اختلاف و مخالفت کا فرق اور فرقہ واریت کے اسباب - عبدالغفار شیرانی

دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس

عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے

اس کائنات میں بسنے والے ہر انسان کا شعور دوسروں سے منفرد، ہر آدمی کا مزاج دیگر سے الگ، ہر شخص کی سوچ باقی سے جدا اور ہر فرد کی فکر اوروں سے مختلف ہوتی ہے۔ ہمارا شعور، ہمارا مزاج، ہماری سوچ اور ہمارے افکار مل کر ہمارے زاویہ نظر اور ہمارے نقطہ نظر کی تشکیل کے لیے بنیاد بنتے ہیں۔ زاویہ نظر اور نقطہ نظر میں فرق کی بنیاد پر ہی مختلف لوگوں میں اختلاف اور مخالفت وجود میں آتے ہیں۔

معاشرے کے کسی بھی فرد، گروہ یا مکتبِ فکر سے ان کے افکار و کردار یا افعال و اقوال کی بنیاد پر عدم یکسانیت کے اظہار اور الگ موقف یا متضاد سوچ کے اختیار کو 'اختلاف' اور 'مخالفت' کہتے ہیں۔ اختلاف اور مخالفت بسا اوقات محض خیالات میں ہوتے ہیں یعنی صرف علمیت کی حد تک، لیکن بعض اوقات یہ باقاعدہ عملیات کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔

اختلاف معاشرے کے کسی فرد یا گروہ سے اپنے شعور کی بنیاد پر الگ موقف اور فکر کے تضاد کا نام ہے۔ یہ دنیا کے کسی بھی مسئلے پر دوسروں سے اپنی جدا کیفیت اور ان سے عدم یکسانیت کا نام ہے۔ یہ انسانیت کے کسی معاملے میں انسانوں سے اپنی سوچ کے تغیر اور رائے میں تفاوت کا نام ہے۔ مختصر یہ کہ اختلاف کائنات کے تنوع کا نام ہے۔

مخالفت معاشرے میں شعور کے بگاڑ کا نام ہے۔ یہ بشر میں شر، بشریت میں پھوٹ اور معاملات میں أَن بَن کا نام ہے۔ یہ انسانوں سے بے جا تکرار اور انسانیت میں جدائی اور جھگڑے کا نام ہے۔ مخالفت در حقیقت اجتماعیت میں خصومت و عداوت اور دشمنی کا مجموعہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز میں اختلاف ہے اور یہی اختلاف در حقیقت کائنات کا اصل حسن ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کائنات کی چیزوں میں باہمی مخالفت نہیں کیونکہ کائنات میں مخالفت کا وجود درحقیقت موجودات کی تباہی ہے۔ رات اور دن مین زمین و آسمان کا اختلاف ہے اور زمین و آسمان میں اختلاف کا ہم دن رات مشاہدہ کرتے ہیں لیکن ان سب میں مخالفت نہیں مکمل انضمام ہے ورنہ یہ پورا نظام بگڑ جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:   مریضانہ سوچ – ابویحییٰ

اختلاف جب تک اخلاقیات کے دائروں میں میں ہے تب تک محمود ہے جیسے ہی اخلاقیات کے دائرے پار ہوئے یہ مخالفت کا روپ دھار لیتا ہے جو سراسر مذموم ہے۔ اختلاف میں شدت کا نام مخالفت اور مخالفت میں اعتدال کا نام اختلاف ہے۔

اختلاف کا مطلب ہے نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ احترام سے کسی شخص یا گروہ کے افکار و کردار کو دلیل و برہان کی بنیاد پر رد کرنا اور اس کے ساتھ عدم موافقت کا اظہار کرنا جبکہ مخالفت کا مطلب ہے حسد اور تعصب کے ساتھ کسی شخص یا گروہ کے خیالات اور ذاتیات کو جذباتیت اور انانیت کی بنیاد پر نشانہ بنانا۔ گویا اختلاف بجائے کسی شخصیت کی ذات کے اس فرد کے افکار و کردار سے ہوتا ہے جبکہ مخالفت کی بنیاد اس شخص کی قول و فعل کی بجائے اس کی ذات سے عناد پر ہوتی ہے۔

