ٹوپی اجرک کا دن - راشد الزماں

اس دن کی "عظمت" کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ سندھی ثقافت کے نام پر اس کو شروع کرنے والی "عظیم" شخصیت آصف زرداری ہیں جنہوں نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر سندھ کر موئن جو دڑو جیسے کھنڈرات میں تبدیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

دنیا بھر میں جو بھی دن منایا جاتا ہے، اس کی کوئی نہ کوئی تاریخی اہمیت ہوتی ہے یا اس دن میں کوئی اہم واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ کسی بھی عظیم واقعے یا یاد سے جڑا ہوا یہ دن کسی عظیم شخصیت کا یوم پیدائش بھی ہو سکتا ہے یا کسی کی رخصتی کا دن بھی۔ غرض اس دن کو منانے کا کوئی نہ کوئی پس منظر ضرور ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی قومی تہوار کسی ظالم یا لٹیرےکے لیے نہیں منایا جاتا۔

اب ذرا "ٹوپی اجرک ڈے" کا پس منظر دیکھیں۔ 2009ء میں افغانستان میں منعقدہ ایک سرکاری پروگرام میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف زرداری سندھی ٹوپی پہن کر شریک ہوئے جس پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود اور صالح ظافر نے یہ کہا کہ صدر پاکستان کو ملک کی نمائندگی کرتےہوئے قومی لباس میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ ان پر سندھ کارڈ کھیلنے اور تعصّب اجاگر کرنے کا الزام بھی لگایا۔ اس پروگرام کی وڈیو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصل تنقید آصف زرداری کی سیاسی چالاکیوں پر کی جا رہی تھی، نہ کہ سندھی ٹوپی اور اجرک پر۔

لیکن پروگرام نشر ہونے کی دیر تھی کہ متعصب ٹولے نے اپنا کارڈ کھیلنا شروع کردیا کیونکہ انہیں تعصب کو ہوا دے کر سندھ کے معصوم لوگوں پر اپنے پنجے مزید مضبوط کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ تہوار کا دن بھی بہت عیاری سے چنا گیا، یعنی یہ اتوار کا دن تھا تاکہ عوام کی مصروفیت کی وجہ سے یہ ڈراما فلاپ نہ ہو سکے۔

کہتے ہیں نا کہ تعصّب میں بڑی کوشش ہوتی ہے، اس لیے کیا ان پڑھ اور کیا اعلیٰ تعلیم یافتہ! سب ٹرک کی اس بتی کے پیچھے اندھا دھند بھاگ کھڑے ہوئے۔ جانتے بوجھتے کہ ہم میں موجود ہر ہر شخص اس تقسیم کو ہوا دینے میں اپنی پھونک شامل کر رہا ہے، اچھے خاصے صاحب فہم اس سیلاب میں بہتے چلے گئے اور اب بھی بہے چلے جا رہے ہیں۔ نجانے صوبائیت اور لسانی تعصب کے ساتھ ساتھ نسلی افتخار، فرقہ پرستی اور ایسے ہی تعصبات کے سامنے بند کون باندھے گا؟

اگر یہ دن منانا ہی ہے تو کتنا اچھا ہو کہ تیار ہوکر سڑکوں پر نکلنے، ناچنے اور نچانے اور چند حلقوں کی جانب سے 'پاکستان نہ کھپے' اور 'سندھ دیش' کے نعرے لگانے، کے بجائے اس دن کو اس طرح منایا جائے کہ یہ تعصّب کی آگ کو بھڑکانے کے بجائے قومی ہم آہنگی کا استعارہ بن جائے۔ میں خود اپنے اپنے ہاتھوں سے پڑوسی پنجابی بھائی کو سندھی ٹوپی پہناؤں، اپنے دفتر کو مہاجر ساتھی کو اجرک کا تحفہ دوں، اپنے پٹھان چوکیدار کو ایک رلّی دوں، میری بیوی گھر میں "بھے" پکائے اور اپنی بلوچ پڑوسن کے گھر بھیجے اور میرے گھر کے باہر تھادل کی سبیل لگي ہو اور سب وہاں اپنی پیاس بجھائیں!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */