سراجِ منیرؐ: صحابہؓ کی نظر میں - نادر عقیل انصاری

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے سورج کو سراج (سورہ نوح:۱۶) اور چاند کو منیر(سورہ فرقان:۶۱) بنایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان دونوں کو جمع کر دیا۔ چنانچہ آپ ﷺ کو "سراجِ منیر " قرار دیا ہے۔ یہ نعت آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، اور آپ ﷺ کے مقابل چاند سورج کی بے حقیقتی پر خندہ زن ہے۔ ارشاد ہے: یا ایھا النبی انا ارسلنک مبشرا و نذیرا۔ و داعیاً الی اللہ باذنہ و سراجاً منیرا (سورہ احزاب:۴۵ اور ۴۶)، یعنی اے نبی! ہم نے آپ کو مبشر و نذیر، اللہ کے اِذن سے اُس کی طرف بلانے والا، اور سراجِ منیر بنا کر بھیجا ہے! صلی اللہ علیہ وسلم۔

آپ ﷺ کو سراج منیر (روشن چراغ) ماننا ایمان کا تقاضا ہے اور اس ایمان میں تمام مسلمان برابر کے شریک ہیں۔ فہم کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ لسانِ نبوت ﷺ سے جاری ہونے والا قاطع تفسیری بیان تو وحی ہے یا وحی سے تصدیق شدہ ہے۔ لیکن عام انسانوں کا حال یہ ہے، کہ اُن کا فہم ناقص اور تاویل ظنی ہوتی ہے اور قرآن مجید کی مرادات کی وسعت و تعمق کا احاطہ تو غیر ممکن ہے۔ رہی کلام کی تاثیر، تو وہ ہر کسی کو بقدرِ ظرف ملتی ہے۔ آپ ﷺ کس کس پہلو سے سراج ِمنیر ہیں؟ آپ سراپا ہدایت اور نور ہیں کہ قرآن مجید کا ظہور بھی آپ کی لسانِ مبارک سے ہوا۔ آپ ﷺ سراج منیر ہیں، یعنی سراپا حجت ہیں ہر اعتبار سے، وجود میں، عمل میں، اور قول میں۔ آپ ﷺ کے قول و عمل کی روایات کے نورسے مخلصین راہ پاتے ہیں اور سرفراز ہوتے ہیں۔ بدطینتوں کی آنکھیں چُندھیا جاتی ہیں، سو وہ نظریں چُراتے ہیں اور اندھیروں میں غرق ہیں۔ واللہ اعلم۔

امام فخرالدین رازیؒ کے نزدیک آپ ﷺ کا یہی وصف ہے جس کے سبب صحابہؓ کالنجوم ہوئے اور مسلمانوں کے ائمہ کے انوار اِسی سے مستعار ہیں۔ کعب بن زہیر کا شعر ہے:

ان الرسول لنور یستضاء بہ

مھند من سیوف اللہ المسلول

یعنی، آپ ﷺ وہ ذات والا صفات ہیں جن کے نور سے سب اکتساب کرتے ہیں اور آپ اللہ کی کھنچی ہوئی تلواروں میں سے ایک سیف قاطع ہیں۔ مجالس میں "سراج منیر" کا وصف حِسّی طریق پر ظاہر ہوتا۔ ایک صحابیؓ فرماتے ہیں کہ آپ آفتاب کی طرح چمکتے تھے، اور دوسرے فرماتے ہیں کہ آپ چودھویں کے چاند تھے۔ علامہ عزالدین ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے: "اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ"۔ لکھتے ہیں کہ ہم " کتاب کی ابتداء رسول اللہ ﷺ کے ذکر سے کر رہے ہیں، تاکہ آپ کے اسمِ مبارک سے برکت ملے، اور آپ کے ذکرِ مبارک سے کتاب کی عزت و شان میں اضافہ ہو؛ یوں بھی لازم ہے کہ مصحوب ﷺ کی معرفت کو اصحابؓ کی معرفت پر مقدم رکھا جائے!" آپ ﷺ کی وفات و تدفین کے بیان کے بعد، علامہ ابن اثیرؒ نے نبی پاک ﷺ کے خادمِ خاص، حضرت انسؓ کا ایک قول نقل کیا ہے، جس سے آپ ﷺ کے اس عز و شرف کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے (علامہ عزالدین ابن الاثیرؒ، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت: دارالکتب العلمیۃ، جلد:۱، صفحہ:۱۴۵۔)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

لما دخل رسول اللہ ﷺ المدینۃ اضاء منھا کل شیء، ولما قبض اظلم منھا کل شیء

"جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس کی ہر شے منور ہو گئی، اور جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر شے تاریک ہو گئی!"

جدیدیت نے اِن پاکیزہ احساسات کو ایسا شل کر دیا ہے کہ یہ باتیں نہ صرف اجنبی ہو کر رہ گئی ہیں، بلکہ بہت سے متجددین کی بدنصیبی کی حد یہ ہے کہ وہ ان کی وجہ سے مسلمان ہونے ہی پر نادم ہیں اور انکارِ حدیث میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ جہاں کفرِ جدید کے قہر سے دین کے دیگر آثار مضمحل ہو رہے ہوں، اور دینی ذوق رُو بہ زوال ہوں، وہاں حضرت انسؓ جیسی نظر کیونکر باقی رہ سکتی ہے؟