اخلاقی دہشت گردی - مصباح الامین

شریعت اسلامیہ میں ہر انسان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے خصوصی احکامات نازل کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہر اس حرکت کو حرام فرمایا ہے جس میں کسی انسان کی عزت و ناموس کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ ہو۔ آپس کے معاملات اور تعلقات کو حد درجہ حوشگوار رکھنے کی بار ہا تلقین کی گئی ہے۔ اس لیے شریعتِ مطہرہ نے عزت و آبرو کو خاک میں ملانے والی، مرکزی حیثیت کی حامل "غیبت" کو حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے کہ

"اے اہل ایمان!بہت گمان کرنے سے پرہیز کروکہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرواور نہ تم میں کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کروگے۔ تو غیبت نہ کرو اور اللہ کا ڈر رکھوبےشک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہےمہربان ہے۔ "(الحجرات 12)

آیاتِ بالا سے معلوم ہوا کہ کسی بھی انسان کی اور خاص کر مسلمان کی خامیوں اور عیبوں کی تلاش اور تشہیر سختی سے منع کی گئی ہے۔ یعنی کسی کے عیب دوسرے کو سامنے بیان کرنا، شرعی اصطلاح میں اس کو غیبت کہا جاتا ہے۔ اگر اس بات کو موجودہ دور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس مقدس اسلامی معاشرے میں بھی غیبت کلچر عام ہو چکا ہے اور اس کو گناہ تصور کرنے کی بجائے "اظہار حقیقت" کا لیبل لگا کر اس کی باقاعدہ ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور دہرے گناہ سے اپنے بوجھ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

قران و حدیث کی روشنی میں غیبت کی حقیقت اور اس کے خطرناک اُخروی نتائج پر نظر دوڑائی جائے تا کہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔ قران کریم نے متعدد مقامات پر اس کی مذمت بیان کی ہے اور اس کی تباہی اور خطرناکی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ

یہ بھی پڑھیں:   اخلاقی انحطاط اور ہمارے رہبر - ملک رضا علی

"ہر وہ شخص جو لوگوں کی عیب چینی کرتا ہے اس کے لیے تباہی ہے۔ "(سورہ الھمزہ)

آیت مذکورہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت کا ہر پہلو مذموم ہے چاہے اشاروں میں ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ اصحاب لغت قرآن لکھتے ہیں کہ ھُمزہ اور لُمزہ میں ہر طرح کی غیبت شامل ہے۔ ھُمَزہ سے مراد سامنے غیبت کرنا، برے الفاظ سے اپنے ہم نشینوں کو کی دل آزاری کرنا اور لُمَزَہ سے مراد پیٹھ پیچھے برائی کرنا، آنکھ کے اشارے سے، ہاتھ اور سر، غرض تمسخر اور عیب جوئی کی نیت سے ہر قسم کا اشارہ غیبت کے زمرے میں آتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا، کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کی حقیقت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ اس پر سرورِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا، غیبت کی حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح یاد کرے اور اس کا ذکر اس طرح کرے، جس سے اس کو ناگواری، تکللیف اور حفت کا سامنا کرنا پڑے اور اپنے بھائی کی اس چیز کا ذکر کرے جس کو وہ ناپسند کرے۔ کسی نے عرض کیا کہ کیا اس بات کا ذکر جو واقعی اس میں موجود ہو اور عیب بھی پائے جاتے ہوں، یہ بھی غیبت ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا! جی ہاں، وہ باتیں اور عیوب جس کا ذکر اس کو ناگوار ہو اور اس میں پائے بھی جاتے ہوں یہی تو غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب موجود ہی نہ ہو پھر تو وہ تہمت اور بہتان ہے۔ (مسلم شریف، ابوداؤد)

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے، سب سے برے لوگ وہ ہیں جو چغل خوری کرتے ہٰیں اور دوسروں کے آپس کے تعلقات خراب کرتے ہیں۔ (مسند احمد)

یہ بھی پڑھیں:   چند لمحات سیرت نبیﷺ کے ساتھ - جہانزیب راضی

ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے غیبت کرنے والوں کو منافقین جیسے برے افراد کی فہرست میں شامل فرمایا ہے۔ (ابوداؤد)

مذکورہ بالا قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں غیبت کی حقیقت اور اس کی قباحت واضح ہو گئی ہے کہ غیبت جیسی گھناؤنی حرکت اسلامی معاشرے میں فتنہ و فساد بھڑکانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ جس سے باہمی محبت و الفت کی جگہ نفرت اور رنجشیں جنم لے لیتی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان میدانِ حشر میں اللہ تبارک و تعالی، غیبت کرنے والے کی تمام نیکیاں ان لوگوں میں تقسیم کر دیں گے جن کی اس نے غیبت کی ہو گی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان لوگوں کے گناہوں کو اس کے کھاتے میں ڈال کر دوزخ کی دہکتی آگ کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

موجودہ دور جو کہ ہر لحاظ سے علوم کے عروج کا دور ہے۔ لیکن غیبت کو نہایت معمولی شے سمجھ کر ہر ذی شعور نے اپنی ذات کا حصہ بنا لیا ہے۔ جانتے اور سمجھتے ہوئے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے لیکن پھر بھی ہر طبقہ کے افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ہمیں صحیح اسلامی خطوط پر اپنی زندگی کے ایام کو گزارنا چاہیے۔ غیبت، خواہ مذہب کے نام پر ہو، لباس و جسم کے اعتبار سے ہو، طرز زندگی اور طریقہ عبادت کے اعتبار سے ہو، حسب و نسب یا خاندان کے اعتبار سے ہو، ہر طرح کی غیبت حرام ہے اور شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان تمام اقسام پر غور کر کے ہر ممکن طریقے سے اس کبیرہ گناہ سے بچ کر زندگی گزاریں اور اپنے کردار سے اسلامی معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کا ذریعہ بن کر غیر مسلم اقوام کے قبولِ اسلام کا ذریعہ بنیں۔ اسی میں ہماری دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