نبی آخر الزماںﷺ بطورپیغمبر امن - امینہ خورشید

وہ تاریخ جس کے ہر ورق کو ظلم و جبر جیسے الفاظ سے سیاہ کر دیا گیا تھا،وہ تاریخ کے جس کے دامن کو نا انصافی اور بے حسی سے تار تارکیا جا چکا تھا، جس میں قیصر وکسری ٰ کا ظلم وجبر لوگوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا مقدر بن چکا تھا لیکن حضوراقدسﷺکی آمد نے تہذیب انسانی کو وقار،ثقافت کو تقدس اور عمل کو طہارت کی پاکیزگی بخشی او ر نفرتوں کے خار دار صحرا میں محبت،اخُوت اور بھائی چارے کا ایسا گلستان آباد کیا جو رہتی دنیا کے لیے مثالی اور عملی نمونہ بن گیا۔ایک ایسی ذات مبارک کہ جس کے سر اقدس پر رب کائنات نے خاتم النبین، رحمتہ اللعالمین اور سید المرسلین کاایک ایسا تاج سجایا جو پوری کائنات کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ بن گیا۔اِس ذات نے عرب کے صحرا کو خضرراہ بنا یا، اُسے رحمت کے سدابہار اور خوشبودار پھولوں سے منور کر دیا اور بھٹکی ہوئی مخلوق کو خُدائے واحدِکی دہلیز پر پہنچا دیا۔

چھٹی صدی عیسوی کا عہد تھا جب انسانیت اپنی ہلاکت کے عروج پر تھی۔ انسانی اخلاق و اقدار کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ظلم و بربریت کا راج اپنے عروج پر تھا۔ کائنات کی نازک تخلیق عورت ظلم کی چکی میں پس رہی تھی۔ انسان کے دل کی سختی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا راج عام تھا۔ لوٹ مار، قتل و غارت، محبوب مشغلے بن چکے تھے۔ اس دور کا نقشہ مورخین نے ایسا کھینچا ہے کہ جس کی تاریخ کے وہ اوراق ناقابل بیان ہیں اور دل یقین کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا۔ انسانیت کے لیے نیکی و برائی کا فرق ختم ہو چکا تھا۔ جزاو وسزا کے خوف سے بے فکر انسانیت باطل کے راستے پر گامزن تھی۔ اس وقت کے دانشور علماء اور ادیب عقل و دانش رکھنے کے باوجود بھی انسانیت کی فلاح کا بیڑہ اٹھانے کے قابل نہ تھے۔ ایسے حالات میں انسان کو انسانیت اور امن کی شدید ضرورت تھی۔

تب معاشرے کو ایک ایسے انسان کی ضرورت تھی جو فطری اور جبلی طور پر مکمل اور ہر برائی سے پاک ہو، جو انسانیت کو راہ امن و سکون پر گامزن کرے۔ ایسی صفات کی مالک ہستی جو ہر عیب اور برائی سے پاک انسانیت کی معراج کی تکمیل کرتے ہوئے نظر آئے جو اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دے، جس کی صفات کی کوئی حد نہ ہو، جس کا ایک ایک عمل انسانی معراج کی تکمیل ہو، جو رحمت العالمین ہو۔ جس کا وجود انسانوں کے ساتھ ساتھ کائنات کی ہر شے کے لیے باعث رحمت ہو تو اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس انسان کو چنا وہ جو انسانی طبقے کا بہترین، برتر، افضل، اکمل اور اشرف انسان تھا جن کا اسم گرامی محمد ﷺ بن عبداللہ ہے۔

حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہی کائنات میں عقیدت کے گلزار اور محبت کے اثمار بکھرنے لگے۔ جن کے وجود برحق سے رحمت کے انوار برسنے لگے۔ دکھی دلوں کو سہارا، بیماروں کو شفا، بے گھروں کو ٹھکانا مل گیا۔ اللہ رب العزت نے اپنی تمام تعلیمات کے اختتام اور انسانیت تو اس کی معراج پر پہنچانے کے لیے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کا انتخاب کر کے تمام عالم پر احسان عظیم کر ڈالا۔ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری اور سب سے پیارے نبی ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول اور انبیاء بھیجے مگر جو رتبہ نبی آخرالزماں محمد ﷺ حاصل کر پائے کوئی اور نبی یا رسول وہ مقام یا رتبہ نہ حاصل کر سکا۔ اللہ تعالیٰ نے برائی کے خاتمے اور دنیا میں اچھائی اور امن کی تکمیل کے لیے محمد ﷺ کو انسانی شکل میں دنیا میں بھیجا تاکہ بھٹکے ہوئے اور عالم انسانوں کو انسانیت اور حق کی پہچان کرائی جائے۔

