اک نہ بھولنے والی ملاقات - محمد اسامہ امین

رائیونڈ مرکز میں بیان سنتے ہوئے نظریں اِدھر سے اُدھر گھما رہا تھا کے اپنے سےکچھ ہی دور بیٹھے ایک شخص پر نظر جا ٹھہری۔ چہرہ پر براؤن داڑھی سجائے، سر پرسفید عمامہ باندھے دوزانو بیٹھا یہ شخص پورے انہماک سے بیان سن رہا تھا۔ نظر جیسے رک سی گئی اور ذہن یہ سوچنے پر مگن ہو گیا کہ کیا ایسی بات تھی جو اپنی رنگین زندگی چھوڑ کر دین محمدی ﷺ کو عام کرنے کے لیے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ پاس جا کر مصافحہ کیا۔ انہوں نے چند سوالات کیے اور ایک محبت بھری دعا سے نوازا کہ اللہ قبول فرمائے۔

ایک چھوٹی سی انجانی سی ملاقات کبھی یوں بھی رلا جائے گی؟ کبھی سوچا نہ تھا۔ اتنی محبت سے کی گئی گفتگو ہی تھی، ان کا حسن سلوک ہی تھا کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا ان کے گن گاتا نظر آیا اور جب وہ گیا تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔

چلتے ہیں اس کی طرف جو حقیقت میں بھی حسین تھا اور حسین یادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی چھوڑ گیا۔

خدا نے نجانے کیا چیز اس کے خمیر میں گوندھی تھی کہ جس بھی شعبے میں گیا، کامیابی کے جھنڈے گاڑتا چلا گیا۔ کیریئر کا آغاز وائٹل سائنز کے گروپ میں مرکزی کردار سے شروع کیا۔ ‘دل دل پاکستان’ سے دلوں کو جلا بخشی۔ اپنے زمانے کے سپر ہٹ گانے دیے۔ ہر کنسرٹ میں، ہر میوزک شو پر جنید جمشید کی آوازیں گونجنے لگی۔ قومی دن ہو یا پھر کوئی اور پروگرام، جنید جمشید دلوں کو گرما رہا ہے۔ پھر دنیاوی ترقی کی راہیں طے کرتا ہوا اپنے شعبے میں عروج تک پہنچا اور وہیں سے دین کی جانب راغب ہو گیا۔ پھر سب کچھ دین محمدی ﷺ پر قربان کردیا۔ اپنی شہرت اپنی پہچان سب چھوڑ کر نئی منزل کی جانب گامزن ہو گیا۔ ایسی منزل جہاں قدم قدم قربانیاں طلب کی جاتی ہیں۔ اس نے ایسی راہ چنی کہ جہاں سے بچ نکلنا بہت ہمت کا کام ہے۔ عشق الٰہی اور عشق محمدی ﷺ میں خود کو قربان کرتا چلا گیا۔ جب خود کو بدلنے نکلا تو ایسا بدلا کہ دنیا معترف ہوگئی۔

اللہ جب کسی سے راضی ہو جاتا ہے تو اس کو اپنے دین کی بھلائی کا کام لینے کے لیے مختص فرما لیتا ہے۔ اللہ نے اس کو چمکانا تھا۔ اس سے دین کا کام لینا تھا اور ایک مثال بنانا تھا۔ واقعی وہ ایک مثال قائم کر گیا ہمت و استقلال کی ۔

گانے چھوڑ کر نعتوں پر آ گیا۔ پر کیف علاقے چھوڑ کر گلی گلی قال اللہ قال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں بلند کرنے لگا۔ گانے بجانے سے اذاں بلالی کہنے والا بن گیا۔ اعلیٰ شاندار محل چھوڑ مسجد کے ٹاٹ پر آگیا۔

دلوں کو حمد باری تعالیٰ اور نعت نبی ﷺ سے گرماتے ہوئے اس شعبے میں بھی بازی لے گیا۔ محبت سے پڑھا ہوا اس کا کلام بہت سے دلوں کو بدلنے کا سبب بننے لگا۔ خدا نے اسے کیا شان سے نوازا تھا، جو کردار بھی ادا کیا اس کو اس خوبی سے نبھایا، جیسے یہ کردار بنا ہی اس لیے ہے۔

غلطیاں تو ہر انسان سے ہوتی ہیں۔ انجانے میں جنید سے بھی ہوئیں۔ جواب دینے کی بجائے میڈیا کے سامنے معافی مانگی اور مانگتا رہا۔ مگر ماسوائے کچھ لوگوں کے سب نے معاف کردیا۔ الزامات کے تیر خندہ پیشانی سے سہے، تھپڑوں کا جواب بھی محبت سے دیا، صبر و استقلال کی مثال قائم کر گیا۔

الہیٰ کی چوکھٹ پر بھکاری بن کے آنے والے کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک سال ہوگیا۔ “میرا دل بدل دے” کہنے والا نجانے کتنے دلوں کو بدل کر انہیں خدا سے جوڑ کر آج ہم میں نہیں۔ خدا نے اس کو توفیق دی اس نے نہ صرف خود کو بدلا، بلکہ کئی اور لوگوں کو بدلنے کا باعث بنا۔ اللہ کی شان دیکھیں لوگ اب اس کے گانے نہیں، اس کی نعتیں اور بیان سنتے ہیں۔ خدا نے کیا مقام عطا فرمایا کہ لوگ نعتیں سنیں گے اور اجر اسے تاقیامت ملتا رہے گا؟

کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ صرف جنید جمشید کا ہی ذکر کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس لیے کہ وہ ہر دل میں بستا تھا۔ اس کا اوڑھنا بچھونا اس ملک کے لیے تھا، دین کے لیے تھا۔ اس نے پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دیں، جن کے عوض تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ وہی تمغہ امتیاز سینے پر سجائے دل میں گلہائے عقیدتِ محمد ﷺ بسائے الہٰی کی چوکھٹ پر بھکاری بن کر چلا گیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */