مانگنا - خرم علی راؤ

خدا پرستوں کو خوشخبری ہو کہ ان کے پاس ایک چیز ایسی ہے جس سے ملحدیکسر محروم ہیں۔۔۔ دعا، التجا، مانگنا، پراتھنا، ایک ایسے خالق و مالک کا یقین کے ساتھ جو ہر ضرورت کوپورا کر سکتا ہے، جو حالات و اقعات کا تابع نہیں بلکہ ان میں تغیر و تبدل کی ہر طرح سے قدرت رکھتا ہے۔ بے چارے مادہ پرستوں کی اس کم نصیبی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس یقین سے، دعا نامی اس طاقت سے، اس تحفے سے کتنےسے دور ہیں؟

آپ اعمال کے اعتبار سے ایک اچھے مذہبی شخص نہیں ہیں، آپ کی عبادات، معاملات، معاشرت میں دینی احکامات کی بجا آوری میں کمزوری ہے۔ آپ ایک بہترمذہبی انسان تو نہیں ہیں،مگر آپ اپنے خالق و مالک کا یقین رکھتے ہیں، اسے مشکل کشا، حاجت روا اور کارساز سمجھتے ہیں تو یقین جانیے کہ ایک زبردست دولت، ایک بے پناہ طاقت اورا یسی نعمت آپ کے پاس ہے جو زندگی کی ہر مشکل، پریشانی، آزمائش میں آپ کا بہت بڑا سہارا اور آسرا ہے۔ وہ کیا ہے؟۔ وہ ہے دعا۔ مانگنے کی طاقت!

کیسی ہی الجھن ہو، کتنے ہی حالات خراب ہوں، ہر طرف ناکامیوں کے نقشے ہوں، ایک کے بعد ایک الجھن آپ کا پیچھا کر رہی ہو، گھبراہٹ، بے چینی اور جھنجلاہٹ کا شکار ہوں۔ کچھ سمجھ نہ آرہا ہو کہ کیا کریں؟تو اس تحفے، اس عطا، اس طاقت کو آزمائیں،اور دل کی تڑپ سے، اپنی بے چارگی و بے بسی کا احساس کرکے اس کے آگے دامن پھیلائیں،ہاتھ اٹھائیں اور سارا حال کہہ دیں۔ اس طرح مانگیں جیسے بچہ ماں سے مانگتا ہے، اس طرح اسے پکاریں جیسے ایک ڈوبتا ہوا بے سہارا شخص جو تیرنا بھی نہیں جانتا، موت سامنے دیکھ کر جس درد سے کسی مددگار کو بلائے گا، مانگیں اور مانگتے ہی رہیں، ایک بار، دو بار، بار بار! آپ دیکھیں گے کہ تاریکیاں چھٹنا شروع ہوجائیں گی، راستے بننا شروع ہوجائیں گے، الجھنیں دور ہونا شروع ہوجائیں گی۔ دعا ایک زبر دست ہتھیار ہے، مشکلات کے خلاف ایک کاری وار ہے، سننے والا سب کی سنتا ہے، مانگنے کے طرح مانگو تو سب ملتا ہے!

