بہتان - عظمیٰ ظفر

"بتول۔۔۔ او بتول!! نی او بتولاں! کتھے مر گئی اج ؟"

زمیندارنی کی آواز حویلی کے کھلے صحن میں گونج رہی تھی۔ "بی بی جی! کوئی کم اے تو مینوں دسو، بتول نے بڑا تپ چڑھائے سی"

اپنی بوڑھی ہڈیوں پر پورا زور دیتے ہوئے زمیندارنی کے پیر دباتے ہوئے ماسی خیراں نے اپنی طرف سے انتہائی اہم خبر زمیندارنی کو بتائی۔

"چل پرے ہٹ منحوس، خبر ہی سنانا جب بھی سنانا" زمیندارنی کو یہ بات سن کر سخت غصہ آگیا۔

"کوئی تپ نئیں چڑھیا انوں سیاپا ڈال کے ویھ گئی ہوگی۔ چل جا بلا کہ لا بتول نوں! سر میں درد ہورہا ہے"

زمیندارنی نے حقے کو اپنے قریب کیا۔ جس میں کوئلہ سلگ رہا تھا۔ اس کے سر میں درد کیا ہونا تھا ، ایک نشہ تھا جو ٹوٹ رہا تھا۔ بتول کے نرم ہاتھوں سے جسم کو دبانے کا نشہ، ننھی بتول کی ماں سے بدلے کا نشہ، بھری حویلی میں بتول کی ماں کو بے گناہ سے سیاہ کار کرنے کا نشہ تھا، ایسا خمار تھا جو اترنے کو ہی نہیں آرہا تھا


زمیندار کی حریص نظروں نے جب سے پروین کو للچائی نظروں سے دیکھنا شروع کیا، تب سے گھڑی گھڑی اس کی رال ٹپکنے لگی۔ سب سے پہلے اس نے پروین کے شوہر کو ٹریکٹر چوری کے الزام میں اندر کروادیا، جہاں وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر تو سکتا تھا لیکن باہر نہیں نکل سکتا تھا۔

ایک کانٹا تو نکل گیا مگر بتول کی پھانس باقی تھی، جسے پروین اٹھائے اٹھائے پھر رہی تھی۔ زمیندار نے اکثر بہانے بہانے اس کا راستہ روکنا شروع کردیا گویا وہ نوکرانی نہ ہوئی منشی کا رجسٹر تھی، جب دل چاہا کھلوالیا۔

جب حویلی کے اندر اور زنان خانے میں زمیندار کا آنا جانا بڑھنے لگا تو عورت کی تیز حس نے زمیندارنی کو خطرے سے آگاہ کرنا شروع کردیا۔ وہ اپنے سر کے سائیں کی نظروں کے تعاقب میں پروین تک جا پہنچی۔

وہ تو ویسے بھی پروین کے بے داغ چہرے اور دلکش سراپے سے جل جل جاتی تھی اب انگاروں پر لوٹنے لگی۔

زمیندار سے تو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی پروین سے بیر باندھ لیا۔ دن رات کولہو کے بیل کی طرح اس سے کام لینی لگی۔ ادھر بے چاری غم کی ماری پروین اپنے شوہر کے غم میں سسک رہی تھی۔ ادھر زمیندار کے ارادے اسے مارے ڈال رہے تھے۔


آج حویلی میں چھوٹے صاحب کا ختم قرآن تھا۔ گڑ والے میٹھے چاولوں کی خوشبو نے بتول کی بھوک کو چمکا دیا تھا مگر اس کی ماں کو فرصت نہیں مل رہی تھی کہ کام چھوڑ کر دو لقمے اس کو بھی کھلا دے۔

بتول نے خود ہی ہمت کی اور مائی خیراں سے کھانا مانگ لیا۔ ترس کھا کر مائی خیراں نے رات کی بچی روٹی کے ساتھ اچار ایک پلیٹ میں ڈال کر دے دیا۔

زمیندارنی کسی کام سے وہاں گزری تو پروین صحن کے فرش کو دھو رہی تھی۔ سردی کی چمکیلی دھوپ سے اس کا گندمی رنگ اور چمک اٹھا تھا۔ زمیندار جیسے ہی اندر دا خل ہوا اسے دیکھ کر وہیں کھڑا رہ گیا۔ یہ منظر دیکھ کر زمیندارنی کو آگ لگ گئی، اس نے بتول کی پلیٹ پیر سے اڑا کر دور صحن میں پھینک دی۔ بتول کا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا۔

"بھکے ننگے سارے ادھر ہی ویھ گئے آکے، چل اندر جا اور نی پروین کم ختم کر تے چھت تے رضائیاں ڈال جاکے منحوس ماری۔"زمیندار تو الٹے قدموں لوٹ گیا مگر اب زمیندارنی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے پروین اور اس کی چھوٹی بچی بتول کو حویلی سے غائب کروا دے۔ مگر باہر نکلوانے کا مطلب خود اپنے پاؤں پر ہی کلہاڑی مارنا تھا اس لیے کوئی اور ہی چال چلنے کا سوچ رہی تھی۔

