دھندھواں كا ذكر قرآن ميں - ڈاكٹر ابو محمود

پچھلے كچھ سالوں سے پاكستان كے كچھ علاقے پراسرار دھند كى زد ميں ہيں۔ سرديوں كے آغاز ميں ہى چھاجانے والى اس دھند نے عوام و خواص كو پريشان كرديا ليكن جيسے جيسے اس كى پراسراريت كے بادل چھٹتے گئے ماہرين اپنےاپنے كاموں ميں جت گئے۔ سازش جُو عناصر نے اسے كفار هند كى جانب سے مسلمانانِ پاكستان كے خلاف سازش قرار ديا۔ ماہرين لغت اس كا اردو مترادف ڈھونڈهنے ميں لگ گئے اور بالآخر انگلش كے سموگ كى طرز پر 'دھندھواں' كى اصطلاح بنا ڈالی جبکہ ایک صاحب جو ماہر مذہب معلوم ہوتے ہيں نے تو اس کا ذکر قرآن تک میں دریافت کرلیا ہے اور ان کی تحریر سوشل میڈیا پر "ماشاء اللہ! سبحان اللہ!" کے نعروں کی گونج میں داد و تحسین سمیٹ رہی ہے۔

موصوف نے سورۂ دخان کی کچھ آیات سے استنباط کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس سموگ کا سبب فصلوں کو لگائی ہوئی آگ یا ماحولیاتی آلودگی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دہکائی گئی جہنم کی آگ ہے، لهٰذا ہميں اس سموگ كا الزام ماحولياتی آلودگی كے سر تھوپنے كى بجائے دعا و استغفار كرنا چاہيے۔ اپنے اس دعوے کی دلیل کے طور پر انہوں نے سوره دخان کی مندرجہ ذیل آیات کا ذكر كىا ہے:

"سو اس دن کا انتظار کیجیے کہ آسمان ظاہر دھواں لائے ﴿۱۰﴾ جو لوگوں کو ڈھانپ لے، یہی دردناک عذاب ہے ﴿۱۱﴾ ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹادیں گے مگر تم پھر وہی کرنے والے ہو ﴿۱۵﴾"

ویسے تو قرآن كى آيات اور اس کے احکامات ہر زمانے میں قابل اطلاق ہیں لیکن کسی بھی آیت یا آیات سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل ان آیات کے تاریخی پس منظر اور سیاق و سباق کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے. جن آیات سے موصوف نے استدلال کیا ہے ان کے متعلق تمام مفسرین نے دو قول نقل کیے ہیں:

۱- ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ آیات (۱۰ تا ۱۵) نبوت کے آٹھویں سال مکہ میں آنے والے قحط کے متعلق ہیں جس سے کفار مکہ کو سابقہ پڑا اور بھوک کی شدت سے جب وہ آسمان کی طرف نگاہ کرتے تو آسمان انہیں دھوئیں کی مانند نظر آتا۔

۲- ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان آیات میں قرب قیامت کی دس بڑی علامات میں سے ایک یعنی آسمان کا دھویں سے بھر جانے کا ذکر ہے جس سے کافر زیادہ متاثر ہوں گے۔ سیاق قرآن بھی ان دونوں اقوال میں سے کسی ایک کی تائید کرتا ہے اس لیے کہ آیات ۱۲، ۱۳ اور ۱۴ (جنہیں موصوف نے نظر انداز کردیا ہے) میں مذکور ہے کہ کفار اللہ سے اس عذاب کو ہٹانے کی صورت میں ایمان لے آنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن جب ان کی یہ درخواست رد کی جاتی ہے تو پلٹ کر رسول کے لیے کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھایا گیا ہے اور یہ مجنون ہے۔ آيات كا بعينه ترجمه ذيل ميں ملاحظه هو:

"اے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں ﴿۱۲ (اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں ﴿۱۳﴾ پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے ﴿۱۴﴾"

بہرکیف ہر دو اقوال میں سے کسی ایک کو بھی تسلیم کیا جائے تب بھی سیاق قرآن اور تفسیری روایات اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ عذاب کفار کے لیے تھا یا ہوگا اور کسی بھی صورت ان كا اطلاق موجودہ سموگ پر نہیں کیا جا سکتا۔

اصل بات یہ ہے کہ کسی بھی خالصتاً مادی مسئلے کا سائنسی و منطقى حل ڈھونڈھنے کی بجائے ہم سازشی نظریات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں یا غیر ضروری طور پر اس کو مذہب سے نتھی کردیتے ہیں، نتیجتًا وہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید گمبھیر ہوجاتا ہے۔ موجودہ سموگ کا واضح سبب صنعتی و زرعی آلودگی ہے، ہمیں اپنی توجہ اس آلودگی کو سائنسی بنیادوں پر کم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے نہ یہ کہ اس کا ذکر بتكلف قرآن میں ڈھونڈ کر اصل حل سے توجہ ہٹا کے ذمہ داران کو اپنی کوتاہی سے صرف نظر كا موقع فراہم كريں-