آپ ﷺ کے تشریف لاتے ہی دنیا میں محبت و امن کا بولا بالا ہوا۔ آپ ﷺ نے عرب میں رہنے والے لوگوں کو فرسودہ نظریات اور روایات کو باطل سے حق کی طرف موڑ دیا۔ جو لوگ حق سے بہت دور باطل کی فرسودہ الجھنوں کا شکار تھے انہیں حق کا راستہ دکھا کر انہیں زندگی کے مقصد سے روشناس کرا دیا۔ آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور کردار غیر مسلموں کو بھی متاثر کیے بغیر نہ رہا۔ آپﷺ کی حق گوئی اور امانت داری کی گواہی آپﷺ کے دشمنوں نے بھی دی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ساری عمر دین حق کی سربلندی اور دنیا میں امن و امان کے لیے کوشاں کر دی اور اس راستے پر آپﷺ نے بہت مصائب و مشکلات کا سامنا کیا مگر کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کسی سے بھی بدلہ نہ لیا بلکہ ہمیشہ سب کو معاف کرتے رہے۔ چالیس برس کی عمر تک آپﷺ صادق اور امین کا لقب پانے کے بعد جب اعلان نبوت ہوا اور آپﷺ نے صدائے حق سے لوگوں کو روشناس کرایا تو وہی صادق الامین جھوٹا اور قابل نفرت بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نازک آبگینے اور سیرت کے نگینے - مریم خالد

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں:۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

’’اور ہم نے تمہیں کائنات انسانی کے لیے پیغمبر بنا کر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے‘‘۔

آپ ﷺ کی دعوت حق پر قریش مکہ نے آپ ﷺ کو جھٹلایا۔ کفار مکہ آپﷺ کے دشمن ہو گئے اور آپ ﷺ کو طرح طرح سے ایذا ئیں پہنچانی شروع کر دیں۔ کسی نے آپﷺ کو ساحر، کسی نے مجنوں، کسی نے پاگل اور کسی نے شاعر، غرض کے جو کچھ ان سے ہو سکتا تھا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ آپﷺ جب کلام اللہ پڑھتے تو ٹھمٹھا کرتے، شوروغل کرتے تاکہ آپﷺ کو تلاوت و نماز نہ ادا کر سکیں۔ غرض کہ آپﷺ کو لہو لہان کر دیا یہاں تک کہ خون سے آپﷺ کے جوتے بھر گئے مگر اس وقت بھی اللہ کے نیست و نابود کرنے پر بھی آپﷺ نے انہیں معاف کر دیا اور ان کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔

میدان جنگ ہو، گھر ہو یا کوئی بھی داخلی و خارجی عمل آپﷺ نے انے اعلیٰ اخلاق و انصاف کی بنیاد پر قیام امن کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہے۔ آپﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ دنیا میں قیام امن کے لیے آپﷺ نے ہر انسان کے کچھ حقوق و فرائض مقرر کیے۔جیسے والدین، اولاد، رشتہ داروں اور غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا۔ آپﷺ نے سارے دین کا خلاصہ حسن اخلاق کو قرار دیا۔ آپﷺ کی تعلیمات کے مطابق قیام امن کے لیے عدل و انصاف، حسن اخلاق اور صبر وتحمل بہت ضروری عناصر ہیں۔ آپﷺ کے حسن اخلاق اور اعلیٰ کردار کی تعریف کا اعتراف آپﷺ کے بعد آنے والے بہت مصنفین نے کچھ یوں کیا:

ای ڈرمنگھم (E. Dermengham)

عرب بنیادی طور پر انارکسٹ(بے راہ روی، لاقانونیت پسند) اور انتشار پسند تھے۔ پیغمبر ﷺ نے یہ زبردست معجزہ دکھایا کہ انہیں باہم متفق کر دیا۔ جو کچھ محمدﷺ نے کر دکھایا اسے سامنے رکھیں تو ہم ان کی عطیم ترین شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ محمد ﷺ اس اعتبار سے دنیا کے وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ چھپا ہوا نہین ہے بلکہ روشن اور منور ہے۔ عقل سلیم سے عاری انسان ہی محمدﷺ پر کسی بھی زہنی بیماری کا الزام عائد کرتے ہیں‘‘۔(Life of Muhammad. P:930)

بارج برنارڈ شا (George Bernard Shaw)

’’محمد ﷺ ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ تھے۔ میر ی خواہش ہے کہ اس صدی کے آخر تک برطانوی ایمپائرکو محمدﷺ کی تعلیمات مجموعی طور پر اپنا لینی چاہئیں۔ انسانی زندگی کے حوالے سے محمد ﷺ کے افکار و نظریات سے احتراز ممکن نہیں ہے۔ محمد ﷺ کے مذہب کے بارے میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ یہ کل کے یورپ کے لیے اتنا ہی قابل قبول ہے جتنا آج یورپ کے لیے جو اسے قبول کرنے کا آغاز کر چکا ہے‘‘۔(Islam our choice. P:81)

