عملی زندگی میں قدم رکھنے والے طالب علموں کے نام - ڈاکٹر اسامہ شفیق

دسمبر ہر سال غموں کے مہینے کے عنوان سے موسوم ہے لیکن دسمبر بہت سوں کی زندگی میں نشاط اور طرب کا بھی نام ہے۔ ہر سال دسمبر میں جامعہ کراچی سے سینکڑوں و ہزاروں کی تعداد میں طالب علم اپنے امتحانات میں کامیاب ہو کر عملی زندگی کا آغاز کردیتے ہیں۔ گوکہ جامعات خود ایک تجربہ گاہ ہیں اور عملی زندگی کی ایک جھلک یہاں بھی موجود ہے لیکن عملی زندگی کی ضروریات کے بارے میں جامعات میں بار بار عملی ضروریات کی تاکید طالب علم کو زندگی کا ایک پہلو نمایاں اور دیگر پہلوؤں کو کمتر کرکے پیش کرتے ہیں۔ آج میں کچھ غیر معروف یا غیر پروفیشنل باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے ان کو اپنے پلے گرہ باندھ لینا بہت ضروری ہے۔

محنت کی عادت اور مستقل مزاجی

محنت کرنے کی عادت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنالیں۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ بہت باصلاحیت ہیں لیکن آپ میں محنت کرنے کی عادت نہیں ہے تو اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال نہیں کرسکتے۔ اسی طرح بار بار ہمت ہار دینا یا کسی معاملے پر غیر مستقل مزاجی آپ کی صلاحیتوں کو برباد کردے گی۔ محنت اور مستقل مزاجی کے باعث ایک عام سی صلاحیت رکھنے والا شخص بھی بڑے بڑے کام سرانجام دے سکتا ہے۔

صلاحیتوں اور علم میں اضافے کی جستجو

یہ بات سمجھ لیجیے کہ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ آپ کا علم کامل ہوچکا ہے اور اب آپ کو کسی بھی قسم کے روایتی یا غیر روایتی علم کی ضرورت نہیں تو آپ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ علم کی حیثیت انسانی جسم میں دوڑتے خون کی مانند ہے اگر آپ کا علم پرانا، فرسودہ اور کم ہوگا تو وہ آپ کے باصلاحیت ذہن کو بھی گہن لگادے گا۔ لہٰذا نئی باتیں، علوم و تحقیق کی جستجو، ان کو پڑھنا اور معاشرے پر اس کا انطباق آپ کی صلاحیتوں کو چار چاند لگا دیں گے۔ ایک منجمد علم آپ کی شخصیت کو گہنا دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایسا ابّا کہاں سے لبّا؟ - زبیر منصوری

پابندی وقت اور قوانین کی پابندی

پابندی وقت کہ جس کا ہمارے معاشرے میں شدید فقدان ہے، آپ کو ایک disciplined اور مہذب شہری بنے میں مدد دے گا۔ وقت پر آنا اور جانا دفتری اوقات کی پابندی، اپنے وقت کا درست استعمال اور قوانین کی پابندی آپ کے وقت کو بچانے اور اس کو بامقصد بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ دفتری قوانین، معاشرتی، ملکی قوانین کی پابندی آپ جیسے پڑھے لکھے اور عام فرد کے درمیان ایک حد فاصل ہے۔ لہٰذا آپ کا برتاؤ، نشت و برخاست ایک پڑھے لکھے فرد کا تصور دے۔ ورنہ آپ جیسے اعلی تعلیم یافتہ اور عام فرد میں کیا فرق باقی رہ جائے گا؟

علم کی دوسروں تک منتقلی

جو بھی علم آپ کے پاس ہے وہ دوسروں کو دینے میں کبھی کنجوسی کا مظاہر ہ نہ کریں۔ علم اور پیسہ وہ چیز ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ اگر آپ کو کسی کمپیوٹر پروگرام کی کوئی کمانڈ یا کوئی بھی علم ہے تو اس کو کسی دوسرے کو بتانے میں کنجوسی نہ کریں۔ علم کے خزانے سے آپ جتنا دوسروں کو دیں گے اس میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے گا۔

توکل و قناعت

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں توکل علی اللہ اور قناعت کی شدید کمی ہے۔ ایک بات ضرور یاد رکھیں جو رزق اللہ نے آپ کے مقدر میں لکھ دیا ہے وہ آپ کو ضرور ملے گا لیکن اس کے لیے سعی و جدوجہد کرنا آپ کا کام ہے۔ رزق کی تنگی یا کم پیسے کمانےکا شکوہ کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کریں ہوسکتا ہے اس رزق کے ساتھ دیگر نعمتیں آپ کے ساتھ ہوں جوکہ کسی رزق کی فراوانی والے کے پاس نہ ہوں۔ مثلاً صحت و تندرستی، رزق حلال، گھر کا سکھ چین، والدین کی نعمت، اولاد وغیرہ لہٰذا ہمیشہ روپے پیسے کی بنیاد پر موازنہ کرنے کے علاوہ دیگر چیزوں پر بھی نگاہ رکھیں اور اپنے رزق پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اگر آپ نے قناعت کی دولت پالی تو خوب سے خوب تر کے سراب سے بھی نجات حاصل کرلیں گے۔ ترقی ضرور کریں لیکن ترقی کی دوڑ میں دوسروں کو نہ روندیں۔ آپ کا رزق آپ کے پاس خود آئے گا راستے کا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مقلد اور طالب علم - ضیغم قدیر

کامیاب انسان، اچھا انسان

کامیابی کا دنیاوی تصور مال، عہدے و منصب سے ہے جبکہ ایک اچھے انسان کا تصور خلق خدا کے کام آنے، عمدہ اخلاق، سچ، اصولوں کی پابندی اور بنیادی انسانی اخلاقیات سے ہے لہٰذا ایک کامیاب انسان ایک اچھا انسان بھی ہوسکتا ہے اور ایک کامیاب انسان ایک برا انسان بھی بن سکتا ہے۔ انسان کی زندگی پر گہرا نقش کامیاب انسان نہیں بلکہ اچھے انسان چھوڑ جاتے ہیں کامیابی وہ بھی دنیاوی کامیابی کا تصور ہمہ وقت تغیّر پذیر ہے۔ آج ایک دولت کی خاص مقدار کامیابی ہے تو کل کوئی دوسری ہوگی لیکن اچھے انسان کا تصور ہر معاشرے میں یکساں اور مستقل ہے۔ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے لوگوں سے معاملات کرنے میں لوگوں سے زیادہ اخروی کامیابی کو مدنظر رکھیں۔

زندگی کا مقصد

آخری اور اہم ترین بات اپنی زندگی کا کوئی مقصد ضرور متعین کریں۔ بے مقصد زندگی انسان کو کسی تحریک پر نہیں ابھارتی لہٰذا زندگی کے لیے کسی بڑے مقصد کا تعین کریں، اپنے سامنے ایک ہدف بنائیں اور مسلسل اس کو پانے کی سعی وجدوجہد کریں۔ ایک بڑا رپورٹر، ایڈیٹر، ڈائریکٹر نیوز، ایک اچھے استاد، کا بھی ہدف بناسکتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ مستقل و ہمیشہ باقی رھنے والی اخروی زندگی کی کامیابی کو بھی اپنی پلاننگ کا حصہ بنانے میں نہ بھول جائیں۔

اللہ تعالٰی عملی زندگی میں آپ کو کامیاب کرے اور آپ کو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارنے والا اور خلق خدا کی خدمت کرنے والا بنائے۔ آمین!