پروین نے جب زمیندار کی بڑھتی نظر کرم کو دیکھا تو گھبرا اٹھی کہ اپنی عزت کی حفاظت کیسے کرے؟ دوسری جانب مالکن کےتیور ہی بدلے ہوئے تھے۔

ماسی خیراں ہی ایسی ہمدرد تھی جو اسے سمجھ سکتی تھی۔

رات وہ رو رو کر گزارتی کہ کسی طرح اس کا شوہر چھوٹ کر آجائے تو وہ اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں دور چلی جائے مگر گدھ تو ہر طرف تھے۔

ماسی خیراں کی تسلی بھی اسے سکون میں نہیں لاتی تھی۔


"یہ لے تیرا زیور، بڑا شوق ہے تجھے جھمکوں کا" زمیندار اندر داخل ہوا اور ایک ڈبہ اسے پکڑایا۔ "پروین سے سے بول لسی کا گلاس لائے۔ "زمیندار نے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے زمیندارنی سے کہا

"بڑی جلدی میں ہو تسی" زمیندارنی نے اپنے نئے جھمکے کو ڈبے سے نکال کر دیکھا۔

"ہاں مجھے بس نکلنا ہے آج شہر جانا ہے، ایس پی سے ضروری ملنا ہے۔"

پروین نے حکم سنتے ہی لسی کا گلا س حاضر کردیا، جسے لے کر وہ خوش نظر آرہا تھا۔ زمیندار کو دے کر دوسرا گلاس زمیندارنی کو جیسے ہی پکڑایا اس نے جان بوجھ کر گلاس ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ اسٹیل کا بھاری گلاس پروین کے پیر پر گرا اور اس کے ناخن پ چوٹ لگ گئی۔ زمیندار پہلو بدل کہ رہ گیا اس طرح زمیندارنی کے دل میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔


آج کا دن زمیندارنی کے لیے بہت اہم تھا۔ شاطر ذہن نے ایک چال چلی۔ جب رات کو سب فارغ ہوکر سب اپنے کمروں میں سونے چلے گئے توکچھ دیر بعد اچانک زمیندارنی کے شور سے سب جاگ اٹھے ایک شور مچ گیا۔زمیندارنی پروین کو بالوں سے پکڑ کر صحن میں لے آئی۔

"توبہ توبہ،” زمیندار نی اپنے دونوں گالوں کو ہاتھ لگایا"نی کلموہی! جنی ہانڈی وچ کھاندی اے، انی وچ چھید کندی ار؟ توبہ ناس پیٹی، ربا! میری توبہ۔ جنے میں جھوٹ بولیا تے میرے منہ وچ اگ لگے۔ کی زمانہ آگیا، ھک گھبرو جوان نو اپنی آنکھاں سی ویکھا۔ جھیڑی پروین بی بی ہنس ہنس کر باتاں کریندایاں تے میری آہٹ پاکر دیورار پھلانگ کر بھاگ گیا ذلیل!”

پروین نے لاکھ قسمیں کھائیں کہ وہ تو کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی، اس سے ملنے کوئی بھی نہیں آیا، نہ وہ کسی غیر مرد کو جانتی ہے مگر اس پر یقین کرتا کون؟

زمیندار گاؤں سے باہر تھا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر زمیندارنی نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور کارو کاری کا پھندا پروین کے گلے میں ایسا ڈالا تھا کہ پروین تڑپ کہ رہ گئی۔ اسے جانوروں کے ساتھ طبیلے میں سزا کاٹنے کو مل گئی۔ اس کی بتول اس سے چھین لی گئی اور پروین پر آسمان دیکھنا بھی بند کردیا گیا۔

زمیندار لوٹا تو یہ بری خبر اس کی منتظر تھی۔ وہ خودتو منہ کالا کرنے سے بچ گیا تھا مگر پروین کے ہاتھ سے نکل جانے کا افسوس بھی ہوا۔ اب ایک بدکار کو دیکھنا بھی اس کی شان کے خلاف تھا۔ لہٰذا وہ اس طرف سے پلٹ آیا مگر اس کے شوہر کو جیل سے کبھی باہر نہیں نکلوایا کیونکہ اب اس کی نظریں بتول کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگیں تھیں۔

وقت کی گھڑیاں تیزی سے سفر کر رہی تھیں۔


ننھی بتول صحن کے ستون کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی، جب زمیندارنی کے بچے مولوی صاحب سے پڑھتے وہ بھی سنتی رہتی یاد کرتی دہراتی رہتی۔ کبھی زمین پر اسے لکھتی، کبھی ہوا میں انگلیاں چلاتی، ماں باپ سے الگ مالکوں کی ٹھوکروں پر پلتی بتول کوسب ایسی حرکتیں دیکھتے تو پاگل سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حال پوچھنے والا تھا ہی کون؟ ماں نے طبیلے میں ہی جان دے دی۔ باپ کا کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ ایک مائی خیراں تھی جو اس کو اپنے گلے سے لگاتی تھی۔