اختلاف ضِد کے زَد میں نہیں آتا کیونکہ دو ضِد ایک دوسرے سے مختلف تو ضرور ھوتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے مخالف ہرگز نہیں جیسے دن و رات اور آسمان و زمین۔ دن و رات اور آسمان و زمین ایک دوسرے کے مقابل ضرور ہیں لیکن مخالف ہرگز نہیں، جبکہ مخالفت ضِد کی شدید زَد میں ہے کیونکہ مخالف ضرور ایک دوسرے کی ضِد ہوتے ہیں جیسے روشنی و اندھیرا اور آگ و پانی۔ روشنی و اندھیرا اور آگ و پانی مقابل بھی ہیں اور مخالف بھی۔

اختلاف میں فریقین کے درمیان حسنِ ظن ہوتا ہے اگرچہ مدمقابل میں حُسن ہو ، نہ وہ زَن ہو، جبکہ مخالفت نام ہی بدظنی کا ہے اگرچہ مقابل حسین بھی ہو اور زَن بھی۔ اختلاف میں شدت کے باوجود خوشگوار تعلقات بحال رہتے ہیں یہ مثبت تنقید کی طرح ایک تعمیری عمل ہے جبکہ مخالفت میں آغاز ہی تعلقات کے انقطاع سے ہوتا ہے جو کہ تنقیص کی طرح ایک تخریبی فعل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مریضانہ سوچ – ابویحییٰ

کسی شخصیت یا فکر سے اختلاف رائے کرنے والا لازم نہیں کہ اس شخصیت یا فکر کا مخالف بھی ہو لیکن کسی شخصیت یا فکر کی مخالفت کرنے والا ہر رائے میں لازماً اس شخصیت اور فکر سے اختلاف کرے گا۔ اختلاف میں تعظیم برقرار رہتی ہے جبکہ مخالفت کا آغاز ہی تذلیل سے ہوتا ہے۔ اختلاف معاشرے میں شعور کی علامت جبکہ مخالفت جہالت کا نشان ہے۔

اختلاف سے معاشرے میں علمی اور سیاسی جمود ٹوٹ جاتے ہیں جس سے تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے جبکہ مخالفت معاشرے میں نفرت و عداوت اور تشدد و انتشار کو جنم دیتی ہے۔ جس سے معاشرہ مفلوج اور صلاحیتیں مفقود ہوجاتی ہیں۔ اختلاف منزل کی انتہا تک پہنچنے کے مختلف راستے اور مخالفت انتہائی زوال تک کھینچنے کے مختلف طریقے ہیں۔

مہذب اختلاف مسلمانوں کی علمی روایات میں اہم ترین بحث اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا اہم ترین حصہ رہا ہے۔ حضور پاک ﷺ کی زندگی میں اور ان کے بعد بھی کئی اہم معاملات میں صحابہ کرام کے مابین اختلافِ رائے کا ثبوت ملتا ہے۔ صحابہ کرام کے بعد بھی فقہائے عظام اور اولیائے کرام کا مختلف معاملات میں اختلافِ رائے موجود رہا ہے۔ مخلتف فقہی مکاتب فکر کا وجود اور تصوف کے مختلف سلسلوں کا ثبوت درحقیقت اختلاف ہی ہے۔

مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر میں فکر کے اختلاف کی اہمیت اور ضرورت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اختلافِ رائے کی باقاعدہ حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ تمام دینی مکاتبِ فکر میں فکر کی بنیاد پر کسی فرد کی مخالفت سے شدید اختلاف کیا گیا ہے۔ اگرچہ تمام مکاتبِ فکر کے اکثر لوگ اس فکری آزادی سے متصادم ہیں۔

دراصل جب کسی مکتبِ فکر سے منسلک لوگ اپنے نقطہ نظر کو دوسرے مکاتبِ فکر پر ترجیح دیتے ہوئے دلائل میں مخالف نقطہ نظر اور اس کی فکر کے حاملین پر طعن و تشنیع کا اسلوب اپنا کر ان کی تنقیص و توہین کا انداز اختیار کرتے ہیں تو اختلاف بھی اخلاقیات سے نکل کر مخالفت کا روپ دھار لیتا ہے۔