آرنلڈ ٹوائن بی(A.J.Toynbee)

’’محمدﷺ نے اسلام کے ذریعے انسانوں میں رنگ و نسل اور طبقاتی امتیاز کا یکسر خاتمہ کر دیا۔ کسی مذہب نے اس سے بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جو محمدﷺ کے مذہب کو حاصل ہوئی ہے۔ آج دنیا جس ضرورت کے لیے رو رہی ہے اسے صرف اور صرف مساوات محمدیﷺ کے ذریعے اور اس نظریے کے تحت ہی پورا کیا جا سکتا ہے‘‘۔(Civilization on Trial)

ایف ایم والٹیئر(FM Voltaire)

’’ان سے بڑا انسان، انسانیت نواز، دنیا کبھی پیدا نہ کر سکے گی‘‘(Philosophiar Dictionary)

محمد ﷺ کے اخلاق عظیم اور عظیم قربانیوں کی وجہ سے دنیا میں امن و امان کا بول بالا ہوا۔ فتح مکہ کے موقع پر جب آپﷺ نے تمام کفار مکہ کو معاف کر دیا تو وہی کفار مکہ جو آپﷺ کے اللہ کے حکم سے چاند کے دو ٹکڑے کرنے پر بھی اللہ پر ایمان نہ لائے تھے محض آپﷺ کے معاف کر دینے پر آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر ایمان کی دولت سے مالا مال ہو گئے۔ آپﷺ کی زندگی ہمارے لیے اسوہ حسنہ اور نجات دہندہ ہے۔ آج پوری دنیا میں امن و امان صرف ا ور صرف آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کر کے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ آج امن و امان کے لیے بحث و مباحثے کی بجائے سیرت نبی ﷺ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کا سب سے بڑا کردار - ابو فہد ندوی

زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ حجر اسود کو نصب کرنے جیسا نازک موقع ہو یا حلف الفضول جیسا معاہدہ طے کرنے کا معاملہ یا پھر حضرت زیدبن حارثہ ؓ کی واپسی کی بات، ہر معاملے کونہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔کبھی آپﷺ مکے کی گلیوں میں لوگوں کو ایک خُدا کی طرف بلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،کبھی آپﷺکوتبلیغ حق کی پاداش میں طائف کے بازاروں میں پتھروں سے لہولہاں کیاجاتا ہے، کبھی آپﷺکوشعیب ابی طا لب کی گھاٹی میں محصور ہوکر معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔، کبھی آپﷺپردشمن کی برہنہ تلواریں محاصرہ کرتی ہیں، کبھی آپﷺکومدینہ ہجرت کرنی پڑتی ہے،کبھی آپﷺمعرکہ بدر میں صحابہ کرامؓ کو صفا آرا کرتے دکھائی دیتے ہیں،تو کبھی انہیں اُحد کے مورچوں پر متعین کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی میثاق مدینہ اور صُلح نامہ حُدیبیہ جیسے تاریخ اِنسانی کے پہلے تحریری امن معائدے فرما کرعالم امن ہونے کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں اور کبھی فتح مکہ کے موقع پراپنے ازلی دشمنوں کو بھی معاف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر مبلغ امن نے امن عالم کا جو منشور پیش کیا۔ اس میں کم وپیش۲۵دفعات ہیں۔ جن میں سے کم ازکم۲۰ کا تعلق انسانی حقوق کے احترام اور ان کی پاسداری سے ہے۔اس ہستی نے ایک ایسا منشور دیا ہے جو نا صرف عالم اسلام کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے بلکہ پوری دنیا آج اس سے مستفید ہو رہی ہے۔اس بات کو صرف مسلمان ہی نہیں مانتے بلکہ غیر مسلم مشاہرین بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ مغربی مصنف مائیکل ہارٹ یا جارج برناڈشاہ، ہندوستان کا گاندھی ہو یا پھر جرمنی کا مشہور ادیب گوئٹے سب کے الفاظ مختلف مگر پیغمبر اسلامﷺکے بارے میں ان کے خیالات ایک جیسے ہیں۔وہ سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضورﷺہی وہ ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے پورے عالم کے لیے امن کے داعی کی حیثیت سے اپنے فرائض کامل طریقے سے سرانجام دیئے۔

آج سے ۱۴سوسال پہلے زندگی گزارنے کا جوطریقہ نبی کریم ﷺنے اپنی سیرت وکردار،گفتار،بطورفلسفی،مبلغ اور قانون سازغرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایک مثالی نمونہ پیش کیا ہے۔ اُس پر عمل پیرا ہوکر دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

تو نے دیا مفہوم نمو کو، تو نے حیات کو معنی بخشے

تیر ا وجود اثبات خدا کا، تو جو نہ ہوتا، کچھ بھی نہ ہوتا