مائی خیراں نے اسے ماں کی بے گناہی اور جھوٹے الزام کے بارے میں سب بتا دیا تھا، وہ کچھ سمجھ کچھ نا سمجھی کی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ ہاں! مگر وہ کام بہت اچھا کرتی تھی۔ نرم ہاتھوں سے زمیندارنی کا جسم دبانا، ٹانگیں دبانا، اپنے ہاتھوں سے دوا کھلانا، زمیندارنی کے سر کی مالش کرنا، بالوں میں مہندی لگانا اور اب تو چھوٹے صاحب بھی اکثر وہیں پلنگ پر بیٹھ جاتے اور بتول سے اپنے کندھے دبواتے۔

چھوٹے صاحب نے باپ کی بیٹھک میں باہر کی عورتوں کو دیکھا تھا اور زنان خانے میں کام والی کچی پکی ہر عمر کی عورت کو اور بتول بھی ایک تصویر تھی جسے دیکھنا وہ بھی چاہتے تھے اور کچھ نہیں تو تعویز بناکے گلے میں لٹکانا چاہتے تھے۔

آتے جاتے بتول کے لٹکتے دوپٹے پر پاؤں رکھ دیتے جیسے ہی وہ پلنگ سے اٹھتی، لڑکھڑا کر گر جاتی جس کا مزہ چھوٹے صاحب بھی لیتے تو زمیندارنی کو بھی ہنسی آجاتی اور "جھلا نا ہو تو" کہہ کر بیٹے کی بلائیں اتار لیتی۔

بتول کو اب بڑے صاحب کے ساتھ ساتھ چھوٹے صاحب کی نظروں سے بھی ڈر لگنے لگا تھا۔ چھوٹے صاحب نظر بچا کر کبھی اس کی کلائی موڑ دیتے تو کبھی چٹیا کھینچ دیتے۔


ننھی بتول اب شعور کی دہلیز پر قدم رکھنے والی تھی۔ زمیندارنی ایک بار پھر چوکنّی ہوکر بیٹھ گئی۔ بات بات پر بتول کو طعنے دینا، ماں کی برائیاں بیان کر کے سب کے سامنے اسے شرمندہ کر دیتی۔جیسے بتول انسان نہیں کپاس کی پھٹکی ہو، کام کے وقت کارآمد ورنہ بے کار سی چیز۔

جب پہلی بار بتول کو اپنی ماں کے بارے میں لگے جھوٹے الزام کی سمجھ آئی تو اسے زمیندارنی سے نفرت ہونے لگی۔

مگر کل شام جب صحن میں بیٹھے مولوی صاحب حویلی کے دوسرے ملکائن کے بچوں کو سبق پڑھا کر جھوٹ الزام اور بہتان کا فرق سمجھانے لگے تب ہمیشہ کی طرح ستون سے ٹیک لگائے پاگل بتول نے بھی سبق سمجھ لیا۔ پھر وہ جلے پاؤں کی بلی کی طرح ساری رات بے چین رہی اور صبح بخار سے جل رہی تھی۔ اس نے بارہا سوچا کہ آج تک زمیندارنی کا منہ کیوں نہیں جلا جبکہ مولوی صاحب تو کہتے ہیں بہتان لگانے والوں کا منہ انگاروں سے بھر جائے گا۔

یوں کل رات سے بتول کو بخار چڑھا تھا، ماں کی محبت کا بخار، زمیندارنی سے نفرت کا بخار، پاگل پن کا بخار، بدلے کا بخار!

اس جلتے بخار کے ساتھ جب زمیندارنی نے اسے بلایا تو خود زمیندارنی کو بھی بخار چڑھا ہوا تھا اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ عرق النساء کے درد نے اسے توڑ ڈالا تھا۔ ایک مظلوم بے گناہ کی آہ اسے لگ گئی تھی ، مگر اس کا غرور نہیں ٹوٹا تھا۔

اس نے بتول کو دوا پلانے کو کہا۔پاگل بتول کو مائی خیراں کی باتیں یاد آگئیں اپنی ماں پر لگا جھوٹا بہتان یاد آگیا ، مولوی صاحب کی بات یاد آگئی ۔

اس نے جب زمیندارنی کو دوا کے لیے منہ کھولے دیکھا تو پاس پڑے حقے سے گرم کوئلہ اٹھاکر اس کے منہ میں رکھ دیا کیونکہ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ جو کسی پر بہتان لگائے اس کا منہ جل جاتا ہے اور بتول بھی یہی دیکھنا چاہتی تھی۔