جاتا ہے۔ لیکن شاہ معظم کو ان مسائل کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہیں تو بس ایک میٹرو چلانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلف کارڈ اور مولانا کا دھرنا - اعزاز سید

حیرت ہے یہ کیسے دو عدد نظریاتی رہنما کوئٹہ میں سخن آراء ہوئے جنہیں احساس ہی نہیں لوگوں کے مسائل کیا ہیں؟ نواز شریف کا معاملہ تو سمجھ میں آتا ہے ۔ وہ کبھی بلوچستان گئے ہوں تو انہیں معلوم ہو وہاں کے حالات کیا ہیں؟ صرف 17 نشستوں والے بلوچستان میں وہ اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟مطالعے کی انہیں عادت نہیں کہ پڑھ لیں بلوچستان کے بارے میں عالمی ادارے کیا کہہ رہے ہیں اور مقامی حکومت کے سروے کتنا خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا پاکستان لاہور سے شروع ہوتا ہے اور جی ٹی روڈ پر پھیلا ہوا ہے۔ ان کے نزدیک کائنات کے سارے رنگ میٹرو میں سمٹ آئے ہیں۔ یہ میٹرو ان کے طرز حکومت ہی نہیں ، بصیرت اور فکر کی بھی معراج ہے۔ سوال یہ ہے کہ محمود اچکزئی کو کیا ہوا؟ کیا لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کا لطف اتنا قیامت خیز ہوتا ہے کہ آدمی اپنے لوگوں کے مسائل ہی سے بےنیاز ہو جائے؟

’’نظریاتی ‘‘رہنماؤں کی افتاد طبع دیکھیے۔ پشاور میں قوم کے بیٹھے لہو میں نہا گئے اور ’’نظریاتی‘‘ رہنما کوئٹہ کے جلسے میں ایک حرف مذمت بھی ادا نہ کر سکے۔ بس اپنے اداروں کو سینگوں پر لیے رکھا۔ نومولو د نظریے کے حسن کمالات کی خیر ہو۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوفناک اعداد و شمار آ پ نے دیے ہیں۔ بلوچستان کے مسئلے کو یہ چیز گھمبیر کرتی ہے کہ ہم اپنے حصے کا بھی کام نہیں کر رہے۔اللہ حکمرانوں کو خوفِ خدا دے۔