سیکولر مولوی، بھائی بھائی - اسامہ الطاف

پہلی تصویر: غریب بستی میں خستہ حال سڑک جھونپڑی نما مکانات سے گزرتی ہوئی ایک شاندار عمارت تک پہنچتی ہے۔ اس عالی شان عمارت کی تعمیر بستی کے غرباء نے کی ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی اہل بستی کے ذمہ ہے۔ اندھیروں میں ڈوبی بستی میں شاید یہ واحد عمارت ہے جوسال کے بارہ ماہ رات کے وقت برقی قمقوں کی روشنی سے جگمگارہی ہوتی ہے۔ یہ عمارت ایک عظیم ہستی کا مدفن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل بستی اس عمارت سے روحانی وجذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ شام کے وقت مزدوری اور کھیتی سے فارغ ہوکر دل بہلانے اور دینی رسوم ادا کرنے وہ اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ غربت سے تنگ، زبوں حالی کا شکار غرباء اپنے مسائل اور شکوے بھی یہی آکر بیان کرتے ہیں۔ انتہائی عقیدت و احترام سے ہاتھ باندھ کر مدفن پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے سامنے جھکتے ہیں، ماتھا ٹیکتے ہیں اور دل ہی دل میں تصور کرتے ہیں کہ ان کی فریاد سن لی گئی۔ پھر اس موہوم خوشی میں دیوانہ وار رقص کرنے لگتے ہیں۔ اس عمارت کا رکھوالاصاحب مدفن کی نسل سے ہے، اس کے باوجود کہ وہ ہیئت، اخلاق و کردار میں صاحب مدفن سے کوئی شباہت نہیں رکھتا۔ اہل بستی کی نظر میں وہ محترم اور قابل اکرام ہے۔ بستی کے غرباء اپنی محدود آمدنی کا کچھ حصہ اس پر خرچ کرتے ہیں، اس کو اپنا سردار مانتے ہیں، وہ حکم کرتا ہے تو اطاعت کرتے ہیں، وہ ناراض ہوتا ہے تو اس کے پاؤں پڑتے ہیں اور اس کا ظلم برداشت کرتے ہیں۔ احساس کمتری کا شکار اہل بستی اپنی سادہ لوح طبیعت اور کم علمی کے باعث ان اعمال کو دین کاحصہ سمجھتے ہیں۔

مذہبی افلاس کی تصویر کا یہ ایک رخ ہے۔ دوسری طرف روشن خیال پڑھا لکھا طبقہ ہے جو مادّیت کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے باعث مذہب اور احکام شریعت کو قدامت پسندی کا مظہر تصور کرتا ہے اور "قدامت پسندی "کے علمبردار مولویوں سے شدید نفرت کرتا ہے۔

دوسری تصویر: ملک میں الیکشن کا سماں ہے، سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہے، انتخابی وعدوں اور دعووں کا دور دورہ ہے، بڑے شہروں میں سیاسی مداریوں کی دکان پر جم غفیر ہے، ان دکانوں میں تعصب بیچا جارہا ہے، سیاسی مفاد کے خاطر قومیت کے جذبات ابھارے جارہے ہیں۔ مہاجر کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ مہاجر مظلوم ہے اس لیے مہاجر مہاجر کو ہی ووٹ ڈالیں گا، چاہے اس کا نمائندہ مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ یہی سبق پختون مداری اپنے مداحوں کو پڑھا رہا ہے۔ مسجد کے جوار میں ایک مقدس سیاسی دکان میں بھی یہی منجن بیچا جارہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں قومیت کو نہیں مذہب کو ووٹ کی بنیاد بنایا جارہا ہے۔ مذہب سے وابستگی کو مخصوص جماعت کی حمایت سے مشروط کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد مذہب یا قوم کی خدمت اور حقیقی نمائندگی نہیں بلکہ مذہبی و قومی جذبات کے ذریعے ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ گاؤں، دیہات میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں، یہاں وڈیرہ، جاگیدار اور زمیندار پورے گاؤں کے ووٹ کا فیصلہ کررہا ہے، عام آدمی اس فیصلے کی مخالفت کی جرات نہیں کرتا، جس کو تھوڑی بہت آزادی حاصل ہے وہ ووٹ کی قیمت سے لاعلم ہونے کے باعث موٹر سائیکل اور بریانی کے عوض اپنا ووٹ بیچ رہاہے۔

یہ دونوں تصاویر معاشرتی حقائق پر مبنی ہیں، پہلی تصویر ہمارے مذہبی افلاس کی عکاسی کررہی ہے اور دوسری سیاسی افلاس کی۔ مذہب سے لگاؤ اور حب الوطنی کے جذبات سے ہم سرشار ہیں لیکن شعور اور علم کا فقدان ہے۔

لیکن المیہ یہ نہیں ہے کہ ہم افلاس کا شکار ہیں۔ قوموں کی زندگی میں عروج و زوال طبعی عمل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مذہبی افلاس سے محفوظ، ہمارے دینی قلعے، ہزاروں مدارس اور ان کے سرپرست علماء جو مذہبی خرافات اور طقوس کے خلاف نبرد آزما ہیں وہ سیاسی افلاس کا شکار ہے اور سیاسی طور پر باشعور اقلیت مذہب سے بہرہ ہے۔ معاشرے کی اصلاح اور سماجی ترقی کے لیے ان دونوں طبقات کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ مذہبی طبقہ کا سیاسی جمود سے آزاد ہونا اور زمانہ کی ضروریات سے آشنا ہونا وقت کی ضرورت ہے، اسی طرح مذہب کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کرسیاسی طور پر باشعور ہونا مفید نہیں، مذہب کا صحیح علم اور سیاسی شعور لازم و ملزوم ہے، یہ دونوں عناصر سے صحت مند معاشرہ کی بنیاد ہیں، لہٰذا معاشرہ کی تعمیر کے خاطر دونوں طبقات کو چاہیے کہ سیکولر، مولوی ایجنٹ، این جی اوز وغیرہ مصطلحات کو بھول کر باہمی تعاون کے ذریعے معاشرکی اصلاح و تعمیر میں مثبت کردار ادا کریں۔

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.