یہ بھی پڑھیں:   تربیتِ اولاد اور دعا - نسیمہ ابوبکر

حکایت ہے کہ ایک مرتبہ امام احمد بن حنبلؒ حج کے ارادے سے قافلے کے ساتھ نکلے اور کسی جگہ قافلے سے جدا ہو گئے۔ راستہ بھٹک کر شام کے وقت ایک علاقے میں پہنچے مسجد میں نماز پڑھی، گو کہ وہ سارا علاقہ آپ کی فقہ حنبلی کا پیروکار تھا، مگر آپ نے اپنا تعارف نہ کرایا اور مسجد والوں سے فرمایا کہ میں اپنے قافلے سے بچھڑ گیا ہوں، آپ ازراہ کرم اگر مجھے رات مسجد میں گزرنے دیں تو صبح میں قافلے سے جا ملوں گا۔۔ وہاں سے جواب ملا کہ اجازت نہیں ہے۔ آپ مسجد سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک نانبائی روٹیاں فروخت کر رہا ہے اور اس کے تندور کے سامنے ایک چبوترا سا بنا ہے۔ آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے کہا کہ میں ایک مسافر ہوں، راستہ بھٹک کر قافلے سے جدا ہو گیاہوں، اگر تم مجھے اجازت دو تو میں اس چبوترے پر رات گزار لوں؟،وہ بولا ارے جناب، چبوترے پر کیوں؟ میں بس ابھی تندور بند کرنے والا ہوں، پھر آپ میرے گھر چلیں اور آپ میرے مہمان ہوں گے کسی خدمت سے دریغ نہ کروں گا، بس تھوڑی دیر تشریف رکھیں۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور وہیں چبوترے پر تشریف فرما ہو گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ نانبائی زیر لب مسلسل کچھ پڑھ رہا تھا۔ جلد ہی وہ فارغ ہوا اور تندور بند کر کے حضرت کو لے کر اپنے گھر کی جانب روانہ ہو۔ راستے میں امام نے اس شخص سے پوچھا کہ تم مسلسل کچھ پڑھ رہے تھے؟ وہ، بولا، جی جناب! میرے شیخ نے مجھے مسلسل استغفار پڑھنے کی ہدایت کی تھی تو میں مسلسل استغفار پڑھتا رہتا ہوں۔ امام نے پوچھا، اس سے تمھیں کوئی فائدہ بھی ہے؟ وہ بولا، بیشمار فائدے ہیں، ایک ان میں سے یہ ہے کہ میری ہر دعا قبول ہوجاتی ہے۔ امام صاحب نے دریافت فرمایا تم یہ عمل کب سے کر رہے ہو؟، بولا، برسوں سے!، آپ نے فرمایا کوئی دعا تیری ایسی بھی ہے جو اب تک قبول نہ ہوئی ہو؟، بولا، جی، ایک دعا ہے جو اب تک قبول نہیں ہوئی، میں امام احمد ابن حنبل کا عقیدت مند اور پیروکار ہوں۔ میری بڑی خواہش ہے کہ ایک مرتبہ زندگی میں امام کی زیارت اور ان سے ملاقات کروں مگر میں غریب آدمی ہوں وہاں جا نہیں سکتا، بس یہی دعا اب تک قبول نہیں ہوئی۔ امام صاحب نے فرمایا اچھا، تو یہ تیری دعا تھی جس نے مجھے قافلے سے جدا کیا، راستہ بھٹکایا، مسجد میں ٹھہرنے نہ دیا اور تیرے پاس پہنچا کر دم لیا، بھائی! میں ہی احمد ابن حنبل ہوں اور آج رات تیرا مہمان ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   تربیتِ اولاد اور دعا - نسیمہ ابوبکر

یہ صرف ایک حکایت ہے، ایسی لاکھوں کروڑوں واقعات و تجربات ہیں جو دعا کی طاقت اور پہنچ کے شاہد ہیں۔ تقدیر کو سوائے دعا کے کوئی شے بدل نہیں سکتی اور موت کو سوائے دعا کے کوئی چیز ٹال نہیں سکتی۔

دعا مومن کا ہتھیار ہے، مشکلات کے لیے کاٹ دار تلوار ہے، اس کی رسائی براہ راست خدا تک ہے۔ دنیاوی آقا بار بارمانگنے والوں سے اکتا جاتے ہیں، ناراض ہوجاتے ہیں مگر وہ سمیع الدعا ایسا داتا ہے جو بار بار دعا مانگنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے اور دنیا و آخرت کے سب بگڑے کا م بنا دیتا ہے۔ یاد رکھیں دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ "دعا کی تین حالتیں ہیں یا تو دعا مانگنے والے کو مطلوبہ چیز عطا کر دی جاتی ہے فوراً یا کچھ دیر میں، یا دعا کے عوض اس پر آنے والی کوئی بلا یا مصیبت ہٹا دی جاتی ہے، یا اس دعا کو دنیا مین دینے کی بجائے آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور آخرت میں دعاؤں پر ملنے والے بے شمار اجر و انعام کو دیکھ کر بندہ کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول ہی نہ ہوئی ہوتی۔: یعنی ان نہ قبول ہونے والی دعاؤں کا اجر و انعام آخرت میں اتنا زیادہ ہو گا۔

ٹیگز